لائیو, حوثیوں کے حملوں میں ریاض کو فوجی مدد کی ضرورت پڑ سکتی ہے: ترک وزیرِ خارجہ

ترکی کے وزیرِ خارجہ حاقان فیدان نے کہا کہ ’سعودی عرب کو امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ میں گھسیٹا جانا ناقابلِ قبول ہے، کیونکہ سعودی عرب اس تنازع میں شامل نہیں ہونا چاہتا۔‘ ساتھ ہی اُن کا کہنا ہے کہ ’ترکی دیگر ممالک کے ساتھ مل کر امریکہ اور ایران کو جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے تک پہنچانے کی غرض سے نئی تجاویز پر کام کر رہا ہے۔‘

لائیو کوریج

  1. مغربی ایشیا میں امریکی سفارتخانوں کی اپنے شہریوں کے لیے سکیورٹی وارننگ جاری

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنبغداد میں امریکی سفارتخانہ

    مغربی ایشیا کے متعدد ممالک میں امریکی سفارتخانوں نے فوری سکیورٹی وارننگ جاری کرتے ہوئے اپنے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ سکیورٹی ہدایات پر عمل کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’خطے میں پروازیں منسوخ ہونے کا امکان ہے۔‘

    خطے کے کئی ممالک میں امریکی سفارتخانوں نے چند گھنٹے قبل یہ فوری سکیورٹی وارننگز جاری کیں اور اپنے شہریوں کو مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث چوکس رہنے اور زیادہ احتیاط برتنے کی ہدایت کی۔

    بغداد میں امریکی سفارتخانے نے خاص طور پر حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ جھڑپوں کا حوالہ دیا، جن میں ’ہوائی اڈوں پر حملے‘ بھی شامل ہیں اور خبردار کیا کہ یہ تنازع تیزی سے بڑھ سکتا ہے۔

    امریکی محکمہ خارجہ نے بھی ایک الگ وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’یمن میں سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان تنازع میں کشیدگی بڑھنے کا امکان موجود ہے۔‘

  2. ترکی کا جنگ ختم کرانے کے لیے نئی سفارتی کوششوں کا اعلان: ’حوثیوں کے جاری حملوں میں ریاض کو فوجی مدد کی ضرورت پڑ سکتی ہے،‘ ترک وزیرِ خارجہ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنترکی کے وزیرِ خارجہ حاقان فیدان

    ترکی کے وزیرِ خارجہ حاقان فیدان نے سنیچر کی شب کہا ہے کہ یمن کے حوثیوں کے جاری حملوں کے باعث سعودی عرب کو فوجی مدد کی ضرورت پڑ سکتی ہے اور ترکی مکہ دفاعی معاہدے کے تحت ان معاملات کا جائزہ لے گا۔

    یہ ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان سہ فریقی دفاعی معاہدہ ہے، جس پر رواں سال اگست میں دستخط کیے گئے تھے۔ معاہدے کے مطابق تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملے کو تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

    این ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے حاقان فیدان نے کہا کہ ’سعودی عرب کو امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ میں گھسیٹا جانا ناقابلِ قبول ہے، کیونکہ سعودی عرب اس تنازع میں شامل نہیں ہونا چاہتا۔‘

    ساتھ ہی ترک وزیرِ خارجہ حاقان فیدان نے کہا ہے کہ ’ترکی دیگر ممالک کے ساتھ مل کر امریکہ اور ایران کو جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے تک پہنچانے کی غرض سے نئی تجاویز پر کام کر رہا ہے۔‘

    ترکی کے ٹی وی چینل این ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے حاقان فیدان نے کہا کہ ’ترکی اور دیگر ممالک تجاویز پیش کر رہے ہیں اور امریکہ ایران کے درمیان مذاکرات کو نتیجے تک پہنچانے کے لیے اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں۔‘

    حاقان فیدان نے ان تجاویز کی تفصیلات نہیں بتائیں، تاہم انھوں نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان بداعتمادی کا ذکر کیا۔

    انھوں نے کہا کہ ’فریقین کے درمیان گہری بداعتمادی ہے۔ اب دونوں جانب سے کھلے طور پر کوشش کی جا رہی ہے کہ اس عمل کو اس انداز میں آگے بڑھایا جائے جو ان کے مفادات کو پورا کرے۔‘

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کا ’مکہ دفاعی معاہدہ‘ کیا ہے؟

    پاکستان نے تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکی نے ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے تحت ان تینوں ممالک میں سے ’کسی ایک ملک پر مسلح حملہ، سب پر حملہ تصور کیا جائے گا۔‘

    ،ویڈیو کیپشنسعودی عرب، پاکستان اور ترکی نے ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ پر دستخط کر دیے ہیں
  3. وائٹ ہاؤس کے ایران پر الزامات دراصل امریکہ کے اپنے اقدامات کی عکاسی ہیں: اسماعیل بقائی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا کہ وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایران پر ’الزامات کی ایک طویل فہرست‘ عائد کی ہے۔

    انھوں نے لکھا کہ ’حیرت انگیز حد تک درستگی کے ساتھ، ان میں سے زیادہ تر الزامات ان اقدامات کی عکاسی کرتے ہیں جو امریکہ نے خود شروع کیے یا پھر خود ان کی حمایت کی۔‘

    بقائی نے مزید کہا کہ ’حقیقت سے فرار اور دوسروں پر اپنے اقدامات کا الزام عائد کرنا حیران کن نہیں ہونا چاہیے۔‘

    انھوں نے امریکہ اور امریکی انتظامیہ پر شدید الفاظ میں تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ’بدکردار بھاگتا ہے، چاہے اس کا کوئی تعاقب نہ کر رہا ہو۔‘

    بقائی کا یہ بیان بظاہر وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی کے ان ریمارکس کے ردِعمل میں آیا، جن میں انھوں نے اقوامِ متحدہ کے حقائق جانچنے والے مشن کی نئی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے ایران پر جنگی جرائم کے ارتکاب، مظاہرین کی ہلاکتوں، آبنائے ہرمز میں حملوں اور خطے کے ممالک پر بلاامتیاز حملوں کے الزامات عائد کیے تھے۔

  4. حوثیوں کا ریاض میں ’حساس‘ تنصیبات اور ینبع میں آرامکو کی تنصیب کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشناس تصویر میں سعودی دارالحکومت ریاض کے قریب ایندھن کے ٹینکوں سے سیاہ دھوئیں کے بادل اٹھتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں

    یمن کے حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے سعودی دارالحکومت ریاض میں بعض ’حساس‘ تنصیبات کے ساتھ ساتھ بحیرۂ احمر کے ساحل پر واقع ینبع میں آرامکو کی ایک تنصیب کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

    حوثیوں کے ترجمان امین حیان نے ایک بیان میں کہا کہ ان تازہ حملوں میں ان تنصیبات کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔

    سعودی عرب نے تاحال اس بیان پر کوئی ردِعمل نہیں دیا اور نہ ہی ان حملوں کی تصدیق یا تردید کی ہے۔

    اس سے قبل سعودی حکام نے کہا تھا کہ اسی روز ریاض کی جانب داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل روک کر تباہ کر دیا گیا، تاہم انھوں نے دیگر حملوں کی تصدیق نہیں کی۔

    اس سے پہلے سعودی دارالحکومت ریاض کے قریب ایندھن کے ٹینکوں سے سیاہ دھوئیں کے بادل اٹھتے ہوئے دیکھے گئے تھے۔ ریاض انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب اس واقعے کے باعث سنیچر کو پروازوں کی آمدورفت بھی عارضی طور پر متاثر ہوئی تھی۔

  5. ایران کی امریکہ کے ساتھ مشروط مذاکرات پر رضا مندی کے بعد پاکستانی وزیر داخلہ ایران کے دورے پر

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اعلان کیا ہے کہ ’پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی اتوار کو یعنی آج تہران کا دورہ کریں گے۔

    انھوں نے کہا کہ یہ دورہ دونوں ملکوں کے دوطرفہ تعلقات اور ماضی میں کیے گئے معاہدوں سے متعلق ملاقات پر مرکوز ہوگا۔

    ان کا کہنا تھا کہ انھیں کسی ایسے مخصوص پیغام یا تجویز کے بارے میں علم نہیں جسے اس دورے کے دوران امریکہ کی جانب سے پہنچایا جانا ہو۔

    تاہم یہ ملاقات ایسے وقت ہو رہی ہے جب تہران نے واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے شرائط عائد کر رکھی ہیں، جبکہ تنازعات جاری ہیں اور خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

    ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے خبر رساں ادارے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا کہ ’تہران نے قطر اور پاکستان کے ثالثوں کے ذریعے امریکہ کو مذاکرات کے لیے اپنی شرائط سے آگاہ کر دیا ہے اور اب وہ ’صدر ٹرمپ کے جواب کا انتظار کر رہا ہے۔‘

  6. کوئٹہ میں سماجی کارکن عبدالستار ایدھی کا مجسمے دوبارہ نصب کردیا گیا, محمد کاظم، بی بی سی کوئٹہ

    Edhi

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ممتاز سماجی کارکن عبدالستار ایدھی کا مجسمے دوبارہ نصب کردیا گیا۔

    اس سے قبل ان کے خدمات کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے کوئٹہ میں 2021 میں ان کا ایک قدآور مجسمہ نصب کیا گیا تھا۔ لیکن وہ مجسمہ رواں سال 31 جنوری کو ہونے والے ایک شدید دھماکے کے باعث متاثر ہوا تھا۔

    حکومت نے پرانے مجسمے کو مرمت کروانے کی بجائے ایک نیا مجسمہ بناکر لگا دیا گیا ہے جو پہلے والے کے مقابلے میں چھوٹا ہے۔

    عبدالستار ایدھی کا مجسمہ کہاں نصب ہے؟

    حکومت بلوچستان کی جانب سے سول سیکریٹریٹ کے ساتھ ریلویز ہاکی گرائوند کے سامنے ہاکی چوک کو عبدالستار ایدھی کے نام سے منسوب کیا گیا تھا۔

    2021 میں ان کا ایک قدآور مجسمہ اس چوک کے نزدیک نصب کیا گیا تھا جس کو بلوچستان کے معروف آرٹسٹ محمد اسحاق لہڑی نے بنایا تھا۔

    رواں سال 31 جنوری کو اس مقام کے نزدیک خود کش حملے سے عبدالستار ایدھی کے مجسمے کو بھی جزوی طور پر نقصان پہنچا تھا۔

    تاہم چار پانچ روز قبل اس چوک پر ایدھی کے مجسمے کو دوبارہ نصب کر دیا گیا ہے لیکن یہ مجسمہ پہلے والے مجسمے کے مقابلے میں چھوٹا ہے۔

    سیکورٹی خدشات کے پیش نظر ریڈ زون کے جنوب کی جانب دو مضبوط اور بڑے گیٹ لگائے گئے ہیں جس کے باعث اب نئے مجسمے کو سابقہ جگہ کی بجائے کچھ فاصلے پر گیٹ سے باہر نصب کیا گیا ہے تاکہ یہ لوگوں کو نظر آسکے۔

  7. عالمی برادری یمن میں سعودی عرب کے ’مجرمانہ‘ اقدامات پر اپنی ذمے داری پوری کرے: حوثیوں کا مطالبہ

    ایران کی خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘ نے ’المسیرہ‘ ٹیلی ویژن چینل کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ حوثیوں کی وزارتِ خارجہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یمن میں سعودی عرب کے ان اقدامات کے جواب میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرے جنھیں وہ ’مجرمانہ‘ قرار دیتے ہیں۔

    ایک بیان میں وزارت نے دعویٰ کیا ہے کہ حوثیوں کو سعودی عرب کی کسی بھی ایسی کارروائی کا جواب دینے کا جائز حق حاصل ہے جو ان کی سلامتی اور استحکام کے لیے خطرہ ہو، اور وہ اس سلسلے میں ضروری اقدامات اٹھائیں گے۔

    حوثیوں کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جمعے کو حوثیوں نے الزام عائد کیا تھا کہ سعودی عرب نے حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقے میں سعودی عرب نے 26 حملے کیے ہیں۔

  8. اگر حکومت لیوی ختم نہیں کرسکتی تو ہم بھی مارچ ختم نہیں کریں گے، اتوار کو پورے ملک سے قافلے اسلام آباد روانہ ہوں گے: جماعت اسلامی

    JI Hafiz Naeem

    ،تصویر کا ذریعہJamaat-e-Islami

    جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمن کا کہنا ہے کہ کہ اگر حکمران عیاشیاں ، سود اور لیوی ختم نہیں کرسکتے تو ہم کسی صورت اسلام آباد مارچ ختم نہیں کریں گے اور اتوار کے روز پورے ملک سے قافلے وفاقی دارالحکومت کی طرف روانہ ہوں گے۔

    یاد رہے کہ جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی کے خلاف 20 ستمبر کو’اسلام آباد مارچ‘ کی کال دے رکھی ہے۔

    لاہور میں جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کا احتجاج پرامن ہوگا، حکومت کوئی ایڈوانچر نہ کرے۔

    جماعت اسلامی کی جانب سے احتجاج کے حوالے سے جاری تفصیلات کے مطابق ملک بھر سے کارکنان اور شہری اسلام آباد پہنچیں گے اور لاکھوں افراد کی شرکت متوقع ہے۔

    امیر جماعت اسلامی اسلام آباد انجینیئر نصراللہ رندھاوا کے مطابق مارچ کے بعد مطالبات کی منظوری تک ڈی چوک پر دھرنا جاری رہے گا اور جماعت اسلامی اپنے مطالبات سے کسی صورت دستبردار نہیں ہو گی۔

  9. بریکنگ, مذاکرات کے لیے ایرانی شرائط امریکہ کو دے دیں، ٹرمپ کے جواب کا انتظار ہے: محسن رضائی

    ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا ہے کہ تہران نے قطر اور پاکستان کی ثالثی کے ذریعے امریکہ کو مذاکرات کے لیے اپنی شرائط پہنچا دی ہیں اور اب صدر ٹرمپ کے جواب کا انتظار کر رہا ہے۔

    ان کے مطابق ایران کی شرائط میں تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ، منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی اور بحری ناکہ بندی کا خاتمہ شامل ہے۔

    انھوں نے کہا کہ قطری اور پاکستانی ثالثوں کے ساتھ مشاورت بھی جاری ہے۔

    محسن رضائی نے خبردار کیا کہ اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو اس کی افواج خطے میں امریکی اڈوں اور امریکی مفادات کو زیادہ شدت سے نشانہ بنائیں گی۔

    جوہری پروگرام کے بارے میں انھوں نے کہا کہ ایران نے اب تک جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) سے نکلنے کا فیصلہ نہیں کیا، تاہم مستقبل کا انحصار امریکہ کے رویے پر ہوگا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی جوہری ہتھیاروں کے خلاف اپنے سابق رہنما کے فتوے پر قائم ہے اور اس کے جوہری نظریے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’ہم نہیں جانتے کہ مستقبل میں کیا ہوگا۔‘

    رضائی نے سعودی عرب اور یمن کے درمیان جنگ کے خاتمے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں یمن کے حوثی بھی سعودی عرب کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔

  10. پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کلعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے وابستہ 43 افراد کے نام فورتھ شیڈول میں شامل, نصیر چوہدری، صحافی

    جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کالعدم قرار دی گئی جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے کے جے اے سی) سے وابستگی رکھنے والے مزید 43 افراد کے نام فورتھ شیڈول میں شامل کر دیے گئے ہیں۔

    محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق ان افراد کے نام انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 2014 سیکشن 16(1) کے تحت فورتھ شیڈول میں شامل کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔

    نوٹیفیکیشن کے مطابق فہرست میں شامل افراد کا تعلق کشمیر کے مختلف اضلاع کے علاوہ چند افراد کا تعلق پاکستان کے دیگر شہروں سے بھی ہے۔

    نوٹیفیکیشن کے مطابق زیادہ تر افراد کا تعلق ضلع پونچھ سے ہے جہاں سے 15 افراد کے نام شامل کیے گئے ہیں جبکہ سدھنوتی سے چھ افراد اس فہرست کا حصہ ہیں۔

    مظفرآباد اور نیلم سے بھی چند افراد کو فورتھ شیڈول میں شامل کیا گیا ہے۔

    کالعدم قرار دی گئی جے کے جے اے سی نے 9 جون 2026 کو مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے سمیت اپنے دیگر مطالبات کے لیے احتجاج کی کال دے رکھی تھی۔

    30 جون کو کشمیر کی حکومت اور ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہونے کے بعد 5 اور 6 جون کی درمیانی شب حکومت کی جانب سے ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیا گیا تھا۔

    کالعدم قرار دی گئی ایکشن کمیٹی کی جانب سے کشمیر کے ضلع پونچھ میں تاحال احتجاج جاری ہے۔ محکمہ داخلہ کے نوٹیفیکیشن میں فورتھ شیڈول میں شامل کیے گئے افراد کے خلاف عائد کی گئی مخصوص پابندیاں اور اقدامات شامل ہیں۔

  11. جنوبی یمن میں جھڑپوں میں کم از کم 48 افراد ہلاک

    ایران کے حمایت یافتہ حوثی

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    جنوبی یمن میں حالیہ جھڑپوں میں کم از کم 48 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق دونوں جانب کے فوجی ذرائع نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز اور ملک کے جنوب میں ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے درمیان تازہ جھڑپوں میں کم از کم 48 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    حکومتی عسکری ذرائع کے مطابق ان جھڑپوں میں 17 فوجی مارے گئے ہیں اور حوثیوں نے بھی گزشتہ 24 گھنٹوں میں اپنے 31 فوجیوں کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔

  12. مشرق وسطیٰ کی سلامتی کا فیصلہ خطے کے ممالک کو خود کرنا چاہیے: عباس عراقچی

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار سلامتی باہر سے مسلط نہیں کی جا سکتی، خطے کے ممالک کو غیر ملکی مداخلت کے بغیر اپنی سلامتی، استحکام اور ترقی کے بارے میں خود اپنے فیصلے کرنے چاہییں۔

    انڈونیشیا کی خارجہ پالیسی ایسوسی ایشن کے زیرِ اہتمام ’گلوبل ڈائیلاگ فورم 2026‘ کے لیے اپنے ویڈیو پیغام میں عباس عراقچی نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کو ’غیر قانونی اور جارحانہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایسے اقدامات پر مؤثر بین الاقوامی ردعمل نہ دیا گیا تو اس سے بین الاقوامی قانون کی بنیادیں متاثر ہو سکتی ہیں۔

    انھوں نے میناب میں 168 طلبا کی ہلاکت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ متاثرین کو صرف جنگی اعداد و شمار کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

    ایرانی وزیر خارجہ نے اقوامِ متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی کارکردگی پر بھی تنقید کی اور ساتھ ہی کہا کہ مسئلے کا حل اس کثیرالجہتی نظام کو چھوڑنا نہیں بلکہ اسے زیادہ مؤثر اور منصفانہ بنانا ہے۔

    خطاب کے دوران ان کا مزید کہنا تھا کہ دنیا کو عسکریت پسندی، مداخلت اور مسلسل جنگوں سے ہٹ کر پائیدار ترقی، خودمختاری کے احترام اور انصاف کی جانب بڑھنا چاہیے۔

  13. ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب دھواں اٹھنے کی اطلاعات

    کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    بی بی سی عربی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کا حوالہ دیتے ہوئے اطلاع دی ہے کہ ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب آگ کے شعلے اور سیاہ دھواں اٹھتے دیکھا گیا ہے۔

    عینی شاہدین نے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ انھوں نے ہفتے کی سہ پہر سعودی دارالحکومت ریاض کے ہوائی اڈے کے قریب دھوئیں کے بادل دیکھے۔

    اے ایف پی نے فلائیٹ ٹریکنگ ویب سائٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ریاض کے ہوائی اڈے پر پروازوں کی منسوخی اور تاخیر بھی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    اے ایف پی کے مطابق ہوائی اڈے کے قریب آرامکو کے ایندھن کے ایک ٹینک میں آگ لگنے سے دھواں بھی اٹھتا دیکھا گیا۔

    میڈیا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فائر فائٹرز اس مقام پر آگ بجھانے میں مصروف تھے،جبکہ اس واقعے کے باعث ہوائی اڈے پر پروازوں کی منسوخی اور تاخیر سمیت نمایاں خلل پیدا ہوا۔

    یاد رہے کہ رات گئے سعودی سول ڈیفنس آرگنائزیشن نے ریاض میں وارننگ اور ایمرجنسی سائرن کو فعال کرنے کا اعلان کیا تھا اور تاہم بعد میں الرٹ کو ختم کردیا گیا ۔

    واضح رہے کہ یمن کے حوثی باغیوں کے ساتھ تنازع میں اضافے کے بعد سعودی دارالحکومت میں یہ پہلا انتباہ جاری کیا گیا تھا۔

  14. ایران: اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں سزائے موت پانے والے شخص کو پھانسی دے دی گئی

    حسین پیدران

    ،تصویر کا ذریعہMeezan News

    ،تصویر کا کیپشنمیزان نیوز کی جاری کردہ حسین پیدران کی فائل فوٹو

    ایران کی عدلیہ کی جانب سےسزائے موت پانے والے ایک ایسے شخص کو پھانسی دے دی گئی ہے جس پر اسرائیل کے لیے جاسوسی کا الزام تھا۔

    ایران کی عدلیہ سے وابستہ میزان نیوز ایجنسی کے مطابق اس شخص کی شناخت حسین پیدران کے نام سے ہوئی ہے، جن پرموساد کو صوبہ اصفہان میں حساس فوجی مقامات سے متعلق معلومات فراہم کرنے کا الزام تھا۔

    بی بی سی فارسی نے میزان نیوز کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ حسین پیدران کے قبضے سے ملنے والے آلات اور ان کے اعترافات کی بنیاد پر ان پر اسرائیل کے حق میں جاسوسی اور انٹیلیجنس تعاون کے الزامات عائد کیے گئے۔

    رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ انھوں نے دشمن قرار دی جانے والی امریکی حکومت کے ساتھ انٹیلیجنس تعاون کا آغاز کیا اور اس کی جانب سے دیگر ذمہ داریاں بھی انجام دیں۔

    میزان نیوز ایجنسی کے مطابق حسین پیدران کی سزائے موت سپریم کورٹ کی توثیق کے بعد نافذ کی گئی۔

    تاہم عدلیہ کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ انھیں کب گرفتار کیا گیا تھا، مقدمے کی سماعت کہاں ہوئی، یا عدالت میں کون سی تفصیلات پیش کی گئی تھیں۔

  15. اسحاق ڈار کا عباس عراقچی سے رابطہ، خطے میں امن اور استحکام کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری ہی واحد مؤثر راستہ ہیں: وزیر خارجہ

    خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے بات چیت میں کہا ہے کہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری ہی واحد مؤثر راستہ ہیں۔

    پاکستانی وزارتِ خارجہ سے جاری بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے سنیچر کے روز ٹیلیفون پر ہونے والی بات چیت میں خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا۔

    بیان کے مطابق اسحاق ڈار نے توانائی کی بلا تعطل فراہمی اور بحری جہازوں کی محفوظ اور تیز رفتار آمدورفت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس کے ترقی پذیر ممالک اور عالمی سپلائی چینز پر اہم اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری ہی واحد مؤثر راستہ ہیں۔

    وزارتِ خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے قریبی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا اور طے کیا کہ وہ اقوامِ متحدہ کی 81 ویں جنرل اسمبلی کے موقع پر نیویارک میں ملاقات کریں گے۔

  16. اب تک کی خبروں کا خلاصہ

    • پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے اضلاع پنجگور اور چاغی میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 11 شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
    • پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر کوہاٹ میں پولیس لائنز کی مسجد پر خودکش حملے کے بعد عمارت میں داخل ہونے والے شدت پسندوں کے خلاف پولیس اور سکیورٹی فورسز کا آپریشن مکمل ہو گیا ہے، جس میں حکام کے مطابق آٹھ شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا ہے کہ ’ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہو جائے گی اور ساتھ ہی یہ پیشگوئی بھی کی ہے کہ جنگ کے خاتمے کے بعد پیٹرول کی قیمتیں کم ہو جائیں گی۔‘
    • سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں فضائی حملے کے الرٹ جاری ہونے اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے کے بعد حکام نے خطرہ ٹلنے کا اعلان کر دیا ہے۔
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایسے قانون پر دستخط کر دیے ہیں جس کے تحت روس پر وسیع پیمانے پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں جبکہ ایران پر عائد پابندیوں میں توسیع کی گئی ہے۔
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ’سی این این‘، ’ایم ایس ناؤ‘، اور ’پولیٹیکو‘ نامی خبر رساں اداروں کو فوری طور پر وائٹ ہاؤس سے ’بین‘ کر رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے جمعے کو ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’یہ میڈیا ادارے ان کی انتظامیہ (ٹرمپ انتظامیہ) کے بارے میں ’مسلسل افسانے اور جھوٹی خبریں‘ شائع یا نشر کرتے ہیں،‘ تاہم انھوں نے اس کی کوئی مثال نہیں دی۔
    • برطانیہ کے سابق وزیرِ اعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ ان کے ملک کو عمران خان کی رہائی کے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنا چاہیے۔
    • پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں معمولی کمی کی گئی ہے۔
  17. بلوچستان: پنجگور اور چاغی میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 11 شدت پسند ہلاک

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے اضلاع پنجگور اور چاغی میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 11 شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

    پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے بلوچستان کے اضلاع پنجگور اور چاغی میں سکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق پنجگور کے علاقے گوارگو میں کارروائی کے دوران پانچ شدت پسند ہلاک ہوئے، جبکہ ان کے قبضے سے بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق چاغی کے علاقوں امین آباد اور سیاہ چنگ میں بھی کارروائیاں کی گئیں، جن میں چھ شدت پسند ہلاک ہوئے۔ ان کارروائیوں کے دوران بھی بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں قومی سلامتی کے تحفظ کے عزم کی عکاس ہیں۔‘

    وفاقی وزیرِ داخلہ کے مطابق ’قوم دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔‘

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق بلوچستان میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔

  18. کوہاٹ پولیس لائنز مسجد دھماکہ: آپریشن میں آٹھ شدت پسند ہلاک، سکیورٹی فورسز نے عمارات کلیئر کر لیں

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر کوہاٹ میں پولیس لائنز کی مسجد پر خودکش حملے کے بعد عمارت میں داخل ہونے والے شدت پسندوں کے خلاف پولیس اور سکیورٹی فورسز کا آپریشن مکمل ہو گیا ہے، جس میں حکام کے مطابق آٹھ شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔

    خیبر پختونخوا پولیس کے مطابق خودکش حملہ آور نے پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تاہم وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

    پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’مسجد پر دھماکے کے بعد کچھ شدت پسند سپیشل برانچ کی عمارت میں داخل ہو گئے تھے، جس کے بعد پولیس، ایلیٹ فورس، کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور سکیورٹی فورسز نے کارروائی شروع کی۔‘

    پولیس کے مطابق رات بھر جاری رہنے والے آپریشن کے بعد عمارات کے اہم حصوں کو کلیئر کر لیا گیا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ آپریشن کے دوران شدت پسندوں کی جانب سے ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی پر گرینیڈ حملہ بھی کیا گیا، جس میں وہ زخمی ہوئے۔

    پولیس کے مطابق انھیں ابتدائی طبی امداد دی گئی، جس کے بعد وہ دوبارہ آپریشن کی نگرانی کے لیے فرنٹ لائن پر پہنچ گئے۔

    ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی کے علاوہ ریجنل پولیس آفیسر کوہاٹ اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کوہاٹ نے بھی آپریشن کی قیادت کی جبکہ جی او سی کوہاٹ بھی موقع پر موجود رہے۔

    آئی جی خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید بھی آپریشن کے دوران جائے وقوعہ پر موجود رہے اور جوانوں کا حوصلہ بڑھایا۔

    انھوں نے آپریشن میں حصہ لینے والے اہلکاروں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’پولیس، سی ٹی ڈی اور سکیورٹی فورسز نے بہادری سے مقابلہ کیا، ہمارے جانباز جوان قوم کا فخر ہیں۔‘

    آئی جی خیبر پختونخوا نے کہا کہ ’شدت پسندوں کے ناپاک عزائم خاک میں ملا دیے گئے ہیں اور ان کے مکمل خاتمے کو یقینی بنایا جائے گا۔‘

    پولیس کے مطابق آئی جی خیبر پختونخوا نے آپریشن میں حصہ لینے والے افسران کے لیے انعامات کا بھی اعلان کیا ہے۔

  19. ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہو جائے گی: ڈونلڈ ٹرمپ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا ہے کہ ’ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہو جائے گی اور ساتھ ہی یہ پیشگوئی بھی کی ہے کہ جنگ کے خاتمے کے بعد پیٹرول کی قیمتیں کم ہو جائیں گی۔‘

    اوول آفس میں صحتِ عامہ سے متعلق ایک تقریب کے دوران انھوں نے کہا کہ ’لوگ نہیں چاہتے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرے اور آپ جانتے ہیں کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔۔۔ یہ جنگ جلد ختم ہو جائے گی اور جب یہ ختم ہوگی تو پیٹرول کی قیمتیں دوبارہ پہلے کی سطح پر آ جائیں گی یا اس سے بھی کم ہو جائیں گی۔‘

    ایرانی جوہری تنصیبات کے خلاف بی ٹو بمبار طیاروں کے استعمال کا حوالہ دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے فوجی کارروائی ضروری تھی۔

    انھوں نے کہا کہ ’میرے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا۔ میں نے اپنی ٹیم سے کہا کہ مجھے ایران کے خلاف کارروائی کرنا ہوگی کیونکہ اگر ہم نے بی ٹو بمبار طیاروں سے ان پر حملہ نہ کیا ہوتا تو وہ جوہری ہتھیار حاصل کر لیتے۔‘

    ٹرمپ گذشتہ چند روز کے دوران بھی جنگ اور توانائی کی قیمتوں کے حوالے سے ایسی ہی پیشگوئیاں کر چکے ہیں۔ بدھ کو بھی انھوں نے کہا تھا کہ ’جنگ ختم ہوتے ہی پیٹرول کی قیمتیں تیزی سے کم ہو جائیں گی۔‘

  20. ریاض میں فضائی حملے کے الرٹ کے بعد خطرہ ٹل گیا: سعودی سول ڈیفنس

    Fayez Nureldine / AFP via Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہFayez Nureldine / AFP via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں فضائی حملے کے الرٹ جاری ہونے اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے کے بعد حکام نے خطرہ ٹلنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    ریاض میں جولائی کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ایسے الرٹ جاری کیے گئے ہیں۔ جولائی میں حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف حملے تیز کرتے ہوئے سعودی بندرگاہوں کے لیے ’سمندری ناکہ بندی‘ کا اعلان کیا تھا۔

    سعودی سول ڈیفنس نے جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب دارالحکومت سمیت کئی علاقوں کے لیے الرٹ جاری کیے۔ اس دوران سعودی عرب اور ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے درمیان تنازع مزید شدت اختیار کر گیا۔

    روئٹرز اور اے ایف پی کے صحافیوں نے ریاض میں دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی، تاہم حکام نے بعد میں کہا کہ خطرہ ٹل گیا ہے۔ شہریوں کو ہجوم کی صورت میں جمع ہونے سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی۔

    حوثیوں نے حال ہی میں نہایت اہم بندرگاہی شہر موخا اور جزیرہ پریم پر قبضہ کر لیا تھا، جو خلیجی ریاست سے ایشیا اور یورپ کو ہونے والی تجارت کے لیے اہم بحری راستے کے قریب واقع ہیں۔

    ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے فوجی ترجمان کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے شمال مغربی یمن میں حوثیوں کے زیرِ قبضہ بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کی ناکہ بندی کے جواب میں سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کی گئی۔

    آبنائے ہرمز بند ہونے کے بعد سعودی بحری جہاز تیل کی برآمد کے لیے بحیرہ احمر کے اسی راستے پر انحصار کر رہے ہیں۔

    گذشتہ ہفتے حوثیوں نے ڈرونز اور میزائلوں سے سعودی عرب کی کئی تیل تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا، جس کے نتیجے میں آگ لگنے کے بعد وہاں کام عارضی طور پر روکنا پڑا تھا۔