پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر میں ہلاکتوں کی تعداد ’دو ہندسوں‘ میں، ایکشن کمیٹی کو ’انڈیا کی حمایت‘ حاصل ہے: رانا ثنا اللہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عثمان زاہد
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
وزیرِ اعظم شہباز شریف کے خصوصی مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کے علاقے راولاکوٹ سے منظرِ عام پر آنے والی ہلاکتوں کی اطلاعات ’پروپیگنڈا‘ پر مبنی ہیں۔
بی بی سی نیوز کے عثمان زاہد کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جب رانا ثنا اللہ سے راولاکوٹ میں ہونے والی ہلاکتوں سے متعلق سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے کب کہا کہ وہاں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی؟ لیکن جو پروپیگنڈا ہے کہ 400 ہلاکتیں ہوئی ہیں، وہ غلط ہے۔‘
’9 جون سے اگر آپ دیکھیں تو ہلاکتوں کی تعداد دو ہندسوں میں ہو سکتی ہے، لیکن اس میں پولیس اور رینجرز کے لوگ بھی شامل ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’آپ مجھے بتائیں کہ جب وہ (مظاہرین) قانون نافذ کرنے والے اداروں پر فائرنگ کریں گے تو پھر قانون نافذ کرنے والے ادارے کیا ردِعمل دیں گے؟‘
پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر میں رواں برس جون سے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے تحت احتجاج جاری ہیں اور اس دوران متعدد سکیورٹی اہلکاروں اور مظاہرین کی ہلاکتوں کی اطلاعات منظرِ عام پر آتی رہی ہیں۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا حالیہ احتجاج رواں برس جون میں مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 نشستوں کے خاتمے سے شروع ہوا تھا اور مظاہرین نے مظفر آباد تک لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
احتجاجی مظاہرین ہلاکتوں کی تعداد زیادہ بتاتے ہیں، جبکہ حکومتی حکام کی جانب سے بتائی جانے والی تعداد کم ہوتی ہے۔ بی بی سی دونوں ہی جانب سے کیے گئے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
رانا ثنا اللہ نے ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’پراپیگنڈا کا حال یہ ہے کہ کچھ دن پہلے میرپور میں ایک واقعہ ہوا، جس میں کوئی ہلاک نہیں ہوا۔ لیکن ایک ویڈیو بنائی گئی کہ تقریباً 25 لاشیں خون میں لت پت وہاں پر موجود ہیں اور بتایا گیا کہ دیکھیں یہ قتلِ عام ہو گیا ہے اور بعد میں وہ ساری لاشیں لوگوں کو چلتی پھرتی نظر آئیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کیوں کیا گیا؟
پاکستانی وزیرِاعظم کے خصوصی مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے الزام عائد کیا کہ 9 جون کو راولاکوٹ میں موجود لوگوں کی تعداد ’پانچ سے چھ ہزار تھی۔‘
رانا ثنا اللہ نے الزام عائد کیا کہ ان افراد کے ساتھ مسلح افراد بھی موجود تھے۔
’انھیں کہا گیا کہ آپ کے ساتھ مسلح لوگ ہیں، مسلح لانگ مارچ جو ہوتا ہے وہ سیاسی مارچ نہیں ہوتا بلکہ وہ لشکر کشی ہوتی ہے۔‘
’کوئی بھی ریاست اپنے دارالحکومت پر ایسی لشکر کشی کی اجازت نہیں دیتی۔ انھیں وہاں پر روکا گیا، وہاں پر انھوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے فائرنگ کا تبادلہ کیا، یعنی ان کے مسلح ہونے کی اس حد تک تصدیق ہے۔‘
رانا ثنا اللہ نے خبردار کیا کہ اگر مظاہرین ’طاقت کے استعمال کے ذریعے مظفرآباد میں جتھے کی صورت میں چڑھائی کی کوشش کریں گے تو ان کو ہر طریقے سے روکا جائے گا، اس کی انھیں اجازت نہیں دی جائے گی۔‘
تاہم ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ وہ پرامن ہیں اور تشدد کا آغاز انھوں نے نہیں کیا بلکہ وہ اس کا شکار ہوئے ہیں اور پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے ان پر گولیاں چلائی ہیں۔
مہاجرینِ مقیم پاکستان کی نشستوں پر تنازع کیسے حل ہوگا؟
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے نمائندوں کا دعویٰ ہے کہ یہ نشستیں ابتدا میں ریاستی اسمبلی کا حصہ نہیں تھیں بلکہ انھیں برسوں پہلے ’ایک مخصوص سوچ کے تحت‘ کشمیر اسمبلی کا حصہ بنایا گیا۔
ان کا الزام ہے کہ اِن 12 نشستوں پر منتخب ہونے والے نمائندوں کو متعدد بار کشمیر میں حکومت گرانے اور وزرائے اعظم کی تبدیلی کے لیے استعمال کیا گیا۔
رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی ماضی میں بھی احتجاج کرتی رہی ہے ’لیکن یہ مسئلہ 9 جون کو اس وقت شروع ہوا جب انھوں نے کہا کہ ہم الیکشن نہیں ہونے دیں گے۔‘
پاکستانی وزیرِاعظم کے مشیر کا مزید کہنا تھا کہ مہاجرین مقیم پاکستان کی نشستوں کا حل الیکشن کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
’اگر آج بھی وہ الیکشن کا حصہ بن جائیں اور اسے روکنے کی کوشش نہ کریں تو ان کے ساتھ ہمیں کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔‘
پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر میں انتخابات کے دو مرحلے مکمل ہو چکے ہیں، جبکہ پونچھ ڈویژن میں انتخابات 10 اگست کو ہوں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
رانا ثنا اللہ نے انٹرویو کے دوران بی بی سی کو بتایا کہ مہاجرین مقیم پاکستان کی نشستوں کا فیصلہ کرنے کا اختیار منتخب اسمبلی کے پاس ہے۔
انھوں نے مظاہرین کو مشورہ دیا کہ ’یہ معاملہ اسمبلی کے اختیار میں ہے۔ آپ ان کے ساتھ بیٹھیں اور کروالیں ان سے جو آپ چاہتے ہیں۔‘
’اس کا حل انتخابات ہی ہیں۔ ان لوگوں سے وہی بات کرے گی کہ بتائیں آپ کا ایسا کونسا مطالبہ ہے جو پورا نہیں ہوا؟ مہاجرین کی نشستوں کے معاملے پر بھی اسمبلی نے ہی آئین میں ترمیم کرنی ہے۔‘
کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر دہشتگردی کا الزام
پاکستان اور اس کے زیرِانتظام کشمیر میں حکام جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر دہشتگردی میں ملوث ہونے اور غیرملکی فنڈز حاصل کرنے کے الزامات لگاتے رہے ہیں۔
رانا ثنا اللہ نے بھی بی بی سی کے ساتھ گفتگو میں ان الزامات کو دُہرایا۔
انھوں دعویٰ کیا کہ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو انڈیا کی حمایت حاصل ہے۔
’ہمارا دشمن ملک جس نے افغانستان میں تربیتی کیمپس قائم کیے ہیں۔ وہاں سے لوگ تربیت حاصل کر کے پہلے خیبر پختونخوا میں آتے تھے، اب وہ بلوچستان میں بھی آ رہے ہیں اور ہماری اطلاع یہ ہے کہ اب ان کی یہاں (پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر) تک بھی پہنچ ہو گئی ہے۔‘
’انڈیا ان کی حمایت کر رہا ہے اور خدا جانتا ہے کہ ان کے پاس فنڈنگ کہاں سے آ رہی ہے۔‘
تاہم ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ وہ پرامن ہیں اور انڈیا سے مالی مدد نہیں لیتے۔ ان کے مطابق تنظیم کو بیرون ملک مقیم پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والی کمیونٹی کی امداد حاصل ہے۔
حکومت پر میڈیا کو دباؤ میں لانے کا الزام
حالیہ ہفتوں میں متعدد اداروں کی جانب سے یہ الزامات سامنے آئے ہیں کہ احتجاج سے متاثرہ علاقوں میں میڈیا کو رسائی نہیں دی جا رہی۔
جب رانا ثنا اللہ سے اس حوالے سے سوال کیا گیا تو وہ بات کو افغانستان کے معاملے پر لے گئے: ’انٹرنیشنل میڈیا افغانستان میں کیوں رسائی نہیں لیتا؟ جو وہاں ٹریننگ کیمپ بنے ہیں وہاں کیوں رسائی نہیں ملتی انھیں؟‘
انھوں نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’جہاں قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشتگردوں سے نبردآزما ہیں وہاں میڈیا یا سوشل میڈیا کو کیسے رسائی دی جا سکتی ہے؟‘
پاکستانی وزیرِ اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور نے انڈیا اور افغانستان کے ساتھ اسرائیل پر بھی الزام عائد کرتے ہوئے کہا: ’اگر میڈیا اس طرح کی رسائی چاہتا ہے، تو پہلے جائے اور پتا کرے کہ جو افغانستان میں دہشتگردی کے کیمپ ہیں، ان میں ٹریننگ دینے والے لوگ صرف انڈیا کے ہیں یا اسرائیل سے بھی لوگ وہاں آ کر ٹیکنیکل ٹریننگ دے رہے ہیں؟‘



















