بحیرہِ احمر میں حوثیوں کی پیش قدمی اور ’ینبع‘ سے تیل کی فراہمی معطل: کیا پاکستان کو آئندہ دنوں میں کسی بڑے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے؟

    • مصنف, روحان احمد
    • عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

یمن کے حوثیوں کی بحیرہ احمر سے ملحقہ شہروں کی طرف پیش قدمی اور سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر حملوں نے پاکستان کی تیل کی برآمدات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

فروری میں اسرائیل اور امریکہ کی ایران کے خلاف جنگ کے آغاز کے بعد آبنائے ہرمز عملی طور پر بند ہو گئی تھی۔ دنیا میں تیل کی مجموعی تیل کی رسد کا پانچواں حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے اور اس کی بندش کے سبب دنیا بھر میں تیل کی قیمتیں بڑھنے لگیں۔

ایران کے ساتھ قریبی تعلقات کے سبب کچھ عرصے کے لیے پاکستانی پرچم بردار جہازوں کو اس آبی گزرگاہ سے گزرنے کی اجازت تھی، لیکن شاید خطرات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اسلام آباد نے تیل کے لیے متبادل راستوں کا انتخاب کیا۔

ان مشکل حالات میں پاکستان نے متحدہ عرب امارات کی فجیرہ اور سعودی عرب کی ینبع بندرگاہوں سے تیل برآمد کرنا شروع کیا۔

تاہم بحیرہ احمر میں حوثیوں کی پیش قدمی اور سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ تیل پائپ لائن، جس سے ایک اندازے کے مطابق یومیہ 40 سے 50 ملین بیرل تیل کی ترسیل ہوتی ہے، پر حملے کے بعد ریاض نے ینبع سے تیل کی فراہمی معطل کر دی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ فجیرہ سے تیل کی فراہمی اب بھی جاری ہے لیکن یہاں سے حاصل ہونے والا تیل پاکستان کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کافی نہیں ہو گا۔

اس صورت میں پاکستان کو تیل برآمد کرنے کے لیے متبادل راستے تلاش کرنے ہوں گے اور اگر بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم نہیں ہوتی تو پاکستان میں تیل کی قیمتیں مزید بھی بڑھ سکتی ہیں اور ملک کو تیل کی قلت کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

تیل کی فراہمی کے متبادل راستے

پاکستان میں تیل و گیس کی صنعت سے منسلک ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش اور خطے میں کشیدگی کے سبب پہلے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھی ہوئی ہیں اور اگر باب المندب اور ینع بندرگاہ سے پاکستان کو تیل کی فراہمی بحال نہیں ہوتی، تو آئندہ ہفتوں میں ملک کو ایک بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس شعبے کی تجزیہ کار عافیہ ملک نے بی بی سی نیوز اردو کو بتایا کہ ایران کے خلاف جنگ کے آغاز اور آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد پاکستان بنیادی طور پر تیل کی فراہمی کے لیے بحیرہ احمر میں واقع ینبع اور متحدہ عرب امارات کی فجیرہ بندرگاہ پر انحصار کر رہا تھا۔

تاہم سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر حوثیوں کے حملے کے بعد ینبع سے تیل کی فراہمی معطل ہو گئی ہے۔

عافیہ ملک کہتی ہیں کہ ’اب صرف فجیرہ کا ہی راستہ بچا ہے لیکن پاکستان اس سے اپنی 100 فیصد ضروریات پوری نہیں کر سکتا۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ اس صورتحال میں تیل کی قیمتیں مزید اوپر جائیں گی اور پاکستان کو اس کے حصول کے لیے دیگر ذرائع بھی تلاش کرنا ہوں گے۔

تاہم موجودہ حالات میں تیل کی ضروریات کو پورا کرنا آسان کام نہیں ہو گا۔

سینرجیکو پاکستان لمیٹڈ گذشتہ ایک برس سے امریکہ اور مغربی افریقہ سے بھی تیل برآمد کر رہی ہے، اور موجودہ صورتحال میں تیل کی فراہمی کو یقنی بنانے کے لیے اسی آپشن پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔

عافیہ ملک کہتی ہیں کہ ’حکومت اس بات پر غور کر رہی ہے کہ خلیجی ممالک کے علاوہ کہیں اور سے اپنی ضروریات پوری کی جا سکیں۔‘

تاہم امریکہ یا مغربی افریقہ سے تیل منگوانے کی صورت میں سمندری راستہ مزید لمبا ہو جائے گا، جس کا اثر تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔

عافیہ ملک بھی اسی صورتحال سے خبردار کرتی ہیں۔

’جب ہمارا راستہ لمبا ہو گا تو شپنگ کی قیمت، انشورنس کی رقم اور ٹرانسپورٹیشن کا کرایہ بھی بڑھ جائے گی۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں پہلے ہی اوپر جا رہی ہیں اور نئے خرچے کے اضافے کے بعد قیمتیں مزید بلند ہوں گی۔‘

دیگر ماہرین بھی اسی طرح کے خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔ تاہم کچھ کے مطابق شاید ستمبر اور اکتوبر میں پاکستان کو تیل کے کسی بحران کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

سینرجیکو پاکستان لمیٹڈ کے وائس چیئرمین اُسامہ قریشی نے بی بی سی نیوز اردو کو بتایا کہ ’آبنائے باب المندب میں پیدا ہونے والی صورتحال سے پاکستان تاحال براہِ راست متاثر نہیں ہوا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ خلیجی خطے سے تیل کی ترسیل بدستور جاری ہے اور صرف تین روز قبل بھی ایک آئل ٹینکر وہاں سے پاکستان کے لیے روانہ ہوا تھا۔

تاہم یمن کے حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان تنازع اگر مزید شدت اختیار کر جاتا ہے تو پاکستان کو تیل کے حصول میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اُسامہ قریشی کہتے ہیں کہ ’اب تک (تیل کی ترسیل میں) کوئی بڑا خلل پیدا نہیں ہوا ہے لیکن اگر تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو تیل کے حصول میں تاخیر کے امکان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی صورت میں پاکستان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘

تیل کے حصول کے متبادل ذرائع پر روشنی ڈالتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ان کی کمپنی گذشتہ ایک برس سے امریکہ اور مغربی افریقہ سے بھی خام تیل درآمد کر رہی ہے اور ان سپلائیز پر تاحال کوئی اثر نہیں پڑا ہے۔

باب المندب کی بندش کی صورت میں تیل برادر جہاز بحیرہ احمر سے پاکستان تیل کی منتقلی کے لیے ’کیپ آف گُڈ ہوپ‘ کا راستہ بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اُسامہ قریشی کے مطابق ’اس متبادل راستے سے سفر میں تقریباً 10 دن کا اضافی وقت لگے گا۔‘

آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر میں کشیدگی کے سبب شاید فوری طور پر پاکستان کو کسی بحران کی کیفییت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ لیکن ملک میں سرمایہ کاری کے شعبے میں کام کرنے والی کمپنی شرمن سکیوریٹیر کے ریسرچ ڈپارٹمنٹ کے سربراہ فرحان محمود کے مطابق اکتوبر کے وسط کے بعد پریشانی میں اضافہ خارج الامکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔

فرحان محمود کہتے ہیں کہ آئل انڈسٹری سے انھیں موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق پاکستان نے اکتوبر کے وسط تک اپنے لیے کارگوز بُک کر لیے ہیں اور پیٹرولیم مصنوعات کا کچھ ذخیرہ ابھی آئل کمپنیوں اور ریفائنریوں کے پاس بھی موجود ہے۔

’میرا خیال ہے کہ اکتوبر تک تمام معاملات ٹھیک ہیں، لیکن یہ مسئلہ اگر کچھ اور مزید ہفتوں تک چلتا ہے تو پھر ہمیں نومبر میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘

فرحان محمود پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کی بھی پیش گوئی کر رہے ہیں۔

’ابھی عالمی مارکیٹ میں تیل کی موجودہ قیمت 125، 126 ڈالر فی بیرل ہے اور اسی کی بنیاد پر ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 14 سے 15 روپے کا اضافہ ہو سکتا ہے۔‘

’اگر کروڈ آئل کی قیمت مزید بڑھتی ہے تو ہمیں مزید پریشانی ہو سکتی ہے۔‘

بی بی سی اردو نے اس خبر کی اشاعت سے قبل متعدد بار وزارت پیٹرولیم اور اوگرا سے رابطہ کرنے کی کوشش کی اور تحریری سوالات بھی بھیجے، تاہم ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

بحران سے بچنے کے لیے ممکنہ اقدامات

آئل انڈسٹری پر گہری نظر رکھنے والی تجزیہ کار عافیہ ملک کے مطابق تیل کی فراہمی میں تعطل کا اثر صرف پیٹرول یا ڈیزل کی قیمتوں پر ہی نہیں پڑے گا، بلکہ اس سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر بھی متاثر ہوں گے جس کے سبب ملک میں مہنگائی میں اضافہ ہو گا۔

پاکستانی حکومت نے ایندھن بچانے کے لیے ’کفایت شعاری‘ کے اقدامات کا اعلان کیا ہے، جن میں دکانوں اور مارکیٹوں کو رات میں جلدی بندی کرنا بھی شامل ہے۔

تاہم عافیہ ملک کہتی ہیں کہ ’کفایت شعاری کے اقدامات سے ہم پیٹرول تو بچا سکتے ہیں، لیکن ہمیں ڈیزل کے حصول کے لیے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘

ان کے مطابق ڈیزل کی مقامی پیداوار کے لیے پاکستان کو کروڈ آئل کی بلاتعطل فراہمی اور اس کی درآمد کے لیے متبادل راستے درکار ہوں گے۔

’ہماری ٹرانسپورٹ اور فوڈ سپلائی چین ڈیزل سے چلتی ہے، جب اس کی قیمت بڑھے گی تو یقیناً کھانے پینے کی اشیا بھی مہنگی ہوں گی اور اس کے نتیجے میں مزید مہنگائی بڑھے گی۔‘

تاہم آئل انڈسٹری سے منسلک دیگر افراد سمجھتے ہیں کہ موجودہ صورتحال میں بھی حکومت ملک کو کسی ایسی صورتحال سے بچانے کی اہلیت رکھتے ہیں، جہاں ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قلت پیدا ہو جائے۔

سینرجیکو پاکستان لمیٹڈ کے وائس چیئرمین اسامہ قریشی کہتے ہیں کہ ’پاکستان کا ریفائننگ کا شعبہ خام تیل کی درآمد کے لیے متبادل راستوں پر بھی غور کر رہا ہے اور لیبیا سے کچھ تیل بردار کارگو بھی متوقع ہیں۔‘

’وزارتِ پیٹرولیم سفارتی ذرائع اور تیل پیدا کرنے والے دوست ممالک کے متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطوں کے ذریعے مسلسل تیل کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔‘

ینبع بندرگاہ سے تیل کی فراہمی اس ہی وقت بحال ہو سکتی ہے جب حوثیوں کے حملوں سے متاثر ہونے والی سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کا مرمتی کام مکمل ہو جائے۔ فی الحال کہا جا رہا ہے کہ اس کی مرمت پر تین سے پانچ ہفتوں کا وقت لگ سکتا ہے۔

تاہم فرحان محمود آئل انڈسٹری کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ سعودی عرب کی سرکاری آئل کمپنی آرامکو اس عرصے میں عمان کے ساحلی شہر صحار کے ذریعے تیل کی ترسیل کے آپشن پر غور کر رہی ہے۔

’یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شاید ینبع کے ذریعے تیل کی فراہمی جلدی شروع ہو جائے گی۔‘

سعودی عرب کی جانب سے تاحال اس معاملے پر باضابطہ طور پر کوئی بیان نہیں جاری کیا گیا ہے۔

تاہم فرحان محمود خبردار کرتے ہیں کہ اگر بحیرہ احمر اور سعودی عرب کے قریب تیل کی تنصیبات پر مزید ایسے واقعات (حملے) ہوتے ہیں تو آئل کی فراہمی میں تعطل آئے گا اور اس کی طلب بڑھ جائے گی۔

وہ بتاتے ہیں کہ پاکستان کی کوشش یہی ہوگی کہ جلد از جلد زیادہ سے زیادہ تیل اور گیس کے کارگوز بُک کیے جائیں ’کیونکہ ایسا نہ ہونے کی صورت میں نومبر اور دسمبر میں موسم سرما میں دنیا بھر میں فیول کی ڈیمانڈ برھ جائے گی۔‘

’ایسی صورت میں ہمیں نہ صرف بلند قیمتوں بلکہ تیل کی عدم دستیابی جیسی صورتحال کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘