آبنائے ہرمز بحران سے قطر انرجی کے منصوبوں میں تاخیر کا خدشہ، عباس عراقچی کی نیویارک روانگی

قطر انرجی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سعد الکعبی نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جاری بحران کے باعث کمپنی کے بعض ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد میں تاخیر ہو سکتی ہے، کیونکہ منصوبوں کے لیے درکار ضروری سامان قطر تک نہیں پہنچ پا رہا۔ ایرانی وزیر خارجہ اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے امریکہ روانہ ہو چکے ہیں۔ اُدھر فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’وہ ایران کے حوالے سے مستقبل قریب میں پیش آنے والے انتہائی اہم معاملات پر فیصلہ کرنے کے مرحلے میں ہیں۔‘

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!

    بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔

    21 ستمبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

  2. خاران کے ڈپٹی کمشنر منیر سومرو تین ساتھیوں سمیت اغوا, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ

    Quetta

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    ،تصویر کا کیپشنڈپٹی کمشنر منیر سومرو

    بلوچستان کے ضلع خاران کے ڈپٹی کمشنر منیر سومرو کو نامعلوم مسلح افراد نے مبینہ طور پر اغوا کر لیا ہے۔ ایک سینیئر حکومتی عہدیدار نے اتوار کی شب ان کے اغوا کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ڈپٹی کمشنر کے ساتھ سفر کرنے والے تین دیگر افراد کو بھی اغوا کیا گیا ہے۔

    ابتدائی طور پر دو سینیئر سرکاری اہلکاروں نے ڈپٹی کمشنر کے اغوا کی تصدیق نہیں کی تھی، تاہم انھوں نے ان کے لاپتہ ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ منیر سومرو کوئٹہ سے خاران جا رہے تھے اور ضلع نوشکی سے گزرنے کے بعد جب خاران کی حدود میں داخل ہوئے تو ان سے رابطہ منقطع ہو گیا۔

    حکام کے مطابق رابطہ منقطع ہونے کے بعد ڈپٹی کمشنر اور ان کے ساتھیوں سے موبائل فون پر متعدد بار رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم ان کے فون مسلسل بند ملے۔

    بعد ازاں بلوچستان حکومت کے ایک سینیئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ڈپٹی کمشنر ایک نجی گاڑی میں تین دیگر افراد کے ہمراہ سفر کر رہے تھے، جن میں ان کا ایک ذاتی محافظ بھی شامل تھا۔ عہدیدار کے مطابق خاران کی حدود میں داخل ہونے کے بعد نامعلوم مسلح افراد نے انھیں اغوا کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔

    سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈپٹی کمشنر اور ان کے ساتھ اغوا ہونے والے دیگر افراد کی بحفاظت بازیابی کے لیے مختلف اداروں کی سطح پر کوششیں شروع کر دی گئی ہیں۔

    تاحال کسی تنظیم یا گروہ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

    بی بی سی نے اس معاملے پر بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو اور محکمہ داخلہ کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی سے موقف لینے کے لیے متعدد بار رابطے کی کوشش کی، تاہم ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔

    خاران، بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے تقریباً 300 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے اور اس کا شمار صوبے کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جو طویل عرصے سے شورش سے متاثر رہے ہیں۔ سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔

    بلوچستان میں گذشتہ دو برس کے دوران سرکاری اہلکاروں پر حملوں اور اغوا کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ رواں سال تربت یونیورسٹی کے وائس چانسلر، پرو وائس چانسلر اور ایک لیکچرر کے اغوا کے واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ 2025 میں سوراب کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہدایت اللہ بلیدی ایک حملے میں مارے گئے تھے۔ اسی سال کیچ کے اسسٹنٹ کمشنر تمپ اور زیارت کے اسسٹنٹ کمشنر کو بھی اغوا کیا گیا تھا، جبکہ نوشکی پولیس کے ایک ڈی ایس پی کو اغوا کے بعد قتل کر دیا گیا تھا۔

    اس سے قبل 2024 میں پنجگور کے ڈپٹی کمشنر ذاکر بلوچ بھی نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

  3. آبنائے ہرمز بحران سے قطر انرجی کے منصوبوں میں تاخیر کا خدشہ

    Qatar, Iran, USA

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    قطر انرجی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سعد الکعبی نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جاری بحران کے باعث کمپنی کے بعض ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد میں تاخیر ہو سکتی ہے، کیونکہ منصوبوں کے لیے درکار ضروری سامان قطر تک نہیں پہنچ پا رہا۔

    نیویارک میں منعقدہ قطر اکنامک فورم سے خطاب کرتے ہوئے سعد الکعبی نے کہا کہ قطر انرجی اس وقت مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی پیداوار میں صرف ’بہت معمولی‘ کمی کا سامنا کر رہی ہے، تاہم اگر آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دیا جائے تو چند ہفتوں کے اندر معمول کی سرگرمیاں بحال کی جا سکتی ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ نارتھ ایسٹ فیلڈ ڈویلپمنٹ منصوبے کے بعض یونٹس 2027 میں پیداوار شروع کرنے والے ہیں، جبکہ نارتھ ساؤتھ فیلڈ منصوبے سے ایل این جی کی پیداوار 2028 میں شروع ہونے کی توقع ہے۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال کے باعث ان منصوبوں کی تکمیل کے شیڈول پر اثر پڑ سکتا ہے۔

    Qatar

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دوسری جانب ایران نے اتوار کو ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز اس وقت تک نہیں کھولے گا جب تک امریکہ کے ساتھ جون میں طے پانے والے عارضی جنگ بندی معاہدے کی شرائط پر اس کے بقول مکمل عمل درآمد نہیں ہو جاتا۔

    آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس راستے میں رکاوٹ نہ صرف توانائی کی عالمی منڈیوں بلکہ خلیجی ممالک کے بڑے توانائی منصوبوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔

  4. ہمارا گھر محاصرے میں ہے، ہماری گلی کو دونوں اطراف سے بند کر دیا گیا ہے: علیمہ خان کے بیٹے کا ٹویٹ

    @KhanShershah

    ،تصویر کا ذریعہ@KhanShershah

    ،تصویر کا کیپشنسماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں شیر شاہ خان نے کہا کہ ’ہمارا گھر محاصرے میں ہے‘

    سابق وزیر اعظم عمران خان کے بھانجے اور علیمہ خان کے بیٹے شیر شاہ خان نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے گھر کے اطراف سکیورٹی ناکہ بندی کر دی گئی ہے، جس کے باعث خاندان کو آمد و رفت میں مشکلات کا سامنا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں شیر شاہ خان نے کہا کہ ’ہمارا گھر محاصرے میں ہے۔ ہماری گلی کے دونوں سروں کو بند کر دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں ہمارا پورا خاندان عملاً گھر میں نظر بند ہو گیا ہے۔‘

    انھوں نے اپنی پوسٹ میں اپنے ماموں یعنی سابق وزیراعظم عمران خان اور قاسم خان کو بھی ٹیگ کیا۔ شیر شاہ خان کے اس دعوے پر حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

    اس سے قبل پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور کے ڈپٹی کمشنر نے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان کو پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس 1960 کی دفعہ تین (تھری ایم پی او) کے تحت گرفتار کر کے 30 روز کے لیے نظر بند کرنے کا حکم دیا تھا۔

    حکم نامے میں کہا گیا کہ گرفتاری کی تاریخ سے لے کر 30 روز کے لیے علیمہ خان کو کوٹ لکھپت جیل لاہور کے سپرنٹنڈنٹ کی تحویل میں رکھا جائے گا۔

    ادھر علیمہ خان کے رشتہ دار قاسم زمان خان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ لاہور میں علیمہ خان کو لاہور جم خانہ کے باہر سے حراست میں لیا گیا ہے اور انھیں کوٹ لکھپت جیل منتقل کیا گیا ہے۔

    پاکستان تحریکِ انصاف نے علیمہ خان کی نظر بندی کو ’غیر قانونی‘ قرار دیتے ہوئے اُن کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

    ڈیٹینشن آرڈر کے مطابق لاہور کے کیپیٹل سٹی پولیس افسر نے ڈپٹی کمشنر کو ایک رپورٹ بھیجی تھی جس میں ایس پی سول لائنز ڈویژن اور انچارج ڈسٹرکٹ انٹیلیجنس برانچ کی رپورٹس کا حوالہ دیا گیا ہے۔

    پولیس کی رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ علیمہ خان نو مئی کے احتجاج اور سڑکوں کی بندش کے واقعات میں ملوث تھیں اور انھوں نے کارکنوں کو سرکاری اور عوامی املاک کو نقصان پہنچانے پر اکسایا تھا۔

  5. ہنگو میں جھڑپ میں دو فوجی افسران سمیت چھ اہلکار ہلاک، آٹھ شدت پسند مارے گئے

    Pakistani Army

    ،تصویر کا ذریعہISPR

    ،تصویر کا کیپشنفوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں اور اہلکاروں کی قربانیاں اس عزم کو مزید مضبوط بناتی ہیں

    پاکستان فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ یعنی آئی ایس پی آر کے مطابق خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں آٹھ شدت پسند ہلاک ہو گئے، جبکہ دو فوجی افسران سمیت چھ اہلکار مارے گئے ہیں۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے تھا۔

    فوج کے مطابق جھڑپ کے دوران 23 سالہ کیپٹن ابوذر فاروق اور 22 سالہ لیفٹیننٹ شیراز بابر اپنے دستوں کی اگلی صفوں سے قیادت کر رہے تھے اور اسی دوران مارے گئے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق کیپٹن ابوذر فاروق کا تعلق گوجرانوالہ جبکہ لیفٹیننٹ شیراز بابر کا تعلق چکوال سے تھا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ علاقے میں موجود دیگر شدت پسندوں کی تلاش اور ان کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

    فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں اور اہلکاروں کی قربانیاں اس عزم کو مزید مضبوط بناتی ہیں۔

  6. بے امنی، معاشی مشکلات اور ایرانی سرحد سے تجارت کی مبینہ بندش کے خلاف تربت میں احتجاجی مظاہرہ, محمد کاظم، بی بی سی اُردو کوئٹہ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہAsad Baloch

    بلوچستان کے شہر تربت میں آل پارٹیز کیچ کے زیرِ اہتمام اتوار کو ریلی اور احتجاجی مظاہرے کا انعقاد کیا گیا۔

    ریلی اور مظاہرہ ضلع کیچ میں بے امنی، ایرانی سرحد سے تجارت کی مبینہ بندش اور لوگوں کی معاشی مشکلات کے خلاف منعقد کیا گیا۔

    ریلی کے شرکاء نے شہر کے مختلف شاہراہوں کا گشت کیا اور بعد میں احتجاجی مظاہرے کا انعقاد کیا گیا۔

    نیشنل پارٹی کے ترجمان علی احمد بلوچ کا کہنا ہے کہ ریلی میں سیاسی جماعتوں کے کارکنوں اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    مظاہرے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ ضلع بے امنی کا شکار ہے اور قتل اور دیگر سنگین بے امنی کے واقعات ایک معمول بن گئے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ جہاں لوگ بے امنی کے واقعات کے باعث پریشانی سے دوچار ہیں وہاں ایران سرحد سے تجارت کی مبینہ بندش نے لوگوں کی مالی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔

    آل پارٹیز کیچ کے رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ بے امنی کے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے جائیں اور ایران سے سرحدی تجارت کو معمول کے مطابق بحال کیا جائے۔

    انھوں نے کہا کہ اگر آل پارٹیز کیچ کے مظالبات کو تسلیم نہ کیا گیا تو احتجاج کے دائرے کو وسیع کیا جائے گا۔

    دوسری جانب پارلیمانی سیکریٹری برائے سپورٹس و امور نوجوانان حکومت بلوچستان مینا مجید بلوچ کا کہنا ہے کہ بارڈر کے نام پر نیشنل پارٹی کے احتجاج کو عوام نے مسترد کر دیا ہے۔

    ایک بیان میں اُنھوں نے کہا کہ بارڈر ٹریڈ کے معاملے پر حکومت بخوبی آگاہ ہے۔ آئی جی ایف سی کی جانب سے پہلے ہی واضح کیا جا چکا ہے کہ جالگی بارڈر کھولنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ تاہم ایرانی حکام کے بعض تحفظات موجود ہیں جنھیں دونوں جانب کے حکام باہمی رابطے اور مذاکرات کے ذریعے جلد حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

  7. ایران کے معاملے پر بڑا فیصلہ لینے کے مرحلے پر ہوں: صدر ٹرمپ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’میں ایران سے متعلق بڑے معاملات پر فیصلہ سازی کے مرحلے میں ہوں۔‘

    فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’وہ ایران کے حوالے سے مستقبل قریب میں پیش آنے والے انتہائی اہم معاملات پر فیصلہ کرنے کے مرحلے میں ہیں۔‘

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’میرا سوال یہ ہے کہ میں پورے ملک کو کب اور کیسے تباہ کروں؟ بہتر ہے کہ وہ درست اقدام کریں۔‘

    خیال رہے کہ صدر ٹرمپ کے بیان سے قبل ایران کی مسلح افواج کے مشترکہ ہیڈ کوارٹر خاتم الانبیاء ہیڈ کوارٹر نے خبردار کیا تھا کہ ’اگر امریکہ اور خطے کے ممالک نے کوئی غلطی کی تو اس کا جواب بغیر کسی مصلحت یا پابندی کے دیا جائے گا۔‘

  8. خاتم الانبیاء ہیڈ کوارٹر کا اشارہ امریکہ، اسرائیل اور عرب ممالک کے ایک خفیہ اجلاس کی طرف تھا: ایرانی خبر رساں ادارے کا دعویٰ

    ایران کے اعلیٰ ترین عسکری ادارے خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈ کوارٹر نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ خطے کے کچھ ممالک کی حمایت سے ایران پر دوبارہ حملہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

    اب ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے منسلک خبر رساں ایجنسی ’تسنیم‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ اشارہ چند روز قبل جرمنی میں امریکہ، اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان ایک خفیہ اجلاس کی طرف تھا۔

    تسنیم نے دعویٰ کیا کہ اس اجلاس میں امریکہ، اسرائیل اور کئی عرب ممالک کے فوجی کمانڈرز شریک تھے۔

    یہ خبر پہلی مرتبہ 15 ستمبر کو امریکی ویب سائٹ ایگزیوس نے دی تھی، جس میں کہا گیا تھا یہ اجلاس ایک ہفتہ قبل ہوا۔

    ایگزیوس نے دو اسرائیل عہدے داروں کے حوالے سے بتایا تھا کہ امریکہ، اسرائیل اور کئی عرب ممالک کے اعلیٰ فوجی کمانڈروں نے جرمنی میں ملاقات کی، جہاں ایران کے ساتھ جنگ اور مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    رپورٹ کے مطابق، امریکہ کے علاوہ اسرائیل، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت، قطر، اردن اور مصر کے اعلیٰ فوجی کمانڈر بھی اجلاس میں موجود تھے، جن میں سینٹکام کے کمانڈر بریڈ کوپر اور اسرائیلی مسلح افواج کے چیف آف سٹاف شامل تھے۔

    عرب ممالک نے اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا، تاہم سینٹکام نے ایک بیان میں اجلاس کی تصدیق کی۔

    ایگزیوس کے مطابق یہ اجلاس سینٹکام کے کمانڈر بریڈ کوپر کے کہنے پر ہوا جس میں اُنھوں نے یقین دہانی کرائی کہ امریکہ خطے سے اپنی افواج واپس نہیں بلائے گا۔

  9. امریکہ خطے کے کچھ ممالک کی حمایت سے ایران پر دوبارہ حملے کی تیاری کر رہا ہے: خاتم الانبیاء ہیڈ کوارٹر کا دعویٰ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے اعلیٰ ترین عسکری ادارے خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈ کوارٹر نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ خطے کے کچھ ممالک کی حمایت سے ایران پر دوبارہ حملہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

    ایک بیان میں خاتم الانبیاء ہیڈ کوارٹر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اسے ایسی معلومات ملی ہیں کہ امریکہ، خطے کے کچھ ممالک کی حمایت سے، ایران پر دوبارہ حملہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’موصولہ معلومات کی بنیاد پر، امریکہ نے خطے کے کچھ ممالک کی رضامندی (گرین سگنل) کے ساتھ، ایک یورپی ملک میں ہونے والے مشترکہ اجلاس میں ایران کے خلاف دوبارہ کارروائیاں شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘

    خاتم الانبیاء ہیڈ کوارٹر نے اجلاس میں شریک فریقین یا میزبان یورپی ملک کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

    ایران کے اس اعلیٰ ترین عسکری ادارے نے خطے کے ممالک کو خبردار کیا کہ اگر وہ امریکی حملے میں ’شامل‘ ہوتے ہیں یا اس کا ساتھ دیتے ہیں، تو ’انھیں اس مذموم عمل میں شریک سمجھا جائے گا اور وہ ایران کی طاقتور مسلح افواج کی جانب سے تحمل یا نرم رویے کی توقع نہیں رکھ سکیں گے۔‘

    خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈ کوارٹر نے امریکہ کو بھی خبردار کیا کہ حملے کی صورت میں، ’خطے میں اس ملک کے تمام فوجی مراکز اور مفادات کو بغیر کسی پابندی یا لحاظ کے مسلسل، مؤثر اور شدید (تکلیف دہ) حملوں کا نشانہ بنایا جائے گا۔‘

  10. ایرانی وزارتِ انٹیلی جنس کی تین صوبوں میں ’پیشگی‘ کارروائیاں، متعدد افراد گرفتار

    ایران کی وزارتِ انٹیلی جنس نے بتایا ہے کہ اس نے ایک ’پیشگی‘ کارروائی کے دوران تین صوبوں میں کئی افراد کو گرفتار کیا ہے۔ گرفتار ہونے والوں کو اپوزیشن گروپوں سے منسلک ’کلیدی ارکان‘ قرار دیا گیا ہے۔

    وزارتِ انٹیلی جنس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ افراد ’قتل کی کارروائیاں کرنے اور معاشی بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے‘ کا ارادہ رکھتے تھے۔

    وزارتِ انٹیلی جنس کا کہنا ہے کہ پیران شہر میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں اپوزیشن گروپوں کے ساتھ تعاون کرنے کے الزام میں ایک شخص ہلاک ہو گیا۔

    ادارے نے مزید بتایا کہ اس نے کرمان اور البرز کے صوبوں میں بھی کئی افراد کو گرفتار کیا ہے۔

    اس حوالے سے مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔

    بیان کے مطابق، یہ کارروائی ’عوامی اطلاعات‘ کی بنیاد پر کی گئی تھی۔

    وزارتِ انٹیلی جنس نے کہا کہ یہ کارروائی ’عوامی اطلاعات‘ پر مبنی تھی اور شہریوں پر زور دیا کہ وہ ’مشکوک معاملات‘ کی اطلاع دیں۔

  11. امریکہ کو مذکرات کی بحالی کے لیے سات شرائط بھیج دی ہیں: میجر جنرل محسن رضائی

    میجر جنرل محسن رضائی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضائی نے کہا ہے کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کے آغاز کے لیے سات شرائط مقرر کی ہیں۔

    محسن رضائی نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری ایک بیان میں لکھا کہ ایران نے کسی بھی ممکنہ مذاکرات کے آغاز کے لیے اپنی سات شرائط امریکی انتظامیہ تک پہنچا دی ہیں۔

    ’ہمارا پیغام واضح اور غیر مبہم ہے: اگر واشنگٹن اپنے ہی پیدا کردہ بحران سے نکلنا چاہتا ہے اور اس میں مزید الجھنے سے بچنا چاہتا ہے تو اس کے پاس ایران کے حقوق اور شرائط کو تسلیم کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔‘

    رضائی کے بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مستقبل میں کسی بھی سفارتی پیش رفت کا انحصار ایران کی جانب سے پیش کی گئی شرائط اور حقوق کو تسلیم کرنے پر ہوگا۔

    تاہم اس بیان میں مذکور ساتوں شرائط کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ تاہم سنیچر کو الجزیرہ ٹی وی پر نشر ہونے والے انٹرویو میں رضائی نے بتایا تھا کہ تہران کسی سمجھوتے کے لیے ’تمام محاذوں‘ پر جنگ کے خاتمے، منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی اور امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے کا مطالبہ کر رہا ہے۔

  12. یوکرین کا ماسکو پر ڈرونز کا حملہ، کم از کم دو افراد ہلاک اور چھ زخمی

    یوکرین کا روس پر حملہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    روس کے دارالحکومت ماسکو پر رات گئے یوکرینی ڈرونز کے ایک بڑے حملے میں کم از کم دو افراد ہلاک اور چھ زخمی ہو گئے ہیں۔

    ماسکو کے میئر سرگئی سوبیانن نے اس حملے کو غیر معمولی حملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دارالحکومت کی جانب آنے والے 450 ڈرونز کو مار گرایا گیا تاہم اس دوران ایک آئل ریفائنری کو نقصان پہنچا جبکہ کئی گھروں میں آگ لگ گئی۔

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے تصدیق کی کہ کیئو نے روس کے ایک اہم تیل کے مرکز اور علاقے میں ایک لاجسٹکس سائٹ کو نشانہ بنایا ہے، جو ان کے بقول جنگی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لیے درکار اربوں ڈالر کے وسائل فراہم کرتے ہیں۔

    دوسری جانب یوکرینی حکام نے کہا ہے کہ ہفتے کے روز کیئو اور سومی کے علاقوں میں روسی حملوں میں تین بچوں سمیت آٹھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    واضح رہے کہ روس اور یوکرین نے حالیہ دنوں میں اپنے حملے تیز کر دیے ہیں، جن میں توانائی پیدا کرنے والی اور ٹرانسپورٹ کی تنصیبات کے علاوہ بڑے لاجسٹکس مراکز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

    سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں جن میں بظاہر ماسکو کے اوپر رات کے آسمان میں دھماکے اور ایک گودام میں آگ دکھائی دے رہی ہے۔ بی بی سی ان ویڈیوز کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

  13. متحدہ عرب امارات میں امریکی مشن کو مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ

    متحدہ عرب امارات میں امریکی مشن نے انتباہ جاری کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث سکیورٹی صورتحال پیچیدہ ہے اور حالات میں غیر متوقع طور پر شدت آنے کا امکان موجود ہے۔

    امریکی مشن کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی شہریوں کو چاہیے کہ وہ انتہائی چوکنا رہیں اور پروازوں کی ممکنہ منسوخی، فضائی حدود کی بندش اور سفری رکاوٹوں کے امکانات سے آگاہ رہیں۔

    امریکی مشن کے مطابق ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا نے سعودی عرب کے خلاف (بشمول شہری ہوائی اڈوں کے) جارحانہ کارروائیاں کی ہیں۔

    اس عسکری تنازع کے شدت اختیار کرنے کا قوی امکان ہے۔ مشرقِ وسطیٰ سے باہر موجود امریکی شہریوں کو اس خطے کا سفر کرنے یا یہاں سے گزرنے کے فیصلے پر سنجیدگی سے نظرِ ثانی کرنی چاہیے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ جو لوگ اس خطے کا سفر کرتے ہیں یا یہاں سے آتے جاتے ہیں، انھیں ہوائی اڈوں اور ایئر لائنز کے آپریشنز سے متعلق معلومات پر نظر رکھنی چاہیے۔

    امریکی مشن کی جانب سے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں ایران اور اس کے حامی گروہ بیرون ملک امریکی مفادات کا نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

  14. ایرانی پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف کی قطر اور پاکستان کے ذریعے امریکہ کو پیغامات پہنچانے کی تصدیق

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف نے تصدیق کی ہے ایران نے ثالثوں کے ذریعے امریکہ کو پیغامات اور شرائط سے آگاہ کیا ہے۔

    اتوار کو پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ جنگ کی باتیں تو کی جاتی ہیں، لیکن اس کے حتمی اور مؤثر خاتمے کے لیے کوئی لائحہ عمل یا طریقہ کار موجود نہیں ہوتا۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ہمیں بیک وقت لڑنا بھی چاہیے اور مذاکرات بھی کرنے چاہییں۔

    باقر قالیباف نے کہا کہ ایران نے ثالثوں کے ذریعے پیغامات کی ترسیل اور دوسرے فریق کے سامنے اپنی شرائط کی وضاحت کر دی ہے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ جب تک ایران کی پیشگی شرائط پوری نہیں ہو جاتیں، اس وقت تک مذاکرات کی سابقہ صورتحال کی بحالی اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کی کوئی گنجائش نہیں ہو گی۔

    خیال رہے کہ گذشتہ روز ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے اعلان کیا تھا کہ تہران نے قطر اور پاکستان کے ثالثوں کے ذریعے مذاکرات کے لیے اپنی شرائط امریکہ تک پہنچا دی ہیں اور اب وہ ’صدر ٹرمپ کے ردعمل کے منتظر ہیں۔‘

  15. بریکنگ, لاہور پولیس نے علیمہ خان کو حراست میں لے لیا

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور میں ڈپٹی کمشنر نے تصدیق کی ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان کو تھری ایم پی او کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔

    ادھر علیمہ خان کے رشتہ دار قاسم زمان خان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ لاہور میں علیمہ خان کو لاہور جم خانہ کے باہر سے حراست میں لیا گیا ہے اور انھیں کوٹ لکھپت جیل منتقل کیا گیا ہے۔

    انھوں نے مزید بتایا کہ اطلاعات ہیں کہ ڈی سی نے نقصِ امن کے خدشات پر پولیس کو علیمہ خان کے ڈیٹنشن آرڈر جاری کیے جس پر پولیس نے یہ کارروائی کی ہے۔ تاحال لاہور پولیس نے اس معاملے پر تبصرہ نہیں کیا ہے۔

    خیال رہے کہ 27 ستمبر کو پی ٹی آئی کی جانب سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کیا گیا تھا جس کے بعد 13 ستمبر کو صوبہ پنجاب میں دفعہ 144 نافذ کی گئی تھی۔

  16. پاکستان میں حکومت کی بجلی خریداری کے نظام سے نکلنے کے لیے پہلی بجلی ویلنگ نیلامی کا آغاز, تنویر ملک ، صحافی

    بجلی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے بجلی کے شعبے کو مرکزی خریداری کے نظام سے مسابقتی مارکیٹ کی طرف لے جانے کے لیے اہم پیش رفت ہوئی ہے اور پاور ڈویژن نے ملک میں پہلی بار بجلی کی ویلنگ کی نیلامی کے لیے درخواست برائے تجاویز (آر ایف پی) جاری کر دی ہے۔ اس نظام کے تحت آئندہ پانچ برسوں میں مجموعی طور پر 800 میگاواٹ بجلی نیلام کرنے کا منصوبہ ہے، جبکہ پہلے مرحلے میں 400 میگاواٹ بجلی مسابقتی بنیادوں پر فراہم کی جائے گی۔

    کمپیٹیٹو ٹریڈنگ بائی لیٹرل کنٹریکٹ مارکیٹ (سی ٹی بی سی ایم) کے تحت کاروباری اور صنعتی صارفین بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں سے براہِ راست مسابقتی بنیادوں پر بجلی خرید سکیں گے۔

    پاور ڈویژن کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے نیلامی کے عمل کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے اسے ملک کے بجلی کے شعبے میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس وقت حکومت مرکزی نظام کے تحت بجلی خرید کر صارفین کو فراہم کرتی ہے، تاہم بجلی کی خریداری کی شرائط اور طریقۂ کار پر اکثر سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔

    سردار اویس لغاری نے کہا کہ ’آج سے حکومت عملی طور پر بجلی کی خریداری کے عمل سے باہر نکل رہی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ نئے نظام کے تحت حکومت نہ تو بجلی فروخت کرنے کی مجاز ہوگی اور نہ ہی روایتی طریقے سے بجلی پیدا کرنے والوں سے بجلی خریدے گی۔

    ان کے مطابق بجلی پیدا کرنے والے اور اسے استعمال کرنے والے براہِ راست بجلی خرید اور فروخت کر سکیں گے اور یہ نظام شفافیت اور مسابقت کی بنیاد پر کام کرے گا۔

    وفاقی وزیر نے بتایا کہ ابتدائی طور پر یہ نظام صنعتی اور بڑے صارفین، خصوصاً ایک میگاواٹ سے زیادہ بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے لیے نافذ کیا جائے گا۔

    ان کے مطابق آنے والے برسوں میں مسابقتی بجلی کی مارکیٹ کو مزید وسعت دی جائے گی اور صارفین کو بجلی خریدنے کے لیے زیادہ انتخاب حاصل ہوگا۔

    انھوں نے کہا کہ مستقبل میں عام صارف بھی اپنی پسند کے مطابق بجلی خریدنے کے قابل ہو سکے گا۔

    سردار اویس لغاری نے امید ظاہر کی کہ مسابقتی نرخوں پر بجلی کی دستیابی سے پاکستانی صنعت کو عالمی منڈی میں مسابقت برقرار رکھنے اور اپنی برآمدات بڑھانے میں مدد ملے گی۔

    انھوں نے بجلی کی خریداری کے ماضی کے نظام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’آئی پی پیز‘ یعنی آزاد بجلی پیدا کرنے والے اداروں کی اصطلاح عوامی بحث میں متنازع رہی ہے، تاہم نیا مسابقتی نظام بجلی کی خریداری اور تجارت میں زیادہ شفافیت لائے گا۔

  17. ٹرمپ کی کیمپ ڈیوڈ سے وقت سے پہلے وائٹ ہاؤس واپسی

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کی رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارتی قیام گاہ کیمپ ڈیوڈ میں اپنا ویک اینڈ مکمل کیے بغیر وقت سے پہلے وائٹ ہاؤس واپسی اختیار کر لی ہے۔

    تاہم وائٹ ہاؤس نے ان کی تعطیلات مختصر کرنے کی کوئی وجہ نہیں بتائی۔

    ایگزیوس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی کیمپ ڈیوڈ سے وائٹ ہاؤس واپسی اتوار کی شب مقرر تھی۔

    خبر رساں اداروں کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی ویک اینڈ سے وقت سے پہلے واپسی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ان کی انتظامیہ ایران کے ساتھ جاری تنازع میں آئندہ کے اقدامات پر غور کر رہی ہے۔ یہ واپسی ان کے اگلے ہفتے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک کے دورے سے بھی قبل ہوئی ہے۔

    ایران نے سنیچر کو اعلان کیا تھا کہ اس نے قطر اور پاکستان کے ذریعے امریکہ کو مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے اپنی شرائط سے آگاہ کر دیا ہے اور وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے جواب کا انتظار کر رہا ہے۔

  18. منی پور میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے چھ مشتبہ شدت پسندوں کی حراست کے بعد پر تشدد احتجاج

    انڈیا کے علاقے منی پور میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے مبینہ طور پر چھ کوکی افراد کو حراست میں لیے جانے کے بعد مقامی افراد نے پرتشدد احتجاج کیا۔

    اس احتجاج میں زیادہ تر دیہی محافظ (ولیج گارڈز) اور خواتین شامل تھیں۔

    فروری سے کوکی اور ناگا قبائل کے درمیان پرتشدد جھڑپیں جاری ہیں۔ اب تک ہونے والے تشدد میں دونوں برادریوں کے 40 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اسی وجہ سے بالخصوص ناگا اور کوکی آبادیوں کی سرحدی دیہات میں سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔

    منی پور میں تعینات ایک سکیورٹی افسر کے مطابق، سی آر پی ایف کی کوبرا یونٹ کے اہلکاروں نے کانگپوکپی ضلع کے ناگا گاؤں چاوانگ کیننگ کے قریب ایک آپریشن کیا، جس کے دوران شدت پسند ہونے کے شبہے میں چھ افراد کو حراست میں لیا گیا۔

    انھوں نے بتایا، ’مظاہرین نے پتھراؤ کیا اور راستے بند کرنے کی کوشش کی۔ رات تقریباً 9 بجے موٹبونگ میں اضافی سکیورٹی فورسز اور مسافروں کی آمدورفت روک دی گئی تھی۔ تاہم، اس وقت صورتحال قابو میں ہے۔‘

    جس کھولین گاؤں سے ان چھ کوکی افراد کو گرفتار کیا گیا، وہاں حال ہی میں مشتبہ کوکی شدت پسندوں نے کم از کم دو گھروں پر حملہ کرکے انھیں نذرِ آتش کر دیا تھا۔

    چھ افراد کی حراست کی خبر سامنے آنے کے بعد موٹبونگ اور قریبی علاقوں میں بعض کوکی افراد نے ہفتے کی شام سے رات گئے تک احتجاج جاری رکھا۔ اس دوران مظاہرین نے سڑکوں پر ٹائر جلائے، سکیورٹی فورسز کی گاڑیوں پر پتھراؤ کیا اور مختلف مقامات پر آگ لگا دی۔

    مظاہرین نے سکیورٹی فورسز کی گاڑیوں کی نقل و حرکت روکنے کے لیے امپھال اور ڈمّا پور کو ملانے والی قومی شاہراہ نمبر 2 کے بعض حصوں کو کھود دیا۔ اس کے علاوہ شاہراہ بند کرنے کے لیے مختلف مقامات پر بانس کی رکاوٹیں بھی کھڑی کر دی گئیں۔ دوسری جانب سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے متعدد آنسو گیس کے گولے داغے۔

    سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں مشتعل ہجوم کو سکیورٹی فورسز کے کیسپیر ٹرک کو روکنے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ٹرک جزوی طور پر جلا ہوا دکھائی دیتا ہے اور ہجوم سے بچ کر نکلنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    مظاہرین نے مقامی میڈیا سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ سکیورٹی فورسز نے بغیر کسی وجہ کے ان چھ افراد کو حراست میں لیا ہے۔

  19. روس کا ماسکو پر یوکرینی ڈرون حملے میں دو افراد کی ہلاکت کا دعویٰ

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنماسکو پر یوکرینی ڈرون حملے کے بعد کے مناظر

    روسی سرکاری میڈیا کے مطابق ماسکو پر یوکرینی ڈرون حملوں میں دو افراد ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ روسی دارالحکومت میں واقع ایک آئل ریفائنری کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

    یہ حملے روس کے پارلیمانی انتخابات سے ایک روز قبل ہوئے ہیں۔

    ماسکو کے میئر کے مطابق حملوں میں ماسکو آئل ریفائنری کے بعض حصوں کو نقصان پہنچا اور 30 سے زائد پروازیں متاثر ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان حملوں کا مقصد انتخابات پر اثرانداز ہونا تھا۔

    یہ حملے ایسے وقت میں بھی جاری ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ روس اور یوکرین نے ایک دوسرے کی تیل تنصیبات کو نشانہ نہ بنانے پر اتفاق کیا ہے۔

    یہ معاہدہ عالمی سطح پر ایندھن اور توانائی کے بحران کے تناظر میں کیا گیا تھا۔

  20. ازبکستان اور امریکہ کے درمیان جوہری تحفظ پر تعاون کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    ازبکستان اور امریکہ نے دونوں ممالک کے جوہری اداروں کے درمیان تعاون کو وسعت دینے کے لیے مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔

    ازبک خبر رساں ویب سائٹ ’پودروبنو‘ کے مطابق اس تعاون میں جوہری تحفظ کے معیارات، معائنوں اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تیاری شامل ہوگی۔

    رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک نے جوہری توانائی کے پُرامن استعمال میں جوہری تحفظ کے شعبے میں تعاون مزید مضبوط کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

    یہ مفاہمت کی یادداشت ویانا میں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی جنرل کانفرنس کے 70ویں اجلاس کے موقع پر دستخط کی گئی۔

    روسی سرکاری جوہری توانائی کارپوریشن روس ایٹم وسطی ازبکستان کے قریب ایک علاقے میں ملک کا پہلا جوہری بجلی گھر تعمیر کر رہی ہے۔