’ہم سے کارڈ ضبط کر لیے گئے‘: ٹرمپ نے کچھ مخصوص صحافیوں کی وائٹ ہاؤس میں داخلے پر پابندی کیوں لگائی؟

    • مصنف, گریس الیزا گڈون اور انتھونی زرچر
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سی این این، پولیٹیکو اور ایم ایس ناؤ جیسے میڈیا اداروں پر پابندی کے بعد ان کے صحافیوں کی وائٹ ہاؤس تک ممنوع قرار دے دی ہے۔

جب سنیچر کی صبح ایم ایس ناؤ کے ایک رپورٹر اور فوٹوگرافر نے وائٹ ہاؤس کے احاطے میں داخل ہونے کی کوشش کی تو ان کے کارڈز سکین نہ ہو سکے۔ پھر ایک افسر نے ان سے کارڈز ضبط کر لیے۔

سی این این اور پولیٹیکو نے بھی سنیچر کی صبح کہا کہ ان کے رپورٹرز کو رسائی دینے سے انکار کیا گیا اور ان کے کارڈز ضبط کر لیے گئے۔

ٹرمپ نے جمعے کو کہا تھا کہ وہ تینوں بڑے امریکی میڈیا اداروں کو وائٹ ہاؤس آنے سے روک رہے ہیں۔ انھوں نے اِن پر اپنی انتظامیہ کے بارے میں ’افسانے یا جھوٹ‘ لکھنے کا الزام عائد کیا تھا۔

ایم ایس ناؤ کی رپورٹر اکائیلا گارڈنر نے کہا کہ ’سکیورٹی افسر نے مجھ سے کہا کہ میں اپنا کارڈ اُن کے حوالے کر دوں۔ اس نے کہا کہ اسے غیر فعال کر دیا گیا ہے۔‘

’میں نے پوچھا کہ میں اندر کیوں نہیں جا سکتی؟ اس نے کہا کہ یہ فیصلہ اوپر کی سطح پر ہوا ہے۔‘

گارڈنر نے مزید کہا کہ اگرچہ ان کا اور ان کے ساتھی کا کارڈ غیر فعال کر دیا گیا تھا تاہم ایم ایس ناؤ کی ایک پروڈیوسر اپنا کارڈ سکین کر کے اندر جانے میں کامیاب رہیں۔ تاہم انھیں یہ نہیں بتایا گیا کہ پروڈیوسر کا کارڈ اب بھی کیوں کام کر رہا تھا۔

سی این این کی رپورٹر بیٹسی کلائن نے کہا کہ ایک سیکرٹ سروس اہلکار نے انھیں بتایا کہ ان کا کارڈ غیر فعال کر دیا گیا ہے۔

بعد ازاں سنیچر کی صبح پولیٹیکو نے کہا کہ اس کی رپورٹر شائین ہیسلٹ کو داخلے سے روک دیا گیا اور سیکریٹ سروس نے ان کا پاس منسوخ کر دیا۔

تینوں اداروں نے اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے ٹرمپ پر اظہارِ رائے کی آزادی اور پریس کی آزادی سے متعلق آئینی حقوق کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔

ایم ایس ناؤ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ وائٹ ہاؤس ’امریکی عوام کی ملکیت ہے اور اس کے اندر ہونے والے فیصلوں کی مالی معاونت ہمارے ٹیکس ڈالرز سے ہوتی ہے۔‘

ایم ایس ناؤ نے کہا کہ وہ آئین میں ’فرسٹ امینڈمنٹ کے تحت درج حقوق اور ہماری جمہوریت میں آزاد صحافت کے لازمی کردار کے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات‘ کرے گا۔

پولیٹیکو کے ایڈیٹر اِن چیف جوناتھن گرینبرگر نے ادارے کی ایک اندرونی ای میل میں کہا کہ کمپنی اپنے رپورٹرز کے ساتھ کھڑی ہے اور حقوق کا ’پُرزور دفاع‘ کرے گی۔

جبکہ سی این این نے کہا کہ ’امریکی آئین کے تحت ہمیں یہ حق حاصل ہے کہ ہم حکومتی رکاوٹ یا مداخلت کے بغیر اپنی رپورٹنگ کریں اور یہ پابندی اس بنیادی حق پر غیر قانونی حملہ ہے۔‘

اپنے اعلان میں ٹرمپ نے ان تینوں اداروں کی کسی مخصوص رپورٹ یا خبر کا ذکر نہیں کیا جس کی وجہ سے یہ اقدام کیا گیا۔ تاہم بعد میں انھوں نے کہا کہ ’یہ دراصل گذشتہ چند برسوں کی مجموعی خبروں کا نتیجہ ہے۔‘

ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’ممکن ہے کچھ اور بھی ان کے ساتھ شامل ہوں۔‘ تاہم انھوں نے اضافی نیوز اداروں پر پابندی لگانے کی کوئی ہدایت جاری نہیں کی۔

بعد میں جب ایک رپورٹر نے پوچھا کہ مزید اداروں سے کیا مراد ہے تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ ’جعلی خبروں کے حوالے سے مزید؟ خیر، آپ جانتے ہیں کہ نیو یارک ٹائمز کی خبریں جعلی ہوتی ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ کی خبریں بھی جعلی ہوتی ہیں۔‘

وائٹ ہاؤس کورسپانڈنٹس ایسوسی ایشن (ڈبلیو ایچ سی اے) امریکی صدارت کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کی نمائندگی کرنے والا آزاد اور غیر منافع بخش ادارہ ہے۔ اس نے ٹرمپ انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ صحافیوں کی رسائی ’فوراً بحال‘ کرے۔

جبکہ پریس کی آزادی کے لیے کام کرنے والے کئی گروہوں نے ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس پابندی کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیا ہے۔

یاد رہے کہ بعض مقدمات کے نتیجے میں چند میڈیا ادارے کئی ملین ڈالر کے تصفیوں پر رضامند ہو چکے ہیں۔ جبکہ ٹرمپ کا بی بی سی کے خلاف کیس ابھی زیرِ التوا ہے۔

ٹرمپ اب میڈیا سے کیوں لڑ رہے ہیں؟

صدر ٹرمپ کی پریس کے ساتھ جاری کشیدگی ایک نئے درجے تک پہنچ چکی ہے اور ٹرمپ اب مزید اداروں کو انتباہ دے رہے ہیں۔

جمعے کو ٹروتھ سوشل پر اپنے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ ان اداروں پر ’پابندی لگا رہے ہیں‘ کیونکہ یہ ادارے مسلسل ’جعلی خبروں‘ کی رپورٹنگ کرتے ہیں۔ اسی دن بعد میں دیے گئے بیانات میں انھوں نے شکایت کی کہ ’کسی ملک میں کچھ نہ کچھ غلط ہے جو لوگوں کو جان بوجھ کر منفی خبریں لکھنے کی اجازت دیتا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’اگر وہ انھیں لکھنا چاہتے ہیں تو ٹھیک ہے۔ مجھے انھیں عوام کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت دینے کی ضرورت نہیں۔‘ وہ دراصل وائٹ ہاؤس کا حوالہ دے رہے تھے۔

تاہم میڈیا کے بارے میں صدر کی ناراضی ایسے وقت میں نظر آئی جب انھیں کچھ چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔

سب سے پہلے سپریم کورٹ نے وسط مدتی انتخابات سے قبل ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کو محدود کرنے کے ان کے منصوبے کو روک دیا ہے۔ اس پر ٹرمپ نے عدالت کے ججوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان میں وہ جج بھی شامل تھے جنھیں انھوں نے خود مقرر کیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ’یہ وہ لوگ نہیں جن کا میں نے انٹرویو لیا تھا۔‘

اس کے بعد امریکی مرکزی بینک فیڈرل ریزرو نے شرح سود میں اضافہ کر دیا۔ حالانکہ ٹرمپ کئی ماہ سے یہ مؤقف اختیار کرتے رہے تھے کہ اسے کم کیا جانا چاہیے۔ اس کے بعد ایک جج نے ان کی انتظامیہ کو حکم دیا کہ واشنگٹن ڈی سی میں واقع کینیڈی سینٹر آرٹس وینیو میں کوئی بھی تبدیلی کرنے سے 30 دن پہلے نوٹس دیا جائے۔ صدر نے خبردار کیا تھا کہ اسے ’مسمار کیا جا سکتا ہے۔‘

میڈیا میں یہ سرخیاں ظاہر کرتی ہیں کہ ٹرمپ کو مشکل سیاسی حالات کا سامنا ہے۔ تاہم پریس پر ان کا تازہ حملہ واضح قانونی سوالات بھی اٹھاتا ہے۔

امریکی آئین میں پہلی ترمیم کانگریس کو پریس کی آزادی ’محدود‘ کرنے سے منع کرتی ہے۔ عدالتیں عرصۂ دراز سے کہتی آئی ہیں کہ امریکی حکومت میڈیا کے ساتھ اس کی رپورٹنگ کے مواد کی بنیاد پر امتیازی سلوک نہیں کر سکتی۔

نشانہ بنائے گئے تینوں خبر رساں اداروں نے ٹرمپ کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے مقدمات دائر کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

اگرچہ اس اقدام کی وسعت غیر معمولی ہے تاہم یہ پہلا موقع نہیں جب ٹرمپ انتظامیہ نے مرکزی دھارے کے میڈیا اداروں کے نمائندوں کی وائٹ ہاؤس تک رسائی محدود کرنے یا انکار کرنے کی کوشش کی ہو۔

اپنی پہلی مدتِ صدارت میں انتظامیہ نے سی این این کے نمائندے جم اکوسٹا کے پریس کریڈینشلز منسوخ کر دیے تھے۔ اس کے نتیجے میں ایک قانونی جنگ شروع ہوئی جو بالآخر صحافی کے حق میں اختتام پذیر ہوئی تھی۔

ٹرمپ نے ایک ایسے رپورٹر کا پاس بھی عارضی طور پر معطل کر دیا تھا جس کی وائٹ ہاؤس کے ایک مشیر کے ساتھ تند و تیز بحث ہوئی تھی۔ تاہم بعد میں عدالتوں نے یہ اقدام بھی روک دیا تھا۔

گذشتہ برس وائٹ ہاؤس نے ایسوسی ایٹڈ پریس کے رپورٹرز کو صدر کے پریس پول میں شرکت سے روک دیا تھا کیونکہ یہ خبر رساں ادارہ خلیجِ میکسیکو کا نام تبدیل کر کے خلیجِ امریکہ رکھنے کے ٹرمپ کے اقدام کی پیروی کرنے پر آمادہ نہیں تھا۔

یہ تنازع بھی ایک طویل قانونی جنگ کا باعث بنا جو ابھی تک مکمل طور پر حل نہیں ہو سکی۔ اس کے بعد وائٹ ہاؤس نے پریس پول کے قواعد تبدیل کرتے ہوئے تمام نیوز ایجنسیوں کے لیے مخصوص نشست کی ضمانت ختم کر دی تھی۔

تاہم وائٹ ہاؤس کی یہ پابندیاں ایک ڈرامائی شدت اختیار کرنے کی نمائندگی کرتی ہیں۔

ان پابندیوں میں صرف پریس پول ہی نہیں بلکہ وائٹ ہاؤس کے پورے احاطے تک رسائی شامل ہے۔ ان کا ہدف صرف ایک ناپسندیدہ نمائندہ نہیں بلکہ پورے خبر رساں ادارے ہیں۔

اگرچہ ٹرمپ اپنے فیصلے کے محرکات کے بارے میں واضح رہے ہیں لیکن انھوں نے اس بارے میں بہت کم وضاحت کی ہے کہ انھوں نے یہ اقدام اب کیوں کیا ہے۔ قومی سیاست میں ایک دہائی سے زیادہ عرصہ قبل داخل ہونے کے بعد سے وہ باقاعدگی سے اپنی میڈیا کوریج پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ تاہم جمعے کو انھوں نے کہا کہ ایسا کوئی مخصوص واقعہ نہیں تھا جس نے انھیں یہ اعلان کرنے پر مجبور کیا ہو۔

تاہم اس وقت صدر شدید دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ جیسے ایران کے خلاف جنگ کی وجہ سے توانائی اور دیگر اشیا کی قیمتوں میں اضافہ۔ اس کی وجہ سے امریکی عوام میں ان کی مقبولیت متاثر ہوئی ہے۔

رائے عامہ کے جائزے یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ نومبر میں ہونے والے اہم وسط مدتی کانگریسی انتخابات میں ان کی جماعت کو ایوانِ نمائندگان اور شاید سینیٹ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔

ان کی جانب سے اس ماہ کے آغاز میں ٹیکساس میں انتخابی تقریبات اور ریپبلکن پارٹی کے کنونشن میں اپنی کامیابیوں کو اجاگر کرنا بھی اب تک موثر ثابت نہیں ہوا۔

شاید ٹرمپ کی میڈیا پر تنقید کے پیچھے مزید وجوہات ہوں۔ لیکن یہ ایسے واقعات پر مایوسی کا اظہار ہو سکتا ہے جس کے ذمہ دار وہ خود ہیں۔