’گیم کی طرز‘ پر ہدایات، ہزاروں پاؤنڈز کی پیشکش: یورپ بھر میں کم عمر کرائے کے قاتلوں کی بھرتی اور ایران پر الزام

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 9 منٹ

سویڈن کے دارالحکومت سٹاک ہوم کے ایک مضافاتی علاقے میں ایک شخص سرد رات کے اندھیرے میں سیاہ لباس پہنے نمودار ہوا۔ اس کے ہاتھ میں پستول تھی۔ وہ 20 سالہ مراد عبدالقدیر کے قریب پہنچا، جو میک ڈونلڈز میں اپنی شفٹ ختم کرنے کے بعد گھر واپس جا رہے تھے۔

مسلح شخص نے قریب آ کر فائرنگ شروع کر دی۔ اس نے مسلسل گولیاں چلائیں اور اپنے ہدف کی طرف بڑھتا رہا۔ آخری گولی اس نے اس وقت چلائی جب مقتول زمین پر بے بس پڑا ہوا تھا۔

قاتل کی شناخت 18 سالہ اٹیلا عظیموف کے طور پر ہوئی۔ گذشتہ سال فروری کی اس رات اس نے غلط شخص کو نشانہ بنا کر قتل کر دیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق اس قتل کے لیے اسے رقم دی گئی تھی۔ اسے منظم جرائم پیشہ گروہ فوکسٹروٹ نیٹ ورک نے مبینہ طور پر یہ کام سونپا تھا۔ یہ گروہ ایرانی حکومت سے روابط رکھنے والے عناصر سے تعلقات کے الزامات کے باعث خبروں میں رہا ہے اور پرتشدد کارروائیوں کے لیے اپنی خدمات پیش کرنے کے سبب بدنام ہے۔

سنہ 2022 کے بعد سے فوکسٹروٹ نیٹ ورک کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ تقریباً 35 افراد کے قتل کے ساتھ ساتھ یورپ میں اسرائیلی اہداف کے خلاف متعدد حملوں اور حملوں کی کوششوں میں ملوث رہا ہے، جن میں سے دو واقعات میں دھماکہ خیز مواد اور دستی بم بھی استعمال کیے گئے۔

یہ گروہ حملے کروانے کے لیے کم عمر نوجوانوں کو رقم کے عوض بھرتی کرتا ہے، تاہم اسے اکثر رقم ادا نہیں کرنی پڑتی کیونکہ یہ نوجوان عموماً گرفتار ہو جاتے ہیں۔

ایسا ہی ایک واقعہ ناروے کے نوجوان جوہانس نیٹ لینڈ کا بھی ہے، جنھیں بدھ کے روز لندن کی اولڈ بیلی عدالت میں جیوری نے مغربی یارکشائر میں ایک منصوبہ بندی کے تحت قتل کی سازش میں ملوث ہونے پر مجرم قرار دیا۔

یوروپول کے تحت قائم آپریشنل ٹاسک فورس گریم، جو اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے بنائی گئی ہے، کے مطابق کم عمر قاتلوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے بھرتی کیا جاتا ہے اور انھیں حملوں کی ہدایات ایک ’گیم کی طرح‘ دی جاتی ہیں، یعنی کمپیوٹر گیمز کے انداز میں۔

یوروپول کے یورپی سنگین اور انسدادِ منظم جرائم سینٹر کے سربراہ اینڈی کراگ اسے ’کمزور نوجوانوں کو استعمال کرتے ہوئے قتل کی ذمہ داری منتقل کرنے کا منصوبہ‘ قرار دیتے ہیں۔

آپریشنل ٹاسک فورس گریم میں اس وقت 11 ممالک شامل ہیں جو ’وائلنس ایز اے سروس‘ کے رجحان سے متاثر ہیں۔ ان ممالک میں بیلجیئم، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، جرمنی، آئس لینڈ، نیدرلینڈز، ناروے، سپین، سویڈن اور برطانیہ شامل ہیں۔

فوکسٹروٹ نیٹ ورک کے سربراہ راؤا مجید سویڈن اور بعد ازاں ترکی میں اپنے آپریشنل اڈے سے فرار ہو چکے ہیں اور اب وہ ایران کے دارالحکومت تہران میں موجود ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ وائلنس ایز اے سروس یعنی تشدد بطور خدمت کے تحت کیے گئے بعض حملے ایرانی حکومت کے لیے کیے گئے، جن میں کوپن ہیگن میں اسرائیلی سفارت خانے پر دستی بم حملہ بھی شامل ہے۔ تاہم دیگر حملے فوکسٹروٹ نیٹ ورک کی منشیات کے کاروبار پر قبضے کی جنگوں سے متعلق تھے۔

سویڈش نشریاتی ادارے ایس وی ٹی کے تحقیقاتی صحافی ڈائمنڈ صالحو گذشتہ تین برسوں سے فوکسٹروٹ نیٹ ورک اور اس کے ایرانی روابط پر تحقیق کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’ایرانی حکومت فوکسٹروٹ نیٹ ورک کے سربراہ کو حکم دے رہی ہے کہ وہ اپنے نیٹ ورک کو ایرانی حکومت کے دشمنوں کے خلاف حملے کرنے کے لیے استعمال کرے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ مخالفین، حکومت کے خلاف آواز اٹھانے والے صحافی یا دیگر افراد ہو سکتے ہیں اور اس میں اسرائیلی اہداف بھی شامل ہو سکتے ہیں۔‘

صالحو کے مطابق فوکسٹروٹ نیٹ ورک کے ایرانی حکومت سے روابط اکتوبر سنہ 2023 کے بعد شروع ہوئے جب راؤا مجید فرار ہو کر تہران پہنچے۔

انھوں نے کہا کہ ’انھیں ایران میں آزادا رہنے کے لیے ایک معاہدہ کرنا پڑا، جس کی شرط یہ تھی کہ وہ اور ان کا نیٹ ورک ایرانی حکومت کے لیے کام کریں گے۔‘

برطانوی حکومت نے اپریل سنہ 2025 میں فوکسٹروٹ نیٹ ورک اور راؤا مجید پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

اس سے ایک ماہ پہلے 18 سالہ جوہانس نیٹ لینڈ کو گرفتار کیا گیا تھا، جو فوکسٹروٹ کے کہنے پر ہڈرزفیلڈ کے قریب قتل کی کارروائی کے لیے برطانیہ آئے تھا۔

نیٹ لینڈ کا مقدمہ اس بات کی مثال ہے کہ ’وائلینس ایز سروس‘ کا نظام کس طرح کام کرتا ہے۔

نیٹ لینڈ سٹاوانگر والدین صحافی ہیں اور ان کی پرورش ایک پرسکون اور آسائشوں سے بھرے ماحول میں ہوئی لیکن بعد میں وہ منشیات کی طرف مائل ہو گئے اور وہ نفسیاتی مسائل کا سامنا کرنے لگے۔

اس کے بعد انھیں بحالی مرکز میں وقت گزارنا پڑا اور کچھ عرصہ بچوں کے ایک نگہداشت مرکز میں بھی رہے۔ وہیں ان کی ملاقات ایک دوسرے نوجوان سے ہوئی جو آن لائن نام ’اننون ہسلر‘ استعمال کر رہے تھے۔

اسی نوجوان نے سب سے پہلے نیٹ لینڈ کو برطانیہ میں کسی کو قتل کرنے کی آن لائن پیشکش بھیجی۔ اس پیغام میں لکھا تھا کہ ’انگلینڈ میں قتل، 270کے‘ یعنی 270,000 نارویجین کراؤن تقریباً 21 ہزار برطانوی پاؤنڈ کے برابر ہیں۔ یہ پیغام ایک اور نوجوان نے بھیجا تھا جو ’جنرلین‘ کے نام سے آن لائن دنیا میں سرگرم تھے۔

اس وقت جنرلین کی عمر 16 سال تھی اور وہ گزشتہ تین سال سے بچوں کے نگہداشت مرکز میں موجود تھے۔ بعد میں انھیں نے نیٹ لینڈ کو اس کارروائی کے لیے شامل کیا۔

اس کے بعد نیٹ لینڈ کو فوکسٹروٹ نیٹ ورک کے ایک رکن کے حوالے کیا گیا، جو آن لائن نام ’ایجنٹ 47‘ استعمال کرتا تھا۔ یہ نام مشہور ویڈیو گیم سیریز ’ہٹ مین‘ کے ایک کردار سے لیا گیا ہے۔ سویڈش پولیس نے الزام لگایا ہے کہ فوکسٹروٹ کے سربراہ راؤا مجید کے قریبی ساتھی علی شہاد احمد ہی ’ایجنٹ 47‘ ہیں۔

ایجنٹ 47 نے نیٹ لینڈ کے لیے مانچسٹر ایئرپورٹ کی یک طرفہ ٹکٹ بک کی اور ہنگامی پاسپورٹ حاصل کرنے کے عمل میں اس کی مدد کی۔ پیغام رسانی کی ایپ سگنل کے ذریعے اس نے نیٹ لینڈ کو سفر کے ہر مرحلے پر ہدایات دیں، اور بعد میں اسے ’ون‘ نامی ایک لاجسٹک رابطہ کار کے حوالے کر دیا۔

کمپیوٹر گیم کے کردار کی طرح نیٹ لینڈ کو ہدایات دیتے ہوئے ’ون‘ نے انھیں ایک نقشہ اور ویڈیوز بھیجیں، جن میں بتایا گیا تھا کہ ہڈرزفیلڈ کے جنگلات میں چھپائے گئے ہتھیار کہاں ملیں گے۔ اس کے بعد ایک اور ویڈیو بھیجی گئی، جس میں بتایا گیا کہ پیدل گزرگاہ کے قریب جھاڑیوں میں چھپائی گئی رقم کیسے حاصل کرنی ہے۔

جب نیٹ لینڈ ہتھیاروں کے ساتھ ہڈرزفیلڈ کے ایک ہوٹل میں پہنچ گئے تو ایجنٹ 47 نے انھیں دوبارہ پیغام بھیجا کہ ’کل ہمیں بہت کچھ کرنا ہے۔‘

اگلی صبح نیٹ لینڈ کو گرفتار کر لیا گیا۔ اس وقت تک انھیں یہ بھی نہیں بتایا گیا تھا کہ انھیں کس شخص کو قتل کرنا ہے۔ انسدادِ دہشت گردی کے تفتیش کار اب بھی یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ کارروائی کسی جرائم پیشہ تنازعے کا حصہ تھی یا ایران کے لیے کی جانے والی سیاسی کارروائی۔

نیٹ لینڈ کو اس کارروائی کے لیے بھرتی کرنے والے نوجوان، جو آن لائن ’جنرلین‘ کے نام سے جانے جاتے تھے متعدد جرائم میں ملوث تھے۔

نیٹ لینڈ کو برطانیہ میں قتل کی کارروائی کے لیے بھرتی کرنے کے علاوہ انھوں نے کم از کم دو ایسے افراد کو بھی بھرتی کیا، جنھوں نے سویڈن میں قتل کیے۔ ان میں ایک اٹیلا عظیموف تھے، جو غلط شخص کو قتل کرنے کے جرم میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں، جبکہ دوسرا 17 سالہ نوجوان تھا، جس نے اس سے تقریباً ساڑھے تین ہفتے قبل جنوبی سویڈن کے شہر لنڈ میں احمد زمزم کو گولی مار کر قتل کر دیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق ان دونوں قاتلوں کو کوئی معاوضہ نہیں ملا کیونکہ دونوں واردات کے بعد گرفتار ہو گئے۔ تحقیقاتی صحافی ڈائمنڈ صالحو کے مطابق یہی فوکسٹروٹ نیٹ ورک کا طریقۂ کار ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’اس گروہ کو اس بات کی کوئی پروا نہیں ہوتی کہ کم عمر نوجوان گرفتار ہوتے ہیں یا نہیں، کیونکہ گرفتاری کے بعد وہ اس رقم کا مطالبہ ہی نہیں کر سکتے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا۔ ہمارے سامنے ایسا کوئی ثبوت نہیں آیا کہ ان نوجوان قاتلوں کو کبھی رقم ادا کی گئی ہو۔‘

صالحو کے مطابق ’کم عمر سے کم عمر نوجوانوں کو بھرتی کرنا اس گروہ کی دانستہ حکمتِ عملی ہے کیونکہ وہ گرفتاری کے نتائج کے بارے میں زیادہ نہیں سوچتے اور خطرات مول لینے پر جلد آمادہ ہو جاتے ہیں۔‘

بالآخر جنرلین اس وقت قانون کی گرفت میں آئے جب وہ ناروے کے ایک پولیس افسر کے 14 سالہ بیٹے کے قتل کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ انھوں نے چاقو کے حملے کے لیے 15 اور 17 سال کے دو لڑکوں کو بھرتی کیا، تاہم 15 سالہ لڑکے نے پولیس کو اس منصوبے کے بارے میں سب کُچھ بتا دیا۔

جب جنرلین کو گرفتار کیا گیا تو تفتیش کاروں کو ان کے موبائل فون سے ہڈرزفیلڈ میں منصوبہ بند قتل کی تفصیلات ملیں، جس کے بعد برطانوی پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے نیٹ لینڈ کو گرفتار کر لیا۔

جنرلین کو مئی میں مجرم قرار دیا گیا تھا اور وہ اس وقت 14 سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔

گریم کے قیام کے بعد گذشتہ 15 ماہ کے دوران انھوں نے کئی اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اس دوران پولیس نے 280 سے زائد افراد کو گرفتار کیا جن میں اس نیٹ ورک کے چند اہم مشتبہ افراد بھی شامل ہیں۔

اہم گرفتاریوں میں احمد کی گرفتاری بھی شامل ہے، جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ آن لائن ’ایجنٹ 47‘ کے نام سے سرگرم تھے۔

احمد کو عراق کے کردستان ریجن کے شہر سلیمانیہ میں گرفتار کیا گیا تھا اور اس وقت انھیں سویڈن کے حوالے کرنے کی درخواست پر کارروائی جاری ہے۔

سویڈن کی نیشنل پولیس کے نائب کمشنر سٹیفن ہیکٹر نے کہا کہ پولیس ’دیگر ممالک کے ساتھ مسلسل تعاون کر رہی ہے‘ تاکہ منظم جرائم میں ملوث افراد کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ ’وہ دنیا کے کسی بھی حصے میں خود کو محفوظ نہ سمجھیں۔‘

مئی میں فوکسٹروٹ نیٹ ورک کے ایک اہم رکن اور سابق ریپر محمد ’موگلی‘ محمدی کو تیونس میں گرفتار کیا گیا۔ سویڈش پولیس انھیں فوکسٹروٹ کا ایک ’مرکزی کردار‘ قرار دیتی ہے۔

تاہم فوکسٹروٹ نیٹ ورک کے سربراہ راؤا مجید اب بھی ایران میں موجود ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پہنچ سے باہر ہے۔

تحقیقاتی صحافی ڈائمنڈ صالحو کے مطابق ’وہ اب بھی سرگرم ہیں اور جب تک یہ نیٹ ورک فعال رہے گا مجھے خدشہ ہے کہ ایرانی حکومت کے مخالفین پر حملے جاری رہیں گے۔‘

ابھی یہ واضح نہیں کہ حالیہ گرفتاریاں فوکسٹروٹ نیٹ ورک کی سرگرمیوں کو کس حد تک متاثر کر سکی ہیں، تاہم اس کے حریف گروہوں، جن میں ڈالن نیٹ ورک بھی شامل ہے، نے بھی کم عمر نوجوانوں کو قتل کی کارروائیوں کے لیے بھرتی کرنے کا یہی طریقۂ کار اپنا لیا ہے جس کے باعث خطرہ اب بھی برقرار ہے۔

یہ طریقۂ کار پہلے سویڈن سے پورے سکینڈینیویا اور شمالی یورپ تک پھیلا اور نیٹ لینڈ کے مقدمے سے ظاہر ہوتا ہے کہ گذشتہ سال یہ برطانیہ تک بھی پہنچ چکا تھا۔