افغان طالبان کا پاکستان پر کنڑ اور پکتیکا میں بمباری کرنے کا الزام، تین افراد کی ہلاکت کا دعویٰ

افغانستان

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

،تصویر کا کیپشنکنٹر کے ضلع نورگل میں ہلاک ہونے والے دو افراد کی نماز جنازہ پیر کی صبح ادا کی گئی
وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 5 منٹ

افغانستان میں طالبان کی حکومت نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے افغان صوبوں کنٹر اور پکتیکا پر کیے گئے حملے کے نتیجے میں کم از کم تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے سوشل میڈیا سائیٹ ’ایکس‘ پر لکھا کہ گذشتہ رات پاکستانی فوج کی جانب سے کنٹر اور پکتیکا کے شہری علاقوں پر بمباری کی گئی جس کے نتیجے میں ’ایک خاتون اور دو مرد ہلاک‘ جبکہ دو خواتین سمیت چار افراد زخمی ہوئے۔

پاکستانی حکومت کی جانب سے تاحال افغان طالبان کے بمباری سے متعلق الزامات پر کوئی ردعمل نہیں دیا گیا ہے۔

ذبیح اللہ مجاہد کا دعویٰ ہے کہ گذشتہ رات ہوئے حملوں میں ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد مقامی اور عام شہری ہیں۔

طالبان ترجمان کے مطابق ’پکتیکا میں ایک گھر اور ایک دکان پر بمباری کی گئی، تاہم اس کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔‘ ذبیح اللہ مجاد کا کہنا تھا کہ ’ہم اس جارحیت اور ظلم کی مذمت کرتے ہیں اور اسے گذشتہ جرائم کے تسلسل کا حصہ سمجھتے ہیں۔‘

تاہم طالبان حکومت کے ترجمان اور نائب ترجمان نے مبینہ حملوں کی نوعیت کے بارے میں بھی کوئی وضاحت جاری نہیں کی کہ آیا یہ بمباری فضائی حملوں کے ذریعے کی گئی یا سرحد پار سے گولہ باری کی صورت میں۔

افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان نے مزید دعویٰ کیا کہ ’پاکستان کی عسکری اسٹیبلشمنٹ نے اپنے ملک کے اندر سکیورٹی کی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے ایک بار پھر ایسے جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔‘

یاد رہے کہ پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان اکتوبر 2025 میں سرحد پار کشیدگی میں اضافے کے بعد سے، افغانستان کے اندر پاکستانی فوج کی جانب سے متعدد بار فضائی حملے کیے گئے ہیں۔

پاکستان یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ افغانستان میں موجود تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے منسلک اُن شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتا ہے جو افغان سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔

تاہم طالبان حکومت ہمیشہ سے ان الزامات کی تردید کرتی آئی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی پاکستان کا داخلی معاملہ ہے۔

سوموار کے روز اپنی ایکس پر پوسٹ میں ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ’افغان عوام اس جارحیت کا مناسب جواب دیں گے۔‘

دوسری جانب افغانستان میں طالبان حکومت کے نائب ترجمان حمداللہ فطرت نے دعویٰ کیا کہ کنٹر اور پکتیکا پر حملہ ’صبح تین بجے‘ کیا گیا۔

افغانستان میں طالبان حکومت کے نائب ترجمان حمد اللہ فطرت کی جاری کردہ تصویر میں ٹوٹے ہوئے درخت اور ملبہ دکھائی دے رہا ہے

،تصویر کا ذریعہx.com/FitratHamd

،تصویر کا کیپشنافغان طالبان کے نائب ترجمان حمد اللہ فطرت نے مبینہ بمباری کے بعد متاثرہ علاقے کی چند تصاویر شیئر کی ہیں

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’صوبہ کنڑ کے ضلع نورگل اور صوبہ پکتیکا کے ضلع برمل میں شہریوں کے گھروں اور عوامی املاک پر بمباری کی گئی۔‘

حمد اللہ فطرت نے دعویٰ کیا کہ بمباری کے نتیجے میں ضلع نورگل کے پٹھان گاؤں میں نور احمد نامی ایک دیہاتی کا گھر مکمل طور پر تباہ ہو گیا، جس سے نور احمد سمیت خاندان کے تین افراد ہلاک اور چار زخمی ہوئے۔

حمد اللہ فطرت کا کہنا تھا کہ ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں دو بچے اور دو خواتین شامل ہیں۔

افغانستان میں طالبان حکومت کے نائب ترجمان کے مطابق ’صوبہ پکتیکا کے ضلع برمل میں رخہ اور تور کنڈی کے علاقوں میں دو مقامات پر بمباری کی گئی، جس کے نتیجے میں ایک دکان اور ایک غیر آباد مکان تباہ ہو گیا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔‘

اپنی ایکس پوسٹ میں حمد اللہ فطرت نے چند تصاویر بھی شامل کی ہیں جن کے بارے میں اُن کا دعویٰ ہے کہ یہ حملے کے بعد متاثرہ مقامات سے لی گئی ہیں۔

اُن تصاویر میں ٹوٹے ہوئے درخت اور بکھرا ہوا عمارتی ملبہ نظر آ رہا ہے۔

بی بی سی آزادنہ طور پر ان تصاویر کی تصدیق نہیں کر سکتا ہے۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

واضح رہے کہ کنڑ اور پکتیکا، دونوں ہی افغان صوبوں کی سرحد پاکستان سے ملتی ہے۔

کنڑ کی سرحد پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے اضلاع باجوڑ، مہمند اور دیر کے علاقوں سے ملتی ہے۔ جبکہ پکتیکا کی سرحد پاکستان کے شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان سے متصل ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان گذشتہ کئی ماہ سے تعلقات کشیدہ ہیں۔ اسلام آباد طالبان حکومت پر اُن شدت پسندوں کو پناہ دینے کا الزام عائد کرتا ہے جو پاکستان پر حملے کرتے ہیں، جبکہ کابل اس الزام کی تردید کرتا ہے۔

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں حال ہی میں دہشت گردی کے دو نمایاں واقعات پیش آئے ہیں۔

گذشتہ روز ضلع ہنگو میں سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ پاکستان فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، اس کے نتیجے میں آٹھ شدت پسند ہلاک ہو گئے، جبکہ دو فوجی افسران سمیت چھ اہلکار بھی جان سے گئے۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے تھا۔

جبکہ 18 ستمبر کو خیبر پختونخوا کے ہی شہر کوہاٹ میں پولیس لائنز کی مسجد پر خودکش حملے کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں 17 پولیس اہلکاروں سمیت 23 افراد ہلاک ہوئے تھے۔