آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’نظام ڈھے چکا ہے‘: محسن نقوی کی نئے صوبوں کی تجویز کتنی قابلِ عمل اور فیصلہ کس نے کرنا ہے؟
- مصنف, عمیر محمود
- عہدہ, بی بی سی اردو
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
’آج مجھے تھوڑی سی سیاسی تقریر کرنا پڑے گی۔‘
یہ اسلام آباد میں معاشی سمٹ سے خطاب کرنے آئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے ابتدائی کلمات تھے۔
اس کے بعد پہلے تو انھوں نے یہ کہا کہ ’جس نظام کے اندر ہم رہ رہے ہیں یہ کولیپس کر چکا ہے (ڈھے چکا ہے)‘ اور ساتھ ہی بظاہر اس کے حل کے طور پر پاکستان میں نئے صوبے بنانے کا مشورہ دے دیا۔
ان کے الفاظ تھے: ’انتظامی یونٹس یا صوبے، اس کو جو مرضی نام دے لیں، اس کو عوام کی سطح پر لے کر جانا پڑے گا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت جب اپنا بجٹ بناتی ہے تو خسارے کا بناتی ہے، ’اس میں یہ بات کی جاتی ہے کہ اس سال کتنا قرضہ لینا ہے، تو کیا یہ ہمارا فرض نہیں ہے کہ اس کو ٹھیک کیا جائے۔‘
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ملک کا قرض ہر سال بڑھتا جا رہا ہے ’جب تک اس سسٹم کو ری۔سیٹ نہیں کریں گے‘ تب تک مسائل حل نہیں ہوں گے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے تجویز دی کہ ’اس کے لیے پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کو ایک کمرے میں بیٹھنا پڑے گا، چاہے وہ ایک دن بیٹھیں، ایک مہینہ بیٹھیں یا ایک سال بیٹھیں۔‘
محسن نقوی کے مطابق پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کو ’صوبوں کے نئے یونٹس سے لے کر اپنے ملک کا ایک ایک مسئلہ بیٹھ کر حل کرنا پڑے گا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے مزید کہا کہ جب تک ایسا نہیں کیا جاتا اس وقت تک ملک کے حالات تبدیل نہیں ہو سکتے، ’چاہے آپ جتنے مرضی سیمینار کر لیں یا جتنی مرضی تقریبات کر لیں۔‘
خیال رہے محسن نقوی وفاقی وزیر بننے سے پہلے صحافی تھے، پھر ایک چینل کے مالک بنے اور گذشتہ تین سال میں وہ تیزی سے صحافت سے سیاست کی جانب آئے۔ پہلے پنجاب کے نگران وزیرِ اعلیٰ بنائے گئے، پھر پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اور اس کے بعد وزارت داخلہ کا قلمدان بھی انھی کے حصے میں آیا۔
وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے ایک ٹیلی وژن انٹرویو میں محسن نقوی کے وزیر داخلہ بننے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا: ’محسن نقوی کو آپ ہلکا نہ لیں، ان کی مہربانی ہے کہ وہ وزیر داخلہ پر ہی اکتفا کر رہے ہیں، ورنہ چاہیں تو وہ وزیر اعظم بھی بن سکتے ہیں۔‘
تو ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ محسن نقوی جیسے بارسوخ وزیر کو نئے صوبوں کا مشورہ ایک معاشی سمٹ میں سامنے رکھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اور ان کی جانب سے یہ مشورہ دیا جانا کتنا معنی خیز ہے؟
تجزیہ کار سلمان غنی کا ماننا ہے کہ محسن نقوی کا صحافت اور سیاست میں اہم کردار ہے ’اس وقت یہ مطالبہ کرنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ پاکستان میں منتخب حکومت تو ہے لیکن لوگوں کے مسائل حل نہیں ہو پا رہے۔‘
’نظام ڈھے نہیں گیا، جام ہو گیا ہے‘
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اپنے ساتھی وزیر محسن نقوی کے نئے صوبوں کے مشورے یا مطالبے سے تو اتفاق کرتے ہیں لیکن وہ اس بیان سے متفق نہیں کہ ’نظام ڈھے چکا ہے۔‘
بی بی سی نیوز اردو سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا: ’میرے نزدیک سسٹم کولیپس کہنا مناسب نہیں۔ سسٹم صوبائی مرکزیت، این ایف سی ایوارڈ کی کمزوریوں اور بیوروکریسی کے شکنجے سے جام ہو گیا ہے۔‘
احسن اقبال نے وہ وجوہات بیان کیں جن کی بنیاد پر ان کا خیال ہے کہ ملک میں نئے صوبے یا انتطامی یونٹس بنانے کی اشد ضرورت ہے۔
انھوں نے بتایا کہ 18ویں ترمیم کا مقصد یہ تھا کہ اختیارات کو وفاق سے صوبوں تک اور صوبوں سے ضلعی حکومتوں تک منتقل کیا جائے، تاہم آئینی ترمیم کے بعد ’صوبوں کو تو اختیارات منتقل ہو گئے، لیکن انھوں نے وہ تمام اختیارات اپنے پاس ہی رکھ لیے۔‘
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ اس وقت ’صوبے مرکزیت کے ساتھ ایک انتظامی یونٹ کی صورت اختیار کر چکے ہیں، جس کی وجہ سے تعلیم اور صحت سمیت تمام شعبہ جات ابتری کا شکار ہوئے ہیں۔‘
وفاقی وزیر منصوبہ بندی کا کہنا تھا کہ ’یا تو صوبوں کے اختیارات ضلعی حکومتوں کو دے دیے جائیں، یا پھر پاکستان کے 160 اضلاع میں با اختیار مقامی حکومتیں قائم کی جائیں۔‘
احسن اقبال کے بقول اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو ملک کو زیادہ مؤثر انداز میں چلانے کے لیے نئے اور قابلِ انتظام انتظامی یونٹس قائم کرنا نا گزیر ہو جائے گا۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کی آبادی بڑھ چکی ہے، اب صوبائی دار الحکومتوں میں بیٹھ کر صوبے چلانا نا ممکن ہو چکا ہے، ’اس کا حل یہ ہے کہ یا تو تمام اضلاع میں با اختیار مقامی حکومتیں بنا دی جائیں یا ملک میں 15 سے 18 صوبے بنا دیے جائیں۔‘
احسن اقبال نے دلیل میں انڈیا سمیت دیگر ممالک کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ ’ترکی میں 81 صوبے ہیں، یہاں تک کہ افغانستان میں بھی 30 سے زیادہ صوبے ہیں۔‘
وفاق نئے صوبوں بنانے کی کوشش کرتا ہے تو کیا اتحادی جماعت پیپلز پارٹی اس کی حمایت کرے گی؟
اس سوال کا جواب دیتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا کہ ان کی جماعت کا اس حوالے سے مؤقف بہت واضح ہے؛ وہ یہ کہ ’نئے صوبے بنانے کا طریقۂ کار آئین میں موجود ہے۔ اور وہ اسی طریقۂ کار کے تحت ہی بنائے جا سکتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ جس صوبے کو تقسیم کرنے کی ضرورت ہو گی، ’وہی صوبہ اس پر بحث کرے گا، آئین میں ترمیم کی جائے گی، اور نیا صوبہ صرف اسی صورت میں ہی بن سکتا ہے۔‘
بی بی سی نیوز اردو سے گفتگو میں قمر زمان کائرہ نے کہا کہ ’پیپلز پارٹی نئے صوبوں کی مخالفت نہیں کرتی، جہاں نئے صوبوں کی ضرورت محسوس کی جائے گی، وہاں طریقۂ کار پر عمل کرتے ہوئے بنا لیے جائیں تو ہمیں کوئی مسئلہ نہیں۔‘
محسن نقوی کے مشورے پر تبصرہ کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ نے رائے دی کہ ’وفاق میں بیٹھا شخص نئے صوبوں کی ضرورت پر بحث تو کر سکتا ہے لیکن یہ فیصلہ بہرحال صوبوں کو ہی کرنا ہے۔‘
پاکستان میں نئے صوبے بنانے کا کیا طریقہ ہے؟
پاکستان میں نئے صوبے بنانے کے لیے طریقۂ کار کی رہنمائی آئین پاکستان کی شق نمبر 239 کی ذیلی شق چار سے ملتی ہے۔
اس شق میں دیے گئے طریقۂ کار کے مطابق جس صوبے کو تقسیم کر کے نئے صوبے بنائے جانے ہوں، اگر اس متعلقہ صوبے کی اسمبلی کے اراکین کی کل تعداد کی دو تہائی اکثریت صوبے کی حدود میں رد و بدل کے حق میں ووٹ ڈالے گی، تو ہی پارلیمان آئینی ترمیمی بل منظور کر کے صدرِ مملکت کو پیش کر سکتی ہے۔
آئین کی شق 239 کی ذیلی شق چار میں درج ہے: ’آئین میں ترمیم کرنے والا کوئی ایسا بل، جس کے نتیجے میں کسی صوبے کی حدود میں تبدیلی واقع ہوتی ہو، صدرِ مملکت کی منظوری کے لیے اُس وقت تک پیش نہیں کیا جائے گا جب تک اسے متعلقہ صوبے کی اسمبلی اپنے کل ارکان کی کم از کم دو تہائی اکثریت سے منظور نہ کر دے۔‘
چونکہ صوبے کی حدود کے لیے آئینی ترمیم درکار ہوتی ہے اور آئینی ترمیم کے لیے اراکین اسمبلی کی دو تہائی اکثریت کا ہونا ضروری ہے، تو اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ صرف صوبائی اسمبلی ہی نہیں، بلکہ قومی اسمبلی اراکین کی بھی دو تہائی اکثریت ووٹ دے تو ہی کسی صوبے کو مزید تقسیم کر کے نئے صوبے یا انتظامی یونٹس بنائے جا سکتے ہیں۔
جب سنہ 2018 میں 25ویں آئینی ترمیم کے ذریعے قبائلی اضلاع کو صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کیا گیا تھا تو وہ آئین کی اسی شق کے تحت ہوا تھا۔
’محسن نقوی نظام سے مایوس ہیں تو یہ سیاسی قوتوں کے لیے لمحۂ فکریہ ہے‘
بی بی سی نیوز اردو سے گفتگو میں تجزیہ کار سلمان غنی کا کہنا تھا کہ ضلعی حکومتوں کا نظام فعال نہیں ہونے دیا گیا، اسی وجہ سے نئے صوبوں کی بات ہو رہی ہے، ’اگر ضلعی حکومتوں کا نظام فعال ہوتا تو نئے صوبوں کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔‘
سلمان غنی کا مؤقف تھا کہ اگر ملک کو آگے لے کر جانا ہے اور گورننس میں بہتری لانی ہے تو اس کے لیے نئے صوبوں کا قیام ضروری ہے۔
انھوں نے مثال دی کہ ’جیسے بلوچستان رقبے کے اعتبار سے بہت بڑا ہے۔ اگر وہاں نئے صوبے بنائے گئے تو ہر صوبے کی حکومت مسائل کے لیے جواب دہ ہو گی۔‘
تجزیہ کار سلمان غنی نے وزیر داخلہ کے ’نظام ڈھے چکا ہے‘ والے بیان پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر محسن نقوی نظام سے مایوسی کی بات کر رہے ہیں تو یہ تشویش ناک ہے اور سیاسی قوتوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔‘
صحافی، کالم نگار اور ٹی وی اینکر رؤف کلاسرا نے بھی محسن نقوی کی تقریر کے اسی حصے پر اپنی رائے دی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ میں انھوں نے لکھا: وزیر داخلہ محسن نقوی نے جس طرح ٹی وی کیمروں کے سامنے وزیر اعظم شہباز شریف کی چار سالہ کارگردگی کا پوسٹ مارٹم کیا، اس سے سنہ 1998 میں آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت کی نیول سٹاف کالج لاہور میں کی گئی تقریر یاد آ گئی۔‘
رؤف کلاسرا لکھتے ہیں کہ جنرل جہانگیر کرامت نے وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ سول ملٹری تنازعات پر قومی سلامتی کونسل کی تجویز دی تھی، اور ’اس کے 12 گھنٹے میں نواز شریف نے جنرل کرامت کا استعفیٰ لے لیا تھا۔‘
رؤف کلاسرا نے مزید لکھا: ’شہباز شریف گورنس میں اپنی ناکامی کا خود اعتراف کر کے (وزارت عظمیٰ) چھوڑ دیں یا وزیر کو کہیں (کہ) وہ چھوڑ دیں۔‘