لائیو, امریکہ نے ایران جنگ میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے اپنے میزائلوں کا تقریباً سارا ذخیرہ استعمال کر لیا: سی بی ایس نیوز
بی بی سی کے امریکہ میں شراکت دار ادارے سی بی ایس نیوز کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ کے دوران امریکہ نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کئی اہم میزائلوں کا تقریباً پورا ذخیرہ استعمال کر لیا ہے۔ تاہم پینٹاگون کا کہنا ہے کہ امریکی فوج کے پاس اپنے مشن اور مفادات کے تحفظ کے لیے مطلوبہ صلاحیتیں موجود ہیں۔
خلاصہ
آبنائے ہرمز بہت جلد کھل جائے گی، ورنہ ایران پر شدید حملہ کریں گے: ڈونلڈ ٹرمپ
آبنائے ہرمز کا جنوبی راستہ کھلا ہے: امریکی فوج
امریکہ نے ایران جنگ میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے اپنے میزائلوں کا تقریباً پورا ذخیرہ استعمال کر لیا: سی بی ایس نیوز
یروشلم سے متعلق وزارتی اجلاس میں شرکت کے لیے اسحاق ڈار کی اردن آمد
ٹرمپ کی آمد سے قبل ان کے گالف کورس کے قریب سے مسلح شخص گرفتار
لائیو کوریج
یروشلم سے متعلق وزارتی اجلاس میں شرکت کے لیے اسحاق ڈار اردن پہنچ گئے
،تصویر کا ذریعہx.com/ForeignOfficePk
پاکستانی دفترِ خارجہ کی جانب سے
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان کے مطابق نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ
سینیٹر اسحاق ڈار یروشلم سے متعلق وزارتی اجلاس میں شرکت کے لیے اردن کے دار الحکومت
عمان پہنچ گئے ہیں۔ یہ اجلاس اردن کی میزبانی میں منعقد ہو رہا ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق اس
اجلاس میں عرب لیگ اور پاکستان سمیت دیگر اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہوں
گے، تاکہ ’یروشلم میں تیزی سے بگڑتی صورتحال کے بارے میں ایک متفقہ مؤقف
تیار کیا جا سکے۔‘
وزارتِ خارجہ کے مطابق اجلاس میں
شرکت کے علاوہ اسحاق ڈار ’مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی صورتحال پر تبادلۂ خیال کے
لیے دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ملاقاتیں بھی کریں گے۔‘
پاکستان، امریکہ کا انسدادِ دہشت گردی تعاون مزید مضبوط بنانے کا عزم
،تصویر کا ذریعہx.com/ForeignOfficePk
پاکستان اور امریکہ نے انسدادِ دہشت
گردی کے شعبے میں تعاون مزید مضبوط بنانے اور خطے کو درپیش شدت پسندی کے خطرات سے
مشترکہ طور پر نمٹنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے سوشل
میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان کے مطابق چار اگست کو پاکستان اور امریکہ کے
درمیان انسداد دہشت گردی مکالمے کا چوتھا دور واشنگٹن میں ہوا۔
دفتر خارجہ کے اعلامیے میں کہا گیا
ہے کہ دونوں ممالک نے موجودہ
سکیورٹی خطرات، باہمی تعاون بڑھانے کے امکانات، سرحدی سلامتی کو مضبوط بنانے اور شدت
پسندوں کے معاون نیٹ ورکس کو ختم کرنے کے اقدامات پر تبادلۂ خیال کیا
اعلامیے
کے مطابق ’امریکہ اور پاکستان نے ان شدت پسند تنظیموں کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے
مشترکہ عزم کا اعادہ کیا جو ان کے شہریوں کی سلامتی اور خطے کے استحکام کے لیے
خطرہ ہیں، جن میں داعش خراسان (آئی ایس آئی ایس۔کے)، القاعدہ، تحریکِ طالبان
پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور اس سے وابستہ گروہ شامل
ہیں۔‘
آبنائے ہرمز بہت جلد کھل جائے گی: ڈونلڈ ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہEric Lee/Getty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے
ہرمز بہت جلد کھل جائے گی ورنہ ایران کو بہت شدید حملے کا سامنا کرنا پڑے گا۔
امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو
انٹرویو میں انھوں نے کہا: ’آبنائے ہرمز بہت جلد کھل جائے گی، ورنہ انھیں (ایران
کو) بہت شدید حملے کا سامنا کرنا پڑے گا، اور پھر یہ آبنائے کھول دی جائے گی۔‘
ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران پر ایک بہت
بڑا حملہ کرنے والے تھے ’جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد سب سے بڑا ہوتا۔‘
امریکی صدر کے مطابق ان کا ارادہ
معلوم ہونے پر ایران نے ’مجھے فون کیا اور نہایت شائستگی سے کہا: براہِ کرم، کیا
ہم بات کر سکتے ہیں؟ اور میں نے کہا کہ جی ہاں، ہم بات کر سکتے ہیں۔‘
واضح رہے کہ گذشتہ روز امریکی صدر نے
صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔
گذشتہ
روز ہی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ دونوں نے اعلان
کیا تھا کہ مذاکرات میں اتنی پیش رفت ہوئی ہے کہ آبنائے ہرمز سے جہاز رانی کا سلسلہ
ممکنہ طور پر اسی ہفتے دوبارہ شروع ہو سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز کا جنوبی راستہ کھلا ہے: امریکی فوج
،تصویر کا ذریعہCENTCOM
امریکی فوج کی مرکزی کمان سینٹکام نے
کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے جنوبی بحری راستہ تمام تجارتی جہازوں کی آمد و رفت
کے لیے کھلا ہے اور محفوظ ہے۔
سوشل
میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں سینٹکام نے کہا: ’گذشتہ تین ماہ کے دوران
امریکی افواج نے ایران کی بلا جواز جارحیت کے باوجود ایک ہزار سے زائد جہازوں کو
اس بین الاقوامی آبی گزر گاہ سے کامیابی کے ساتھ گزرنے میں مدد فراہم کی ہے، اور
یہ عمل آج بھی جاری ہے۔‘
واضح رہے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوران ایران مسلسل اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ اسے آبنائے سے گزرنے والی آمد و رفت کو کنٹرول کرنے اور گزرنے والے جہازوں پر فیس عائد کرنے کا حق حاصل ہے۔
امریکہ اور اس کے خلیجی اتحادی، نیز یورپ اور ایشیا کی حکومتیں اس کی مخالفت کرتی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ آبنائے سے گزرنے کا حق دوبارہ ویسا ہی آزاد اور کھلا ہونا چاہیے جیسا کہ تنازع شروع ہونے سے پہلے تھا۔
جنگ کے خاتمے کے معاہدے کے بعد ایرانی حکومت نے آبی گزرگاہ کے شمالی حصے میں ایرانی ساحل کے قریب گزر گاہوں کا ایک نظام مقرر کیا اور کہا کہ تمام بحری آمد و رفت کو انھی راستوں کا استعمال کرنا ہو گا۔
ایران کی اعلیٰ فوجی کمان، خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے مطابق آبنائے میں تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں کی آمدورفت کے لیے واحد محفوظ راستہ وہی ہے جس کا تعین اسلامی جمہوریہ ایران نے کیا ہے۔
تاہم، امریکہ سمیت متعدد ممالک پر مشتمل ایک بحری گروپ جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن سینٹر نے اس کے بجائے سفارش کی کہ جہاز آبنائے کے جنوبی حصے میں عمانی پانیوں سے گزرنے والا مختلف راستہ اختیار کریں۔
امریکہ نے ایران جنگ میں اپنے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کا تقریباً پورا ذخیرہ استعمال کر لیا: سی بی ایس نیوز
،تصویر کا ذریعہU.S. Navy via Getty Images
امریکہ میں بی بی سی کے شراکت دار
ادارے سی بی ایس نیوز کو معاملے سے براہ راست آگاہی رکھنے والے دو ذرائع نے بتایا
ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے دوران امریکہ نے اپنے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں
کے ذخیرے کا تقریباً سارا حصہ استعمال کر لیا ہے۔
سی بی ایس نیوز کے مطابق خبر رساں
ادارے روئیٹرز نے سب سے پہلے یہ خبر دی تھی کہ آپریشن ایپک فیوری کے دوران امریکہ
نے اپنے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کا ’تقریباً سارا‘ ذخیرہ استعمال کر
لیا تھا۔
سی بی ایس نیوز اس سے قبل رپورٹ کر
چکا ہے کہ امریکہ کے پاس دفاعی انٹرسیپٹرز اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے
میزائلوں کے ذخائر کم ہوتے جا رہے ہیں، جو انتظامیہ کے اندر ایک تشویش کا باعث بن
گئے ہیں، اور یہ کہ ایران کے ساتھ جنگ کے ابتدائی مرحلے میں جس رفتار سے امریکہ نے
درست نشانہ لگانے والا اسلحہ استعمال کیا، اسے برقرار رکھنا ممکن نہیں۔
اپنی رپورٹ میں سی بی ایس نیوز نے
ذرائع کے حوالے سے کہا ہے امریکہ اپنے تقریباً تمام آرمی ٹیکٹیکل میزائل سسٹمز، جنھیں
اے ٹی اے سی ایم ایس کہا جاتا ہے، اور پریسیژن سٹرائیک میزائل (ہدف کو درست نشانہ
بنانے والے میزائل) استعمال کر لیے ہیں۔
امریکی حکام نے کہا کہ اے ٹی اے سی
ایم ایس اور پریسیژن سٹرائیک میزائلوں کی تعداد محدود ہے اور سب سے زیادہ تشویش
پیٹریاٹ اور ٹرمینل ہائی آلٹیٹیوڈ ایریا ڈیفنس (تھاڈ) انٹرسیپٹرز کی تعداد کے بارے
میں ہے۔ کیوں کہ صنعت کی جانب سے ایسے نئے میزائل تیار کرنے کی رفتار سست ہے، جبکہ
انھیں استعمال کیے جانے کی رفتار زیادہ ہے۔
سینٹر فار سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز
کی جولائی کی ایک رپورٹ کے مطابق جنگ شروع ہونے سے پہلے امریکہ کے پاس 2330
پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز تھے، اور جولائی کے آخر تک ان کی تعداد کم ہو کر 759 سے 827 کے
درمیان رہ گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق جنگ سے قبل امریکہ کے پاس 452 تھاڈ انٹرسیپٹرز
تھے، جبکہ 27 جولائی تک ان کی تعداد 234 سے 278 کے درمیان رہ گئی تھی۔
سی ایس آئی ایس کی ایک اور حالیہ
رپورٹ کے مطابق دونوں اقسام کے ذخائر کو جنگ سے پہلے کی سطح تک واپس لانے میں کم
از کم 2029 کے وسط تک کا وقت لگ سکتا ہے۔
پینٹاگون کے چیف ترجمان شان پارنل نے
سی بی ایس نیوز کو ایک بیان میں کہا: ’امریکہ کی فوج دنیا کی سب سے طاقتور فوج ہے اور اس کے پاس وہ سب کچھ
موجود ہے جس کی اسے صدر کی جانب سے منتخب کردہ وقت اور مقام پر کارروائی انجام
دینے کے لیے ضرورت ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم نے مختلف
جنگی کمانڈز کے تحت متعدد کامیاب آپریشن انجام دیے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی یقینی
بنایا ہے کہ امریکی فوج کے پاس اپنے عوام اور مفادات کے تحفظ کے لیے وسیع صلاحیتوں
کا ذخیرہ موجود رہے۔‘
وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ اس سے قبل
امریکی ذخائر سے متعلق خدشات کو مسترد کر چکے ہیں۔
14 جون
کو پروگرام ’فیس دی نیشن ود مارگریٹ برینن‘ میں ہیگسیتھ نے کہا تھا: ’یہ ایک من
گھڑت کہانی ہے جسے میڈیا فروغ دینا چاہتا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ذخائر
بہترین حالت میں ہیں اور مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔‘
ٹرمپ کی آمد سے قبل ان کے گالف کورس کے قریب سے مسلح شخص گرفتار, میکس ماٹزا، بی بی سی نیوز
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنمنگل کو ٹرمپ کا ہیلی کاپٹر کیلیفورنیا کے گالف کورس پر اترتے ہوئے دیکھا گیا
کیلیفورنیا میں حکام نے ایک شخص کو
گرفتار کیا ہے جسے لاس اینجلس کے علاقے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملکیت والے ایک گالف
کورس کے قریب دیکھا گیا تھا۔ امریکی صدر یہاں ایک عشائیے میں شرکت کے لیے آنے
والے تھے۔
تفتیش کاروں کے مطابق 38 سالہ جینین
جان ٹائیلے کو رانچو پالوس وردیس میں واقع ٹرمپ نیشنل گالف کورس پر ایک پستول اور
غیر قانونی گولہ بارود کے ساتھ پایا گیا۔
لاس اینجلس شیرف ڈپارٹمنٹ کے مطابق
اسے ’گالف کورس کے احاطے میں گھومتے ہوئے،
تصاویر اور ویڈیوز بناتے ہوئے اور سکیورٹی منصوبہ بندی کی سرگرمیوں کی نگرانی کرتے
ہوئے دیکھا گیا تھا۔‘
گرفتاری اتوار کی دوپہر کو عمل میں
آئی۔ ٹرمپ اس وقت کیلیفورنیا کے دورے پر ہیں تاکہ اسی گالف کورس میں
ریپبلکن پارٹی کے چندہ جمع کرنے کے عشائیے میں شرکت کر سکیں۔
ٹائیلے کو آتشیں اسلحہ چھپا کر رکھنے
اور بکتر شکن/ممنوعہ گولہ بارود رکھنے کے الزامات میں حراست میں رکھا گیا ہے۔
ایک نیوز ریلیز میں شیرف ڈپارٹمنٹ نے
کہا کہ ٹائیلے کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب سادہ لباس میں ملبوس وفاقی اہلکاروں نے
مقامی حکام کو ایک مشکوک شخص کی اطلاع دی۔
جب پولیس نے اس شخص کا سامنا کیا تو
معلوم ہوا کہ وہ ایل سیگونڈو پولیس ڈپارٹمنٹ کو ایک ڈکیتی کے مقدمے میں مطلوب تھا۔
ایل سیگونڈو رانچو پالوس وردیس سے تقریباً 25 کلومیٹر شمال میں واقع ہے، جو ایک
خوشحال ساحلی علاقہ ہے اور اپنی پہاڑیوں اور دلکش چٹانوں کے لیے جانا جاتا ہے۔
حکام نے اس کی تلاشی لی تو معلوم ہوا
کہ وہ 16 گولیوں والی ایک میگزین ساتھ لیے ہوئے تھا جس میں ہالو پوائنٹ گولیاں
موجود تھیں۔ اس کی گاڑی، جو گالف کورس میں کھڑی تھی، سے ایک بھرا ہوا پستول اور ہالو
پوائنٹ گولیوں سے بھری ایک میگزین بھی برآمد ہوئی۔
ہالو پوائنٹ گولیاں ہدف سے ٹکرانے پر
پھیل جاتی ہیں اور چوڑی ہو جاتی ہیں، جس کے نتیجے میں اہم اعضا کو زیادہ سے زیادہ
نقصان پہنچتا ہے۔ کیلیفورنیا 10 سے زیادہ گولیاں رکھنے والی میگزینوں پر پابندی
عائد کر چکا ہے۔
حکام
نے یہ نہیں کہا کہ آیا رانچو پالوس وردیس میں گرفتار مشتبہ شخص ٹرمپ کو نقصان
پہنچانے کا ارادہ رکھتا تھا یا نہیں، اور نہ ہی اسے اس نوعیت کے کسی الزام سے
متعلق مجرمانہ مقدمات کا سامنا ہے۔
پاکستان اور صومالیہ کے درمیان دفاع اور سلامتی کے شعبوں میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط
،تصویر کا ذریعہ@MoDSomaliya
پاکستان اور صومالیہ نے دفاع اور سلامتی کے شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو فروغ دینے اور عسکری صلاحیتیں بڑھانے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے ہیں۔
صومالیہ کی وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے مفاہمتی یادداشت پر دستخط منگل کو اسلام آباد میں ہوئے۔
صومالیہ کے وزیرِ دفاع احمد معلم فقی اور پاکستانی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے ایم او یو پر دستخط کیے۔
یمنی حدود کے قریب ایک پروجیکٹائل لگنے سے انڈین بحری جہاز ڈوب گیا
انڈیا کے وزیرِ جہاز رانی کا کہنا ہے کہ ایک پروجیکٹائل (داغے جانے والی شے) کے لگنے سے انڈین جہاز یمن کی سمندری حدود کے قریب ڈوب گیا ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ یمنی کوسٹ گارڈز نے جہاز پر سوار تمام 14 ملاحوں کو بحفاظت بچا لیا ہے۔
انڈین وزارتِ خارجہ کی جانب سے ایک بیان میں اس حملے کی سخت مذمت کی گئی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم انڈین پرچم بردار تجارتی جہاز ’ایم ایس وی فیضانِ نورِ اولیاء‘ پر ہونے والے حملے کی مذمت کرتے ہیں، جو چار اگست کو یمن کے ساحل کے قریب بحیرہ احمر میں ڈوب گیا تھا۔ جہاز پر سوار تمام 13 انڈین شہریوں کو بچا لیا گیا ہے۔‘
ایران کی آبنائے ہرمز پر عمان کے ساتھ ’مثبت‘ مذاکرات کی تصدیق، تیل کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ جاری
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے معاملے پر عمان کے ساتھ ’مثبت‘ مذاکرات ہوئے ہیں۔
ایک بیان میں اُن کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز پر عمان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات تکنیکی اور سیاسی طور پر مثبت رہے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ ابھی جاری ہے۔
اسماعیل بقائی کا مزید کہنا تھا کہ ان مذاکرات کا بنیادی مقصد بحری جہازوں کی ’محفوظ واپسی کے راستوں کا تعین‘ کرنا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ ’ان مذاکرات کے حتمی نتائج کا اعلان اس عمل کے مکمل ہونے اور معاہدوں کو حتمی شکل دیے جانے کے بعد کیا جائے گا۔‘
یہ بیانات امریکی وزیر خارجہ کی جانب سے اس اعلان کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں اُنھوں نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت کے حوالے سے ایران اور عمان کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم ابھی تک کسی حتمی معاہدے تک رسائی حاصل نہیں ہو سکی ہے۔
آبنائے ہرمز کے کھلنے کی امید: عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
منگل کو تیل کی قیمتیں اس وقت تین ہفتوں کی کم ترین سطح پر پہنچ گئیں جب جب امریکی حکام کے بیانات نے اس امید کو تقویت دی کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایران کے ساتھ کسی معاہدے پر پہنچا جا سکتا ہے۔
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو اور سیکریٹری خزانہ سکاٹ بیسنٹ دونوں نے اعلان کیا کہ مذاکرات میں اتنی پیش رفت ہوئی ہے کہ جہاز رانی کا سلسلہ ممکنہ طور پر اسی ہفتے دوبارہ شروع ہو سکتا ہے۔
بحری رسد میں خلل کم ہونے کے امکان سے متعلق خبروں کے بعد عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی فی بیرل قیمت تقریباً 5 فیصد کم ہو کر 80 ڈالر سے نیچے آ گئی۔
تاہم، گذشتہ چند ماہ کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ہونے والے مذاکرات کی ناکامی نے تیل کی منڈی کو غیر یقینی کی صورتحال سے دوچار رکھا ہے، جس کا نتیجہ قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی صورت میں نکلا۔
منگل کو برینٹ خام تیل کی قیمت میں کمی کے ساتھ ساتھ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت بھی 5 فیصد سے زیادہ گر کر 76 ڈالر فی بیرل رہ گئی۔
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ ایران اور عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز سے مزید جہازوں کی آمد و رفت ممکن بنانے کے حوالے سے ہونے والی بات چیت میں پیش رفت ہوئی ہے۔
انہوں نے محکمۂ خارجہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’ان مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے، لیکن ابھی کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہوا۔ ہمیں امید ہے کہ یہ بہت جلد ہو جائے گا۔‘
دوسری جانب سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق معاہدہ منگل یا بدھ تک طے پا سکتا ہے۔
گذشتہ روز کی اہم خبریں
امریکہ کے سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کے حوالے سے ایران اور عمان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے، تاہم حتمی معاہدہ ابھی طے نہیں پایا۔
قطر کا کہنا ہے کہ وہ ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع کے سفارتی حل کی تلاش کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ تاہم اس کے مطابق آئندہ دنوں میں براہِ راست مذاکرات کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ ان کا ملک اپنی علاقائی سالمیت کا دفاع کرے گا، تاہم تنازع کو وسعت دینے کا ارادہ نہیں۔
یمن میں ایرانی حمایت یافتہ گروہ حوثیوں نے سعودی عرب کے ایک ہوائی اڈے پر حملے کا دعویٰ کیا ہے۔ یمنی حوثی تحریک کے فوجی ترجمان یحیی سریع نے اعلان کیا کہ جنوبی سعودی عرب میں واقع اس ایئرپورٹ کو ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا کیونکہ یہاں سے یمنی علاقوں حجہ اور صعدہ میں ڈرون اڑا کر فضائی حدود کی خلاف ورزی کی گئی تھی۔
وزیر اعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور اور سیاسی جماعت مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ پارٹی قائد نواز شریف نے اپنی جماعت کی قیادت کو محسن نقوی کا بیان نظر انداز کرنے کا کہا ہے۔
بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!
بی بی سی کے لائیو پیج میں
خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی
بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔