لائیو, امریکہ کا ایرانی وفد کو نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے اجلاسوں میں شرکت کے لیے ویزے جاری کرنے کا اعلان

امریکی حکومت نے ایرانی حکام کو اگلے ہفتے نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے ویزے جاری کر دیے ہیں۔ جن ایرانی عہدیداروں کو اجلاس میں شرکت کی اجازت دی گئی ہے ان میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی شامل ہیں۔

خلاصہ

  • امریکہ کا ایرانی وفد کو نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے اجلاسوں میں شرکت کی اجازت دینے کا اعلان
  • امریکہ نے سعودی عرب کو 48 ایف 35 لڑاکا طیاروں کی ممکنہ فروخت کی منظوری دے دی
  • سیستان و بلوچستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والے تین افراد ہلاک کر دیے: ایرانی وزارتِ اطلاعات کا دعویٰ
  • مقدس مقامات کے تحفظ کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے: ایران
  • ایرانی سکول اور سپورٹس سینٹر پر امریکی حملوں کو جنگی جرائم سمجھنے کی معقول وجہ موجود ہے: اقوام متحدہ کے ماہرین

لائیو کوریج

  1. جب تک ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو اقتدار میں ہیں، آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی: ایرانی رہبرِ اعلیٰ کے مشیر کا بیان

    trump netanyahu

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    ایران کے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کے سیاسی مشیر محمد باقر ذوالقدر کا کہنا جب تک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اقتدار میں ہیں ان کا ملک آبنائے ہرمز کو کھولنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔

    ایرانی خبر رساں اداروں کی جانب سے جمعرات کو شائع کیے گئے ایک بیان میں ذوالقدر کا کہنا تھا کہ ’ایرانی قوم نے جارح دشمن کی طاقت توڑنے اور متکبر قوتوں کی کمر توڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک نہیں کھولی جائے گی جب تک ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نےتن یاہو کو اقتدار سے نہیں ہٹا دیا جاتا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایرانی قوم کے انتقام کے پہلے مرحلے کا حصہ ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق ایک طرف جہاں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جنگ یا مذاکرات کے حوالے سے بار بار اور بعض اوقات متضاد بیانات سامنے آ رہے ہیں وہیں ایران کے اندر بھی اس بات پر اختلافات گہرے ہوتے جا رہے ہیں کہ آیا امریکہ کے ساتھ فوجی محاذ آرائی جاری رکھی جائے یا مذاکرات کی راہ اختیار کی جائے۔

    ملک کی بعض اعلیٰ سیاسی شخصیات بشمول صدر مسعود پزشکیان اور پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف امریکہ سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ وہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کرے اور اسے جنگ کے خاتمے کے لیے ایک لازمی شرط کے طور پر تسلیم کرے۔ دوسری جانب سخت گیر شخصیات، جن میں پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر بھی شامل ہیں، جنگ جاری رکھنے اور آبنائے ہرمز کو بند رکھنے کو امریکہ اور اسرائیل کا مقابلہ کرنے کے لیے زیادہ مؤثر حکمتِ عملی قرار دے رہی ہیں۔

    دریں اثنا، بڑھتی ہوئی مہنگائی، اقتصادی پابندیوں اور ایران کی جنوبی بندرگاہوں کے بحری محاصرے نے ملک کے شہریوں کی روزمرہ زندگی کو مزید دشوار بنا دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی بین الاقوامی کرنسیوں کے مقابلے میں ایرانی ریال کی قدر میں کمی نے عوام کے معاشی مسائل میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

  2. امریکہ کا ایرانی وفد کو نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے اجلاسوں میں شرکت کے لیے ویزے جاری کرنے کا اعلان

    Iranian President Masoud Pezeshkian (L) shakes hands with the UN Secretary General Antonio Guterres

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی حکومت نے ایرانی حکام کو اگلے ہفتے نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے ویزے جاری کر دیے ہیں۔

    بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ جن ایرانی عہدیداروں کو اجلاس میں شرکت کی اجازت دی گئی ہے ان میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی شامل ہیں۔

    امریکی محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان نے جمعرات کو اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وفد کی نقل و حرکت پر پابندیاں عائد ہوں گی اور اسے بعض امریکی مصنوعات خریدنے کی اجازت نہیں ہو گی۔

    یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان سات ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔ فروری میں شروع ہونے والی اس جنگ کے باعث عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور اس کے اثرات پڑوسی ممالک تک بھی پھیل چکے ہیں۔

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’میزبان ملک کے طور پر اپنی ذمہ داریوں کے مطابق، ایرانی حکومت کے مرکزی وفد کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں شرکت کی اجازت دی جائے گی۔‘

    انھوں نے کہا ’وفد کی نقل و حرکت پر پابندیاں ہوں گی اور ہماری پالیسی کے مطابق انھیں لگژری اور بعض دیگر اشیا کی خریداری کی اجازت نہیں ہو گی۔ یہ وفد گذشتہ سال کے مقابلے میں چھوٹا ہے۔‘

    گذشتہ سال ایران سے آنے والے سفارت کاروں پر کاسٹکو جیسے ہول سیل سٹورز سے خریداری پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ زیورات، شراب اور گاڑیوں سمیت لگژری اشیا خریدنے سے قبل انھیں امریکی حکام سے اجازت لینا ضروری تھا۔

    اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 81واں اجلاس اس وقت جاری ہے۔ اس سالانہ اجتماع کا مرکزی حصہ سمجھی جانے والی جنرل ڈیبیٹ منگل سے شروع ہونے والی ہے۔

  3. امریکہ نے سعودی عرب کو 48 ایف 35 لڑاکا طیاروں کی ممکنہ فروخت کی منظوری دے دی

    F-35

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ نے سعودی عرب کو ایف 35 لائٹننگ ٹو سٹرائیک فائٹر لڑاکا طیاروں اور متعلقہ دفاعی سازوسامان کی ممکنہ فروخت کی منظوری دے دی ہے۔

    امریکہ محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق اس دفاعی معاہدے کی کل مالیت 24.3 ارب ڈالر ہے۔

    بیان کے مطابق سعودی عرب نے 48 عدد ایف 35 لائٹننگ ٹو سٹرائیک فائٹرلڑاکا طیارے خریدنے کی درخواست کی تھی۔

    امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ ایف 35 لڑاکا طیاروں کی ’اس مجوزہ فروخت سے امریکہ کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے اہداف کو تقویت ملے گی کیونکہ اس کے ذریعے ایک اہم غیر نیٹو اتحادی ملک کی سکیورٹی بہتر بنائی جائے گی، جو خلیجی خطے میں سیاسی استحکام اور اقتصادی ترقی کے لیے ایک مؤثر قوت سمجھا جاتا ہے۔‘

    ’یہ مجوزہ معاہدہ سعودی عرب کی موجودہ اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافہ کرے گا، اس کی سرزمین کے دفاع کو مضبوط بنائے گا اور امریکی افواج، دیگر علاقائی شراکت داروں اور نیٹو افواج کے ساتھ باہمی عملی تعاون کو بہتر بنائے گا۔‘

    ’دفاعی سازوسامان کی مجوزہ فروخت اور معاونت سے خطے میں فوجی طاقت کا توازن تبدیل نہیں ہوگا۔‘

  4. سیستان و بلوچستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والے تین افراد ہلاک کر دیے: ایرانی وزارتِ اطلاعات کا دعویٰ

    ایران کی وزارتِ اطلاعات نے دعویٰ کیا ہے کہ صوبہ سیستان و بلوچستان میں تین ایسے سیلز کے خلاف کارروائی کی گئی جو صوبے کے جنوبی علاقوں میں حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

    وزارتِ اطلاعات کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں کے دوران تین افراد ہلاک جبکہ نو دیگر کو گرفتار کر لیا گیا۔

    وزارت کا کہنا ہے کہ یہ افراد بیرونِ ملک سے فوجی تربیت، بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کی تربیت حاصل کرنے کے بعد خفیہ طریقے سے ایران میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔

    وزارتِ اطلاعات نے مزید دعویٰ کیا کہ گرفتار افراد کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا، جبکہ ایک علیحدہ کارروائی میں سیستان و بلوچستان سے ہلکے اور نیم بھاری ہتھیاروں کا ایک ذخیرہ بھی برآمد کیا گیا۔

  5. مقدس مقامات کے تحفظ کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے: ایران

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ’مقدس مقامات کے تحفظ کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہونے سے روکا جائے اور اسے اختلافات بھڑکانے یا علاقائی کشیدگی میں اضافے کے آلے کے طور پر استعمال نہ کیا جائے۔‘

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ میں اسماعیل بقائی نے لکھا کہ اسلامی مقدس مقامات پر کسی بھی قسم کی جارحیت، بالخصوص مکہ، مدینہ اور مسجد اقصیٰ پر حملہ، یا ان مقامات کے زائرین اور مکینوں کو خطرے میں ڈالنا، قابلِ مذمت ہے۔

    واضح رہے کہ یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے لیے قائم عسکری اتحاد نے گذشتہ روز دعویٰ کیا تھا کہ ’حوثیوں کی جانب سے داغا گیا ڈرون مکہ کی فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے روک کر تباہ کر دیا گیا۔‘

    تاہم حوثیوں کی جانب سے مکہ پر ڈرون حملہ کرنے کے الزام کی تردید کی گئی تھی۔

    اسماعیل بقائی کا کہنا تھا: ’صرف یہ دعویٰ کہ مکہ کی جانب جانے والے ایک ڈرون کو روکا گیا، کسی مخصوص فریق پر الزام عائد کرنے کے لیے کافی بنیاد نہیں بن سکتا۔‘

    ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے کہا: ’یہ بھی فراموش نہیں کیا جانا چاہیے کہ ہمارے خطے میں، خصوصاً حالیہ مہینوں کے دوران، متعدد ’فالس فلیگ‘ آپریشن کیے گئے جن کا مقصد اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے خطے میں کیے گئے جرائم سے عوامی توجہ ہٹانا اور اور اسلامی ممالک کے درمیان تفرقہ پیدا کرنا تھا۔‘

    فالس فلیگ ایک ایسی کارروائی کو کہا جاتا ہے جو کی تو کسی اور نے ہو، لیکن اس کی ذمہ داری کسی اور پر عائد کر دی گئی ہو۔

    اسماعیل بقائی نے کہا: ’احتیاط اور ہوشیاری سے کام لینا ضروری ہے۔‘

  6. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • ایران کے پاسداران انقلاب نے قشم کی فضائی حدود میں امریکی فوج کا ایم کیو۔9 ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
    • سعودی عرب کے محکمہ شہری دفاع (سول ڈیفنس) کا کہنا ہے کہ فضا میں تباہ کیے گئے ایک ڈرون کا ملبہ طائف شہر پر گِرنے سے ایک شخص ہلاک جبکہ دو زخمی ہوئے ہیں۔
    • ایران سے متعلق حقائق معلوم کرنے والے اقوام متحدہ کے مشن نے جمعرات کو کہا ہے کہ اس کے پاس یہ یقین کرنے کی معقول بنیادیں موجود ہیں کہ فروری میں ایران میں ایک سکول اور کھیلوں کے ایک مقام پر ہونے والے دو فوجی حملوں کے پیچھے امریکہ تھا، اور یہ کارروائیاں جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہیں۔
    • امریکی ڈرون ساز کمپنی پاور یو ایس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے پاکستانی فوج کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت کمپنی کو بغیر پائلٹ فضائی نظام (ڈرونز) سے متعلق ابتدائی آرڈر بھی ملا ہے۔
  7. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔