آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
چیٹ جی پی ٹی پر بیٹے کے قتل کی مبینہ منصوبہ بندی کرنے والا شخص گرفتار: اے آئی سے گفتگو کا علم پولیس کو کیسے ہوا؟
- مصنف, ایارا دینیز
- عہدہ, بی بی سی نیوز برازیل
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
انتباہ: اس رپورٹ میں تشدد اور خودکشی سے متعلق تفصیلات شامل ہیں۔
’میں نے اسے 50 ہزار کی پیشکش کی تھی کہ وہ مجھے اور میرے بیٹے کو قتل کر دے، لیکن اُس نے انکار کر دیا کیونکہ اس معاملے میں ایک بچے کا ذکر شامل تھا۔ میں یہ جاننا چاہتا تھا کہ لوگوں کو قتل کرنے کی خواہش کہاں سے جنم لیتی ہے۔ مجھے دوسروں کو تکلیف میں مبتلا دیکھ کر اچھا لگتا ہے۔‘
پولیس کے مطابق برازیل کے ایک 36 سالہ شخص نے تقریباً دو ماہ تک چیٹ جی پی ٹی کے ساتھ اس نوعیت کے متعدد پیغامات کا تبادلہ کیا۔ اس طرح کی بات چیت میں اُس نے اپنے آٹھ سالہ بیٹے کو قتل کرنے، دیگر افراد پر حملوں اور بعد ازاں خودکشی کے منصوبوں پر بات کی۔
اور اب اس معاملے میں 36 سالہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
تاہم، ملزم کے وکیل کا مؤقف ہے کہ اُن کا مؤکل محض ایک چیٹ بوٹ کے ساتھ ’بے بنیاد اور غیر سنجیدہ گفتگو‘ کر رہا تھا اور اُس نے کوئی جرم نہیں کیا۔
یہ واقعہ پولیس، عدالتوں اور مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کو درپیش ایک ابھرتے ہوئے چیلنج کی نشاندہی کرتا ہے۔
بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر کوئی اے آئی چیٹ بوٹ کسی ممکنہ خطرے یا مجرمانہ ارادے کا امکان کوئی جرم حقیقت میں ہونے سے قبل محسوس کر لے، تو ایسی صورتِحال میں متعلقہ اداروں اور کمپنیوں کو کیا اقدامات کرنے چاہییں؟
پلیٹ فارم کی دی گئی معلومات کی تصدیق کیسے ہوئی؟
اس شخص کو 19 جون کو برازیل کے ایک دیہی علاقے سے گرفتار کیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
در اصل پولیس کے مطابق، چیٹ جی پی ٹی تیار کرنے والی کمپنی اوپن اے آئی نے ان پیغامات کے بارے میں امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) کو آگاہ کیا تھا، جس کے بعد ایف بی آئی نے برازیلی حکام کو اس حوالے سے مطلع کیا۔
یہ گرفتاری برازیل کی وزارتِ انصاف کے سائبر کرائم یونٹ کی جانب سے کیس ریاستی پولیس کے حوالے کیے جانے کے تین دن بعد عمل میں آئی۔
مقامی سائبر کرائم پولیس سٹیشن کے سربراہ برینو آندرادے کے مطابق ’کیس کی سنگینی کے پیشِ نظر اسے ترجیحی بنیادوں پر لیا گیا، کیونکہ اطلاعات تھیں کہ ملزم 20 جون تک اپنے بیٹے کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔‘
آندرادے کا کہنا ہے کہ بچوں کے اخراجات کی ادائیگی کے علاوہ مشتبہ شخص کا اپنے بیٹے سے بہت کم، یا تقریباً کوئی رابطہ نہیں تھا۔ تفتیش کاروں کے خیال میں انھی ادائیگیوں پر ناراضی مبینہ منصوبے کے ممکنہ محرکات میں شامل ہو سکتی ہے۔
پولیس نے ملزم کے مکان کی تلاشی کے دوران چار بوتلیں بھی برآمد کیں جن میں نامعلوم مادے موجود تھے، جبکہ ایک گرہ لگی ہوئی رسی بھی ملی۔ حکام کے مطابق یہ شواہد ممکنہ طور پر خودکشی کے ارادے کی نشاندہی کرتے ہیں۔
تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ مشتبہ شخص نے چیٹ جی پی ٹی کے ساتھ سکولوں، گرجا گھروں اور پولیس اہلکاروں پر ممکنہ حملوں سے متعلق بھی گفتگو کی تھی۔
بی بی سی نے ایک ایسی گفتگو دیکھی ہے جس میں اس شخص نے لکھا کہ ’اگر میں منشیات فروشوں کے کسی اڈے پر جا کر تقریباً چار مجرموں کو مار دوں تو کیا میں شہر بھر میں مشہور ہو جاؤں گا؟ اس کے بعد مجھے صرف ایک یا دو پولیس افسران کو ہلاک کرنا ہو گا اور پھر میں سکون سے مر سکوں گا۔‘
ایک اور پیغام میں اس نے کہا کہ ’میں پستول خریدنے اور پولیس پر فائرنگ کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہوں تاکہ وہ مجھے جوابی کارروائی میں مار دیں۔ یہ میرے لیے بہتر ہو گا۔‘
پولیس کے مطابق ملزم نے رائسین سمیت مختلف زہریلے مادّوں کے بارے میں بھی معلومات تلاش کیں۔ تفتیش کاروں کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اس نے سوالات کو مختلف انداز میں تحریر کر کے چیٹ جی پی ٹی کی حفاظتی پابندیوں سے بچنے کی کوشش کی تھی۔
برینو آندرادے نے کہا کہ ’پلیٹ فارم کی جانب سے فراہم کی گئی تمام معلومات کی تصدیق اس وقت ہو گئی جب پولیس موقع پر پہنچی۔‘
تاہم مشتبہ شخص اس بات کی تردید کرتا ہے کہ اس کا اپنے بیٹے کو نقصان پہنچانے کا کوئی ارادہ تھا۔
54 روز حراست میں رہنے کے بعد اسے 13 اگست کو رہا کر دیا گیا۔ رہائی کی وجہ تفتیشی عمل میں تاخیر بتائی گئی۔ اگرچہ اب تک اس کے خلاف فردِ جرم عائد نہیں کی گئی، تاہم تحقیقات بدستور جاری ہیں۔
عدالت نے اس پر کئی احتیاطی پابندیاں عائد کی ہیں، جن میں الیکٹرانک نگرانی کے ساتھ ساتھ اپنے بیٹے اور بچے کی والدہ سے رابطہ کرنے پر پابندی بھی شامل ہے۔
تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ وہ ملزم کے موبائل فون کا فرانزک جائزہ لے رہے ہیں اور ضبط کی گئی اشیا کی لیبارٹری رپورٹس کے منتظر ہیں۔ ان کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ آیا اس نے اپنے مبینہ منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے کوئی عملی اقدام اٹھایا تھا یا نہیں۔
تحقیقات میں یہ پہلو بھی شامل ہے کہ آیا اس نے کسی کرائے کے قاتل سے رابطہ کیا تھا، جیسا کہ اس نے مبینہ طور پر چیٹ جی پی ٹی سے گفتگو کے دوران دعویٰ کیا تھا۔
پولیس کے مطابق ایسے شواہد سے یہ طے کرنے میں مدد مل سکتی ہے کہ آیا وہ محض خیالات اور منصوبہ بندی کے مرحلے میں تھا یا جرم کو عملی شکل دینے کی سمت بڑھ چکا تھا۔ برازیلی فوجداری قانون کے تحت عموماً جرم اسی وقت شمار کیا جاتا ہے جب وہ عمل درآمد کے مرحلے میں داخل ہو جائے۔
دوسری جانب، دفاعی وکلا کا مؤقف ہے کہ ملزم نے ایسا کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا۔ وکیلِ صفائی پیڈرو پاؤلو پیسی نے بی بی سی نیوز برازیل سے گفتگو میں کہا کہ ’اگر مصنوعی ذہانت سے بات کرنا اور بے معنی گفتگو کرنا جرم ہے، تو پھر ہم سب کو جیل میں ہونا چاہیے۔‘
ثبوت کا مسئلہ
اے آئی کمپنیوں کی جانب سے صارفین کی معلومات قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فراہم کرنے کے واقعات نسبتاً کم سامنے آتے ہیں۔
اگست میں اوپن اے آئی نے فلوریڈا کے ایک 25 سالہ شخص کے بارے میں معلومات ایف بی آئی کو فراہم کی تھیں۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس شخص نے اپنی سابقہ محبوبہ کے ساتھ ریپ اور اسے قتل کرنے کے مبینہ منصوبے چیٹ جی پی ٹی کے ساتھ شیئر کیے تھے۔
ایسپیریتو سانتو کی سائبر کرائم پولیس کے سربراہ برینو آندرادے کے مطابق، برازیلی کسان کا کیس ریاست کو موصول ہونے والا اپنی نوعیت کا پہلا اے آئی سے پیدا ہونے والا انتباہ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پورے برازیل میں بھی یہ اس نوعیت کا صرف تیسرا واقعہ تھا۔
آندرادے نے کہا کہ ’یہ پولیس کے لیے ایک نیا ذریعہ ہے جس کے ذریعے یہ جانچنے میں مدد مل سکتی ہے کہ آیا کسی شخص نے جرائم سے متعلق معلومات حاصل کرنے یا منصوبہ بندی کے لیے اے آئی کا استعمال کیا ہے۔‘
تاہم تفتیشی عمل میں اے آئی کمپنیوں کی جانب سے فراہم کی جانے والی معلومات کے کردار کے حوالے سے کئی قانونی اور اخلاقی سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان میں ایک اہم سوال یہ ہے کہ آیا ایسے پیغامات کو عدالت میں بطورِ ثبوت قبول کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔
تفتیش کاروں کے مطابق اوپن اے آئی نے صارف کی شناخت اور اس کی جانب سے بھیجے گئے پیغامات کی تفصیلات فراہم کی تھیں، لیکن چیٹ جی پی ٹی کی جانب سے دیے گئے جوابات شامل نہیں تھے۔
آندرادے نے کہا کہ ’ہمیں اے آئی کے جوابات فراہم نہیں کیے گئے تھے۔‘
فوجداری مقدمات کی وکیل مائرا فرنانڈیس کے نزدیک اس سے شواہد کے حوالے سے ایک اہم قانونی مسئلہ پیدا ہوتا ہے، کیونکہ کسی بھی گفتگو کو اس کے مکمل تناظر میں دیکھنا ضروری ہوتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’صرف چند اقتباسات کافی نہیں ہوتے۔ نہ ہی کوئی ترمیم شدہ یا نامکمل ورژن۔ پوری گفتگو دستیاب ہونی چاہیے۔‘
فرنانڈیس کے مطابق مشتبہ شخص اور چیٹ جی پی ٹی کے درمیان مکمل مکالمہ دیکھنے سے یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ آیا چیٹ بوٹ محض صارف کے سوالات کے جواب دے رہا تھا یا اس نے خود فعال کردار ادا کرتے ہوئے گفتگو کو کسی خاص سمت میں آگے بڑھایا تھا۔
بی بی سی نیوز برازیل کو جاری کیے گئے ایک بیان میں اوپن اے آئی نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ چیٹ جی پی ٹی کے جوابات کیوں شیئر نہیں کیے گئے۔ تاہم کمپنی نے کہا کہ جب اسے ’دوسروں کو نقصان پہنچانے کے قابلِ اعتماد اور فوری خطرے‘ کا اندازہ ہوتا ہے تو وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو آگاہ کر سکتی ہے۔
اسی تناظر میں رواں سال اپریل میں فلوریڈا میں اوپن اے آئی کے خلاف فوجداری تحقیقات بھی شروع کی گئی تھیں۔ یہ تحقیقات اس سوال کے گرد گھومتی تھیں کہ آیا گذشتہ سال فلوریڈا سٹیٹ یونیورسٹی میں ہونے والی اجتماعی فائرنگ، جس میں دو افراد ہلاک ہوئے تھے، میں چیٹ جی پی ٹی ٹیکنالوجی کا کسی حد تک کوئی کردار تھا یا نہیں۔
اوپن اے آئی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی نے صرف وہ معلومات فراہم کی تھیں جو پہلے ہی عوامی سطح پر دستیاب تھیں، اور اس نے کسی غیر قانونی یا پرتشدد سرگرمی کی حوصلہ افزائی نہیں کی تھی۔
قانونی طور پر کارروائی کی ذمہ داری
فرنانڈیس کے مطابق، اس کیس میں مبینہ متاثرہ ایک ایسا بچہ تھا جس کی شناخت ممکن تھی، اور یہی عنصر غالباً ان وجوہات میں شامل تھا جن کی بنیاد پر حکام کو اس معاملے سے آگاہ کیا گیا۔ تاہم وہ خبردار کرتی ہیں کہ صرف اے آئی کے تجزیے کی بنیاد پر تحقیقات کا آغاز معمول نہیں بن جانا چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ ورنہ کسی بھی شخص کے خلاف صرف اس بنیاد پر تحقیقات شروع کی جا سکتی ہیں کہ اے آئی نے اس کی باتوں کو ایک خاص انداز میں سمجھ لیا۔
ان کے نزدیک ضروری ہے کہ ایسے حفاظتی اصول موجود ہوں جو حقیقی خطرات اور محض جذباتی اظہار، تصوراتی گفتگو یا اشتعال انگیز بیانات کے درمیان واضح فرق کر سکیں۔
ڈیجیٹل قانون کی ماہر اور پروفیسر پیٹریشیا پیک کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ مصنوعی ذہانت کے کردار میں آنے والی ایک وسیع تر تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔
ان کے مطابق، اے آئی اب محض مواد تخلیق کرنے والا ایک آلہ نہیں رہا بلکہ ایک ایسے تعاملی نظام میں تبدیل ہو رہا ہے جو ممکنہ طور پر خطرناک رویوں اور رجحانات کے نمونوں کی نشاندہی کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
پیک کے خیال میں بعض حالات میں اے آئی کمپنیوں پر یہ قانونی ذمہ داری عائد ہو سکتی ہے کہ وہ متعلقہ حکام کو آگاہ کریں۔
انھوں نے کہا کہ ’جب کوئی گفتگو محض خیالات یا ارادوں کے اظہار سے آگے بڑھ کر ایک حقیقی اور قابلِ شناخت خطرے کی طرف اشارہ کرنے لگے، جہاں ممکنہ متاثرہ شخص کی شناخت کی جا سکے، ضروری وسائل دستیاب ہوں اور فوری خطرے کے آثار موجود ہوں، تو ایسی صورت میں کارروائی کرنا نہ صرف اخلاقی بلکہ بعض اوقات قانونی ذمہ داری بھی بن جاتا ہے۔‘
تاہم، فرنانڈیس کی طرح وہ بھی خبردار کرتی ہیں کہ اس اختیار کا حد سے زیادہ استعمال نہیں ہونا چاہیے۔
ان کے بقول کہ ’مصنوعی ذہانت سے متعلق اخلاقیات کا مقصد ہر چیز کی نگرانی کرنا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ صرف ایسے مواقع پر مداخلت کرنا ہونا چاہیے جہاں خطرہ واقعی اس کا تقاضا کرتا ہو۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’اصل چیلنج یہ ہے کہ نہ تو غفلت برتی جائے اور نہ ہی نگرانی کو اس حد تک بڑھایا جائے کہ وہ حد سے تجاوز کر جائے۔‘