’اپنے استاد کی شرمندگی پر پردہ ڈال دو میرے بچے!‘: وہ طلبہ جنھوں نے مدرسے میں استاد کی جنسی بدسلوکی کے خلاف آواز اٹھائی

 زیا اور یسرون دونوں اس بورڈنگ سکول کے طلبہ تھے
،تصویر کا کیپشنزیا اور یسرون دونوں اس بورڈنگ سکول کے طلبہ تھے
    • مصنف, ایندانگ نوردن
    • مصنف, ربیکا ہنچک
    • عہدہ, بی بی سی آئی انویسٹیگیشن
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 10 منٹ

انتباہ: اس تحریر میں جنسی بدسلوکی سے متعلق تفصیلات موجود ہیں۔

فون کے دوسری جانب سے آنے والی آواز سن کر یسرون الزاہدی کا دل بیٹھ سا گیا۔ انھوں نے اپنی بہن کے نمبر پر کال کی تھی کیونکہ اس نے انھیں فوری طور پر فون کرنے کا پیغام بھیجا تھا۔ لیکن لائن پر ان کی بہن نہیں تھی بلکہ یسرون کے سابق ہیڈ ٹیچر تھے۔

وہ یسرون کے خاندانی گھر میں موجود تھے۔

یسرون کہتے ہیں کہ ’مجھے معلوم تھا۔ مجھے بالکل معلوم تھا کہ وہ کس بارے میں بات کرنا چاہتے ہیں۔‘

احمد ایمان الدین ثمر کو ان کے طلبہ ابا یعنی ’والد‘ کہہ کر پکارتے تھے۔ وہ اس فون کال کے دوران اپنی ساکھ بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔

وہ انڈونیشیا کے جزیرے لومبوک میں واقع ایک اسلامی بورڈنگ سکول (مدرسے) کے معزز سربراہ تھے۔

ابا کو معلوم ہو گیا تھا کہ یسرون اور سکول کے دیگر دوست ایسے متعدد طلبہ کے بیانات جمع کر رہے تھے جن کا کہنا تھا کہ ابا نے انھیں جنسی تشدد کا نشانہ بنایا۔

اسلامی بورڈنگ سکولوں (مدرسوں) میں جنسی بدسلوکی کو انڈونیشیا کے نیشنل کمیشن آن وائلنس اگینسٹ ویمن نے قومی ہنگامی صورتحال قرار دیا ہے۔

لیکن قانونی ماہرین کے مطابق بہت سے مقدمات عدالتوں تک نہیں پہنچتے کیونکہ متاثرین کو اپنے الزامات واپس لینے پر آمادہ کر لیا جاتا ہے یا انھیں خاموش رہنے کے لیے دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اور اب ابا فون پر یسرون سے بالکل اسی قسم کا مطالبہ کر رہے تھے۔

وہ روتے ہوئے بولے کہ ’اپنے استاد کی شرمندگی پر پردہ ڈال دو۔ میرے بچے! ہر شخص سے غلطی ہو جاتی ہے۔‘

لیکن انھیں یہ معلوم نہیں تھا کہ یسرون ان کا ہر لفظ ریکارڈ کر رہے ہیں۔

Yusron stands looking at the camera with the sea as a backdrop. He is wearing a black hoodie and white trousers, and a black kopiah on his head. He has his hands in his pockets.

،تصویر کا ذریعہYusron Azzahidi

،تصویر کا کیپشنیسرون ہمیشہ اپنے ہیڈ ٹیچر کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

یسرون نے ایک سال قبل ابا کے بارے میں تحقیقات شروع کی تھیں۔ اس کی وجہ ایک رات ان کی سابق ہم جماعت زیادہ رحمان کا انکشاف تھا۔

دونوں لومبوک کے ابو باروکات سکول کے سٹار طالب علم تھے۔

اب وہ یونیورسٹی میں تھے۔ یسرون دارالحکومت جکارتہ میں تھے جبکہ رحمان مصر کے شہر قاہرہ میں تھیں۔ دونوں فون پر سکول کے دنوں کو یاد کر رہے تھے۔

ایک رات رحمہ، جنھیں ان کی دوست زیا کے نام سے جانتے تھے، نے یسرون کو بتایا کہ ابا نے ان کے ساتھ اس وقت جنسی تشدد کیا جب وہ 16 برس کے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ کلاس کے دوران انھیں بیت الخلا جانا تھا اور ابا نے سکول کے باغات میں انھیں روک لیا اور اپنے گھر چلنے کو کہا جو سکول کے احاطے میں واقع تھا۔

ان کے مطابق گھر پہنچنے کے بعد ابا نے ان سے کہا کہ وہ ان سے محبت کرتے ہیں۔

بعد میں انھوں نے بی بی سی ورلڈ سروس کو بتایا کہ ’انھوں نے مجھے اپنی طرف کھینچ کر اپنی گود میں بٹھا لیا۔۔۔ پھر وہ مجھے چومنے لگے۔۔۔ وہ میرے جسم پر ہاتھ پھیر رہے تھے اور مجھے چھو رہے تھے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ابا نے انھیں بھی اپنے ساتھ ایسا ہی کرنے کو کہا تھا۔

ان کے بقول خوش قسمتی سے ابا کے بچوں میں سے ایک نے بند مرکزی دروازے پر زور زور سے دستک دینا شروع کر دی۔

ابا نے انھیں وہاں سے نکل جانے کا اشارہ کیا اور وہ عقب سے بھاگ نکلیں۔

لیکن اس واقعے کے اثرات تباہ کن تھے۔ ’مجھے لگا کہ میں بہت گندی ہو گئی ہوں، برباد ہو گئی ہوں اور میں کھو گئی ہوں۔‘

جب یسرون نے زیا کا بیان سنا تو وہ سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ کیا کریں۔ ان کے سکول نے انھیں اس نعرے کے ساتھ تعلیم دی تھی : ’سمعنا و اطعنا‘ یعنی ہم سنتے ہیں اور اطاعت کرتے ہیں۔

لیکن وہ اس واقعے کے بارے میں سوچنا بند نہیں کر پا رہے تھے۔

چنانچہ انھوں نے تجویز دی کہ وہ اور زیا، ان کی سکول کی دوست وندا حمیدہ اور ماہیمہ ایکا کے ساتھ مل کر ایسے شواہد جمع کریں جو زیا کے بیان کی تائید کر سکیں۔

اور آہستہ آہستہ جب انھوں نے اپنے سابق ہم جماعتوں سے بات کی تو مزید یادیں سامنے آنے لگیں۔ دوست واٹس ایپ پر اپنی معلومات ایک دوسرے سے شیئر کرتے رہے۔

سب سے اہم بیان وندا کی ایک دوست کا تھا۔

انھیں یاد تھا کہ آخری تعلیمی سال میں ایک کم عمر لڑکی رات گئے سکول کے غسل خانے میں رو رہی تھی۔

اور ابا سرخ چہرے اور ہانپتی سانسوں کے ساتھ اسے ڈھونڈتے ہوئے وہاں آئے تھے۔

یہ لڑکی سکما روحانا تھی جو اب بھی سکول میں زیرِ تعلیم تھی۔ انھوں نے بی بی سی کو اس واقعے کے بارے میں بتایا ہے۔

Sukma is hunched over as she adjusts her black hijab - she looks distressed. She is wearing a blue top with small white flowers.
،تصویر کا کیپشنسکما کا کہنا ہے کہ ابا نے ان کا ریپ کرنے کی کوشش کی

انھوں نے بتایا کہ جب وہ 17 برس کی تھیں تو ابا نے انھیں نئے سال کی عبادت میں شرکت کے لیے اپنے ساتھ آنے کو کہا۔

ان کے مطابق جب وہ ابا کے گھر میں داخل ہوئیں تو انھوں نے ان کا منھ بند کر دیا اور لیٹنے کا کہا۔ پھر اپنی کمر سے نیچے کے کپڑے اتار دیے۔

سکما نے کہا کہ ’وہ مسلسل باتیں کرتے رہے اور کہتے رہے کہ اب وہ خود پر قابو نہیں رکھ سکتے۔‘

’وہ میرے زیر جامہ کے اوپر سے میرے جسم کو چھو رہے تھے۔۔۔ انھوں نے میرے ساتھ ریپ کی کوشش کی۔‘

اور پھر ان کے مطابق انھیں اتنی ہمت آ گئی کہ وہ ابا کے پیٹ میں زور سے لات مار سکیں اور بھاگ نکلنے کا موقع حاصل کر لیں۔

انھوں نے بتایا کہ بھاگتے ہوئے انھوں نے مڑ کر دیکھا تو ابا کی ٹارچ کی روشنی انھیں تلاش کر رہے تھے۔

جب اس قسم کے شواہد سامنے آنے لگے تو یسرون ان کی نگرانی کرتے رہے۔ وہ الزامات لگانے والے طلبہ سے بات کرتے اور بڑی محنت سے نوٹس تیار کرتے۔

انھوں نے سات صفحات پر مشتمل ایک دستاویز تیار کی جس میں سکما، زیا اور چار دیگر سابق طالبات کے ساتھ مبینہ جنسی تشد کی تفصیلات درج تھیں۔

وندا نے نہضہ الوطن دینیہ اسلامیہ (این ڈبلیو ڈی آئی) کے نمائندوں کے ساتھ ملاقات کا انتظام کیا۔ یہ وہ طاقتور تنظیم تھی جو ان کے سکول اور سینکڑوں دیگر سکول چلاتی تھی اور قاہرہ میں بعض طلبہ کی تعلیم کے اخراجات بھی برداشت کرتی تھی۔

سکول کے دوستوں کے مطابق ملاقات مثبت رہی اور این ڈبلیو ڈی آئی کے نمائندوں نے کہا کہ وہ پولیس تک مقدمہ پہنچانے میں مدد کریں گے۔

لیکن تین ہفتے بعد جب یسرون کو اپنی بہن کا وہ تشویشناک پیغام ملا اور انھوں نے واپس کال کی تو فون پر ابا موجود تھے، جو ان کے خاندانی گھر میں بیٹھے تھے۔ تب واضح ہو گیا کہ این ڈبلیو ڈی آئی نے یسرون کی تحریری دستاویزات ان تک پہنچا دی تھیں۔

ابا کو یسرون کی ریکارڈنگ میں یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ’اگر یہ میڈیا تک لیک ہو گیا۔۔۔ تو میں تباہ ہو جاؤں گا۔‘

وہ یسرون سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ان کے لیے جھوٹ بولیں۔ وہ انھیں کئی ایسے جواز بھی بتاتے ہیں جو شواہد کی دستاویز واپس لینے کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

اس کے بعد انھوں نے زیا کو فون کیا اور انھیں بھی اسی طرح کے دباؤ میں لانے کی کوشش کی۔

یسرون کی طرح زیا نے بھی کال ریکارڈ کر لی۔

اس میں ابا اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ انھوں نے ان کے ساتھ بدسلوکی کی لیکن انھیں خاموش رہنے کی درخواست کرتے ہیں۔

Abah wears a black kopi on his head, and a black suit with black tie and white shirts, with a black and yellow sash draped over one shoulder. He is speaking at a podium, a microphone in front of him.

،تصویر کا ذریعہAbu Barokat Facebook

،تصویر کا کیپشنابا نے زیا اور سکما پر دباؤ ڈالا کہ وہ اِن واقعات کو خفیہ رکھیں

سکما نے ہمیں بتایا کہ انھیں ابا کے گھر بلایا گیا جہاں دو پولیس افسران اور این ڈبلیو ڈی آئی کے ایک وکیل ان کا انتظار کر رہے تھے۔

ان کے مطابق انھیں ایک دستاویز پر دستخط کرنے پر مجبور کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ ان کے تمام الزامات جھوٹے ہیں۔

ان کے بیان کی تائید ایک خفیہ ریکارڈنگ سے ہوتی ہے جو انھوں نے بعد میں ابا کی اہلیہ حرمیاتی سے بات کرتے ہوئے بنائی۔

اس میں حرمیاتی انھیں ان کے درمیان ہونے والے ’معاہدے‘ کا احترام کرنے کو کہتی ہیں کہ کچھ نہیں ہوا تھا۔ وہ مزید کہتی ہیں کہ ’کیا آپ چاہتی ہیں کہ یہ ساری زندگی آپ کا پیچھا کرے؟ کیا آپ چاہتی ہیں کہ اس سے آپ کی شادی کے امکانات متاثر ہوں؟‘

یہ دباؤ اس حد تک بڑھ گیا کہ ابا نے یسرون کے والدین سے بھی کہا کہ وہ جکارتہ جا کر یونیورسٹی میں انھیں تلاش کریں۔

وہ انھیں نہیں ڈھونڈ سکے کیونکہ یسرون ایک ہوٹل میں چھپے ہوئے تھے۔ لیکن یہ ان کی والدہ کے لیے بڑی آزمائش ثابت ہوئی۔ انھوں نے اپنے بیٹے سے کہا کہ یہ دباؤ انھیں مار ڈالے گا۔

چنانچہ یسرون نے مجبوری میں اپنی تحقیقات روک دیں۔

دوسری جانب زیا اور یسرون ایک دوسرے کے قریب آنے لگے۔ اس دوستی نے فاصلے کے باوجود بننے والے رشتے کی شکل اختیار کر لی اور وہ باقاعدگی سے فون پر بات کرتے تھے۔

یسرون کہتے ہیں کہ ’میں دیکھ سکتا تھا کہ وہ واقعی بہت مشکل میں تھیں۔۔۔ وہ ایسی باتیں کہتی تھیں کہ ’میں اب تک اس بات کے بارے میں کیوں سوچتی رہتی ہوں جو (ابا) نے میرے ساتھ کیا‘۔‘

یسرون اس لڑکی کی مدد اور اپنی والدہ سے کیے وعدے کے درمیان الجھ چکے تھے۔

پھر آٹھ ماہ بعد یسرون نے ایک ایسے گروپ کے بارے میں سنا جو اسلامی سکولوں میں جنسی بدسلوکی کے خلاف آگاہی پیدا کر رہا تھا۔

اسے آیو مسرورہ نامی ایک نوجوان خاتون نے قائم کیا تھا۔ انھوں نے اس کے ذریعے ایک دوست کو انصاف دلانے میں مدد کی تھی جن پر ایک دوسرے سکول میں استاد موج صبحی از آل ثانی نے جنسی تشدد کیا تھا۔

آیو اب سوشل میڈیا پر کھل کر بات کرنے کی ضرورت کے بارے میں سرگرمی سے پوسٹ کر رہی تھیں۔

اس سے متاثر ہو کر زیا نے انسٹاگرام پر ایک پیغام جاری کیا اور ایسے تمام انڈونیشین طلبہ سے رابطہ کرنے کی اپیل کی جنھیں بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا ہو۔

اور انھیں معلوم ہوا کہ ابا کی معذرتوں اور خود کو بدلنے کے وعدوں کے باوجود وہ مبینہ طور پر دوبارہ بھی ایسا کر چکے تھے۔

زیا کے سکول کی ایک طالبہ نے رابطہ کر کے بتایا کہ ابا نے ان کا بھی جنسی استحصال کیا تھا۔

یہ مبینہ واقعہ زیا اور یسرون سے کیے گئے وعدوں کے تقریباً ایک سال بعد پیش آیا تھا۔

زیا نے کہا کہ ’اس سے مجھے احساس ہوا کہ (ابا) حقیقت میں بالکل نہیں بدلے تھے۔۔۔ رک جانے کے بارے میں جو کچھ بھی انھوں نے کہا تھا۔۔۔ وہ سب جھوٹ تھا۔‘

یسرون کے والدین بالآخر اس بات پر راضی ہو گئے کہ وہ زیا اور سکما کو انصاف کی جدوجہد جاری رکھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

لیکن اس مرتبہ دوستوں نے مختلف طریقہ اختیار کیا۔

انھوں نے آیو سے رابطہ کیا اور انھوں نے واضح مشورہ دیا: ایک وکیل کریں۔

انھوں نے ان کا تعارف ایسے وکیل سے کروایا جو جنسی بدسلوکی سے متاثرہ افراد کی نمائندگی کا تجربہ رکھتے تھے۔

ان کے مطابق سکما کا مقدمہ قانونی کارروائی کے لیے سب سے مضبوط تھا۔

ہم نے ابا اور حرمیاتی سے ان پر لگائے گئے الزامات کے بارے میں رابطہ کیا لیکن انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

این ڈبلیو ڈی آئی نے کہا کہ وہ اب بھی اندرونی طور پر الزامات کی تحقیقات کر رہی ہے اور اس نے جنسی بدسلوکی کے الزامات کو چھپانے کی کسی بھی کوشش کی تردید کی۔

تنظیم نے کہا کہ اس کی ’ذمہ داری ہے کہ افراد کے مبینہ اقدامات کی وجہ سے تنظیم کی ساکھ کو نقصان سے محفوظ رکھا جائے۔‘

سکما نے گذشتہ سال فروری میں ابا کے خلاف پولیس کو شکایت درج کروائی تھی۔

وہ اب بھی پولیس کی کارروائی کی منتظر ہیں اور ابا اب بھی اپنے عہدے پر موجود ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں نہیں چاہتی کہ جو میرے ساتھ ہوا وہ کسی اور طالب علم کے ساتھ ہو۔ میں انصاف چاہتی ہوں۔‘

تاہم اس تحقیق نے زیا اور یسرون کو ایک دوسرے کے اور قریب کر دیا۔

گذشتہ فروری میں تین سال تک پیغامات اور گفتگو کے بعد یسرون نے زیا کے ساتھ رہنے کے لیے قاہرہ منتقل ہونے کا فیصلہ کیا۔

Zia has a straw bag over her shoulder, and wears a white blouse and pink hijab. She has her hand on Yusron's head. He has his arm around her and is wearing grey sweat pants and a black t-shirt.
،تصویر کا کیپشنقاہرہ میں زیا اور یسرون

یسرون نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں تھک چکا تھا۔ جکارتہ میں یہ بہت تھکا دینے والا تجربہ تھا کیونکہ میں پورا وقت پولیس کے مقدمے سے نمٹ رہا تھا۔ لہٰذا جب میں نے زیا کو دیکھا۔۔۔ تو وہ دوا کی طرح تھیں۔‘

زیا نے کہا کہ وہ اتنی خوش تھیں کہ ’میں مسلسل بولتی ہی چلی گئی۔‘

’اسی وقت مجھے معلوم ہوا کہ وہ سنجیدہ ہیں۔ وہ میرے لیے مصر تک آئے تھے۔ مجھے ان پر اعتماد ہے۔ اسی لیے میں ان کے ساتھ ہوں۔‘

یہ اعتماد کسی حد تک انصاف کے مشترکہ حصول کی کوشش پر قائم ہوا۔

گذشتہ ماہ اس جوڑے کی شادی ہو گئی۔

ان کے وکیل جوکو جمادی کا کہنا ہے کہ وہ ان طلبہ کی جرات اور باریک بینی سے متاثر ہوئے ہیں۔

انھوں نے ہمیں بتایا کہ طلبہ کی خفیہ ریکارڈنگز خاموش رہنے کے لیے ڈالے جانے والے دباؤ کو حقیقی وقت میں ثبت کرتی ہیں اور اس کی غیر معمولی اہمیت ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’متعدد متاثرین کا ذکر موجود ہے اور خود متعلقہ شخص نے ان کا اعتراف بھی کیا ہے۔ یہ اہم شواہد ہیں۔‘

جوکو اور ان کی ٹیم نے گذشتہ تین برسوں میں مغربی نوسا تنگارا صوبے میں اسلامی بورڈنگ سکولوں سے متعلق جنسی بدسلوکی کے 20 مقدمات نمٹائے ہیں، اور ان کے خیال میں یہ ’صرف شروعات ہے۔‘