آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’اے آر وائی‘ کے ڈرامے اب صرف ’اے آر وائی پلس‘ پر: کیا پاکستان میں ناظرین کو ’مفت یوٹیوب‘ چھوڑ کر او ٹی ٹی پلیٹ فارم پر لانآ آسان ہوگا؟
- مصنف, عمیر علوی
- عہدہ, صحافی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
پاکستان میں ٹیلی وژن ڈراموں کی ایک بڑی تعداد گذشتہ کئی برسوں سے یوٹیوب کے ذریعے ناظرین تک پہنچ رہی ہے، لیکن اب نجی ٹی وی چینل ’اے آر وائی ڈیجیٹل‘ نے اپنے ڈراموں اور دیگر پروگراموں کے لیے ایک الگ او ٹی ٹی پلیٹ فارم ’اے آر وائی پلس‘ متعارف کروایا ہے۔
17 ستمبر سے ’اے آر وائی‘ کے ٹی وی ڈراموں کی نئی اقساط پاکستان میں یوٹیوب کے بجائے اے آر وائی پلس پر ہی دستیاب ہیں۔ اِس میں ’درِ نجات‘ اور ’بس تیرا ساتھ ہو‘ سمیت اے آر وائی کے دیگر ڈرامے شامل ہیں۔
گذشتہ تین دن سے اے آر وائی یو ٹیوب پر ڈراموں کی نئی اقساط مکمل اپ لوڈ کرنے کے بجائے اُن کے صرف آٹھ منٹ کے کلپ شیئر کر رہا ہے جبکہ کسی بھی ڈرامے کی مکمل قسط اے آر وائی پلس پر ہی دیکھی جا سکتی ہے۔
اے آر وائی نیٹ ورک کے صدر اور سی ای او سلمان اقبال کے مطابق اس پلیٹ فارم کا مقصد پاکستانی ناظرین کو مقامی او ٹی ٹی سروس فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستانی تفریحی مواد کو دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچانا ہے۔
بی بی سی اُردو سے خصوصی گفتگو میں سلمان اقبال نے بتایا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی طویل عرصے سے پاکستان کے اپنے او ٹی ٹی پلیٹ فارم کا مطالبہ کر رہے تھے اور اِسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے اے آر وائی پلس کے منصوبے پر گذشتہ تین سے چار برس سے کام کیا جا رہا تھا۔
اگرچہ دنیا میں نیٹ فلکس، زی فائیو اور دیگر بہت سے بڑے او ٹی ٹی پلیٹ فارمز موجود ہیں مگر پاکستان میں طویل عرصے تک ڈیجیٹل ویڈیو مواد کے لیے یوٹیوب پر انحصار کیا جاتا رہا ہے۔
تاہم اے آر وائی کے اس فیصلے کے ساتھ یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ کیا پاکستانی ناظرین، جو مفت اور آسانی سے دستیاب یوٹیوب کے عادی ہیں، ایک نئی ایپ پر منتقل ہونے کے لیے تیار ہیں؟
اے آر وائی پلس پر کیا ملے گا؟
سلمان اقبال کے مطابق اے آر وائی پلس پر صرف اے آر وائی ڈیجیٹل کے موجودہ ڈرامے ہی دستیاب نہیں ہوں گے بلکہ خصوصی اوریجنل مواد بھی پیش کیا جائے گا جو کہیں اور دستیاب نہیں ہو گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کے مطابق آئندہ چند ماہ میں ایسے ڈرامے اور پروگرام پیش کیے جائیں گے جو صرف اے آر وائی پلس پر ہی دیکھے جا سکیں گے۔
سلمان اقبال کا کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیلی وژن پر کچھ مخصوص اصناف پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے جبکہ کامیڈی، تھرلر، سسپنس، تاریخی پروگرام اور ڈاکیومنٹریز جیسے شعبوں میں مزید کام کی گنجائش ہے اور اُن کے مطابق اے آر وائی پلس پر مختلف اصناف میں مواد پیش کرنے کا منصوبہ اسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان کو دوسرے ملکوں کے کامیاب او ٹی ٹی مواد کی نقل کرنے کے بجائے اپنی سماجی اور ثقافتی شناخت کے مطابق مواد بنانا چاہیے۔
سلمان اقبال کے مطابق اے آر وائی پلس پر اے آر وائی نیوز، اے آر وائی ڈیجیٹل سمیت نیٹ ورک کے مختلف پروگرام اور دیگر مواد بھی دستیاب ہوں گے۔
پلیٹ فارم پر یوزر جنریٹڈ کانٹینٹ کی سہولت بھی متعارف کرانے کا منصوبہ ہے، جس کے تحت عام صارف اپنا تیار کردہ ڈرامہ یا دیگر مواد اپ لوڈ کر سکیں گے۔
ان کے مطابق اے آر وائی پلس پر تخلیق کاروں کے لیے رائلٹی کا نظام بھی شروع کیا جا رہا ہے، جس کے تحت پلیٹ فارم کے لیے تیار کیے گئے مواد سے متعلقہ فنکاروں اور دیگر افراد کو رائلٹی دی جائے گی۔
کیا یو ٹیوب چھوڑنے کا فیصلہ کاروباری طور پر فائدہ مند ہو گا؟
میڈیا سٹریٹجسٹ مہمت فیصل کے مطابق اے آر وائی کے فیصلے کو صرف ناظرین کے زاویے سے نہیں بلکہ کاروباری نقطۂ نظر سے بھی دیکھنا چاہیے۔
اُن کے مطابق یوٹیوب پر ڈراموں سے اشتہارات اور دیگر ذرائع سے آمدنی حاصل ہوتی ہے، لیکن اس آمدنی کا ایک حصہ یوٹیوب اور گوگل کے ساتھ شیئر ہوتا ہے۔
اپنے پلیٹ فارم پر منتقل ہونے سے اے آر وائی کو اشتہارات اور دیگر ریونیو سٹریمز پر زیادہ براہ راست کنٹرول حاصل ہو سکتا ہے۔ کمپنی خود اشتہارات فروخت کر پائے گی اور اُن کے ریٹ طے کر سکے گی۔
مہمت فیصل کے مطابق ابتدائی مرحلے میں مفت سروس کے ذریعے زیادہ سے زیادہ صارفین کو پلیٹ فارم سے جوڑنا اہم ہو گا اور بعد میں، اگر صارفین کی تعداد اور اُن کی جانب سے ’اے آر وائی پلس‘ کے استعمال کی عادت مضبوط ہو جاتی ہے تو سبسکرپشن سمیت دیگر ریونیو ماڈلز بھی اختیار کیے جا سکتے ہیں۔
ان کے مطابق اس اقدام سے ڈیجیٹل شعبے میں خرچ ہونے والی رقم کا زیادہ حصہ مقامی معیشت میں گردش کر سکتا ہے اور اس سے مقامی ڈیجیٹل صنعت کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
تاہم ان کے مطابق او ٹی ٹی پلیٹ فارم کے لیے مسلسل اور مختلف قسم کے مواد کی ضرورت ہوتی ہے۔ ناظرین کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے کے لیے اے آر وائی کو اپنے کانٹینٹ (مواد) اور پروڈکشن کی صلاحیت میں اضافہ کرنا پڑ سکتا ہے۔
اگر دوسرے پاکستانی چینلز بھی ایک پلیٹ فارم پر آ جائیں؟
ایک سوال کے جواب میں سلمان اقبال نے کہا کہ اے آر وائی پلس کو مستقبل میں دوسرے پاکستانی نیٹ ورکس اور تخلیق کاروں کے لیے بھی کھولا جا سکتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اگر اے آر وائی، جیو، ہم، گرین، ایکسپریس اور دیگر پاکستانی نیٹ ورکس ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر اپنا مواد لے آئیں تو ایک ایسا پلیٹ فارم تشکیل دیا جا سکتا ہے جو دنیا بھر میں اُردو سمجھنے والے ناظرین تک رسائی حاصل کرے۔
سلمان اقبال کے مطابق اگر دوسرے نیٹ ورکس بھی اس منصوبے کا حصہ بنیں تو وہ اے آر وائی پلس کے نام سے ’اے آر وائی‘ ہٹانے کے لیے بھی تیار ہیں تاکہ یہ کسی ایک چینل کے بجائے ایک مشترکہ اردو او ٹی ٹی پلیٹ فارم کی شکل اختیار کر سکے۔
اُن کا کہنا ہے کہ ایسے پلیٹ فارم کے ذریعے اُردو مواد کی عالمی مارکیٹ کو وسیع کیا جا سکتا ہے۔
مہمت فیصل بھی سمجھتے ہیں کہ مختلف پاکستانی نیٹ ورکس کے ایک پلیٹ فارم پر آنے سے ایک مشترکہ ڈیجیٹل مارکیٹ بن سکتی ہے۔ ان کے مطابق مواد اور وسائل کو مشترکہ طور پر استعمال کرنے سے پروڈکشن اور دیگر اخراجات کم کرنے کے امکانات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
سلمان اقبال کے مطابق اے آر وائی پلس کا ایک اہم مقصد پاکستانی تفریحی مواد کو عالمی ناظرین تک پہنچانا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں اُردو سمجھنے اور بولنے والوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے اور پاکستانی ڈراموں کے لیے اس مارکیٹ میں مزید مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان کو دوسروں کے پلیٹ فارمز اور مواد پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے پلیٹ فارمز کے ذریعے عالمی مارکیٹ میں جگہ بنانی چاہیے۔
انھوں نے پاکستانی حکومت سے مقامی او ٹی ٹی پلیٹ فارمز اور ڈیجیٹل مواد کی صنعت کے لیے مراعات دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے تاکہ پاکستانی مواد عالمی سطح پر زیادہ مؤثر انداز میں پہنچ سکے۔
کیا یوٹیوب سے مکمل طور پر الگ ہونا ممکن ہے؟
اے آر وائی پلس کے لیے ایک اہم سوال یہ ہے کہ یوٹیوب پر موجود ناظرین میں سے کتنے لوگ نئی ایپ پر منتقل ہوں گے اور کتنے مستقل صارف بنیں گے۔
ہم ٹی وی کی سینیئر ایگزیکٹیو وائس پریزیڈنٹ میمونہ صدیقی کے مطابق یوٹیوب سے اپنے او ٹی ٹی پلیٹ فارم کی طرف مکمل منتقلی ایک بڑا اور نسبتاً رسکی کاروباری فیصلہ ہو سکتا ہے۔
بی بی سی اردو سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ اس حکمت عملی کے ذریعے اے آر وائی اپنے ناظرین تک براہ راست رسائی اور ان کے ڈیٹا پر زیادہ کنٹرول حاصل کر سکتا ہے، جبکہ اشتہارات اور مستقبل کے ممکنہ سبسکرپشن ماڈلز پر بھی اسے زیادہ اختیار حاصل ہو گا۔
تاہم ان کے مطابق اپنا او ٹی ٹی پلیٹ فارم چلانے کے لیے سرورز، کنٹینٹ ڈسٹری بیوشن نیٹ ورکس اور ایپ کی مسلسل دیکھ بھال پر مستقل اخراجات اٹھتے ہیں۔
میمونہ صدیقی کے مطابق یوٹیوب کا فائدہ صرف آمدنی نہیں بلکہ رسائی اور ڈسکوری بھی ہے۔ اس کا ریکمنڈیشن سسٹم نئے ناظرین تک مواد پہنچانے، اسے وائرل کرنے اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں تک رسائی میں مدد دیتا ہے۔
ان کے مطابق پاکستان میں عام ناظر سے نئی ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے، اکاؤنٹ بنانے اور نیا انٹرفیس استعمال کرنے کی توقع کرنا ایک رکاوٹ ہو سکتی ہے۔ کم قیمت والے موبائل فونز، محدود ڈیٹا پیکجز اور انٹرنیٹ کی رفتار بھی اس عمل پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
اگر نئی ایپ زیادہ ڈیٹا استعمال کرے یا بفرنگ کا مسئلہ ہو تو صارف اسے چھوڑ سکتا ہے، جبکہ یوٹیوب سے ڈرامے ہٹائے جانے کی صورت میں کچھ ناظرین وہاں موجود دوسرے مواد کی طرف منتقل ہو سکتے ہیں۔
میمونہ صدیقی نے بتایا کہ ہم ٹی وی کے منصوبوں میں بھی او ٹی ٹی پلیٹ فارم شامل ہے، تاہم ان کے مطابق صرف ایپ لانچ کرنا کافی نہیں۔ مضبوط بیک اینڈ، پائیدار کاروباری ماڈل اور ناظرین کی اس تبدیلی کے لیے تیاری بھی ضروری ہے۔
ان کے خیال میں او ٹی ٹی پلیٹ فارم اور صارف کو ایک ساتھ آگے بڑھنا ہو گا اور مکمل طور پر یوٹیوب سے الگ ہونے کے بجائے مستقبل میں ہائبرڈ ماڈل اختیار کرنے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔
اے آر وائی پلس کے سامنے اصل چیلنج اب صرف ایک نئی ایپ لانچ کرنا نہیں بلکہ یوٹیوب کی برسوں پرانی عادت کو تبدیل کرنا ہے۔ اس کی کامیابی کا ایک اہم پیمانہ یہ ہو گا کہ اے آر وائی اپنے موجودہ ناظرین میں سے کتنے لوگوں کو مستقل طور پر اپنے نئے پلیٹ فارم سے جوڑ پاتا ہے اور ساتھ ہی نئے ناظرین تک رسائی کیسے برقرار رکھتا ہے۔