آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
نیا موبائل فون لینے کا جنون اور قصور میں نوجوان کا ’خود کو گولی مارنے‘ کا واقعہ
- مصنف, احتشام شامی
- عہدہ, صحافی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
رات کے اندھیرے میں ایک نوجوان خون میں لت پت سڑک کنارے پڑا تھا۔ اس کی ٹانگ سے مسلسل خون بہہ رہا تھا، قریب کھڑا ایک شخص اپنی قمیض پھاڑ کر زخم پر باندھنے کی کوشش کر رہا تھا، جبکہ دوسری طرف پولیس کو اطلاع دی جا چکی تھی کہ ڈاکو ایک نوجوان کو لوٹ کر گولی مار گئے ہیں۔
پولیس موقع پر پہنچی تو بظاہر سب کچھ ایک عام واردات جیسا دکھائی دے رہا تھا۔ زخمی نوجوان ہسپتال منتقل ہو چکا تھا، دوست پریشان دکھائی دے رہے تھے۔
مگر جیسے جیسے تفتیش آگے بڑھی، اس کہانی کی پرتیں ایک ایک کرکے کھلتی گئیں۔ چند گھنٹوں کے اندر پولیس کو احساس ہوا کہ جس واردات کو حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، شاید وہ کبھی ہوئی ہی نہیں تھی۔
تفتیش کاروں کے مطابق آگے کی کہانی نے انھیں بھی حیران کر دیا۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ ’لڑکے نے تنخواہ کی رقم 80 ہزار روپے والدین کو دینے کی بجائے واردات کا ڈرامہ کیا تاکہ وہ گھر والوں کو بتائے بغیر نیا موبائل فون خرید سکے۔‘
’اپنی ٹانگ پر گولی مارنے والے‘ لڑکے اور اس کے منصوبہ ساز دوستوں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ پولیس نے ایک دوست کے قبضے سے وہ پستول بھی برآمد کرلیا ہے جو کہ اس واردات کے مبینہ ڈرامے کے لیے استعمال کیا گیا۔
لڑکے کے تینوں دوستوں کو پیر کو جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کرکے تین روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کیا گیا ہے۔
پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان سے وقوعہ کے بارے میں تفتیش کی جانی ہے، اس کیس میں استعمال ہونے والی اشیا اور موبائل فون برآمد کیا جانا ہے اور زیرحراست ملزمان سے چھان بین کی جانی ہے کہ کہیں وہ پہلے بھی کسی مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث تو نہیں رہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تھانہ راجہ جنگ پولیس کے ایس ایچ او نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’خود کو زخمی کرنے والا لڑکا ہسپتال میں داخل ہے جہاں اس کا علاج ہورہا ہے، جب اسے ہسپتال سے ڈسچارج کیا جائے گا تو اسے بھی حراست میں لے کر اس کے خلاف بھی قانونی کارروائی کا آغاز کیا جائے گا۔‘
دوسری جانب خود کو مبینہ طور پر زخمی کرنے والے نوجوان کے والد نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ان کا ذہن اس بات کو تسلیم نہیں کررہا کہ ان کے بیٹے نے خود کو فائر مار کر زخمی کیا ہے اور بھی صرف ایک موبائل فون کی خاطر۔
ایف آئی آر میں خودکشی کی کوشش کا الزام
پولیس ترجمان کے مطابق ضلع قصور کے تھانہ راجہ جنگ میں درج ہونے والی ایف آئی آر کا مدعی محکمہ پولیس خود بنا ہے۔
اسسٹنٹ سب انسپکٹر اکبر علی کی مدعیت میں درج ہونے والے مقدمے میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 325 اور 109 لگائی گئیں، اس کے علاوہ ٹیلیگراف ایکٹ کی دفعہ 29 ڈی بھی لگائی گئی ہے۔
تعزیرات پاکستان کی دفعہ 325 خودکشی کی کوشش کرنے پر لگائی جاتی ہے، جس کی سزا ایک سال قید اور جرمانہ ہوتی ہے، جبکہ زخمی نوجوان عدنان کے دوستوں کو زیرِ دفعہ 109 کا مرتکب قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ یہ واقعہ ان کے ایما پر پیش آیا۔
جس دوست نے پولیس کو کال کر کے غلط بیانی کی اسے ٹیلیگراف ایکٹ کی دفعہ 29 کا ملزم قرار دیا گیا۔
مدعی مقدمہ کا کہنا ہے کہ ’وہ ہمراہ ملازمین کے پل نہر راجہ کے قریب سرکاری گاڑی میں موجود تھا کہ رات دس بج کر 40 منٹ پر بذریعہ وائرلیس کنٹرول 15 کال موصول ہوئی اور کال کرنے والے شخص نے اپنا نام محمد وقار بتایا اور پولیس کو کہا کہ عدنان کے ساتھ چھ افراد نے واردات کر کے رقم چھین لی ہے اور اسے گولی مار کر زخمی کر دیا ہے۔‘
’اطلاع ملتے ہی پولیس ٹیم جب موقع پر پہنچی اور حالات و واقعات کی تصدیق کی گئی تو 15 پر کی جانے والی واردات سے متعلق کال جھوٹی اور بے بنیاد نکلی، پولیس کی تحقیقات میں واردات والی کوئی بات سامنے نہ آئی۔‘
ایف آئی آر کے متن کے مطابق ’حالات کی مزید تصدیق کرنے پر معلوم ہوا کہ حویلی تیلیاں والی کے رہائشی نوجوان نے اپنی تنخواہ گھر والوں سے بچانے کے لیے اپنے تین دوستوں سے مشورہ کیا کہ میں اپنی اس ماہ کی تنخواہ گھر والوں کو نہیں دینا چاہتا اور موبائل فون خریدنا چاہتا ہوں۔‘
’جس پر دوستوں نے نوجوان کو خود کو گولی مار کر زخمی کرنے اور واردات کا ڈرامہ رچانے کا مشورہ دیا اور اسلحہ فراہم کیا، جس پر اس شخص نے خود اپنی بائیں ٹانگ پر گولی مار کر خود کو زخمی کرلیا، جبکہ دیگر ملزمان (یعنی ان کے دوستوں) نے اس سارے وقوعہ میں اس کا ساتھ دیا۔‘
تفتیشی آفیسر کا کہنا ہے کہ ’پولیس نے قانونی کارروائی کرتے ہوئے موقع سے خون آلود مٹی اور پستول سے چلنے والی گولی کا خول قبضے میں لے لیے ہیں اور اس معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔‘
دوست کے موبائل فون سے بھانڈا پھوٹ گیا
پولیس کا کہنا ہے کہ ’تحقیقاتی ٹیم نے کیس پر کام شروع کیا تو چونکہ ملزمان اناڑی تھے اس وجہ سے جھوٹی واردات کے لیے گھڑے جانے والے منصوبے کے آٹھ گھنٹوں کے اندر ہی پکڑے گئے۔‘
جب اس واقعہ کے بارے میں پولیس کے وائرلیس کنٹرول پر اطلاع دی گئی تو ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس افضل ڈوگر اور تھانہ راجہ جنگ کے ایس ایچ او علی اکبر اپنی ٹیموں کے ہمراہ فوری موقع پر پہنچے، تاہم پولیس ٹیموں کے پہنچنے سے پہلے زخمی نوجوان کو جناح ہسپتال لاہور لے جایا جاچکا تھا۔
پولیس ٹیموں نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا، حالات و واقعات کا جائزہ لیا اور وقوعہ کے کرداروں سے پوچھ گچھ شروع کر دی، جس میں زخمی شخص کے دوست بھی شامل تھے۔
ایس ایچ او انسپکٹر علی اکبر نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’انھوں نے زخمی نوجوان کے ایک دوست سے اس کا موبائل نمبر حاصل کیا اور اسے فون کیا۔‘
ایس ایچ او کے مطابق ’انھوں نے واقعے کی تفصیل معلوم کی تو زخمی نوجوان نے بتایا کہ واردات کے وقت قریبی کھیتوں میں ایک شخص فصلوں کو پانی دے رہا تھا، جو اس واقعے کا واحد چشم دید گواہ ہے۔ اسی شخص نے اسے ابتدائی طبی امداد فراہم کی، اپنی قمیض اتار کر عدنان کی ٹانگ پر باندھی تاکہ خون بہنا رک سکے اور اسی کے موبائل فون سے عدنان نے اپنے ایک دوست کو کال کرکے مبینہ واردات کی اطلاع دی۔‘
ایس ایچ او کے مطابق ’پولیس ٹیم اس نوجوان کے پاس پہنچی اور واقعے کے بارے میں پوچھا تو اس نے وہی بیان دیا جو زخمی عدنان پہلے ہی پولیس کو دے چکا تھا۔ معاملہ اس وقت پیچیدہ ہوسکتا تھا اگر عدنان عمر کا موبائل فون پولیس کے قبضے میں نہ لیا جاتا، کیونکہ اسی فون سے کی گئی کال اور اس کے ڈیٹا نے حقیقت تک پہنچنے میں اہم کردار ادا کیا۔‘
ایس ایچ او انسپکٹرعلی اکبر بتاتے ہیں کہ انھوں نے زخمی نوجوان کے کزن کو فون کر کے واقعے کی اطلاع دینے والے شخص سے پوچھا کہ کیا ان کا کبھی پہلے بھی ان افراد سے رابطہ رہا ہے؟
’اس نے انکار کردیا اور کہا کہ میں زخمی لڑکے یا اس کے کزن کو پہلے سے نہیں جانتا، لیکن جب موبائل فون کی ہسٹری (ریکارڈ) چیک کیا گیا تو دونوں کے درمیان پہلے بھی متعدد دفعہ رابطہ ہوا تھا اور دونوں اطراف سے کالز کی گئی تھیں۔‘
’مبینہ وقوعہ کے واحد عینی شاہد کے موبائل فون پر کال ریکارڈنگ لگی ہوئی تھی، لیکن اس نے زخمی لڑکے کے کزن کو مبینہ واردات کے بعد جو کال کی تھی اس کی ریکارڈنگ ڈیلیٹ کردی گئی تھی، جب اس بابت اس سے پوچھا گیا کہ تم نے اس کال کا ڈیٹا کیوں ڈیلیٹ کیا تو وہ کوئی جواب نہ دے سکا اور کہا کہ شاید غلطی سے ایسا ہوگیا ہوگا۔‘
ایس ایچ او بتاتے ہیں کہ ’یہ لڑکا پولیس کی تفتیش سے گھبرا گیا اور کہا کہ اس نے دوستی نبھانے کے لیے یہ کام کیا ہے اور اس کا کردار صرف اتنا ہی تھا، باقی جہاں تک گولی مارنے والی بات ہے وہ عدنان نے خود ہی اپنے آپ کو ماری ہے اس میں میرا یا اس کے کسی دوسرے دوست کا کوئی کردار نہیں۔‘
ڈسٹرکٹ پولیس افیسر قصور آفتاب احمد پھلروان کا کہنا ہے کہ ’یہ واقعہ نئی نسل میں موبائل فون کے جنون کی مثال ہے، والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر نظر اور گھر میں دوستانہ ماحول رکھیں تاکہ ایسے خوفناک حادثات سے بچا جا سکے۔‘
’والدین غریب ہیں، انھیں فون خریدنے پر کیا اعتراض ہوسکتا تھا‘
زخمی نوجوان کے ایک کزن عثمان علی کا کہنا ہے کہ ’میرا کزن ایک فیکٹری میں کام کرتا ہے جسکی عمر 24 سال ہے، یہ غیرشادی شدہ ہے اور اس کا تعلق ایک غریب گھرانے سے ہے۔ والدین بھی محنت مزدوری کرتے ہیں اور بمشکل گھر کا گزر بسر ہوتا ہے۔‘
’ان کے کندھوں پر گھر کی ذمہ داریوں کا بوجھ ہے، موبائل فون یقیناً آج کے لڑکوں لڑکیوں کی ضرورت بن چکا ہے لیکن گھر کی ضروریات پوری کرنے سے زیادہ موبائل فون تو نہیں ہوسکتا۔‘
عثمان علی کہتے ہیں کہ ’وہ ایک شریف اور سادہ مزاج لڑکا ہے، اگر وہ تیز طرار ہوتا تو کبھی ایسا کام نہ کرتا۔‘ انھوں نے بتایا کہ ’میری ہسپتال میں اس سے بات چیت ہوئی ہے، جوکہ خود بھی اس معاملے پر پریشان اور شرمندہ ہے۔‘
’یہ اس کی اپنی غلطی ہے جس کا وہ خمیازہ بھگت رہا ہے، بہتر ہوگا کہ پولیس کے افسران اسے وارننگ دے کر معاف کردیں کیونکہ عدنان نے کسی دوسرے کو نقصان نہیں پہنچایا۔‘
دوسری جانب زخمی نوجوان کے والد ملک نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ان کا ذہن اس بات کو تسلیم نہیں کر پا رہا کہ ان کے بیٹے نے خود کو فائر مار کر زخمی کیا ہے اور بھی صرف ایک موبائل فون کی خاطر۔
میرے بیٹے نے تو کبھی مکھی نہیں ماری، کبھی کسی کو گالی نہیں دی، وہ خود کو گولی کیسے مار سکتا ہے؟ میری پولیس کے اعلی افسران سے اپیل ہے کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں اور ہمیں اصل بات بتائیں کہ عدنان کے ساتھ ہوا کیا ہے۔‘