مغربی ممالک کے جوانوں میں نس بندی کا رجحان کیوں بڑھ رہا ہے؟

    • مصنف, جارج سینڈیمن
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

ایلکس ویسٹ اپنی پہلی اولاد کی پیدائش کے دوران اپنی اہلیہ کی طویل اور دشوار زچگی کے تجربے سے شدید ذہنی صدمے کا شکار ہو گئے تھے۔ جب ان کے دوسرے بچے کی پیدائش کا وقت آیا تو انہیں امید تھی کہ اس بار سب کچھ کہیں زیادہ آسانی سے ہو گا۔

ان کی اہلیہ کے لیے تو بچے کی پیدائش کا عمل واقعی بہتر رہا لیکن ایلکس کے اپنے لیے ایسا نہیں تھا۔

ایلکس کہتے ہیں ’مجھے گھبراہٹ کا شدید دورہ پڑا اور میں بالکل ٹوٹ گیا۔ میں اس تجربے کو سمجھنے اور ذہنی طور پر اس پر قابو پانے کے قابل ہی نہیں ہو سکا تھا۔‘

اپنی اہلیہ کی پہلی زچگی کے دوران پیش آنے والے تکلیف دہ تجربے کی اور اس کے بعد لاحق ہونے والے زچگی کے بعد کے ڈپریشن (پوسٹنیٹل ڈپریشن) کے باعث اب ایلکس اور ان کی اہلیہ چار بچوں کے والدین بننے کا منصوبہ ترک کر چکے ہیں۔

وہ اپنے دونوں بیٹوں کی پیدائش کے بعد کے مہینوں کو ’بے رنگ‘ قرار دیتے ہیں۔ ان کے بقول زندگی میں کوئی رنگت باقی نہیں رہی تھی، جبکہ اردگرد کے لوگ مسلسل انہیں یہ بتاتے تھے کہ باپ بننا یقیناً ایک شاندار تجربہ ہونا چاہیے۔

ایلکس کہتے ہیں ’میں وہ محبت اور جذباتی وابستگی محسوس نہیں کر رہا تھا، جس کے بارے میں ہر کوئی کہتا ہے کہ مجھے کرنی چاہیے تھی۔‘

اس تجربے کو دوبارہ نہ دہرانے کی خواہش کے باعث انہوں نے اور ان کی اہلیہ نے دو بچوں پر اکتفا کرنے کا فیصلہ کیا۔ چونکہ اس فیصلے میں بنیادی کردار ان کا تھا، اس لیے ان کے خیال میں ’یہ درست نہیں تھا کہ مانع حمل کی ذمہ داری میری اہلیہ پر ڈال دی جائے۔‘

چنانچہ ایلکس نے بھی انگلینڈ میں حالیہ برسوں کے دوران ہزاروں دیگر مردوں کی طرح نس بندی (ویسیکٹومی) کرانے کا فیصلہ کیا۔

اس طبی عمل میں ’ویس ڈیفرینس‘ نامی نالیوں کو کاٹا جاتا ہے اور پھر انہیں بند یا سیل کر دیا جاتا ہے۔ ہر خصیے سے ایک نالی منسلک ہوتی ہے جو نطفے کو پیشاب کی نالی (یوریتھرا) تک پہنچاتی ہے۔ عام بول چال میں اس عمل کو ’سنِپ‘ بھی کہا جاتا ہے۔

این ایچ ایس انگلینڈ کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2024-25 کے دوران اسپتالوں اور کلینکس میں 26,385 نس بندی کے آپریشن کیے گئے۔ یہ تعداد 2023-24 کے مقابلے میں 16 فیصد زیادہ تھی۔

35 سے 39 سال عمر کے مردوں میں یہ طریقۂ کار کسی بھی دوسرے عمر کے گروپ کے مقابلے میں زیادہ انجام دیا گیا اور 2024-25 کے دوران اس عمر کے تقریباً 8,400 مردوں نے نس بندی کروائی۔

گذشتہ سال کے مقابلے میں کم عمر مردوں میں بھی ویسیکٹومی کروانے کے رجحان میں معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ 2024-25 کے دوران انگلینڈ میں 30 سال سے کم عمر تقریباً 950 مردوں نے یہ آپریشن کروایا۔

حمل ٹھہرنے کا ڈر

پیشے کے اعتبار سے مارگیج بروکر ایلکس نے اپنی عمر کی تیسری دہائی کے آغاز میں ہی یہ طریقۂ کار اختیار کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا، لیکن ان کے این ایچ ایس ڈاکٹر نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ 30 سال کی عمر تک انتظار کریں، کہیں ایسا نہ ہو کہ بعد میں وہ اپنا فیصلہ تبدیل کر لیں۔

مئی 2024 میں جب ان کے اپائنٹمنٹ کا وقت آیا تو وہ اور ان کی اہلیہ کینٹ میں واقع اپنے گھر سے ٹرین کے ذریعے لندن کے کلینک گئے۔

33 سالہ الیکس کا کہنا ہے کہ یہ عمل تیز اور تقریباً بغیر کسی تکلیف کے مکمل ہو گیا تھا۔

وہ کہتے ہیں ’میں نے ہیڈ فون لگا لیے تھے اور بمشکل تین گانے سنے ہوں گے کہ انہوں (ڈاکٹر) نے کہا سب کچھ مکمل ہو گیا ہے۔‘

’ناقابلِ یقین، یہ حیرت انگیز طور پر تیز عمل تھا۔‘

امریکہ سے تعلق رکھنے والے سیم نائٹ کہتے ہیں کہ وہ پہلے ہی جانتے تھے کہ وہ بچے نہیں چاہتے۔

سیم کہتے ہیں: ’میں خود کو ایسی صورتحال میں دیکھتا تھا جہاں بچوں کی پیدائش کا امکان موجود ہو سکتا تھا اور اس بات نے واقعی مجھے پریشان کرنا شروع کر دیا تھا۔‘

جب ان کی اس وقت کی شریکِ حیات حاملہ ہوئیں تو انہوں نے اسقاطِ حمل کروانے کا فیصلہ کیا اور اس وقت 22 سالہ سیم نے محسوس کیا کہ اب کوئی تبدیلی لانا ضروری ہے۔

’مجھے یہ احساس ہوا کہ میں نے کسی دوسرے شخص کو ایک ایسے تجربے (اسقاطِ حمل) سے گزارا ہے اور میں نہیں چاہتا تھا کہ ایسا دوبارہ کبھی ہو۔‘

انہوں نے نیویارک میں ایک یورولوجی کلینک سے رابطہ کیا اور ایلکس کی طرح انہیں بھی معالجین کو یہ وضاحت دینا پڑی کہ وہ نس بندی کیوں کروانا چاہتے ہیں۔

سیم کو مشورہ دیا گیا کہ اس عمل کو مستقل نوعیت کا سمجھا جائے کیونکہ بعض مخصوص حالات کے علاوہ اسے واپس پلٹانا ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا۔

نس بندی ختم کروائی جا سکتی ہیں؟

چونکہ سیم کم عمری میں نس بندی کروانا چاہتے تھے، اسی لیے انھوں نے پہلے ہی ان سوالات کے جواب سوچ رکھے تھے جو ڈاکٹر ان سے پوچھ سکتے تھے: کیا آپ کو نہیں لگتا کہ آپ یہ فیصلہ کرنے کے لیے بہت کم عمر ہیں ؟ کیا ایسا ممکن ہے کہ آپ مستقبل میں اپنا ارادہ بدل لیں؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ نس بندی کو ختم کرنے کے آپریشن بہت مہنگے ہوتے ہیں اور ہمیشہ کامیاب بھی نہیں ہوتے؟

کلینک سے پہلی مرتبہ رابطہ کرنے کے تقریباً دو ماہ بعد سیم کی نس بندی کی گئی۔

سیم کے ڈاکٹر کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کا مقصد یہ یقینی بنانا تھا کہ وہ ایسا فیصلہ کر رہے ہیں، جس کے نتائج کے ساتھ وہ مستقبل میں مطمئن رہ سکیں۔ این ایچ ایس سکاٹ لینڈ کی گائیڈ لائنز کے مطابق 30 سال سے کم عمر مردوں میں نس بندی پر پشیمانی کا امکان نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔

سابق جنرل پریکٹیشنر اور اب ایم ایس آئی ری پروڈکٹیو چوائسز میں میڈیکل ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دینے والی ڈاکٹر سارہ سالکیلڈ کہتی ہیں کہ نس بندی ’بہت محفوظ اور مؤثر‘ طریقۂ کار ہے۔

لیکن وہ خبردار کرتی ہیں کہ مردوں کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ وہ ’اس بات پر سنجیدگی سے غور کریں‘ کہ آیا نس بندی ان کے لیے درست انتخاب ہے یا نہیں۔

وہ کہتی ہیں: ’ہم ہر شخص کو، اگر وہ چاہے، اس بارے میں بات کرنے کے لیے مشاورت کی سہولت فراہم کرتے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ اس فیصلے کے لیے اس کے پاس تمام ضروری معلومات موجود ہوں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ نس بندی ختم کرنے کے آپریشن عام طور پر این ایچ ایس پر دستیاب نہیں ہوتے کیونکہ اس کے لیے سخت معیار اور شرائط مقرر ہیں۔

این ایچ ایس کی ویب سائٹ کے مطابق مردوں کے لیے مانع حمل کے دیگر طریقے بھی دستیاب ہیں، جن میں کنڈوم اور زرخیزی (فرٹیلیٹی) سے آگاہی کا طریقہ شامل ہیں۔ اس طریقے میں ان دنوں جنسی تعلق سے گریز کیا جاتا ہے یا کنڈوم استعمال کیا جاتا ہے جب ان کی خاتون شریکِ حیات یا ساتھی میں حمل ٹھہرنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

سیم نے اپنے ڈاکٹر کو بتایا کہ اگرچہ انہیں بچے پسند ہیں اور ان کا اپنا بچپن بھی خوشگوار گزرا ہے، لیکن وہ ویڈیو گیمز انڈسٹری کے لیے ساؤنڈ ڈیزائنر کے طور پر اپنے کیریئر پر توجہ مرکوز رکھنا چاہتے ہیں۔

’میں نے اپنی پوری زندگی اس کام کے لیے وقف کر دی ہے اور میرے نزدیک والدین بننا بھی ایسی ہی چیز ہے جس کے لیے انسان کو اپنی زندگی وقف کرنا پڑتی ہے‘

’میرے پاس نہ تو اس کے لیے ذہنی گنجائش ہے، نہ وقت اور سچ یہ ہے کہ مجھے اس کی خواہش بھی نہیں۔‘

اب 25 سالہ سیم کہتے ہیں کہ انہیں ان لوگوں سے کچھ حسد محسوس ہوتی ہے جو والدین بننا چاہتے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں یہ تجربہ ’یقیناً خوبصورتی اور محبت سے بھرپور ہوتا ہے۔‘

تاہم وہ مزید کہتے ہیں: ’مجھے یہ خوبصورتی اور وابستگی موسیقی، فن اور ان کاموں میں مل جاتی ہے جو میں کرتا ہوں۔‘

سنہ 2024 میں اس نس بندی کے پروسیجر اور بعد از علاج نگہداشت پر سیم کے مجموعی طور پر تقریباً 1,200 امریکی ڈالر خرچ ہوئے تھے۔

قومی سروے برائے خاندانی افزائش کے مطابق، جو 2022-23 میں تقریباً 4,000 مردوں کے جوابات پر مبنی تھا، سیم اُن ایک فیصد سے بھی کم امریکی مردوں میں شامل ہیں، جن کی عمر 18 سے 29 سال کے درمیان ہے اور جنہوں نے کبھی نس بندی کروائی ہو۔

اس کے برعکس 40 برس سے زیادہ عمر والے مردوں میں نس بندی کروانے کا امکان سب سے زیادہ تھا اور اس عمر کے 15 فیصد مردوں نے بتایا کہ وہ یہ پروسیجر کروا چکے ہیں۔

قربانیاں اور غیریقینی

سیم کو اس پروسیجر کے تقریباً ایک ہفتے بعد شدید درد کا ایک دورہ پڑا۔ ڈاکٹر سارہ سالکیلڈ کے مطابق یہ نس بندی کا ایک غیر معمولی ضمنی اثر ہے۔ تاہم چند گھنٹوں بعد یہ درد ختم ہو گیا۔

سیم کا خیال نہیں کہ اس تجربے کی وجہ سے دوسرے مردوں کو نس بندی کروانے سے گریز کرنا چاہیے۔

وہ کہتے ہیں ’مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ خرچ بھی مناسب تھا اور اگر کچھ تکلیف ہوئی بھی تو وہ بھی قابلِ برداشت تھی۔‘

ایک اور شخص نے ہمیں بتایا کہ والدین بننے سے وابستہ قربانیاں اور غیر یقینی کی صورتِ حال، خاص طور پر یہ سوچ کہ ان کے بچے بڑے ہو کر کیسے انسان بنیں گے، ان وجوہات میں شامل تھیں جنہوں نے انہیں 27 سال کی عمر میں نس بندی کروانے پر آمادہ کیا۔

کینٹ میں ایلکس اور ان کی اہلیہ کے لیے نس بندی کروانے کا فیصلہ دستیاب مانع حمل طریقوں میں سب سے منصفانہ اور مؤثر انتخاب محسوس ہوا۔

اس فیصلے پر انہوں نے کئی ماہ تک غور و خوض کیا تھا، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ایلکس اپنے خاندان کو مزید بڑا نہیں کرنا چاہتے تھے۔

ایلکس کہتے ہیں: ’میں اپنے بچوں سے بے حد محبت کرتا ہوں خاص طور پر اب جبکہ وہ اتنے بڑے ہو چکے ہیں کہ میں ان کے ساتھ فٹ بال کھیل سکتا ہوں۔‘

وہ مزید کہتے ہیں: ’اگر میں ٹیم میں مزید کھلاڑی شامل کر لیتا تو یہ میرے لیے درست فیصلہ نہ ہوتا۔‘