’پتھر کے دور‘ سے ’مشرق وسطیٰ کے سنہرے دور‘ تک: جنگ بندی کا مطلب وقتی مہلت ہے، جو شاید دیرپا نہ ہو

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, جیرمی بوون
- عہدہ, بین الاقوامی ایڈیٹر
- مطالعے کا وقت: 11 منٹ
لگ بھگ 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیانات کے ذریعے ’ایرانی تہذیب کو ایک ہی رات میں ختم کرنے‘ اور اسے ’پتھر کے دور میں دھکیلنے‘ سے لے کر ایران کے 10 نکاتی منصوبے کو مذاکرات کے لیے ایک ’قابل عمل بنیاد‘ قرار دینے اور ’مشرقِ وسطیٰ کا سنہرا دور آنے والا ہے‘ تک کا سفر طے کیا۔
بدھ کی صبح جنگ بندی کا اعلان مشرق وسطیٰ کے اُن تمام شہریوں کے لیے کسی حد تک سکون کا باعث ہے جو گذشتہ پانچ ہفتوں سے مسلسل حملوں کی زد میں تھے۔
تاہم یہ سکون اور اطمینان محسوس کرنے والوں میں لبنان کے عوام شامل نہیں ہیں۔
بدھ کے صبح اس معاملے میں ثالث کا کردار ادا کرنے والے پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے اعلان کیا تھا کہ ’ایران اور امریکہ نے، اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر، لبنان سمیت ہر جگہ اور دیگر علاقوں میں بھی فوری جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے، جو فوراً نافذ العمل ہے۔‘
تاہم اس اعلان کے کچھ ہی دیر بعد اسرائیل کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ جنگ بندی کا اطلاق لبنان پر نہیں ہوتا، اور اس کے بعد اسرائیل کی جانب سے لبنان پر فضائی حملوں کا نیا سلسلہ شروع کیا گیا جس میں درجنوں ہلاکتیں ہوئیں۔
اور شاید لبنان کی طرح دیگر مقامات پر بھی یہ عارضی مہلت (جنگ بندی) زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکے۔
ایران اور امریکہ دونوں ہی کے پاس جنگ ختم کرنے کی ٹھوس وجوہات ہیں۔ اِن دونوں ممالک کے اعلانیہ موقف ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں۔ آنے والے دو ہفتوں میں اب صرف یہ کوشش ہو گی کہ ان دونوں ممالک کے درمیان، جو ایک دوسرے پر بالکل بھی اعتماد نہیں کرتے، کوئی قابل عمل معاہدہ ہو سکے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے اس عارضی جنگ بندی کو ایک ’کمزور معاہدہ‘ قرار دیا ہے۔ اور شاید یہ ایک حقیقت پسندانہ اندازہ ہے۔
جنگ بندی کے بعد سے ہی امریکہ اور ایران فتح کا دعویٰ کر رہے ہیں اور دونوں جانب سے ہی کچھ ایسے دعوے بھی سامنے آ رہے ہیں جو حقیقت سے دور ہیں۔
امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے بدھ کو ایک پریس بریفنگ کے دوران دعویٰ کیا کہ یہ امریکہ کی ’واضح اور مکمل فوجی فتح‘ ہے۔ وہ ایک قدم اور آگے بڑھے اور اس فتح کو ’تاریخی اور زبردست‘ بھی قرار دیا۔
انھوں نے کہا کہ ’دنیا کا دہشت گردی کا سب سے بڑا سرپرست (ایران) خود اپنی، اپنے عوام کی اور اپنی سرزمین کی حفاظت کرنے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوا۔‘
دوسری جانب تہران کی جانب سے بھی اسی طرح کے بلند بانگ دعوے سامنے آئے جہاں حکومت نے خود کو ’زبردست فاتح‘ قرار دیا۔
ایران کے سینیئر عہدیدار محمد رضا عارف نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ’دنیا نے طاقت کے ایک نئے مرکز کا خیرمقدم کیا ہے اور ایران کا دور شروع ہو چکا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہEPA
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ٹرمپ کے حامی اس رائے کے حامل ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کو پہنچایا گیا ’شدید نقصان‘ بلاشبہ اسے مذاکرات پر مجبور کرنے کا سبب بنا۔
ٹرمپ کے حمایتی ان کے متضاد بیانات کو بھی فیصلہ کن مذاکراتی حکمتِ عملی کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔ یاد رہے کہ جنگ بندی سے قبل صدر کی دھمکیوں میں ایسے اقدامات کا تذکرہ بھی شامل تھا جو جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم جیسے محسوس ہوتے تھے۔
جبکہ ایرانیوں کا ماننا ہے کہ اُن کی حکومت کی مزاحمت اور امریکہ و اسرائیل کی طاقت کے سامنے ڈٹے رہنے، بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے جاری رکھنے کی صلاحیت، اور آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول نے امریکہ کو مذاکرات کرنے پر مجبور کیا ہے۔
یہ بات ابھی واضح نہیں کہ جب دونوں فریق اسلام آباد پہنچیں گے تو کیا پاکستانی اُن کے بیچ ایک پائیدار معاہدہ کروا سکیں گے یا نہیں، لیکن جنگ اور اس کے نتائج مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کو مسلسل نئی شکل دے رہے ہیں۔
ایران پر حملے کا حکم دیتے وقت صدر ٹرمپ اور وزیرِ اعظم نتن یاہو، دونوں نے کہا تھا کہ ایران میں حکومت کی تبدیلی (رجیم چینج) ہونے والی ہے۔ تاہم صدر ٹرمپ کی جانب سے اعلیٰ ایرانی رہنماؤں کی ہلاکت کو نئی حکومت کے آغاز کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کے باوجود، ایسا (رجیم چینج) نہیں ہوا ۔
ایران کے اندر حکومت کے مخالف وہ عناصر جو اس کے خاتمے کی امید لگائے بیٹھے تھے، اس انداز سے مطمئن نہیں ہوں گے جس طرح یہ جنگ ختم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
جس حکومت کے بارے میں امریکہ اور اسرائیل نے کہا تھا کہ وہ جلد گِر جائے گی، اب وہ مکمل طور پر مذاکرات میں شریک فریق بننے جا رہی ہے۔ ایران اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کرے گا، اس سے قطع نظر کہ صرف چند ہفتے پہلے تک ٹرمپ ایرانی حکومت سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
یہ بالکل واضح نہیں کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات، امریکہ اور ایران میں جنیوا میں ہونے والی بات چیت سے کس طرح مختلف ہوں گے۔ یہ مثال بھی ہمارے سامنے ہے کہ جب جنیوا مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی تھی، تو عین اسی وقت امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف دوبارہ جنگ شروع کر دی تھی۔
جنیوا میں جوہری پروگرام سے متعلق ایک نئے معاہدے پر بات ہو رہی تھی، جس میں افزودہ یورینیم کے ایرانی ذخیرے کے مستقبل کا فیصلہ بھی شامل تھا۔
اسلام آباد میں ایک اور مسئلہ بھی اُتنی (افزودہ یورینیم جتنی) ہی اہمیت رکھے گا اور وہ ہے آبنائے ہرمز۔
یہ ایران کے لیے ایک نیا طاقتور ہتھیار بن چکا ہے۔ اگر امریکہ اور اسرائیل دوبارہ جنگ کی طرف جاتے ہیں تو ایران یہ پہلے ہی دکھا چکا ہے کہ وہ باآسانی آبنائے ہرمز بند کر سکتا ہے، جس سے عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
28 فروری سے پہلے بین الاقوامی بحری جہاز آزادانہ طور پر آبنائے ہرمز سے گزر سکتے تھے۔
اب ایران کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے دوران وہ دوبارہ جہازوں کو آبنائے ہرمز استعمال کرنے کی اجازت دے گا، بشرطیکہ اُن کی نقل و حرکت ایرانی فوج کے ساتھ مربوط ہو۔ ایران چاہے گا کہ یہ انتظام جاری رہے، اور ممکن ہے وہ جہاز مالکان سے ٹول ٹیکس کا مطالبہ بھی کرے، جیسا کہ وہ نہر سویز سے گزرنے پر ادا کرتے ہیں۔
اسرائیل پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے اُس سفارتی عمل کا حصہ نہیں تھا جس کے نتیجے میں جنگ بندی ممکن ہوئی۔ نتن یاہو ایران کو مزید نقصان پہنچانا چاہتے تھے۔ اسرائیل میں 2026 انتخابات کا سال ہے، نتن یاہو کے سیاسی مخالفین اُن پر اسرائیل کی سلامتی سے سمجھوتہ کرنے کا الزام عائد کر رہے ہیں۔
وہ اس بات پر تشویش میں مبتلا ہیں کہ جنگ بندی ایران کے خلاف حاصل کی گئی حالیہ کامیابیوں کو کسی بڑی سٹریٹجک پیش رفت میں تبدیل نہ کر سکیں۔
جنگ بندی سے پہلے کے مراحل میں چین نے بھی ایک کردار ادا کیا، جس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں چین کا اثر و رسوخ بھی نمایاں ہو گا۔ اس سے مشرقِ وسطیٰ میں چین کا اثر مزید مضبوط ہو جائے گا۔
ٹرمپ کی زبان کے بھی اثرات مرتب ہوں گے، جس نے ماضی قریب میں امریکہ کے اتحادیوں، خاص طور پر نیٹو کے ساتھ تعلقات کو نقصان پہنچایا ہے۔ برطانوی سیاست دانوں کے لیے سر کیئر سٹارمر کے خلاف ٹرمپ کی توہین آمیز گفتگو اور رائل نیوی کا مذاق بھلانا آسان نہیں ہو گا۔
اس جنگ کے دوران سامنے آنے والی حقیقتوں کی بنیاد پر خلیجی عرب ممالک اگرچہ امریکہ سے تعلقات ختم تو نہیں کریں گے، لیکن وہ امریکہ کے ساتھ اپنے سکیورٹی تعلقات کا ازسرِنو جائزہ ضرور لیں گے۔
سیز فائر کا مطلب کیا ہے؟
بی بی سی اُردو نے قارئین کی دلچسپی کے پیش نظر سیز فائر کی اصطلاح سے متعلق کچھ تفصیلات اکٹھی کی ہیں جو ذیل میں پیش کی جا رہی ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق ’جنگ بندی (سیز فائر)‘ کی کوئی ایک متفقہ اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ تعریف موجود نہیں ہے، حالانکہ یہ لفظ فوجی حکم ’فائر بند کرو‘ سے نکلا ہے، جو ’فائر کھولو‘ کے برعکس ہے۔
یہ اصطلاح وہی معنی اختیار کر سکتی ہے جو جنگ میں شامل دو فریق اپنی بات چیت میں طے کریں۔
اسے ’عارضی جنگ بندی‘ (ٹروس) اور ’معاہدۂ جنگ بندی‘ جیسے الفاظ کے ساتھ بھی ایک دوسرے کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
تاہم اقوامِ متحدہ کے مطابق ’جنگ بندی (سیز فائر)‘ اور ’دشمنیوں کے خاتمے‘ میں اکثر فرق ہوتا ہے۔
’دشمنیوں کا خاتمہ‘ عموماً لڑائی روکنے کا ایک غیر رسمی معاہدہ ہوتا ہے۔
جبکہ ’جنگ بندی‘ نسبتاً ایک باقاعدہ معاہدہ ہوتی ہے، جس میں درج ذیل نکات کی وضاحت کی جاتی ہے:
- جنگ بندی کا مقصد کیا ہے
- اس کے بعد کون سا سیاسی عمل شروع ہو گا
- یہ کب سے نافذ ہو گی
- اس کا جغرافیائی دائرہ کار کیا ہو گا
اس کے علاوہ اس میں یہ بھی واضح کیا جا سکتا ہے کہ کون سی فوجی سرگرمیاں جائز ہوں گی اور کون سی نہیں، اور جنگ بندی کی نگرانی کس طرح کی جائے گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مثال کے طور پر، لائبیریا کی خانہ جنگی 1993 میں اس وقت اپنے اختتام کو پہنچی جب عبوری حکومتِ قومی اتحاد نے نیشنل پیٹریاٹک فرنٹ آف لائبیریا اور یونائیٹڈ لبریشن موومنٹ آف لائبیریا فار ڈیموکریسی کے ساتھ ایک معاہدہ کیا۔
دونوں فریق اس بات پر متفق ہوئے کہ وہ اسلحہ اور گولہ بارود کی درآمد بند کریں گے، فوجی پوزیشنوں کو تبدیل یا ان پر حملہ نہیں کریں گے، مزید دشمنی کو ہوا نہیں دیں گے اور بارودی سرنگوں اور آتش گیر ہتھیاروں کا استعمال نہیں کریں گے۔
کیا جنگ بندی مستقل ہوتی ہے یا صرف عارضی؟
اقوامِ متحدہ کے مطابق، جنگ بندی (سیز فائر) دونوں طرح کی ہو سکتی ہے۔
کبھی کبھار جنگ میں شامل دونوں متحارب فریق عارضی یا ابتدائی جنگ بندی پر متفق ہو جاتے ہیں۔
یہ عموماً تشدد کم کرنے یا انسانی بحران کو کم کرنے کے لیے کی جاتی ہے۔
جب اسرائیل اور حماس کی قیادت میں عسکری گروپوں نے عارضی جنگ بندی پر اتفاق کیا، جو 24 نومبر سے 30 نومبر 2023 تک جاری رہی، حماس نے تقریباً 240 قیدیوں کے بدلے 105 یرغمالیوں کو رہا کیا۔
ابتدائی جنگ بندی اس ماحول کو بنانے کے لیے بھی کی جا سکتی ہے جو مذاکرات میں مدد دے اور مستقل یا حتمی جنگ بندی کی راہ ہموار کرے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جون 2000 میں، ایتھوپیا اور اریٹیریا نے تصادم کو روکنے کے لیے ایک معاہدہ کیا تاکہ ایک حتمی جنگ بندی پر بات چیت کی جا سکے۔ یہ معاہدہ دسمبر میں الجزائر معاہدے کے تحت ممکن ہوا، جس نے جنگ کا خاتمہ کیا۔
تاہم، جنگ عموماً اس وجہ سے جاری رہ سکتی ہے کہ ابتدائی جنگ بندیاں ناکام یا کمزور ہو جاتی ہیں۔
اقوامِ متحدہ نے لبنان میں خانہ جنگی کو ختم کرنے کے لیے متعدد جنگ بندیوں پر بات چیت کی۔۔۔ 1978، 1981 اور 1982 میں۔ لیکن ہر جنگ بندی کے بعد لڑائی دوبارہ بھڑک اٹھتی اور 1975 میں شروع ہونے والی جنگ 1990 میں ختم ہوئی۔
کچھ معاملات میں، جنگ میں شامل ایک یا دونوں فریق ابتدائی جنگ بندی کا استعمال اپنے زمینی موقف کو مضبوط کرنے کے لیے کر سکتے ہیں۔
حتمی یا مستقل جنگ بندی عام طور پر دونوں متحارب فریقین کے کامیاب امن مذاکرات کے بعد حاصل ہوتی ہے۔
یہ عموماً شناخت شدہ فورسز کے ہتھیار ڈالنے یا غیر فعال ہونے پر مشتمل ہوتی ہے، لیکن معاہدے کے بعد حفاظتی انتظامات کئی سال تک برقرار رہ سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مثال کے طور پر، 1998 کے گڈ فرائیڈے معاہدے میں شمالی آئرلینڈ میں پروویژنال آئرلینڈ ریپبلکن آرمی اور وفادار گروپوں نے اپنے ہتھیار ’استعمال کے قابل نہ رکھنے‘ پر اتفاق کیا۔
معاہدے میں ایسے شقیں بھی شامل تھیں جو صوبے میں جاری امن اور ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے بنائی گئی تھیں، جیسے شمالی آئرلینڈ اور آئرلینڈ کی جمہوریہ کے درمیان سرحد کو کھلا رکھنا تاکہ بغیر رکاوٹ اور بغیر محصول کے تجارت ممکن ہو سکے۔
محدود جنگ بندی کی کون کون سی اقسام ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
نومبر 2023 میں اسرائیل اور حماس نے اپنی عارضی جنگ بندی کو ’انسانی وقفہ‘ کہا۔
انسانی وقفے کبھی کبھار لڑائی کے دوران تشدد کم کرنے یا انسانی بحران کو کم کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
مثال کے طور پر، سوڈان کی حکومت نے دو عسکری گروپوں، سوڈان لبریشن موومنٹ اور جسٹس اینڈ ایکوالیٹی موومنٹ کے ساتھ جنگ بندی کی، جس سے دارفور میں 45 دن کے لیے لڑائی رک گئی تاکہ امدادی ادارے مقامی لوگوں تک انسانی مدد پہنچا سکیں۔
سن 2004 میں، جب انڈونیشیا پر سونامی آیا، تو انڈونیشیا کی حکومت اور فری آچہ موومنٹ نے جنگ بندی کا اعلان کیا تاکہ جن علاقوں میں لڑائی ہو رہی تھی وہاں امداد پہنچائی جا سکے۔
کچھ معاملات میں مخصوص علاقے میں لڑائی روکنے کے لیے بھی معاہدے کیے جاتے ہیں، جسے جغرافیائی جنگ بندی کہا جاتا ہے۔
2018 میں، اقوامِ متحدہ نے یمن کی حکومت اور حوثیوں کے درمیان بحریہ احمر کے بندرگاہی شہر الحدیدہ کے آس پاس لڑائی روکنے کا معاہدہ کروایا تاکہ مقامی آبادی کی حفاظت کی جا سکے۔



























