پاکستانی باکسر قدرت اللہ سمیت کئی عالمی کھلاڑی کامن ویلتھ گیمز کے بعد سکاٹ لینڈ میں ’لاپتہ‘

پاکستانی باکسر قدرت اللہ

،تصویر کا ذریعہPakistan Today

،تصویر کا کیپشنپاکستان سپورٹس بورڈ کے ڈائریکٹر جنرل یاور حسین کا کہنا ہے کہ قدرت اللہ کے معاملے پر انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے
    • مصنف, جوناتھن گیڈس
    • عہدہ, گلاسگو
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 5 منٹ

گلاسگو میں منعقد ہونے والے کامن ویلتھ گیمز میں شرکت کرنے والے متعدد کھلاڑی لاپتہ ہو گئے ہیں اور اپنی ٹیموں کے دیگر ارکان کے ساتھ اپنے وطن واپس نہیں گئے۔

سکاٹ لینڈ پولیس کے مطابق اتوار کو گیمز کے اختتام پذیر ہونے کے بعد متعدد کھلاڑیوں کے بارے میں اطلاع ملی ہے کہ ان کا سراغ نہیں مل رہا۔

پاکستان کے مقامی ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق باکسر قدرت اللہ پاکستان واپس جانے والی پرواز میں اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ سوار نہیں ہوئے اور جب حکام انھیں تلاش کرنے گئے تو وہ اپنے کمرے میں نہیں ملے۔

ادھر باکسنگ فیڈریشن کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ وہ شیڈول کے تحت واپس نہیں آئے مگر انھیں امید ہے کہ ویزے کی میعاد مکمل ہونے سے پہلے پاکستان واپس آ جائیں گے۔

بی بی سی نے اس معاملے پر موقف جاننے کے لیے پاکستان سپورٹس بورڈ کے ڈائریکٹر جنرل یاور حسین سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس کی رپورٹ تین روز میں جاری کی جائے گی۔

اب تک کی اطلاعات یہی ہیں کہ قدرت اللہ کامن ویلتھ گیمز کے لیے بھیجے گئے دیگر پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ وطن واپس نہیں آئے۔ واپس آنے والے ایتھلیٹس میں باکسر فاطمہ زہرہ بھی شامل ہیں جنھوں نے پہلی بار پاکستان کے لیے کانسی کا تمغہ جیتا تھا۔

دریں اثنا سپورٹس ویب سائٹ این بی ایس سپورٹس کے مطابق یوگنڈا کی باکسنگ ٹیم کے چار ارکان بھی وطن واپسی کی پرواز میں سوار نہیں ہوئے۔ ویب سائٹ کے مطابق ٹیم کے ایک رکن نے بتایا ہے کہ یہ کھلاڑی سکاٹ لینڈ میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اس سے پہلے ہونے والی کامن ویلتھ گیمز، جن میں 2014 کا وہ ایڈیشن بھی شامل ہے جو گلاسگو میں منعقد ہوا تھا، کے بعد بھی درجنوں کھلاڑی لاپتہ ہو گئے تھے۔ ان میں سے بعض نے بعد میں پناہ کی درخواست دی جبکہ بعض مکمل طور پر غائب ہو گئے۔

سکاٹ لینڈ پولیس کے ترجمان نے کہا کہ ’متعدد کھلاڑیوں کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔‘

یوگنڈا کے مقامی میڈیا نے لاپتہ باکسرز کے نام نوحو باتے، اینجل کاتوشابے، ابراہیم کیمس اور ایملی نکالیما بتائے ہیں۔

نوحو باتے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن’نوحو باتے ان متعدد کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ کامن ویلتھ گیمز کے اختتام کے بعد لاپتہ ہو گئے۔‘

این بی ایس سپورٹس کے مطابق اس نے چار لاپتہ باکسرز میں سے ایک سے رابطہ کیا، جن کا دعویٰ تھا کہ یہ کھلاڑی پناہ حاصل کرنے اور اپنے باکسنگ کیریئر کو ایسے ملک میں جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہاں ان کے وطن کے مقابلے میں بہتر تربیتی سہولیات اور مواقع موجود ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ ان باکسر نے یوگنڈا کے لوگوں سے اس فیصلے کو سمجھنے کی اپیل کی اور درخواست کی کہ اس فیصلے پر ان کے خلاف کوئی رائے قائم نہ کی جائے۔

گیمز میں یوگنڈا ٹیم کے ایک ترجمان نے بی بی سی سکاٹ لینڈ نیوز کو بتایا کہ ٹیم اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتی۔

اس کے بعد یوگنڈا کا باقی دستہ اپنے وطن روانہ ہو چکا ہے۔

اینجل کاتوشابے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناینجل کاتوشابے (سرخ لباس میں) نے حالیہ گلاسگو کامن ویلتھ گیمز میں حصہ لیا تھا
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

گلاسگو 2026 کی قیام کی پالیسی کے تحت کھلاڑیوں کو اپنے مقابلے ختم ہونے کے دو روز بعد وہ رہائش گاہیں چھوڑنا تھیں جو انھیں کھیلوں کے دوران فراہم کی گئی تھیں۔

گلاسگو 2026 کی ترجمان سوفی ایشکرافٹ نے کہا کہ ’گذشتہ دو ہفتوں کے دوران دولتِ مشترکہ کے 74 ممالک اور خطوں سے تین ہزار کھلاڑیوں کا گلاسگو میں خیرمقدم کیا گیا۔‘

ان کے مطابق ’جب کھلاڑی اور معاون عملہ شہر کو چھوڑتا ہے تو ہم سکاٹ لینڈ پولیس، بارڈر فورس اور یو کے ویزا اینڈ امیگریشن سمیت متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں تاکہ گیمز کا محفوظ اختتام یقینی بنایا جا سکے۔‘

اس سے قبل 2014 کے مقابلے ختم ہونے کے بعد بھی یوگنڈا کے دو رگبی کھلاڑی غائب ہو گئے تھے جنھیں بعد میں ویلز کے شہر کارڈف میں ایک چھوٹی ٹیم کے لیے کھیلتے ہوئے پایا گیا تھا۔

ان کھلاڑیوں میں سے ایک، فلپ پاریو کو بعد میں کارڈف میں ایک خاتون کو ریپ کرنے پر ساڑھے چار سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

ایک اور کھلاڑی، ویٹ لفٹر سیرل تچاچیٹ دوم، بھی 2014 کے گیمز کے بعد کیمرون سے فرار ہونے کے لیے لاپتہ ہو گئے تھے۔

ان گیمز میں وہ پانچویں نمبر پر رہے تھے، لیکن 2026 میں واپسی پر انھوں نے چاندی کا تمغہ جیتا۔

سمجھا جاتا ہے کہ ہوم آفس کامن ویلتھ گیمز جیسے بڑے مقابلوں سے قبل افراد کی سخت جانچ پڑتال کرتا ہے، جبکہ ایسے مقابلوں کے منتظمین کے ساتھ مل کر یہ کنٹرول بھی مضبوط بناتا ہے کہ ان تقریبات کے لیے برطانیہ میں کون داخل ہو سکتا ہے۔

مستقبل میں پناہ کی کسی بھی درخواست کا جائزہ انفرادی بنیادوں پر لیا جائے گا اور اسے مقدمے کے حقائق اور دستیاب شواہد کی روشنی میں پرکھا جائے گا۔