پاکستان تحریکِ انصاف کا عمران خان کی بہنوں اور بچوں کی گرفتاری اور گھروں پر چھاپوں کا دعویٰ
پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے دعویٰ کیا ہے کہ پنجاب پولیس نے پارٹی کے بانی عمران خان کی بہن علیمہ خان کی گرفتاری کے بعد ان کی دیگر بہنوں کے گھروں پر بھی چھاپے مارے ہیں اور بعض رشتہ داروں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی رہنما سوکت بسرا نے ایکس پر دعویٰ کیا کہ ’پنجاب پولیس نے عمران خان کی دونوں بہنوں کو ان کے بچوں سمیت گرفتار کر لیا ہے، جبکہ علیمہ خان کے دونوں بیٹوں اور ان کی 20 سالہ بھانجی سکینہ کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’زیرِ حراست افراد کو بکتر بند گاڑی میں نامعلوم مقام پر منتقل کیا جا رہا ہے۔‘
تاہم دستیاب اطلاعات میں علیمہ خان کی گرفتاری کی آزاد ذرائع سے تصدیق ہوئی ہے۔ لاہور کی ضلعی انتظامیہ نے انھیں مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) کے تحت 30 روز کے لیے حراست میں لینے کا حکم دیا تھا اور بعد ازاں انھیں کوٹ لکھپت جیل منتقل کیے جانے کی اطلاع سامنے آئی۔
پی ٹی آئی رہنماؤں اور اہلِ خانہ کی جانب سے یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ علیمہ خان کی حراست کے بعد عمران خان کی دیگر بہنوں ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین خانم سے منسلک گھروں پر پولیس نے چھاپے مارے اور کچھ رشتہ داروں کو اپنے ساتھ لے گئی۔
دوسری جانب خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ایک ویڈیو پیغام میں دعویٰ کیا کہ عمران خان کی بہنوں، ان کے بچوں اور دیگر رشتہ داروں کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ انھوں نے اسے ’اغوا‘ قرار دیتے ہوئے پنجاب حکومت اور پولیس پر شدید تنقید کی۔
تاہم پی ٹی آئی کے احتجاجی لانگ مارچ کو روکنے کے لیے پنجاب اور خیبر پختونخوا کو ملانے والے اٹک پل پر بڑی تعداد میں کنٹینرز پہنچا دیے گئے ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔









