وی ٹو راکٹ: ہٹلر کا ’معجزاتی ہتھیار‘ جسے سبزیوں میں چھپا کر پولینڈ سے باہر سمگل کیا گیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, فیونا میکڈونلڈ
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
سنہ 1977 میں بی بی سی نے 1944 کے موسمِ گرما میں پیش آنے والے واقعات کا دوبارہ جائزہ لیا تھا جب اتحادی ممالک کے ایجنٹس نے ہٹلر کے ’معجزاتی ہتھیار‘ کے حصے خفیہ طور پر اپنے قبضے میں لے لیے تھے اور انھیں ایک جرمن افسر کے اپارٹمنٹ میں چھپا دیا تھا۔
6 اگست 1944 کو سوویت یونین کی ریڈ آرمی پولینڈ کے شہر ژیشوف کے شمال مغرب میں واقع گاؤں بلیزنا تک پہنچ گئی اور اسے نازی قبضے سے آزاد کرا لیا۔
زرعی کھیتوں اور گھنے صنوبر کے جنگلات سے گھری یہ دور افتادہ دیہی بستی بظاہر فوجی لحاظ سے خاص اہمیت کی حامل نہیں لگتی تھی۔ تاہم جنگل کی زمین میں موجود گہرے گڑھوں، دھات کے بکھرے ہوئے ملبے اور جعلی فارم ہاؤسز نے اس کے خفیہ مقصد کی نشاندہی کی۔
نازیوں کے انخلا سے چند روز قبل بلیزنا ایک نئے ہتھیار کی آزمائشی لانچنگ کا مرکز تھا، ایسا ہتھیار جس کے بارے میں ایڈولف ہٹلر کو امید تھی کہ وہ مغربی اتحادیوں کے خلاف جنگ کا رخ بدل دے گا۔
جرمن زبان میں ’ویئرگیلٹنگس وافے ٹو‘ یعنی ’وینجنس ویپن‘، جسے ’وی ٹو‘ راکٹ بھی کہا جاتا تھا دنیا کا پہلا جدید بیلسٹک ہتھیار تھا۔
انجینیئر ورنر فان براون کے تیار کردہ اس راکٹ کی مار تقریباً 280 کلومیٹر تھی اور اس میں ایک ٹن وزنی وارہیڈ نصب کیا جا سکتا تھا۔
اس کی رفتار آواز کی رفتار سے زیادہ تھی اور یہ بہت بلندی پر پرواز کرتا تھا، جس کے باعث اسے ایک ’معجزاتی ہتھیار‘ سمجھا جاتا تھا، جو اپنے اہداف (شہروں) میں کسی بھی پیشگی وارننگ کے بغیر دھماکہ کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔
لیکن 1944 کے موسمِ گرما میں وی ٹو راکٹ کے حصوں کو پولینڈ سے برطانیہ پہنچا دیا گیا اور یہ دوسری عالمی جنگ کی سب سے جرات مندانہ خفیہ کارروائیوں میں سے ایک تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
نازیوں نے وی ٹو راکٹ کی تیاری کا آغاز 1936 میں کیا تھا۔ تاہم برطانوی انٹیلی جنس کو اس راکٹ کے وجود کا علم 1943 کے اوائل تک نہیں ہو سکا تھا، جیسا کہ ماہرین نے 1977 میں بی بی سی دستاویزی فلم ’دا سیکرٹ وار‘ میں بتایا تھا۔
سائنٹیفک ایئر انٹیلی جنس کے سربراہ ڈاکٹر آر وی جونز کے مطابق ’سنہ 1939 سے پہلے ہمیں کچھ محدود معلومات ملی تھیں کہ جرمن ممکنہ طور پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے راکٹ تیار کر رہے ہیں۔ پھر ہمیں مزید کچھ سننے کو نہیں ملا، یہاں تک کہ دسمبر 1942 میں ایک نئے ایجنٹ نے، جو بعد میں ایک ڈینش کیمیائی انجینیئر نکلا، ہمیں بتایا کہ اس نے برلن میں دو انجینیئروں کے درمیان ہونے والی گفتگو سنی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک نیا ہتھیار تیار کیا جا رہا ہے اور اس کا تجربہ بحیرۂ بالٹک کے ساحل پر کیا جا رہا ہے۔‘
اس پیش رفت کا اہم موڑ سنہ 1943 میں اس وقت آیا جب الگ الگ گرفتار کیے گئے دو جرمن جرنیلوں کو تفتیش کے لیے برطانیہ لایا گیا۔ بعد ازاں انھیں ایک کمرے میں اکیلے بات کرنے کی اجازت دی گئی اور وہ اس سے بے خبر تھے کہ کمرے میں خفیہ طور پر ان کی گفتگو سننے کا انتظام موجود تھا۔
دونوں اس بات پر بحث کر رہے تھے کہ راکٹ ابھی تک استعمال کیوں نہیں کیے گئے۔ ان کا خیال تھا کہ یقیناً کوئی خرابی پیش آئی ہے، کیونکہ انھیں ایک سال سے بھی زیادہ عرصہ پہلے بتایا گیا تھا کہ یہ ہتھیار صرف چند ماہ میں استعمال کے لیے تیار ہو جائیں گے۔
ڈاکٹر آر وی جونز کے مطابق ان میں سے ایک جرنیل نے کہا ’ہم غالباً لندن کے قریب کہیں موجود ہیں اور ہم نے کسی دھماکے کی آواز نہیں سنی، اس لیے ظاہر ہے کہ ابھی تک کچھ نہیں ہوا۔‘
1977 میں اس واقعے کو یاد کرتے ہوئے جونز نے کہا تھا کہ ’[انٹیلی جنس تجزیہ کار] چارلس فرینک میرے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔ انھوں نے اچانک تفتیشی رپورٹ پڑھتے ہوئے سر اٹھایا اور کہا: ’دیکھو، بہتر ہو گا کہ ہم ان راکٹوں کو سنجیدگی سے لینا شروع کر دیں۔‘
برطانیہ نے بحیرۂ بالٹک کے قریب ایک جزیرے پر واقع پینیمونڈے میں نازیوں کے خفیہ وی ٹو تحقیقاتی مرکز کا سراغ لگا لیا اور اگست 1943 میں اس پر بمباری کی۔ اس فضائی حملے کے بعد نازیوں نے وی ٹو راکٹ کی آزمائش، تربیت اور لانچنگ کی سرگرمیوں کو جرمنی سے باہر منتقل کر دیا۔
انھوں نے پولینڈ میں وارسا سے تقریباً 150 میل جنوب میں جنگلات کی آڑ میں واقع ایک مقام کا انتخاب کیا۔ بلیزنا اس قدر سٹریٹجک اہمیت کا حامل سمجھا جاتا تھا کہ اگلے چند مہینوں میں خود ایڈولف ہٹلر اور ہولوکاسٹ کے آرکیٹیکٹ ہینرش ہملر بھی وہاں کا دورہ کرنے آئے۔
تاہم وی ٹو کے آزمائشی راکٹوں میں ایک ایسی خامی موجود تھی جس کے باعث ان کی عملی تعیناتی تقریباً ایک سال تک مؤخر ہو گئی۔ ان میں سے اکثر اپنے ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی فضا میں ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے تھے۔ ان کا ہدف مشرقی پولینڈ میں دریائے بُگ کے قریب تقریباً 200 میل دور واقع تھا۔
گرنے والے راکٹوں کے ملبے کو جمع کرنے کے لیے جرمن فوج کا ایک خصوصی دستہ وہاں تعینات تھا، تاکہ سائنس دان ان کے حصوں کا تجزیہ کر سکیں۔
جب راکٹ کے ٹکڑوں کو سبزیوں میں چھپایا گیا
دی سیکرٹ وار کے راوی ولیم وولارڈ نے 1977 میں بیان کیا تھا کہ ’اس نئے مقام کی سب سے بڑی خامی یہ تھی کہ مقامی آبادی آسمان سے ان پر گرنے والے جرمن خفیہ ہتھیاروں کے بارے میں زیادہ پُرجوش نہیں تھی۔ پولش مزاحمتی تحریک نے ان سے کہا تھا کہ وہ جرمنوں کے پہنچنے سے پہلے راکٹوں کے ملبے کو جمع کرنے کی کوشش کریں۔‘
مئی 1944 میں ایک وی ٹو راکٹ دریائے بُگ کے دلدلی کنارے پر نسبتاً سالم حالت میں آ گرا۔ مقامی دیہاتیوں نے اسے سرکنڈوں سے ڈھانپ دیا اور پولش مزاحمتی تحریک کے ایک رہنما لیفٹیننٹ تادیوش یاکوبسکی کو اطلاع دی۔
33 برس بعد اسی مقام پر بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’یہ وہ جگہ ہے جہاں راکٹ بغیر پھٹے آ گرا تھا۔ جرمن اسے تلاش کرنے میں ناکام رہے اور چند دن بعد انھوں نے اس کی تلاش مکمل طور پر بند کر دی۔ اس کے بعد ہم نے راکٹ کو کھینچ کر کنارے تک پہنچایا اور پھر وارسا سے ماہرین کی ایک ٹیم آئی جس نے اسے کھول کر اس کے حصے الگ کیے۔‘
راکٹ کے حصوں کو بوریوں میں بھر دیا گیا، جنھیں سبزیوں کے نیچے چھپا کر بیل گاڑیوں کے ذریعے کم استعمال ہونے والی دیہی سڑکوں سے وارسا پہنچایا گیا، جبکہ جنگلات میں مسلح مزاحمت کار خفیہ طور پر ان کی نگرانی اور حفاظت کر رہے تھے۔
پولینڈ کے دارالحکومت میں سخت سکیورٹی جانچ پڑتال کے باوجود راکٹ کے ٹکڑے کامیابی سے شہر کے اندر پہنچا دیے گئے۔ ان الیکٹرانک پرزوں کا تجزیہ کرنے والے سائنس دانوں میں طبیعیات دان پروفیسر یانوش گروشکوفسکی بھی شامل تھے۔
چونکہ یہ خدشہ موجود تھا کہ یونیورسٹی میں واقع ان کی تجربہ گاہ کی گسٹاپو تلاشی لے سکتی ہے، اس لیے مزاحمتی تحریک نے فیصلہ کیا کہ ان کے کام کے لیے ایک نجی اپارٹمنٹ زیادہ موزوں رہے گا اور وہ اپارٹمنٹ ایک ایسے جرمن افسر کا تھا جو اس تمام کارروائی سے بے خبر تھا۔
الیکٹرانک آلات کو رات کے وقت اس جرمن افسر کے اپنے ایک سوٹ کیس میں چھپا دیا جاتا تھا۔
پروفیسر یانوش گروشکوفسکی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میرے آنے سے پہلے یہ سوٹ کیس افسران کے کمرے سے نکال کر ایک خصوصی کمرے میں منتقل کر دیا جاتا تھا جو میری تحقیق کے لیے تیار کیا گیا تھا۔‘
وہ اس چھوٹے سے کمرے میں ایک وقت میں کئی کئی گھنٹے کام کرتے تھے، جبکہ ہر وقت یہ خطرہ موجود رہتا تھا کہ جرمن افسر اچانک واپس آ سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تاہم، گروشکوفسکی نے یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ’میرے وہاں قیام کے دوران ایسا کبھی نہیں ہوا۔‘
مزاحمتی تحریک کے کارکن اس جرمن افسر کی نقل و حرکت پر مسلسل نظر رکھے ہوئے تھے۔
طبیعیات دان نے بتایا کہ ’خادم ٹیلی فون پر پوچھتا تھا کہ وہ (جرمن افسر) رات کے کھانے میں کیا پسند کریں گے... تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ اس وقت ہوائی اڈے پر اپنے دفتر میں موجود ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا ’لیکن اگر وہ مثال کے طور پر یہ کہتے کہ وہ معمول سے پہلے واپس آنے والے ہیں، تو میں فوراً وہاں سے غائب ہو جاتا تھا۔‘
وارسا میں اس خفیہ کارروائی کے بعد راکٹ کے حصوں کو باہر منتقل کرنے کے لیے ایک انتہائی خفیہ آپریشن کیا گیا، جس کا خفیہ نام وائلڈ ہورن تھری یا آپریشن موسٹ تھری تھا۔
25 جولائی کی شب رائل ایئر فورس کا ایک مال بردار طیارہ، جس میں 18 گھنٹے تک پرواز ممکن بنانے کے لیے اضافی ایندھن کے ٹینک نصب کیے گئے تھے، پولینڈ کے گاؤں وال روڈا کے قریب واقع ایک متروک ہوائی پٹی پر اترا۔ یہ علاقہ جرمن فوجی دستوں سے گھرا ہوا تھا۔
اس طیارے میں 19 سوٹ کیس لادے جانے تھے، جن میں وی ٹو راکٹ کے اہم حصے، تکنیکی خاکے اور سائنسی رپورٹس موجود تھیں۔
بی بی سی ریڈیو پر نشر ہونے والے خفیہ کوڈز کے ذریعے اس آپریشن کی اطلاع ملنے کے بعد جب ڈکوٹا طیارہ آدھی رات کے فوراً بعد وہاں اترا تو مزاحمتی جنگجو قریبی جنگلوں سے نکل آئے۔
تاہم جب سامان طیارے میں لاد دیا گیا تو وہ اڑان بھرنے میں ناکام رہا، کیونکہ اس کے پہیے دلدلی زمین میں دھنس گئے تھے۔ دو مرتبہ سارا سامان دوبارہ اتارا گیا اور پہیوں کو گرفت دلانے کے لیے ان کے نیچے بھوسہ اور لکڑی کے تختے رکھنے کی کوشش کی گئی، جبکہ بعض مزاحمت کاروں نے اپنے ننگے ہاتھوں سے پہیوں کے گرد جمع کیچڑ ہٹایا۔
ایک موقع پر آپریشن کے کمانڈروں کو یقین ہو گیا کہ انھیں مسافروں کو نکال کر طیارے کو آگ لگانا پڑے گی۔ عملے نے حتیٰ کہ لینڈنگ گیئر پر پٹرول بھی چھڑک دیا تھا۔
لیکن بالآخر طیارہ کامیابی سے اڑان بھرنے میں کامیاب ہو گیا۔
وی ٹو راکٹ کا توڑ
اتحادی افواج کی اس جرات مندانہ فضائی کارروائی نے تھرڈ رائخ کے سب سے خوفناک ہتھیاروں میں سے ایک کو جرمن فوج کی آنکھوں کے سامنے سے نازیوں کے زیرِ قبضہ یورپ سے خفیہ طور پر باہر منتقل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ وی ٹو راکٹ 28 جولائی 1944 کو بحفاظت لندن پہنچ گیا، جس کے بعد برطانوی انٹیلی جنس نے ہٹلر کے ’معجزاتی ہتھیار‘ کا تجزیہ شروع کر دیا۔
مورخ اور سٹیلنگ ہٹلرز راکٹ کے مصنف گائے والٹرز نے بی بی سی کو بتایا: ’پورا راکٹ منتقل کرنا نہ ضروری تھا اور نہ ہی ممکن کیونکہ وی ٹو راکٹ کا وزن تقریباً 12.5 ٹن اور لمبائی 14 میٹر تھی، لیکن پولش ماہرین نے اسے نہایت احتیاط سے کھول کر اس کے تمام اہم حصے الگ کر لیے تاکہ برطانیہ واپس جانے والی پرواز میں ضروری ٹکڑے چڑھائے جا سکیں۔‘
انھوں نے کہا ’یہ ٹکڑے انتہائی اہم تھے کیونکہ پہلی بار برطانوی سائنس دانوں کو راکٹ کے ایسے حصے دستیاب ہوئے تھے جو جزوی طور پر تباہ نہیں ہوئے تھے۔‘
اس خفیہ مشن نے ایک ایسے خوفناک ہتھیار کے بارے میں نہایت اہم معلومات فراہم کیں، جو صرف چھ ہفتوں سے بھی کم عرصے بعد پہلی بار لندن کو نشانہ بنانے والا تھا۔
گائے والٹرز کہتے ہیں کہ ’برطانیہ کو یہ معلوم نہیں تھا کہ آیا اس راکٹ میں رہنمائی کا کوئی نظام موجود ہے یا نہیں۔ اگر ایسا کوئی نظام ہوتا تو اسے دور سے جام کرنے کے طریقے تلاش کیے جا سکتے تھے، جس کے نتیجے میں راکٹ اپنے ہدف سے بھٹک سکتے تھے۔‘
’چوری کر کے لائے گئے راکٹ کے حصوں سے برطانیہ کو یہ معلوم ہوا کہ وی ٹو میں ایسا کوئی رہنمائی نظام موجود نہیں تھا۔ اس دریافت نے برطانوی سائنس دانوں کا بے حد وقت بچا دیا، جو بصورتِ دیگر اس کے خلاف دفاعی تدابیر تیار کرنے کی کوشش میں صرف ہوتا۔ چنانچہ وی ٹو کا مقابلہ کرنے کا واحد حقیقی طریقہ جنگ جیتنا ہی تھا۔‘



















