آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا میں ’وندے ماترم‘ کی توہین کو جرم قرار دینے کا قانون: یہ قومی گیت مسلمانوں کے لیے ناقابل قبول کیوں؟
- مصنف, مہتاب عالم
- عہدہ, بی بی سی اردو، دہلی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
انڈین پارلیمان نے ’وندے ماترم‘ کی توہین کی روک تھام سے متعلق ایک بِل منظور کیا ہے، جس میں اس قومی گیت کو گانے کے دوران کسی بھی قسم کی رکاوٹ ڈالنے پر تین سال قید تک کی سزا تجویز کی گئی ہے۔
وندے ماترم کو ایک قومی اعزاز قرار دینے والے اس بِل کو پہلے گذشتہ ہفتے بدھ کے روز ایوان بالا سے منظور کیا گیا، جس کے بعد جمعرات کو ایوان زیریں لوک سبھا نے اس کی منظوری دی۔ اب صدر کی منظوری کے بعد یہ قانون بن جائے گا۔
حکومت کی جانب سے مقررہ تاریخ سے یہ قانون پورے ملک میں نافذ ہو جائے گا۔ وندے ماترم گانے کے دوران کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا توہین کو مجرمانہ تصور کرتے ہوئے تین سال تک قید کی سزا دی جا سکے گی۔
قومی اعزاز کی توہین کی روک تھام کا ترمیمی بل مرکزی حکومت کے وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے نے پیش کیا تھا۔
اس بِل پر بحث کے دوران نتیانند رائے نے کہا تھا کہ قومی علامات کا احترام ایسا موضوع ہے، جو سیاست سے بالاتر ہونا چاہیے۔
’یہ بل کسی فرد یا کسی نظریے کے خلاف نہیں بلکہ قوم کے وقار اور ہماری مشترکہ قومی شعور کے حق میں ہے۔‘
تاہم دونوں ایوانوں میں مختصر بحث کے دوران حزب اختلاف کے کئی ارکان نے اس کی مخالفت کی تھی۔ خیال رہے کہ اس سے قبل انڈیا میں وندے ماترم سے متعلق ایسا کوئی قانون موجود نہیں تھا اور اس طرح کی کارروائی صرف قومی ترانے ’جن گن من‘ اور قومی اعزاز کی دوسری چیزوں کے لیے مختص تھی۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انڈیا کی اپوزیشن جماعتیں، غیر ہندو مذہبی تنظیموں اور دیگر مبصرین اس کی سخت مخالفت کیوں کر رہے ہیں؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اپوزیشن جماعتوں نے مخالفت کیوں کی؟
اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ یہ بل آئین کے ’سیکولر کردار‘ کی خلاف ورزی اور مذہبی آزادیوں کی پامالی کی کوشش ہے۔
ان کے مطابق قومی گیت کا پورا ورژن نافذ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی کیونکہ دستور ساز اسمبلی نے بھی اس کے پہلے صرف دو بند کو قبول کیا تھا۔
جنوبی انڈیا سے رکن پارلیمنٹ اور ڈی ایم کے پارٹی کی رہنما کنی موژی نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے اسے مذہبی تفریق پیدا کرنے والا قانون قرار دیا ہے۔
انھوں نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ وندے ماترم بل ’ہمارے ملک کے سیکولر ازم کے خلاف ہے۔ ہمارے بانیانِ وطن بہت واضح تھے کہ صرف پہلے دو بند گائے جائیں۔ اب حکومت اصرار کر رہی ہے کہ تمام بند گائے جائیں۔
’یہ مختلف مذہب کے لوگوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائے گا۔ اس بل کے ذریعے حکومت ہمارے ملک کو بانٹنے اور تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔‘
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (ایم آئی ایم) کے صدر اور حیدرآباد سے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے الزام لگایا کہ یہ قانون مذہبی آزادی کی آئینی ضمانت کی خلاف ورزی کرتا ہے۔
اویسی نے کہا کہ ’وندے ماترم میں دیویوں اور دیوتاؤں کی عبادت شامل ہے اور یہ آئین کے آرٹیکل 25، 26 اور 29 کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ جب آپ جن گن من پڑھتے ہیں تو آپ قوم کی تصویر دیکھتے ہیں، لیکن وندے ماترم ایک عبادت ہے۔‘
انھوں نے واضح کیا کہ ’میں مسلمان ہوں اور اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتا۔ یہ دستور کے آرٹیکل 25 کی سنگین خلاف ورزی ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ دستور ساز اسمبلی کی جانب سے وندے ماترم کو قومی گیت قرار دینے کا کوئی رسمی فیصلہ نہیں ہوا تھا۔ انھوں نے الزام لگایا کہ یہ قانون انڈیا کو ’ہندو راشٹرا‘ بنانے کے مقصد سے بنایا گیا ہے۔
دریں اثنا کانگریس اور ترنمول کانگریس کے ساتھ اپوزیشن کی دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی اس کی مخالفت کی ہے۔
انڈین مسلمانوں کے لیے یہ بِل ’ناقابل قبول‘
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے ترمیمی بل منظور کر کے وندے ماترم کی توہین کو قابلِ سزا جرم قرار دینے کے اقدام پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
بورڈ نے اسے ملک کے آئینی، سیکولر اور جمہوری مزاج کے منافی اور شہریوں کی مذہبی آزادی پر ایک سنگین حملہ قرار دیا ہے۔
بورڈ کے مطابق قانون سازی کے ذریعے کسی مخصوص مذہبی تصور یا عقیدے کو ملک کے تمام شہریوں پر مسلط کرنا ’دستورِ ہند کی بنیادی روح سے متصادم ہے۔‘
بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے بی بی سی کو بتایا کہ وندے ماترم کو قانونی جبر کے ذریعے تمام طبقات اور مذہبی برادریوں پر لازم کرنے کی کوشش نہ صرف ’نازیبا‘ بلکہ دستور کے بنیادی اصولوں کے بھی خلاف ہے۔
انھوں نے کہا کہ دستور سازی کے مرحلے میں دستور ساز اسمبلی نے گہرے غور و خوض کے بعد وندے ماترم کے ابتدائی دو بندوں کو ہی قومی سطح پر قبول کیا تھا، جبکہ اس کے دیگر حصوں کے مذہبی مفاہیم کو ملک کے سیکولر کردار کے ساتھ ہم آہنگ نہیں سمجھا گیا تھا۔
اس سوال پر کہ وندے ماترم میں ایسا کیا ہے جو مسلمانوں کے لیے یہ بِل ناقابل قبول ہے، ڈاکٹر الیاس نے کہا کہ ’وندے ماترم کے بعض مندرجات ایسے مذہبی تصورات پر مبنی ہیں جن میں وطن کو ایک دیوی کی صورت میں پیش کر کے اس کی عبادت کی دعوت دی گئی ہے۔‘
ان کے بقول مسلمان کے لیے یہ تصور اس کے بنیادی عقیدۂ توحید سے صریحاً متصادم ہے۔
انھوں نے واضح کیا کہ مسلمان ’صرف وحدۂ لاشریک اللہ کی عبادت کرتا ہے اور اس کی ذات، صفات، حقوق و اختیارات میں کسی بھی درجے کا شرک اس کے ایمان کے منافی ہے۔‘
’چنانچہ کسی مسلمان کو اس کے عقیدے کے خلاف کسی مذہبی مفہوم کے حامل گیت، نعرے یا عمل میں شرکت پر مجبور کرنا ناقابلِ قبول ہے۔‘
انڈیا میں وندے ماترم پر تقسیم اور اس کی متنازع تاریخ
دہلی کے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے استاد اور ثقافتی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے ڈاکٹر برہما پرکاش کا کہنا ہے کہ یہ قانوں سازی ’ہندوتوا ایجنڈے کا ایک حصہ ہے۔‘
انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی حب الوطنی یا ’قومی اتحاد‘ کے ایجنڈے سے زیادہ، اس کا مقصد فرقہ وارانہ ایجنڈا کو مضبوط بنانا ہے۔
ان کے مطابق یہ قانون ’شرکت اور حصہ داری کے بارے میں کم‘ اور ’اشتعال انگیزی اور فرقہ وارانہ تقسیم کے بارے میں زیادہ ہے۔‘
’جو بھی اس گیت کی تاریخ سے واقف ہے، وہ جانتا ہے کہ اس کے مذہبی جوش کے ساتھ اس کی متنازع تاریخ ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ایک وقت میں یہ مسلم مخالف جنگی نعرے کے طور پر بھی استعمال ہوتا رہا اور اب انھیں خدشہ ہے کہ ’یہ ہندوتوا گروپس کو مزید آزادی دے گا کہ وہ ان مسلم برداری پر حملے کریں جو مادر وطن کے سامنے جھکنے پر یقین نہیں رکھتی۔ مسلمان اس بل کے آسان ہدف ہوں گے۔‘
غور طلب بات یہ ہے کہ ہندوستان کی آزادی کی تحریک کی قیادت کرنے والی کانگریس نے تقسیم کو روکنے کے لیے 1937 میں گاندھی، نہرو، ابوالکلام آزاد اور سبھاش چندر بوس پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جس نے اس گانے پر لوگوں کے اعتراضات کا جائزہ لیا۔
سب سے بڑا اعتراض یہ تھا کہ اس گیت میں انڈین قوم پرستی کی تعریف ایک خاص مذہب کے حوالے سے کی گئی تھی۔ یہ سوال نہ صرف مسلم تنظیموں بلکہ سکھ، جین، مسیحی اور بدھ تنظیموں نے بھی اٹھایا۔
بعد ازاں قومی ترانہ ’جن گن من‘ کے ساتھ ’وندے ماترم‘ کو ملک کے قومی گیت کے طور پر تسلیم کیے جانے کے ساتھ ہی اس کے بارے میں تنازع پیدا ہو گیا تھا۔