براڈ پیک پر لاپتہ ہنزہ کے کوہ پیما سہیل سخی کا خاندان جو کسی معجزے کا منتظر ہے

    • مصنف, محمد زبیر خان
    • عہدہ, صحافی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

جب دنیا کی 12ویں سب سے بلند چوٹی ’براڈ پیک‘ پر برفانی تودہ گرنے سے 10 کوہ پیماؤں پر مشتمل ٹیم ایک حادثے کا شکار ہوئی تو اس میں گلگت بلتستان کے علاقے ہنزہ سے تعلق رکھنے والے سہیل سخی بھی شامل تھے۔

سنیچر کو کوہ پیماؤں کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے ان کی کمپنی ایلیٹ ایکسپیڈیشنز نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا کہ ’گہرے دکھ اور صدمے کے ساتھ اس بات کی تصدیق کی جاتی ہے کہ نرمل پرجا جمعرات کو برفانی تودہ گرنے کے حادثے میں ہلاک ہو گئے۔‘

کمپنی نے یہ بھی کہا ہے کہ ’مہم میں شامل دیگر نو ارکان بھی ہلاک ہو گئے ہیں۔‘

تاہم گلگت بلتستان کے وزیر سیاحت نیک نام کریم نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ سہیل سخی تاحال لاپتہ ہیں۔

الپائن کلب آف پاکستان کے صدر میجر جنرل (ریٹائرڈ) عرفان ارشد کے مطابق سنیچر کی شام آٹھ بجے تک چار کوہ پیماؤں کی لاشیں مل چکی تھیں جو اس وقت سکردو ہسپتال میں ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ پانچ کوہ پیماؤں کی لاشوں کی جگہ کی نشان دہی ہو چکی ہے تاہم وہ انتہائی خطرناک اور مشکل مقام پر موجود ہیں جہاں سے لاشوں کو واپس لانا انتہائی خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔

سہیل سخی کا خاندان معجزے کا منتظر

ابتدائی طور پر ان کے قریبی رشتہ داروں نے کوشش کی کہ جمعرات کے واقعے کی خبر فوری طور پر سہیل کی والدہ روبینہ شاہین تک نہ پہنچے، کم از کم کچھ وقت کے لیے۔ لیکن ایسا ممکن نہ تھا۔

جب روبینہ شاہین کو اپنے بیٹے کے بارے میں اطلاع ملی تو وہ بنا کسی کو بتائے اکیلے گاڑی چلا کر سکردو پہنچ گئیں۔

ان کے پیچھے پیچھے سہیل سخی کے دیگر رشتہ دار بھی سکردو پہنچے۔ سہیل کی والدہ اب بھی کسی معجزے کے انتظار میں ہیں۔

سہیل سخی کے چچا زاد بھائی عبید سلیمان بتاتے ہیں کہ ممتاز کوہ پیما سرباز خان اور نائلہ کیانی سہیل کے بہت اچھے دوست ہیں۔

ان کے مطابق سرباز خان کو شاید حادثے کا گھر والوں سے پہلے ہی پتا چل گیا تھا اور وہ تب سے اپنی استطاعت کے مطابق امدادی سرگرمیوں کی کوشش کر رہے ہیں۔

عبید سلیمان کہتے ہیں کہ سرباز خان کا نمبر کم ہی لگتا ہے اور جب موبائل سگنل ہوتے ہیں تو وہ کوئی نہ کوئی اطلاع فراہم کر دیتے ہیں۔ ’گذشتہ روز سرباز خان نے مجھے پیغام بھیجا کہ ہم لوگ سکردو نہ رکیں اور سہیل سخی کی والدہ کو لے کر واپس ہنزہ جائیں، کیونکہ سکردو میں رکنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے اور سہیل سخی کا کچھ پتا نہیں چل رہا۔‘

عبید سلیمان کے مطابق سہیل کی والدہ کہتی ہیں کہ ’میرا بیٹا پہاڑوں کا عاشق تھا۔۔۔ اگر وہ دنیا میں نہیں رہا تو مجھے اس کی لاش ہی دے دو تاکہ مجھے کچھ سکون ملے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم میں اتنی ہمت نہیں کہ ہم کچھ کہہ سکیں۔‘

فزکس میں ماسٹرز سے کے ٹو تک کا سفر

سہیل سخی کا تعلق ہنزہ سے ہے اور ان کا شمار ملک کے تجربہ کار ہائی آلٹیٹیوڈ کوہ پیماؤں میں ہوتا ہے۔

سہیل سخی کے ٹو، نانگا پربت، گاشر برم ون اور گاشر برم ٹو سمیت دنیا کی کئی بلند چوٹیاں سر کر چکے ہیں۔ ان میں سے کئی چوٹیاں انھوں نے اضافی آکسیجن کے بغیر سر کی ہیں۔

مئی 2026 میں سہیل سخی نے 8,586 میٹر بلند دنیا کی تیسری بلند ترین چوٹی کنچن جنگا بھی سر کی۔ وہ اس مہم میں روٹ فکسنگ ٹیم کا حصہ تھے اور 20 مئی کو چوٹی پر پہنچے تھے۔

عبید سلیمان بتاتے ہیں کہ سہیل نے اسلام آباد کی کامسیٹس یونیورسٹی سے فزکس میں ماسٹرز کیا تاہم پہاڑوں اور کوہ پیمائی سے ان کی دلچسپی نے انھیں اس شعبے میں اپنا کیریئر بنانے کی طرف راغب کیا۔

ان کے مطابق سہیل سخی کوہ پیما ہونے کے ساتھ ساتھ ہائی آلٹیٹیوڈ فوٹوگرافر بھی ہیں۔ وہ پاکستان کے پہاڑی علاقوں، گلیشیئرز اور بلند چوٹیوں کو اپنی تصاویر کے ذریعے دستاویزی شکل دیتے ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ ان کے کزن پاکستان میں مقامی نوجوانوں کو کوہ پیمائی اور پہاڑی سرگرمیوں کی تربیت دینے کے حوالے سے بھی کام کرتے رہے ہیں اور مختلف بین الاقوامی مہمات میں پاکستانی کوہ پیماؤں اور گائیڈز کی نمائندگی کر چکے ہیں۔

عبید سلیمان کا کہنا ہے کہ سہیل سخی کی عمر صرف سترہ، اٹھارہ سال تھی جب ان کے والد وفات پا گئے۔ وہ علاقے کے مشہور ٹور گائیڈ تھے۔ اُس وقت سہیل سخی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔

اپنے شوہر کی وفات کے بعد سہیل کی والدہ نے گزر بسر کے لیے ہنزہ پبلک سکول میں ملازمت کر لی جبکہ ان کے گھر میں لڑکیوں کا ایک ہاسٹل پہلے سے چل رہا تھا۔

سہیل سخی کا ایک بھائی ہے جو ان سے چھوٹا ہے۔

تعلیم مکمل کرنے کے بعد سہیل سخی بھی سیاحت کی صنعت سے وابستہ ہو گئے اور انھوں نے ایک ٹور کمپنی کے ساتھ علی آباد میں ایک ہوٹل شروع کیا جبکہ ساتھ ساتھ بطور گائیڈ بھی کام کرنے لگے۔

عبید سلیمان کا کہنا تھا کہ اسی دوران انھوں نے کوہ پیمائی بھی شروع کر دی اور وہ اکثر اس میں مصروف رہتے۔

’مجھے تحفظ دینے کے لیے خود کو خطرے میں ڈالا‘

ممتاز خاتون کوہ پیما نائلہ کیانی بتاتی ہیں کہ انھوں نے سہیل سخی کے ساتھ مل کر کوہ پیمائی شروع کی تھی جبکہ پہلی تین آٹھ ہزار میٹر سے بلند مہمات بھی ساتھ کیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میری، سرباز خان اور سہیل سخی کی بہت زیادہ دوستی تھی۔ اکثر اوقات ہم اپنے منصوبوں پر ایک دوسرے سے بات کرتے۔ سہیل اور سرباز بھی آپس میں بہت گہرے دوست ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سرباز شاید وہ پہلے کوہ پیما تھے جو امدادی سرگرمیوں کے لیے پہنچے تھے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی کوہ پیمائی کی دنیا میں ایک مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے اکثر بڑے کوہ پیما مختلف وجوہات کی بنا پر اعلیٰ تعلیم یافتہ نہیں اور جو تعلیم یافتہ ہوتے ہیں وہ عموماً زیادہ نام نہیں کما پاتے۔

’مگر سہیل سخی میں یہ دونوں خصوصیات تھیں۔ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ بھی تھے اور کوہ پیمائی میں ان کا وژن بھی تھا، جس کے لیے وہ کام کر رہے تھے۔‘

نائلہ کیانی کا کہنا ہے کہ کوہ پیماؤں کے درمیان دوستیاں تو بہت ہوتی ہیں اور وہ ایک دوسرے کا خیال بھی رکھتے ہیں لیکن یہ زیادہ تر بیس کیمپ یا اس وقت تک محدود ہوتا ہے جب تک وہ مہم پر روانہ نہیں ہوتے۔

’عموماً مہمات کے دوران کسی دوسرے کا خیال رکھنا ممکن نہیں ہوتا کیونکہ اس وقت ہر کوئی خطرے کی زد میں ہوتا ہے۔ مگر سہیل ان لوگوں میں سے تھے جو مہمات کے دوران بھی اپنے آپ کو خطرے میں ڈال کر دوسروں کی مدد کرتے تھے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’میں، سرباز اور سہیل جی ون کی مشکل مہم پر تھے۔ اس موقع پر سرباز روٹ دیکھنے کے لیے ہم دونوں سے آگے چلے گئے۔

’اس دوران میں بہت تھک گئی اور مشکلات کا شکار ہو گئی۔ میرا دل چاہ رہا تھا کہ میرے پاس جو حفاظتی لباس وغیرہ تھا، وہ بھی اتار کر پھینک دوں۔'

نائلہ کیانی بتاتی ہیں کہ ان کی رفتار بھی بہت کم ہو گئی تھی۔

ان کے مطابق اس موقع پر سہیل سخی نے اپنی رفتار کم کر لی اور ان کے ساتھ ساتھ رہے تاکہ اگر وہ کسی خطرے کا شکار ہوں تو وہ ان کی مدد کر سکیں۔

’مہمات کے دوران کوہ پیما اپنی رفتار کم نہیں کرتے کیونکہ یہ خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔ میں نے اس موقع پر سہیل سے کہا بھی کہ وہ میرے لیے اپنی رفتار کم نہ کریں، تو انھوں نے کہا کہ کوئی بات نہیں، ہم ساتھ ہی اوپر جاتے ہیں۔‘

نائلہ بتاتی ہیں کہ ہم چوٹی سے تھوڑی ہی دوری پر تھے اور وہ خود کو خطرے میں ڈال کر اس وقت تک میرے ساتھ رہے جب تک ہم نے مہم سر نہیں کر لی اور میری طبیعت دوبارہ بحال نہیں ہو گئی۔

’اگر اس موقع پر سہیل سخی اس طرح میرا ساتھ نہ دیتے، میرا حوصلہ نہ بڑھاتے تو شاید میں ہمت ہار جاتی۔ سہیل جیسے کوہ پیما، دوست اور مخلص انسان بہت ہی کم ہوں گے۔‘