اسلام آباد میں بین الاقوامی کانفرنس ملتوی: ’پاکستان سکیورٹی ڈائیلاگ خود سکیورٹی خدشات کی نذر ہو گیا‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, اعظم خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
’مجھے افسوس کے ساتھ اعلان کرنا پڑ رہا ہے کہ پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پیس سٹڈیز (پپس) کا آئندہ پاکستان سکیورٹی ڈائیلاگ 2026 منسوخ کر دیا گیا ہے، کیونکہ بیشتر غیر ملکی مندوبین کے ویزے منسوخ کر دیے گئے ہیں جبکہ سرینا ہوٹل نے بھی سکیورٹی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے تمام بکنگز ختم کر دی ہیں۔ تاحال اس حوالے سے کوئی تحریری وضاحت نہیں دی گئی ہے۔‘
یہ الفاظ سکیورٹی امور کے ماہر محمد عامر رانا کے ہیں، جن کے ادارے نے 20 اور 21 ستمبر کو 'پاکستان سکیورٹی ڈائیلاگ 2026: علاقائی امن اور استحکام کی راہیں' منعقد کرنے کا اعلان کیا تھا۔
کانفرنس میں چین، امریکہ، بنگلہ دیش، یورپی اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے مندوبین کی شرکت متوقع تھی، تاہم متعدد غیر ملکی شرکا کے ویزے منسوخ ہونے اور اسلام آباد کے سرینا ہوٹل کی جانب سے سکیورٹی خدشات کے باعث بکنگ منسوخ کیے جانے کے بعد تقریب ملتوی کر دی گئی۔
پپس نے اس سے قبل ماضی میں بھی ایسی متعدد کانفرنسز کا انعقاد کیا اور ان تقریبات میں غیرملکی مہمان اور ماہرین شریک ہوئے۔
عامر رانا نے بی بی سی نیوز اردو کو بتایا کہ اس بار بھی اس کانفرنس کے لیے ان کے ادارے اور ان کی ٹیم نے بہت محنت کی تھی۔ ان کے مطابق اس کانفرنس میں حکومتی وزرا، ماہرین، صحافی اور سیاسی رہنما بھی مدعو تھے۔
واضح رہے کہ ملتوی ہونے والی کانفرنس کے شرکا میں پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیر اعلی بلوچستان سرفراز بگٹی اور سابق وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ بھی شامل تھے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس پروگرام میں کسی انڈین مندوب کی براہِ راست شرکت متوقع نہیں تھی۔ البتہ سابق انڈین وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے سابق سپیچ رائٹر اور معروف تجزیہ کار سدھیندرا کلکرنی نے آن لائن خطاب کرنا تھا۔ اس کے باوجود کانفرنس کی منسوخی نے منصوبہ بندی، ویزا انتظامات اور سکیورٹی جائزے سے متعلق کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔
سرینا ہوٹل کے ایک مینیجر نے بی بی سی کو بتایا کہ ہمیں بتایا گیا کہ موجودہ حالات میں مہمانوں کے لیے مناسب انتظامات کرنا ممکن نہیں ہوگا جس وجہ سے بکنگ ملتوی کی گئی۔ تاہم انھوں نے کہا کہ یہ صرف ہوٹل کا فیصلہ نہیں تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس حوالے سے بی بی سی نے دفترِ خارجہ سے رابطہ کیا تو انھوں نے وزارتِ داخلہ سے رابطہ کرنے کو کہا۔ ہم نے وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کو بھی اس حوالے سے سوال بھیجا ہے، تاہم اس خبر کی اشاعت تک ہمیں کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
پپس نے اس کانفرس کو منسوخ کرنے کی کیا وجوہات بتائی ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
بی بی سی کے رابطہ کرنے پر پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پیس سٹڈیز (پپس) نے ’پاکستان سکیورٹی ڈائیلاگ 2026: علاقائی امن اور استحکام کی راہیں‘ کے عنوان سے 20 اور 21 ستمبر کو اسلام آباد میں منعقد ہونے والی دو روزہ کانفرنس منسوخ کرنے کی تصدیق کی۔ ادارے کے مطابق یہ مکالمہ بین الاقوامی یومِ امن کے موقع پر منعقد کیا جانا تھا۔
پپس کے مطابق یہ فیصلہ اُس وقت کیا گیا جب کانفرنس کے میزبان مقام سرینا ہوٹل نے اچانک تقریب اور اس میں شرکت کے لیے آنے والے مہمانوں کی تمام ہال اور کمروں کی بکنگ منسوخ کر دی۔
ہوٹل انتظامیہ نے اس کی وجہ سکیورٹی خدشات بتائی، جن کے بارے میں کہا گیا کہ متعلقہ سرکاری اداروں کی جانب سے آگاہ کیا گیا تھا۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب کئی بین الاقوامی مندوبین پہلے ہی اسلام آباد کے لیے روانہ ہو چکے تھے۔ پپس نے اس صورتحال کے باعث متاثر ہونے والے تمام شرکا سے معذرت اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
پپس 2006 میں اپنے قیام کے بعد سے علاقائی اور داخلی سکیورٹی سے متعلق متعدد قومی اور بین الاقوامی کانفرنسوں اور مکالموں کا انعقاد کرتا رہا ہے۔ ان سرگرمیوں نے علاقائی سلامتی، جغرافیائی سیاست، انسدادِ دہشت گردی، قیامِ امن اور استحکام جیسے موضوعات پر علمی اور پالیسی مباحث میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
پاکستان سکیورٹی ڈائیلاگ 2026 کا مقصد بھی ایسے اہم موضوعات پر شواہد اور حقائق پر مبنی پالیسی مکالمے کو فروغ دینا تھا، جن کی پاکستان اور خطے کے لیے بنیادی اہمیت ہے مگر جن پر اکثر پالیسی اور علمی حلقوں میں محدود بحث ہوتی ہے۔
کانفرنس کے اہم موضوعات میں شامل تھے: عالمی اور علاقائی سکیورٹی کی بدلتی ہوئی صورتحال، پاکستان کے ہمسایہ خطے اور پائیدار استحکام کے امکانات، روس۔یوکرین جنگ اور اس کے عالمی و علاقائی سکیورٹی پر اثرات، وسطی ایشیا، شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او)، افغانستان اور پاکستان کا سکیورٹی منظرنامہ، ایران میں امریکہ۔اسرائیل جنگ کے بعد ابھرتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورت حال اور اس کے مغربی ایشیا، بحرِ ہند اور پاکستان پر اثرات، پاکستان کی داخلی سکیورٹی اور اس کے سی پیک و سماجی و اقتصادی ترقی پر مضمرات۔
پپس کے مطابق بعض مقررین اور موضوعات کے حوالے سے موصول ہونے والی آرا کے بعد کانفرنس کے ایجنڈے میں کچھ تبدیلیاں کی گئی تھیں اور مندوبین کی تعداد بھی محدود کر دی گئی تھی، تاہم مکالمے کے بنیادی مقاصد برقرار تھے۔ ان میں باخبر بحث کو فروغ دینا، علاقائی فہم میں اضافہ کرنا اور پیچیدہ سکیورٹی مسائل کے پرامن حل کی حوصلہ افزائی شامل تھی۔
ادارے نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس وقت پاکستان اور خطے کے لیے اہم موضوعات پر مکالمے کے ایک مؤثر پلیٹ فارم کو برقرار رکھنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ کانفرنس کی منسوخی سے نہ صرف مالی نقصان ہوا بلکہ طویل عرصے کی تنظیمی محنت بھی متاثر ہوئی۔ پپس کے مطابق 2019 سے جاری اس مکالمے کے سلسلے کو پہلے ہی کووڈ-19 وبا کے باعث دو سالہ تعطل کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
پپس نے امید ظاہر کی کہ پاکستان میں ایسا ماحول فروغ پاتا رہے گا جہاں مکالمہ، باخبر مباحثہ اور مختلف آرا پالیسی سازی اور عوامی بحث کا حصہ بن سکیں۔ ادارے نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ آئندہ بھی پرامن مکالمے، معیاری تحقیق اور جامع پالیسی مباحث کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

،تصویر کا ذریعہgettyimages
’دارالحکومت اسلام آباد محصور شہر کا منظر پیش کر رہا ہے‘
پاکستان سکیورٹی ڈائیلاگ کی منسوخی کے معاملے پر سوشل میڈیا پر بھی بحث ہو رہی ہے۔ سابق سینیٹر مشاہد حسین سید نے پاکستان سکیورٹی ڈائیلاگ کی منسوخی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے خوف اور غلط خدشات پر مبنی ایک محدود سوچ کا عکاس قرار دیا ہے۔
ایکس پر اپنے بیان میں مشاہد حسین سید نے کہا کہ پاکستان آج ایشیا کے قلب میں ایک اہم ملک، عالمی سفارت کاری کا مرکز اور جغرافیائی و معاشی سیاست کا کلیدی محور بن چکا ہے، لیکن اس کے باوجود دارالحکومت اسلام آباد ’محصور شہر‘ کا منظر پیش کر رہا ہے، جہاں جگہ جگہ کنٹینرز کھڑے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ کانفرنسیں، تھنک ٹینکس کی سرگرمیاں، غیر ملکی مہمانوں کی آمد اور اہم قومی و عالمی مسائل پر کھلی بحث کسی بھی متحرک اور زندہ معاشرے کی بنیاد ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق ایسے مکالمے نہ صرف فکری سرگرمی کو فروغ دیتے ہیں بلکہ درپیش چیلنجز کے حل تلاش کرنے کا بہترین ذریعہ بھی ہیں۔
مشاہد حسین سید نے پپس کی کانفرنس کی منسوخی کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے آزادانہ مکالمے اور علمی تبادلۂ خیال کی اہمیت پر زور دیا۔
سیاسی رہنما افرا سیاب خٹک نے ایکس پر لکھا کہ ’جس ملک میں آمرانہ سوچ اور یک طرفہ بیانیہ غالب ہو، اور جہاں اختلافِ رائے کے لیے جگہ مسلسل سکڑ رہی ہو، وہاں کسی بھی نوعیت کے مکالمے کی گنجائش باقی نہیں بچتی۔‘
تجزیہ کار اور صحافی طاہر خان نے کانفرنس کی منسوخی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ایکس پر لکھا کہ ’یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ تقریب اس وقت منسوخ کر دی گئی جب اس کے تقریباً تمام انتظامات مکمل ہو چکے تھے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اس نوعیت کی کانفرنسوں اور مباحثوں کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے، کیونکہ یہ مقامی شرکا اور غیر ملکی مہمانوں کو ایک دوسرے سے ملنے، خیالات کے تبادلے اور اہم قومی و بین الاقوامی امور پر گفتگو کا قیمتی موقع فراہم کرتے ہیں۔‘
ان کے مطابق ایسے فورمز مختلف نقطۂ نظر کو سمجھنے اور درپیش چیلنجز کے حل تلاش کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
رویندر سنگھ روبن نامی صارف نے کانفرنس کی منسوخی پر تبصرہ کرتے ہوئے ایکس پر لکھا کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ ’یہ کانفرنس پاکستان کو درپیش سکیورٹی چیلنجز پر گفتگو کے لیے منعقد کی جا رہی تھی، مگر خود سکیورٹی خدشات کے باعث منسوخ کر دی گئی۔‘
انھوں نے لکھا کہ ’اب اصل سوال یہ ہے کہ آخر وہ سکیورٹی خدشات کیا تھے جن کی بنیاد پر کانفرنس کو منسوخ کرنا پڑا۔‘ ان کے بقول اگر سکیورٹی خطرات اس قدر سنگین ہیں کہ ایک بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد ممکن نہیں، تو پھر پاکستان مستقبل میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس یا ساؤتھ ایشین فیڈریشن (ایس اے ایف) گیمز جیسے بڑے بین الاقوامی ایونٹس کی میزبانی کیسے کرے گا؟
سینیئر صحافی اعزاز سید نے ایکس پر لکھا کہ ’ملک کے معتبر اور آزاد تھنک ٹینکس میں شمار ہونے والے ادارے پپس نے دہشت گردی کے خلاف تحقیق اور سکیورٹی امور پر تعمیری مکالمے کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کی مجوزہ بین الاقوامی سکیورٹی کانفرنس بھی اسی سلسلے کی ایک کوشش تھی، لیکن پہلے متعدد غیر ملکی شرکا، جن میں چینی مہمان بھی شامل تھے، کے ویزے منسوخ کیے گئے اور اب کانفرنس بھی منسوخ کر دی گئی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہPIPS
کانفرنس کے موضوعات اور شرکا کی تفصیلات
اس کانفرنس میں پہلا سیشن ’گلوبل اینڈ ریجنل سکیورٹی ڈانامکس‘ کے موضوع پر وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کی سربراہی میں ہونا تھا۔ ان کے ساتھ اس گفتگو میں پاکستان میں یورپی یونین کے سفیر رائمونڈاس کاروبلس اور ناروے کے سفیر سِگوالڈ ہاؤگے نے شرکت کرنا تھی۔
دوسرا سیشن ’پاکستان کے قریبی ہمسایہ خطے میں پائیدار استحکام کی راہیں‘ کے عنوان سے ہونا تھا جس میں امریکہ کے سٹمسن سینٹر کے جنوبی ایشیا کے لیے سینیئر فیلو ڈاکٹر ڈینئل ایس مارکی، پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری، چین کی فودان یونیورسٹی کے پاکستان سٹڈی سینٹر کے ڈائریکٹر پروفیسر ژانگ جیگن، سابق افغان سفیر حضرت عمر زاخیلوال، ڈھاکہ سے مصطفیٰ حسین اور امریکہ سے کامران بخاری نے شرکت کرنا تھی۔ اس سیشن میں سابق انڈین وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے سابق سپیچ رائٹر اور معروف تجزیہ کار سدھیندرا کلکرنی نے آن لائن شرکت کرنا تھی۔
’روس۔یوکرین جنگ: عالمی اور علاقائی سلامتی پر اثرات‘ کے موضوع پر ہونے والے سیشن میں پاکستان میں ہالینڈ کے سفیر رابرٹ یان زیگرٹ، وویچیخ کونونچوک، ڈائریکٹر، سینٹر فار ایسٹرن سٹڈیز، وارسا، پولینڈ، علینہ اینایہ، ڈائریکٹر، سکیورٹی اینڈ ڈیفنس پروگرام، ایسپن انسٹیٹیوٹ رومانیہ، یونیورسٹی آف ورلڈ اکانومی اینڈ ڈپلومیسی، تاشقند، ازبکستان کے پروفیسر الوغ بیک خاصانوف اور سینیئر محقق، کرِسچین مائیکلسن انسٹیٹیوٹ، برگن، ناروے کے ڈاکٹر آرنے اسٹرینڈ نے شرکت کرنا تھی۔
’پاکستان کی داخلی سلامتی کا منظرنامہ: چیلنجز، کامیابیاں اور آگے کا راستہ‘ والے سیشن میں مہمان خصوصی بلوچستان کے وزیر اعلیٰ سرفراز احمد بگٹی تھے۔ بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ عبدالمالک بلوچ، پی ایف یو جے کے سابق صدر شہزادہ ذوالفقار اور محمد عامر رانا نے اس گفتگو میں حصہ لینا تھا۔
’سی پیک کا مستقبل اور ترقی کے لیے پائیدار امن‘ والے سیشن میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال، سابق نگران وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ، سینیئر محقق، پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ اوسلو (پریو)، ناروے کے ڈاکٹر کاجا بورشگریونک، گوادر پورٹ اتھارٹی کے چیئرمین نورالحق بلوچ، تجزیہ کار ثاقب شیرانی اور پروفیسر ہوانگ یون سونگ جو چین کی سیچوان یونیورسٹی کے سکول آف انٹرنیشنل سٹڈیز کے ایسوسی ایٹ ڈین ہیں نے شرکت کرنا تھی۔
’امن کی نئی تعبیر اور انسانی مرکزیت پر مبنی سلامتی کے نظام‘ پر ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل طارق خان، افرا سیاب خٹک، مصطفیٰ حسین، غازی صلاح الدین اور صحافی حبیب اکرم نے گفگتو کرنا تھی۔
’امریکہ-اسرائیل جنگ کے بعد ایران کے ساتھ جغرافیائی سیاسی تبدیلیاں: مغربی ایشیا، وسطی ایشیا اور پاکستان‘ کے عنوان سے ہونے والے سیشن میں کامران بخاری، ازبکستان کی یونیورسٹی آف ورلڈ اکانومی اینڈ ڈپلومیسی کے انسٹیٹیوٹ آف ایڈوانسڈ انٹرنیشنل سٹڈیز میں قائم سینٹر فار امریکن سٹڈیز کے سربراہ ڈاکٹر اولوغبیک اشانخوجائیف، مشرقِ وسطیٰ سیاسی و اقتصادی انسٹیٹیوٹ، بخارسٹ (رومانیہ) کے شعبۂ سیاسی امور کے سربراہ فلاویئس کابا ماریا، صحافی باقر سجاد سید اور ڈینیئل ایس مارکی نے شرکت کرنا تھی۔



















