انڈیا نے پاکستان میں تیار ہونے والی دو بیوٹی کریموں کو ’خطرناک اور غیر قانونی‘ کیوں قرار دیا؟

    • مصنف, عمران قریشی
    • عہدہ, بی بی سی ہندی
    • مقام, بنگلورو
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

انڈیا کی حکومت نے پاکستان میں تیار ہونے والی دو کاسمیٹک مصنوعات، گوری بیوٹی کریم اور چاندنی وائٹننگ کریم کے استعمال کے خلاف ملک بھر میں انتباہ جاری کیا ہے۔

مرکزی وزارتِ صحت و خاندانی بہبود نے یہ اقدام ڈرگز کنٹرولر جنرل آف انڈیا (ڈی سی جی آئی) کے مشورے پر کیا ہے۔

یہ مصنوعات انڈیا میں غیر قانونی طور پر فروخت کی جا رہی ہیں۔

ڈی سی جی آئی کے مطابق یہ دونوں مصنوعات ’غیر قانونی ہیں اور ان میں مقررہ حد سے زیادہ بھاری دھاتیں موجود ہیں، جس سے صارفین کی صحت کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔‘

پاکستان میں فروخت ہونے والی ان کریموں کے لیباریٹری ٹیسٹ میں مرکری (پارہ) کی مقدار بہت زیادہ پائی گئی ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ پارے کے استعمال سے صحت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے اور گردے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

جولائی میں مہاراشٹر کے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے بھی پاکستان میں تیار ہونے والی گوری کریم سمیت متعدد کاسمیٹک مصنوعات میں پارے کی زیادہ مقدار کی نشاندہی کی تھی اور ایسی مصنوعات کی ایک فہرست جاری کی تھی۔

نوٹس میں کیا کہا گیا ہے؟

مرکزی وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کے ایک عہدے دار نے بی بی سی نیوز ہندی سے کہا: ’یہ ایک خطرناک اور غیر قانونی مصنوعات ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کوئی شخص ایسی مصنوعات استعمال کر رہا ہے جسے انڈیا میں فروخت کی اجازت نہیں، تو اس سے ہونے والے کسی بھی نقصان کی ذمہ داری خود صارف پر عائد ہو گی۔‘

آٹھ ستمبر کو جاری عوامی نوٹس میں کہا گیا: ’صارفین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ ان غیر قانونی کاسمیٹک مصنوعات کو نہ خریدیں، اور اگر خرید چکے ہیں تو ان یا ان جیسے نام رکھنے والی دیگر مصنوعات کا استعمال نہ کریں۔‘

نوٹس کے مطابق، دوا کے معیار کو کنٹرول کرنے والی تنظیم (سینٹرل ڈرگز سٹینڈرڈ کنٹرول آرگنائزیشن، سی ڈی ایس سی او) نے ’جانچ اور تجزیے کے ذریعے تصدیق کی ہے کہ یہ دونوں مصنوعات غیر قانونی ہیں۔ ان کی انڈیا میں فروخت کے لیے درکار درآمدی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ متعلقہ اتھارٹی نے جاری نہیں کیا۔‘

انڈیا کے ریگولیٹری ادارے سی ڈی ایس سی او کا کردار امریکہ اور یورپی یونین کی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) جیسے اداروں سے ملتا جلتا ہے۔

کون سی بیوٹی مصنوعات محفوظ ہیں؟

نوٹس میں لوگوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ صرف وہی بیوٹی اور کاسمیٹک مصنوعات خریدیں، قانونی طور پر جن کی فروخت کی اجازت ہو۔

ایسی مصنوعات پر لائسنس نمبر، تیار کنندہ کا نام، بیچ نمبر، تیاری کی تاریخ اور میعاد ختم ہونے کی تاریخ درج ہونی چاہیے۔ اگر کوئی مصنوعات بیرونِ ملک سے درآمد کی گئی ہوں تو ان پر رجسٹریشن نمبر بھی درج ہونا ضروری ہے۔

نوٹس میں کہا گیا ہے کہ صارفین کی جانب سے استعمال کی جانے والی کاسمیٹک مصنوعات محفوظ ہونی چاہییں۔ اس مقصد کے لیے انڈیا میں بیوٹی مصنوعات کی تیاری اور درآمد سے متعلق قانونی ضوابط موجود ہیں۔

ان مصنوعات کی تیاری کو ڈرگز اینڈ کاسمیٹکس ایکٹ 1940 اور درآمد کو کاسمیٹک رولز 2020 کے تحت منظم کیا جاتا ہے، جبکہ ان کے معیار کا تعین بیورو آف انڈین سٹینڈرڈز (بی آئی ایس) کرتا ہے۔

کسی بھی کاسمیٹک مصنوعات کی فروخت کے لیے اس کے تیار کنندہ کو حکومت سے لائسنس حاصل کرنا ہوتا ہے، جبکہ بیرونِ ملک سے آنے والی مصنوعات کی مرکزی حکومت کے متعلقہ ادارے میں رجسٹریشن ضروری ہے۔

یہ کریمیں انڈیا کیسے پہنچیں؟

وزارتِ صحت کے ایک عہدے دار نے شبہ ظاہر کیا کہ یہ دونوں کریمیں ممکنہ طور پر سمگلنگ کے ذریعے انڈیا لائی جا رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا: ’جس طرح جانوروں، ان کی کھالوں اور دوسری نایاب اشیا کی سمگلنگ کی جاتی ہے، اسی طرح ممکن ہے کہ یہ مصنوعات بھی محدود مقدار میں ملک میں لائی گئی ہوں۔‘

تاہم ہم نے دیکھا کہ بنگلورو کی ایک دکان پر گوری بیوٹی کریم فروخت کی جا رہی تھی۔

دکان کے ایک ملازم نے بتایا: ’ایک گاہک نے اس کے بارے میں پوچھا تھا، جس کے بعد ہمیں یہ مارکیٹ میں مل گئی۔ تاہم یہ عام تقسیم کاروں کے نیٹ ورک میں دستیاب نہیں ہے۔‘

پاکستان کی لیباریٹری میں کیا معلوم ہوا؟

بی بی سی اردو کی نامہ نگار ترہب اصغر کے مطابق لاہور میں گوری کریم بڑے پیمانے پر فروخت ہو رہی ہے۔ یہ ڈے کریم، نائٹ کریم اور دیگر اقسام میں دستیاب ہے۔

ترہب کے مطابق ان کریموں کو خریدنے کے بعد ان کے نمونے ایک ٹیسٹنگ لیباریٹری میں بھیجے گئے، جہاں رپورٹ میں تقریباً 1300 سے 1500 ملی گرام مرکری (پارہ) پائی گئی، جو ایک زہریلا مادہ ہے۔

کریم تیار کرنے والوں نے فون پر بی بی سی اردو کو اپنی مینوفیکچرنگ کے مقام کے بارے میں نہیں بتایا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ روزانہ 5000 ڈبے فراہم کر سکتے ہیں۔

ان کریموں کو دیگر ممالک میں بھی بھیجا جا رہا ہے۔ کریمیں تیار کرنے والوں کے مطابق ان کی مصنوعات خلیجی ممالک، افریقی ممالک، انڈیا اور بنگلہ دیش سمیت متعدد ملکوں میں جاتی ہیں۔

پاکستان میں اس صنعت سے وابستہ ماہرین کے مطابق کاسمیٹک صنعت کو منظم کرنے کے لیے کوئی مؤثر نظام موجود نہیں، اور یہ مسئلہ صرف ایک کریم کا نہیں بلکہ ہزاروں ایسی مصنوعات ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ 2016 میں پاکستان میں امریکی سفارت خانے نے بھی اسی نوعیت کا معاملہ پاکستانی حکومت کے سامنے اٹھایا تھا اور متعدد کریموں کو ممنوعہ فہرست میں شامل کروانے میں کامیابی حاصل کی تھی۔

مرکری سے کیا نقصان ہو سکتا ہے؟

گلوبل مرکری پارٹنرشپ (جی ایم پی) کے مطابق مہاراشٹر فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے ایسی کاسمیٹک مصنوعات کو خطرناک قرار دیا ہے جن میں پارہ ملا ہو۔

ایف ڈی اے نے جن مصنوعات کی نشاندہی کی ہے، ان میں گوری بیوٹی کریم، گوری بیوٹی وائٹننگ باڈی لوشن، گوری وائٹننگ صابن، فیس فریش گولڈ پلس (بیوٹی کریم اور بیوٹی سیرم) اور گولڈن سٹار بیوٹی کریم شامل ہیں۔

ایف ڈی اے کی تحقیقات کے مطابق ان مصنوعات پر تیاری اور میعاد ختم ہونے کی تاریخ جیسی لازمی معلومات درج نہیں تھیں۔

ان مصنوعات میں پارے کی مقدار مقررہ حد سے 10 گنا زیادہ پائی گئی۔

صابن کی قیمت 30 روپے جبکہ کریم اور لوشن کی قیمت 160 سے 499 روپے کے درمیان ہے۔

صحت کے سنگین خطرات کے باعث بہت سے ممالک میں پارے جیسی بھاری دھاتوں کے استعمال پر پابندی ہے یا اسے سختی سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود بعض غیر منظم، جعلی یا غیر قانونی طور پر فروخت ہونے والی مصنوعات میں اب بھی پارہ پایا جاتا ہے۔

ان مصنوعات کے استعمال سے گردوں، دماغ اور جلد کو مستقل نقصان پہنچ سکتا ہے۔

ممبئی کے سرکاری کاما اینڈ البلیس ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر توشار پالوے کے مطابق: ’مرکری کو غیر قانونی طور پر شامل کیا جاتا ہے کیونکہ یہ میلانن کی پیداوار کو روکتا ہے اور جلد کو تیزی سے گورا کرتا ہے۔‘

ان کے بقول: ’اگر پارے کی مقدار بہت زیادہ ہو تو 10 سے 12 دن کے اندر گردوں کو نقصان پہنچنا شروع ہو سکتا ہے۔ اگر پارے کی مقدار کم ہو تو بھی ایسی کریم روزانہ استعمال کرنے کی صورت میں آہستہ آہستہ گردوں اور جسم کے دیگر اعضا متاثر ہو سکتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا: ’اکثر اس کے اثرات کئی برس تک ظاہر نہیں ہوتے، اس لیے لوگ زہریلی کریم کا استعمال جاری رکھتے ہیں۔ علامات اس وقت سامنے آ سکتی ہیں جب صورتحال اتنی سنگین ہو چکی ہو کہ مریض کو ڈائلیسس کی ضرورت پڑ جائے۔‘