’امت شاہ کے دورے پر سینیئر مسلمان افسران کو جانے کا کہا گیا‘: انڈین رُکن پارلیمان کی اقوام متحدہ سے شکایت پر ہنگامہ

ویڈیو پوسٹ میں گفتگو کا آغاز 'السلام علیکم' سے کرنے پر انڈین پولیس افسر بشریٰ بانو کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا تھا

،تصویر کا ذریعہBushara Bano's Facebook page

،تصویر کا کیپشنویڈیو پوسٹ میں گفتگو کا آغاز ’السلام علیکم‘ سے کرنے پر انڈین پولیس افسر بشریٰ بانو کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا تھا
    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اُردو
    • مقام, انڈیا
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

انڈیا کی ریاست مغربی بنگال کی ایک اپوزیشن رکنِ پارلیمان مہوا موئترا نے اقلیتوں کے حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کو ایک تحریری شکایت میں کہا ہے کہ ریاست کی بی جے پی حکومت پولیس اور انتظامییہ کے مسلمان اعلیٰ افسروں کے ساتھ مذہب کی بنیاد پر تفریق کر رہی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی اس مبینہ تفریق سے ریاست کی مذہبی اقلیتوں کی سلامتی اور تحفظ کے بارے میں تشویش پیدا ہو رہی ہے۔

حکمران بی جے پی نے ان الزامات کو بے بنیاد اور سراسر جھوٹ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ایک رکنِ پارلیمان کے طور پر اقوام متحدہ کے ادارے سے شکایت کر کے انھوں نے اپنی آئینی ذمہ داریوں سے انحراف کیا ہے۔

مہوا موئترا نے 11 صفحات پر مشتمل یہ خط اپنے رکنِ پارلیمان کے لیٹرہیڈ پر لکھا ہے اور اسے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر بھی شیئر کیا ہے۔

انھوں نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن میں اقلیتوں کے حقوق سے متعلق خصوصی نمائندے پروفیسر نکولس لیوریٹ کو لکھے گئے اس خط میں ملک کے وزیرِ داخلہ امت شاہ کے جولائی اور اگست میں ریاست کے دورے کا ذکر کیا ہے، جس کے دوران انھوں نے کئی تقریبات میں شرکت کی تھی۔

ان کے مطابق ریاست کے تین سینیئر مسلم افسران، سید وقار رضا (انڈین پولیس سروس)، جاوید شمیم (انڈین پولیس سروس) اور خلیل احمد (انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس) سے مبینہ طور پر امت شاہ کے دورے کے دوران ان تقریبات میں شرکت نہ کرنے یا وہاں سے چلے جانے کے لیے کہا گیا تھا۔

ان کی جگہ ہندو افسران کو تعینات کیا گیا تھا۔

وہ لکھتی ہیں کہ ان افسران میں ایک مشترک بات یہ تھی کہ وہ مسلمان تھے، جبکہ جن افسران کو ان کی جگہ تعینات کیا گیا ان کا مذہب مختلف تھا۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

مہوا موئترا نے اپنے خط میں ان مسلم افسران سے متعلق 18 جولائی سے 20 اگست تک کے سات واقعات کی فہرست پیش کی ہے اور اس میں بتایا ہے کہ انھیں کس تقریب سے مبینہ طور پر ہٹایا گیا اور ان کی جگہ کس ہندو افسر کو تعینات کیا گیا۔

وہ لکھتی ہیں کہ ’اگر ان واقعات کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو انھیں محض انتظامی لغزش قرار دے کر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔‘

ان افسران نے ان واقعات کے بارے میں تاحال کوئی بیان نہیں دیا ہے۔

مہوا موئترا نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن میں اقلیتی امور کے سربراہ سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے میں انڈیا کی نریندر مودی حکومت سے وضاحت طلب کریں۔

انھوں نے لکھا ہے کہ ’ان واقعات کی سنگینی کا تعلق صرف انفرادی افسران کی اہانت اور تذلیل تک محدود نہیں بلکہ اس سے دیا جانے والا پیغام اس سے بھی کہیں زیادہ تشویش ناک ہے۔‘

مہوا موئترا کا کہنا ہے کہ یہ پیغام صرف کانفرنس روم تک محدود نہیں ہے۔

ان کے مطابق مغربی بنگال میں مسلمانوں کی آبادی 27 فیصد ہے اور کئی سرحدی اضلاع میں ان کی اکثریت ہے۔ وہ ریاست کی سب سے بڑی مذہبی اقلیت ہیں۔

مہوا موئترا کا مؤقف ہے کہ مغربی بنگال میں مسلم آبادی کا پولیس، بارڈر سکیورٹی فورس اور دیگر سکیورٹی اداروں سے چیک پوائنٹس، دستاویزات اور شناختی کارڈوں کی جانچ، گرفتاریوں، حراست اور روزمرہ زندگی کے دیگر معاملات میں رابطہ دوسرے شہریوں کے مقابلے میں زیادہ رہتا ہے۔

انھوں نے لکھا کہ اگر مرکزی حکومت کی اعلیٰ ترین سطح پر مذہب کی بنیاد پر اس نوعیت کا امتیازی رویہ اختیار کیا گیا تو ماتحت اہلکار یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ ایسا طرزِ عمل قابلِ قبول ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ریاست کی ایک تہائی آبادی کے لیے اس کے ممکنہ مضمرات نہایت سنگین ہیں۔ اس سے پولیس اور سکیورٹی فورسز پر اقلیتی برادری کا اعتماد متزلزل ہو جائے گا۔‘

مغربی بنگال کی حکمران جماعت بی جے پی کے چیف ترجمان دیبا شیش سرکار نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’رکنِ پارلیمان مہوا موئترا کا یہ الزام سراسر جھوٹ ہے۔ رکنِ پارلیمان کی حیثیت سے اقوام متحدہ کو خط لکھ کر انھوں نے نہ صرف اپنے آئینی عہدے کی توہین کی ہے بلکہ ان کا پورا رویہ بھی غلط ہے۔ اگر ان کا الزام جھوٹا ثابت ہوا تو ان کے خلاف سنگین فوجداری مقدمات قائم کیے جا سکتے ہیں۔‘

دیبا شیش کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کے معاملات اٹھانے کے لیے ملک میں متعدد ادارے موجود ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’انھوں نے یہ معاملہ حکومتِ ہند کے اداروں کے بجائے اقوام متحدہ یا دیگر غیر سرکاری پلیٹ فارمز پر کیوں اٹھایا؟ انڈیا میں ایک جمہوری نظام قائم ہے۔ یہاں سپریم کورٹ اور ریاستی ہائی کورٹس میں ایسے معاملات اٹھانے کے بھرپور مواقع موجود ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت نے اس معاملے کو اتنی سنجیدگی سے نہیں لیا، ’لیکن اگر وہ سوشل میڈیا یا دیگر مقامات پر ایسی باتیں کرتی رہیں تو حکومت اس معاملے میں مناسب قدم اٹھائے گی۔‘

جمعرات کی شام مہوا موئترا نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ مسلم افسران کے ساتھ مبینہ تفریق سے متعلق ان کی پوسٹ کے بعد مغربی بنگال پولیس نے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی ہے اور انھیں پوچھ گچھ کے لیے ایک پولیس سٹیشن طلب کیا ہے۔

مہوا موئترا کی ایکس پوسٹ

،تصویر کا ذریعہx.com/mahuamoitra

انھوں نے لکھا کہ ’میں پولیس کے پاس جاؤں گی اور ان سے یہ بھی پوچھوں گی کہ انھوں نے پولیس افسر بشریٰ بانو کا تبادلہ کیوں کیا۔‘

انڈین پولیس سروس کی افسر بشریٰ بانو نے طلبہ کو مسابقتی امتحانات کی تیاری میں مدد دینے کے لیے ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی۔ اس ویڈیو میں انھوں نے اپنی گفتگو کا آغاز ’السلام علیکم‘ سے کیا تھا اور دورانِ گفتگو ’ان شاء اللہ‘ بھی کہا تھا۔

ان کے اس اظہار کے خلاف دائیں بازو کی ایک ہندو تنظیم ’ہندو لیگل فنڈ‘ نے ریاستی حکومت کے داخلہ سیکریٹری کو لکھے گئے ایک خط میں ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔

اس شکایت کے ایک روز بعد بشریٰ بانو کا تبادلہ کر دیا گیا۔

حکومت کا کہنا تھا کہ یہ تبادلہ ’عوامی مفاد‘ میں کیا گیا ہے۔

بشریٰ بانو

،تصویر کا ذریعہBushara Bano's Facebook page

،تصویر کا کیپشنسیکریٹری داخلہ کو ہندو لیگل فنڈ کے خط کے ایک روز بعد بشریٰ بانو کا تبادلہ کر دیا گیا تھا

مغربی بنگال کے سیاسی امور کے تجزیہ کار سوبجیت باغچی کا کہنا ہے کہ ’ریاست میں حکومتوں کی تبدیلی کے وقت کسی حد تک سیاسی کشیدگی موجود رہتی تھی، لیکن اس بار بنگال میں بی جے پی کی حکومت آنے کے بعد مذہبی بنیادوں پر جس قدر تقسیم پیدا ہوئی ہے، ماضی میں اس کی مثال صرف تقسیمِ ہند کے وقت سے دی جا سکتی ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’ریاست کے ماحول میں اتنا خوف پیدا ہو چکا ہے کہ لوگوں میں ناراضی تو ضرور ہے، لیکن وہ ڈر کی وجہ سے آواز نہیں اٹھا رہے۔ ریاست میں مسلمانوں کو روزانہ ہراساں کرنے، تشدد کا نشانہ بنانے اور ان کی تذلیل کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔‘

سوبجیت باغچی کے مطابق اس کے خلاف مسلمان بڑے پیمانے پر احتجاج کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ’لیکن انھیں معلوم ہے کہ اگر انھوں نے احتجاج یا جلسے جلوس کیے تو ریاستی حکومت ان کے خلاف مزید سخت انتقامی کارروائی کر سکتی ہے۔‘

سوبجیت کے مطابق یہی وجہ ہے کہ ’مسلمان مصلحتاً خاموش ہیں۔ اپوزیشن بھی منتشر ہو چکی ہے۔ صرف چند آوازیں اپوزیشن اور سول سوسائٹی کی جانب سے اٹھ رہی ہیں۔‘

مہوا موئترا نے ملک کے ایک داخلی معاملے کی شکایت اقوام متحدہ کے ایک ادارے سے کی ہے، تاہم اس بارے میں انڈیا کی حکومت کی جانب سے تا حال کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ حکومت کے لیے سبکی کا سبب بن گیا ہے اور وہ اسے آسانی سے نظر انداز نہیں کرے گی۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا ادارہ گذشتہ کئی برسوں سے اپنی سالانہ رپورٹوں میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف مبینہ امتیازی سلوک کے حوالے سے انڈیا کی حکومت پر تنقید کرتا رہا ہے۔