سیٹلائٹس کو نشانہ بنانے والے ہتھیار: کیا خلا اب جنگ کا اگلا محاذ بننے جا رہا ہے؟

Networks of satellites, like SpaceX's Starlink being delivered into orbit on the rocket pictures, could be vulnerable to disruption

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن2008 میں آپریشن برنٹ فروسٹ کے دوران امریکہ نے ایک خراب سیٹلائٹ کو میزائل سے تباہ کیا تھا
    • مصنف, مارک پیسنگ
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 10 منٹ

زمین کے گرد گردش کرنے والے سیٹلائٹس حالیہ جنگوں اور تنازعات سے بڑی حد تک محفوظ رہے ہیں لیکن اکیسویں صدی میں شاید خلا اب مزید محفوظ پناہ گاہ نہ رہے۔

24 فروری 2022 کو تقریباً صبح تین بجے یوکرین اور وسطی یورپ میں ہزاروں سیٹلائٹ موڈیمز بند ہو گئے۔ اس کے چند گھنٹوں بعد روس نے یوکرین پر حملہ کر دیا۔

امریکہ کے سینٹر فار سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز میں ایرو سپیس سکیورٹی پراجیکٹ کی ڈائریکٹر کاری بنگن کا کہنا ہے کہ ’روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کا پہلا حملہ یوکرین میں داخل ہونے والے ٹینک نہیں تھے بلکہ ایک تجارتی سیٹیلائٹ نظام پر سائبر حملہ تھا، جسے بعد میں روسی ریاست سے منسوب کیا گیا۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’انھوں نے ایسا اس لیے کیا کہ وہ یوکرینی فوج اور حکومت کی رابطے کی صلاحیت کو کمزور کرنا چاہتے تھے۔‘

جدید دور میں جنگ میں پہلا حملہ شاید رائفل یا میزائل سے نہیں بلکہ کمپیوٹر کوڈ کی ایک نقصان پہنچانے والی سطر سے ہو جو زمین کے گرد مدار میں موجود سیٹلائٹس کو نشانہ بنائے۔

سرد جنگ کے دوران امریکہ اور روس کا مقابلہ زمین پر، فضا میں، سمندر کے نیچے اور بڑی حد تک لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہتے ہوئے خلا میں بھی تھا لیکن اب مدار میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھ رہی ہے اور اس بار سب کی نظریں اس پر ہیں۔

موجودہ تناظر میں اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے کیونکہ اس سے 626 ارب ڈالر (479 ارب پاؤنڈ) کی خلائی معیشت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

فروری کے آغاز میں یہ بات سامنے آئی کہ 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد سے دو روسی سیٹلائٹس غالباً کم از کم ایک درجن یورپی سیٹلائٹس کے مواصلاتی مواصلاتی سگنلز پکڑ چکے ہیں۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ایسی مداخلت سے ممکنہ طور پر روسی انٹیلیجنس اداروں کو ان سیٹلائٹس کے ذریعے منتقل کیے جانے والے حساس ڈیٹا تک رسائی اور ان کا کنٹرول حاصل کیے جانے کا خدشہ ہو سکتا ہے۔

گزشتہ چند برسوں میں زمین پر موجود دوربینوں اور مدار میں موجود کیمروں نے دو روسی سیٹلائٹس، Luch-1 اور Luch-2، کو مدار میں کئی مشتبہ حرکات کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

خاص طور پر انھیں یورپ کے قدرے پرانے مگر اہم ترین جیو سٹیشنری سیٹلائٹس کے بہت قریب جاتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔

ان میں انٹیل سیٹ 39 بھی شامل ہے جو زمین سے اتنی بلندی پر گردش کرتا ہے کہ زمین کی سطح پر ایک ہی مقام کے اوپر ساکن دکھائی دیتا ہے۔

اتنی بلند پوزیشن انھیں مواصلات، نیویگیشن اور فوجی مقاصد کے لیے مثالی پلیٹ فارم بناتی ہے۔ اسی لیے وہ کسی ممکنہ حریف کے لیے ایک قیمتی ہدف بھی ہیں۔

اگر روس جیسی کسی دوسری طاقت کے ساتھ تنازع ہوتا ہے تو مغربی ممالک کو ایسے حملوں کو ناکام بنانے کے لیے منصوبہ بندی کرنا پڑ رہی ہے۔

فرانسیسی سیٹیلائٹ ٹریکنگ کمپنی الڈوریا کے سینیئر تجزیہ کار نوربر پوزین کہتے ہیں کہ ’جب ایک سیٹیلائٹ خلا میں کسی دوسرے سیٹیلائٹ کے بہت قریب آ جاتا ہے تو پھر کھیل سارا یہ ہوتا ہے کہ پہلا قدم کون اٹھاتا ہے، اور پھر دوسرا سیٹلائٹ اس پر کیا ردعمل دیتا ہے۔‘

اس صورت حال کو ڈاگ فائٹس یعنی لڑاکا طیاروں کے درمیان ہونے والی فضائی لڑائیوں سے تشبیہ دی گئی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہ خلا میں ہوتی ہیں۔

2022 میں یوکرین پر روس کا حملہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن2022 میں یوکرین پر حملے سے پہلے روس نے سیٹلائٹ مواصلاتی رابطوں میں خلل ڈالا تھا

حالیہ برسوں میں روس کا انداز اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اس کی ہائبرڈ جنگ اب خلا تک بھی پھیل گئی ہے، یعنی ایسا تنازع جس میں مواصلاتی نظام میں خلل ڈالنے جیسے غیر فوجی ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے ہیں۔

روس کے نزدیک سیٹلائٹس امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی کمزور کڑی ہیں کیونکہ وہ ان پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔

ان میں خلل ڈالنے سے شہری اور فوجی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچ سکتا ہے۔

رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ میں خلائی جنگ کی ماہر جولیانا سُوس کہتی ہیں کہ یہ روس کے لیے کوئی نئی بات نہیں۔

’چاہے معاملہ خلا کا ہو یا زمین کا، ہم بار بار ایسی کارروائیاں دیکھتے ہیں۔ چاہے وہ پولینڈ کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے ڈرونز ہوں یا روسی سیٹیلائٹس دوسرے مواصلاتی سیٹیلائٹس کے قریب ہو، یا پھر چاہے وہ مغربی حکومت کے کمرشل سیٹیلائٹس سے تعلق رکھتے ہوں۔ ہم نے انھیں 10 سالوں سے ایسا کرتے دیکھا ہے۔‘

سرد جنگ کے دور سے ہی ایسے ہتھیار تیار کیے جاتے رہے ہیں جن کا مقصد حریف پر فوجی برتری حاصل کرنے کے لیے سیٹیلائٹس اور خلا میں موجود ڈھانچے کو تباہ کرنا، ان میں خلل ڈالنا یا ان کی صلاحیت کم کرنا ہوتا ہے۔

ان میں اس حملے میں استعمال ہونے والے سائبر ہتھیاروں سے لے کر سیٹیلائٹ کے سگنلز میں مداخلت یا جعلی سگنلز بھیجنے کی صلاحیت اور لیزر یا الیکٹرو میگنیٹک پلس (توانائی) جیسے نسبتاً زیادہ جدید ہتھیار بھی شامل ہیں۔

ان ہتھیاروں کو زمین، فضا یا یہاں تک کہ کسی ایسے دوسرے سیٹلائٹ سے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے جو اپنے ہدف کے قریب پہنچ چکا ہو تاکہ کسی سیٹلائٹ کو ناکارہ یا تباہ کیا جا سکے۔

اس کے علاوہ زمین یا فضا سے داغے جانے والے میزائل، یا کسی دوسرے خلائی جہاز سے چھوڑے جانے والے تیر نما ہتھیار بھی ہیں، جو کسی سیٹلائٹ کو براہِ راست تباہ کر سکتے ہیں۔

کاری بنگن کہتی ہیں کہ ’ہم معمول کے مطابق سیٹلائٹس پر سائبر حملے دیکھ رہے ہیں۔ الیکٹرانک جنگ، یعنی سگنلز میں مداخلت یا جعلی سگنلز بھیجنا، یوکرین کی جنگ میں بڑے پیمانے پر استعمال ہو رہی ہے۔ چین نے بھی اپنے فوجی دستوں کے ساتھ خطے میں بڑی تعداد میں جیمرز تعینات کر رکھے ہیں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’ایران نے بھی جیمرز تعینات کیے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ اب آپ ای بے سے کم طاقت والا جی پی ایس جیمر بھی خرید سکتے ہیں۔‘

بعض ممالک خلا میں حقیقی ہتھیاروں کا بھی تجربہ کر چکے ہیں مثلاً ایسے میزائل جن کے ذریعے مدار میں موجود کسی سیٹلائٹ کو ناکارہ بنایا جا سکتا ہے۔ بنگن کے مطابق اس ٹیکنالوجی پر کام سرد جنگ کے دوران امریکہ اور سوویت یونین نے شروع کیا تھا۔

پھر 2007 میں چین کے ایک میزائل تجربے نے صورت حال بدل دی۔

ان کے مطابق چین نے ایک ناکارہ موسمیاتی سیٹلائٹ کو میزائل سے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ہزاروں ٹکڑے خلا میں بکھر گئے اور اندازہ تھا کہ وہ 70 برس تک مدار میں موجود رہیں گے۔

2008 میں امریکہ نے ایک کارروائی کا اعلان کیا جسے آپریشن برنٹ فروسٹ کہا گیا۔

کاری بنگن کہتی ہیں کہ ’ اس میں ایک بحری جہاز سے داغے گئے میزائل دفاعی نظام کے انٹرسیپٹر کے ذریعے ایک خراب امریکی سیٹلائٹ کو تباہ کیا گیا تھا۔‘

ان کا دعویٰ ہے کہ یہ اقدام حفاظتی وجوہات کی بنا پر کیا گیا تھا۔

خلا میں اس ہتھیاروں کی دوڑ میں دوسرے ممالک بھی شامل ہو چکے ہیں۔ انڈیا بھی امریکہ اور چین کی طرح میزائل دفاعی نظام کے انٹرسیپٹر کے ذریعے ایک سیٹلائٹ کو تباہ کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کر چکا ہے۔

کاری بنگن کے مطابق ’روس نے بھی نومبر 2021 میں، یعنی یوکرین پر حملے سے تین ماہ پہلے، ایسا تجربہ کیا تھا۔ کیا وہ ہمیں کوئی پیغام دینا چاہتا تھا یا پھر روسی فوج محض ایک تجربہ کر رہی تھی؟‘

2008 میں آپریشن برنٹ فروسٹ کے دوران امریکہ نے ایک خراب سیٹلائٹ کو میزائل سے تباہ کیا تھا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پوزین کے مطابق امریکی حکام یہ شبہ بھی ظاہر کر چکے ہیں کہ روس نے کسی کو-آربیٹل ہتھیار (co-orbital weapon) کا تجربہ کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ کوئی سیٹلائٹ نہیں بلکہ خلا میں موجود کسی سیٹلائٹ سے چھوڑا جانے والا ایک طرح کا گولا یا ہتھیار ہے۔ تاہم روس اس کی تردید کرتا ہے۔

ایسے ہتھیاروں کے استعمال سے پیدا ہونے والا ملبہ برسوں تک مدار میں رہ سکتا ہے، جس سے ’کیسلر سنڈروم‘ کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔ کیسلر سینڈروم ایک ایسا سلسلہ وار عمل ہے جس میں خلا میں ملبے کے بڑھتے ہوئے ٹکڑے آپس میں ٹکراتے ہیں اور اس کے نتیجے میں مزید ملبہ پیدا ہوتا جاتا ہے۔

سُوس کا خیال ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے تجربات کے پیچھے شاید ایک اور زیادہ تشویش ناک وجہ بھی ہو۔

وہ کہتی ہیں کہ ’روسی اور چینی جانتے ہیں کہ ہم ان اثاثوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں، اور وہ جانتے ہیں کہ ہم انھیں ان کے قریب جا کر حرکت کرتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’اس لیے وہ اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کر رہے ہیں تاکہ یہ واضح کر سکیں کہ ہم کسی بھی میدان میں خود کو محفوظ نہ سمجھیں یہاں تک کہ خلا بھی اس سے مختلف نہیں۔!

دوسری جانب بنگن کہتی ہیں کہ ’سوال ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ کیا وہ ہمیں کوئی پیغام دے رہے ہیں؟ کیا وہ ٹیکنالوجی، عملی طریقہ کار اور حکمتِ عملیوں کا تجربہ کر رہے ہیں؟ یا پھر اس دن کے لیے ہمارے بارے میں معلومات جمع کر رہے ہیں جب وہ واقعی ایسا کرنا چاہیں؟ ہم یہ نہیں جانتے۔ ہمیں بدترین صورتِ حال کے لیے تیار رہنا پڑتا ہے۔‘

ماہرین کے ذہنوں میں یقینا اس وقت تک یہی سوال تھا۔ پھر یوکرین جنگ شروع ہونے سے کچھ ہی پہلے روس کا رویہ زیادہ سنجیدہ نظر آنے لگا۔

خلا میں جوہری ہتھیار

2022 میں روس نے یوکرین پر حملے سے چند ہفتے پہلے کوسموس 2553 کو خلا میں بھیجا تھا۔

دو سال بعد امریکہ نے الزام عائد کیا کہ یہ سیٹلائٹ ممکنہ طور پر خلا میں نصب کیے جانے والے جوہری ہتھیار کی تیاری کے روسی پروگرام کا حصہ ہو سکتا ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ اس طرح کا ہتھیار سپیس ایکس کے سٹار لنک جیسے بڑے سیٹلائٹ نیٹ ورکس کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ سٹار لنک نے روسی حملے کا مقابلہ کرنے میں یوکرین کی مدد کی ہے۔

تاہم روس اس الزام کی تردید کرتا ہے۔

خلا میں جوہری ہتھیاروں کا تصور اتنا غیر حقیقی نہیں جتنا بظاہر لگتا ہے۔ 1962 میں امریکہ نے یہ دیکھنے کے لیے مدار میں ایک جوہری بم کا دھماکہ کیا تھا کہ آیا اس سے الیکٹرو میگنیٹیک پلس پیدا ہوتی ہے یا نہیں۔

الیکٹرومیگنیٹک پلس سے پیدا ہونے والی توانائی برقی نظام کو ناکارہ بنا سکتی ہیں، ریڈیو رابطوں میں خلل ڈال سکتی ہیں اور تابکاری کے مصنوعی حصار پیدا کر سکتی ہیںجس سے سیٹلائٹس ناکارہ بنائے جا سکتے ہیں۔

سٹارفش پرائم کے نام سے ہونے والے اس تجربے سے واقعی ایک برقی توانائی پیدا ہوئی، اور یہ توقع سے کہیں زیادہ طاقتور تھی۔ اس دھماکے کے بعد آنے والے دنوں اور مہینوں میں کئی سیٹلائٹس ناکارہ ہو گئے تھے۔

سُوس کہتی ہیں کہ ’جو کچھ ہم جانتے ہیں اور جس پر بات ہوئی ہے، اس کی بنیاد پر اس وقت مدار میں کوئی جوہری ہتھیار سے لیس سیٹیلائٹ موجود نہیں۔ البتہ ایسا سیٹیلائٹ بنانا یقیناً ممکن ہے۔ میرے خیال میں جو بھی ملک جوہری صلاحیت رکھتا ہے، وہ ایسا کر سکتا ہے۔‘

لیکن کیا روس واقعی ایسا سیٹیلائٹ بنانے کا ارادہ رکھتا ہے؟

سُوس کے مطابق اگر وہ ایسا کرتا بھی ہے تو اس کے استعمال کا امکان کم ہے۔ ان کے بقول روس کا اتحادی چین بھی امریکہ کی طرح خلائی ٹیکنالوجی پر تیزی سے زیادہ انحصار کر رہا ہے۔

سُوس کہتی ہیں کہ ’روس کے لیے ایسا کرنا صرف اسی صورت میں قابلِ عمل ہو گا جب اس کے پاس کوئی اور راستہ نہ بچا ہو۔‘

ایسے کسی دھماکے سے خلا میں ملبہ اس قدر بڑھ سکتا ہے کہ کیسلر سینڈروم پیدا ہو جائے۔جولیانہ سُوس کے مطابق اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تابکاری خلا تک رسائی کو کئی ماہ اور ممکنہ طور پر کئی برسوں تک بھی متاثر کر سکتی ہے۔

خلائی نظام کے خلاف استعمال ہونے والے ہتھیاروں کا مستقبل

پوزین کا کہنا ہے کہ ’ہم جانتے ہیں کہ خلا میں نئی ٹیکنالوجی اور نئے آلات تیار کرنے اور ان کا تجربہ کرنے کے حوالے سے چین کا پروگرام بہت تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ مغربی ممالک میں جن منصوبوں کے لیے سرکاری ادارے فنڈ فراہم کر رہے ہیں، ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ چھوٹے محافظ یا سکیورٹی مقاصد کے سیٹلائٹس کی تیاری پر بڑی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔

ان کے مطابق یہ سیٹلائٹس کسی نہایت اہم اور حساس سیٹلائٹ کی حفاظت کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں یا پھر کسی دوسرے سیٹلائٹ کا جائزہ لینے کے لیے بھیجے جا سکتے ہیں۔

جاپان، فرانس، انڈیا اور جرمنی سب یہ اشارہ دے چکے ہیں کہ وہ ایسے محافظ یا باڈی گارڈ سیٹلائٹس بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں یا ان پر پہلے ہی کام کر رہے ہیں۔

بنگن کہتی ہیں کہ ’جس بھی ملک کے پاس میزائل ہے، مدار سے متعلق بنیادی معلومات موجود ہیں اور جو یہ جانتا ہے کہ سیٹلائٹس متوقع راستوں پر گردش کرتے ہیں، جیسے ایران یا شمالی کوریا، وہ کسی سیٹلائٹ کو نشانہ بنانے کے لیے میزائل داغ سکتا ہے۔

تاہم سٹار لنک جیسے سیٹلائٹ نیٹ ورکس میں ایک یا چند سیٹلائٹس کو تباہ کرنے سے پورا نظام متاثر نہیں ہو گا۔

تاہم جوہری ہتھیار واحد راستہ نہیں ہو سکتا۔ ایک تجویز یہ ہے کہ ڈرونز، غباروں یا طیاروں کے بیڑے میں نصب 935 چھوٹے اور باہم مربوط جیمرز استعمال کیے جائیں۔ چین میں ہونے والی تحقیق سے اشارہ ملتا ہے کہ یہ مل کر اتنی طاقتور برقی مقناطیسی رکاوٹ پیدا کر سکتے ہیں کہ تائیوان کے تقریباً برابر رقبے میں سٹارلنک کے سگنلز کو روک سکیں۔

سُوس کہتی ہیں کہ ’خلائی طاقتوں میں سے کسی ایک کے غلط اندازے کا خطرہ مزید بڑھے گا۔ اگر کوئی سیٹلائٹ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے اور قریب ہی کوئی مشتبہ سیٹلائٹ موجود ہو تو پھر لازمی طور پر یہ سوال اٹھے گا کہ کیا یہ جان بوجھ کر کی گئی مداخلت تھی یا پھر ایک حادثہ تھا۔‘