جب شعیب اختر نے آصف زرداری اور الطاف حسین سے مدد مانگی

Pakistan Shoaib Akhtar

،تصویر کا ذریعہHamish Blair/Getty Images

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی ہندی کے لیے
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

شعیب اختر کے بارے میں بات کرنے سے پہلے انھیں درست انداز میں سمجھنا ضروری ہے۔ یہ معاملہ اتنا آسان نہیں ہے۔

مختلف لوگ انھیں مختلف زاویوں سے دیکھتے رہے ہیں۔ اسی وجہ سے ان کی شخصیت کی مختلف تصویریں سامنے آتی رہی ہیں۔

کچھ لوگوں کے لیے وہ ایسے بولر تھے جو اپنی رفتار سے بلے بازوں کو پریشان کر دیتے تھے جبکہ بہت سے لوگ انھیں ایک سخت مزاج اور باغی کرکٹر سمجھتے تھے، جو نظم و ضبط کی پرواہ نہیں کرتے تھے۔

ان کے ناقدین اکثر تنازعات کی ایک طویل فہرست گنوا دیتے تھے۔ اس میں مشکوک بولنگ ایکشن، بال ٹیمپرنگ اور ڈوپنگ کے الزامات شامل تھے۔

ان پر پابندیاں بھی لگیں۔ جرمانے بھی ہوئے۔ انھیں کئی تحقیقاتی کمیٹیوں اور عدالتوں کے سامنے بھی پیش ہونا پڑا۔ نظم و ضبط کی خلاف ورزی کے معاملات پورے کیریئر میں ان کا پیچھا کرتے رہے۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ شعیب اختر کا کیریئر کسی سپر ہٹ فلم کی طرح رہا۔ اس میں وہ سب کچھ تھا جو لوگوں کی توجہ اپنی جانب کھینچے رکھے۔

انھیں کرکٹ سے ریٹائر ہوئے 15 سال سے زیادہ ہو چکے ہیں۔ اب وہ اکثر ٹی وی پر تجزیہ کار کے طور پر دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے بیانات آج بھی اتنے ہی تیز اور بے لاگ ہوتے ہیں جتنی ان کی گیند بازی ہوا کرتی تھی۔

’نانا نے کہا تھا علاج پر پیسے خرچ نہ کرو‘

Shoaib Akhtar

،تصویر کا ذریعہSEBASTIAN D'SOUZA/AFP via Getty Images

،تصویر کا کیپشن ممبئی میں 2004 میں کینسر سے متاثرہ ایک بچے کے ساتھ وقت گزارتے پاکستان کے تیز گیند باز شعیب اختر

شعیب اختر راولپنڈی کے ایک عام خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد اٹک آئل ریفائنری کے پیٹرول سٹیشن پر رات کو چوکیداری کرتے تھے۔

ان کے مالی حالات زیادہ اچھے نہیں تھے۔ اس کے باوجود ان کے والدین نے بچوں کی ضروریات کا پورا خیال رکھا۔

اپنی کتاب Controversially Yours میں شعیب لکھتے ہیں کہ بچپن میں انھیں شدید کھانسی کی بیماری ہو گئی تھی۔ اس کی وجہ سے وہ کمزور ہوتے جا رہے تھے۔

ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ ان کے پھیپھڑے ہمیشہ کمزور رہیں گے۔

شعیب کے مطابق ایک دن ان کے نانا نے ان کی والدہ سے کہا کہ ’یہ بچہ شاید زندہ نہ بچ سکے، اس لیے اس کے علاج پر وقت اور پیسہ ضائع نہ کرو۔‘

لیکن ان کی والدہ نے ہار نہیں مانی۔ وہ مسلسل انھیں ہسپتال لے جاتی رہیں۔

شعیب لکھتے ہیں کہ بعد میں انھی پھیپھڑوں میں اتنی طاقت آ گئی کہ وہ میدان میں ہوا کی طرح دوڑنے لگے۔

پتنگ بازی اور گلی ڈنڈا کھیلنے کا شوق مددگار ثابت ہوا

Shoaib Akhtar

،تصویر کا ذریعہMike Hewitt/Getty Images

،تصویر کا کیپشنراولپنڈی ایکسپریس کے نام سے مشہور شعیب اختر کے بیانات آج بھی اتنے ہی تیز اور بے لاگ ہوتے ہیں جتنی ان کی گیند بازی ہوا کرتی تھی

شعیب کو بچپن میں پتنگ اڑانے کا بہت شوق تھا۔ وہ پتنگ بازی کے موسم کا بے صبری سے انتظار کرتے تھے۔

ان کے بڑے بھائی طاہر اکثر انھیں پتنگیں دلانے لے جاتے تھے۔

وہ بتاتے ہیں کہ پتنگ پکڑنے کے لیے دوڑنا ان کی رفتار بڑھانے میں مددگار ثابت ہوا۔ جبکہ گلی ڈنڈا کھیلنے سے تھرو اور فیلڈنگ کی صلاحیتیں بہتر ہوئیں۔

بعد میں یہ سب کچھ کرکٹ میں کام آیا۔

تانگے والے سے کیا گیا وعدہ

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

جب شعیب نے کرکٹ کو سنجیدگی سے لینا شروع کیا تو وہ مواقع کی تلاش میں شہر شہر جانے لگے۔

ایک بار انھیں معلوم ہوا کہ پی آئی اے کی ٹیم کے ٹرائل لاہور میں ہو رہے ہیں۔ وہ اپنے دوست اعجاز ارشد کے ساتھ راولپنڈی سے روانہ ہو گئے۔

ان کی جیب میں صرف 12 روپے تھے اور ان کے دوست کے پاس 13 روپے۔

شعیب بتاتے ہیں کہ سات گھنٹے کا سفر اُنھوں نے بغیر ٹکٹ بس میں طے کیا۔

لاہور پہنچنے کے بعد ان کے پاس ہوٹل میں ٹھہرنے کے پیسے بھی نہیں تھے۔

ریلوے سٹیشن کے قریب ان کی ملاقات ایک تانگے والے عزیز خان سے ہوئی۔

شعیب نے اسے کھانا کھلانے کی پیشکش کی اور بدلے میں رات گزارنے کے لیے جگہ مانگی۔

تانگے والے نے پوچھا ’کیا تم پاکستان کے لیے کھیلتے ہو؟‘

شعیب نے جواب دیا: ’ابھی نہیں، لیکن ایک دن ضرور کھیلوں گا۔‘

اُنھوں نے عزیز سے وعدہ کیا کہ اگر وہ پاکستان ٹیم میں منتخب ہو گئے تو واپس آ کر اس سے ملیں گے۔

کچھ سال بعد انڈیا کے خلاف شاندار کارکردگی کے بعد جب شعیب ایک سٹار بن کر لوٹے تو وہ اپنا وعدہ پورا کرنے لاہور پہنچے۔

اُنھوں نے عزیز خان کو ڈھونڈ نکالا۔ دونوں نے ساتھ کھانا کھایا۔

پھر تانگے والے نے انھیں اسی راستے پر تانگے کی سواری کرائی جہاں وہ انھیں ٹرائل کے لیے چھوڑنے گیا تھا۔

فائرنگ، لاشیں، ہڑتالیں اور کرفیو

پی آئی اے ٹیم میں انتخاب کے بعد شعیب کراچی پہنچ گئے۔ لیکن ان کے رہنے کا انتظام نہیں کیا گیا۔

انھیں لیاقت آباد اور لالو کھیت جیسے علاقوں میں عام کمروں میں رہنا پڑا۔

یہ وہ دور تھا جب کراچی میں سیاسی تشدد اور آپریشن جاری تھے۔

شہر میں اکثر ہڑتالیں ہوتی تھیں۔ فائرنگ ہوتی تھی اور کرفیو نافذ ہو جاتا تھا۔

شعیب بتاتے ہیں کہ انھیں روزانہ کئی کلومیٹر پیدل چل کر نیشنل سٹیڈیم جانا پڑتا تھا۔

کئی بار اچانک فائرنگ شروع ہو جاتی تھی۔ تب وہ زمین پر بیٹھ جاتے تھے تاکہ کسی گولی کا نشانہ نہ بن جائیں۔

اُنھوں نے تقریباً ڈیڑھ سال ایسے حالات میں گزارے۔

زندگی میں پہلی بار بم دھماکہ دیکھا

Shoaib Akhtar

،تصویر کا ذریعہREHAN ARIF/AFP via Getty Images

،تصویر کا کیپشن کراچی کے شیرٹن ہوٹل کے باہر آٹھ مئی 2002 کو ہونے والے بم دھماکے کے بعد کا منظر جس میں فرانسیسی شہریوں کو لے جانے والی بس تباہ ہو گئی تھی (فائل فوٹو)

مئی 2002 میں کراچی میں پاکستان اور نیوزی لینڈ ٹیم کے ہوٹل کے باہر ایک بڑا بم دھماکہ ہوا تھا۔

شعیب بتاتے ہیں کہ وہ اپنے کمرے میں بیٹھے تھے۔ اچانک ایک زوردار دھماکہ ہوا اور باہر آگ دکھائی دی۔

انھیں محسوس ہوا جیسے کانوں کے پردے پھٹ گئے ہوں۔ راشد لطیف نے کمرے کا دروازہ توڑ کر انھیں باہر نکالا۔

نیچے پہنچنے پر اُنھوں نے نیوزی لینڈ کے کھلاڑیوں کو روتے ہوئے دیکھا۔ وہ بہت خوف زدہ تھے۔

شعیب کہتے ہیں کہ اس واقعے نے ان پر گہرا نفسیاتی اثر ڈالا اور طویل عرصے تک وہ کراچی آنے سے ڈرتے رہے۔

’شاہ رخ خان کی بات پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے تھا‘

سنہ 2008 میں آئی پی ایل کا پہلا سیزن شروع ہوا۔ شعیب اختر بھی اس کا حصہ بنے۔

وہ بتاتے ہیں کہ اس وقت آئی پی ایل (انڈین پریمیئر لیگ) اور آئی سی ایل (انڈین کرکٹ لیگ) دونوں لیگیں شروع ہو رہی تھیں۔

اداکار شاہ رخ خان نے ان سے رابطہ کیا اور کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے لیے کھیلنے کی پیشکش کی۔

شعیب شاہ رخ خان اور للت مودی سے ملے۔

ان کے مطابق ان سے کچھ مالی وعدے کیے گئے تھے۔ لیکن بولی کے عمل کے بعد انھیں مایوسی ہوئی۔

شعیب کہتے ہیں کہ اُنھوں نے شاہ رخ خان سے صاف کہا تھا کہ وہ ملنے والی رقم سے مطمئن نہیں ہیں۔

ان کے مطابق معاملہ صرف پیسے کا نہیں تھا بلکہ کھلاڑی کی حیثیت اور احترام کا بھی تھا۔

وہ لکھتے ہیں کہ آج انھیں لگتا ہے کہ انھیں للت مودی اور شاہ رخ خان کی باتوں پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔

جب آصف زرداری اور الطاف حسین سے مدد مانگی

Shoaib Akhtar

،تصویر کا ذریعہread FAROOQ NAEEM/AFP via Getty Images

،تصویر کا کیپشناسلام آباد میں سنہ 2008 کی پارلیمانی بریفنگ کے دوران شعیب اختر جن پر اس وقت پانچ سال کی پابندی عائد کی گئی تھی

شعیب کے مطابق مرکزی معاہدے کے بارے میں دیے گئے ایک بیان پر پاکستان کرکٹ بورڈ ان سے ناراض ہو گیا تھا۔

ان پر پانچ سال کی پابندی لگا دی گئی تھی۔ اس کی وجہ سے ان کا آئی پی ایل میں کھیلنا بھی خطرے میں پڑ گیا تھا

شعیب کا دعویٰ ہے کہ اس وقت پی سی بی چیئرمین نسیم اشرف ان کے مخالف تھے۔

وہ بتاتے ہیں کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لیے اُنھوں نے ایک دوست کے ذریعے آصف علی زرداری سے رابطہ کیا۔ ساتھ ہی ایم کیو ایم کے رہنما الطاف حسین کو بھی فون کیا۔

ان کے مطابق رحمان ملک نے اس معاملے میں مداخلت کی۔ بعد میں ان کی اور نسیم اشرف کی ملاقات کرائی گئی۔

اس کے بعد ان پر عائد پابندی ہٹا دی گئی اور وہ آئی پی ایل کھیلنے کے لیے اہل ہو گئے۔

آئی پی ایل میں اُنھوں نے کولکتہ نائٹ رائیڈرز کی جانب سے کھیلتے ہوئے دہلی ڈیئر ڈیولز کے خلاف شاندار کارکردگی دکھائی۔

اُنھوں نے وریندر سہواگ، گوتم گمبھیر، اے بی ڈی ویلیئرز اور منوج تیواری کو آؤٹ کیا۔ ٹیم کی جیت کے بعد شاہ رخ خان خوشی میں انھیں گلے لگانے پہنچ گئے تھے۔

برائن لارا سے کیا کہا تھا

شعیب کی خواہش تھی کہ وہ اپنے پسندیدہ بلے باز برائن لارا کو گیند بازی کریں۔ یہ موقع 2004 کی چیمپئنز ٹرافی میں ملا۔

شعیب بتاتے ہیں کہ اُنھوں نے لارا سے کہا تھا کہ ’آپ میرے پسندیدہ بلے باز ہیں اور آپ کو بولنگ کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔‘

لیکن مذاقاً لارا نے رامنریش سروان سے کہا کہ شعیب کہہ رہے ہیں کہ وہ انھیں مار ڈالیں گے۔

اتفاق سے کچھ دیر بعد شعیب کی ایک گیند لارا کی گردن پر لگی اور انھیں ہسپتال لے جانا پڑا۔ بعد میں یہ افواہ پھیل گئی کہ شعیب نے دھمکی دی تھی۔

تاہم لارا نے خود اس غلط فہمی کو دور کیا اور شعیب سے معافی بھی مانگی۔

سنسنی کے بغیر زندگی ادھوری

Shoaib Akthar

،تصویر کا ذریعہJack Atley/ALLSPORT

،تصویر کا کیپشن

شعیب اختر کو سنسنی پسند تھی۔ اُنھوں نے سکائی ڈائیونگ کی۔ بنجی جمپنگ کی اور جنگلات میں گھومے۔

اُنھوں نے بی-52 بمبار طیارے کی پرواز کا تجربہ بھی حاصل کیا اور پارٹیوں میں کھل کر رقص کیا۔

وہ امپائر روڈی کرٹزن کے ساتھ اپنی شرارتوں کا بھی ذکر کرتے ہیں۔

شعیب کے مطابق وہ مذاق میں اکثر ان کی شرٹ کھینچ دیتے تھے۔ روڈی کبھی ناراض نہیں ہوتے تھے۔

سنہ 2006 میں گھٹنے کے آپریشن کے دوران شعیب کچھ وقت کے لیے ہوش میں آ گئے تھے۔ ڈاکٹروں نے انھیں دوبارہ بے ہوش کیا اور آپریشن مکمل کیا۔

جب وہ ریکوری روم میں جاگے تو سامنے ایک نرس کھڑی تھی۔

شعیب بتاتے ہیں کہ اُنھوں نے اس سے مذاقاً چھیڑ چھاڑ شروع کر دی۔ لیکن کچھ ہی دیر بعد انھیں دوبارہ سلا دیا گیا۔

فلم گینگسٹر میں کام نہ کر پانے کا افسوس

شعیب کے مطابق اداکارہ میرا نے ایک دن انھیں بتایا کہ ہدایت کار مہیش بھٹ ان سے ملنا چاہتے ہیں۔ مہیش بھٹ انہیں فلم گینگسٹر میں ایک کردار دینا چاہتے تھے۔

شعیب کو یہ پیشکش پسند بھی آئی۔

لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ نے اشارہ دیا کہ اگر وہ فلم کریں گے تو ان کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے۔

ساتھ ہی ان کے دوستوں نے بھی مشورہ دیا کہ اگر وہ کرکٹ کیریئر کو سنجیدگی سے لینا چاہتے ہیں تو فلموں سے دور رہیں۔

آخرکار شعیب نے فلم میں کام نہیں کیا۔ بعد میں انھیں اس بات کا کچھ افسوس بھی رہا۔