ٹرمپ کا اعتماد جیت کر پاکستان کیسے ایران جنگ میں ایک غیرمتوقع ثالث بنا؟

پاکستان، امریکہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, کیرولین ڈیوس
    • عہدہ, بی بی سی
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد اس تنازع کے حل کے لیے پاکستان کی کوششوں پر بہت سے لوگ حیران ہوئے تھَے۔ لیکن شاید اِس پر حیران ہونے کی کوئی وجہ نہیں بنتی۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ماضی قریب میں پاکستانی فوج کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کا تذکرہ متعدد مرتبہ ’پسندیدہ فیلڈ مارشل‘ کے طور پر کرتے رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ کیسے عاصم منیر ’بہت سے افراد کے مقابلے میں ایران کو زیادہ بہتر سمجھتے ہیں۔‘

پاکستان صرف ایران کا ہمسایہ ہی نہیں ہے، جس کے ساتھ اس کی 900 کلومیٹر طویل سرحد ہے، بلکہ دونوں ممالک کے مابین ’برادرانہ تعلقات‘ کے علاوہ گہری ثقافتی اور مذہبی جڑیں بھی ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ پاکستان میں امریکہ کا کوئی فوجی اڈہ بھی نہیں ہے۔

اور خلیج میں مذاکرات کار کا عمومی کردار ادا کرنے والے روایتی ممالک (قطر وغیرہ) کے برعکس پاکستان کو ابھی تک اس تنازع میں نہیں دھکیلا گیا ہے۔ اور اب پاکستان، امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے جو خود اِس کے اپنے مفاد میں بھی ہے۔

لیکن اس سب کے باوجود اب بھی یہ سوالات موجود ہیں کہ ایک ایسا ملک جو خود اپنے دو ہمسایہ ممالک، انڈیا اور افغانستان، کے ساتھ تنازع میں گھرا ہوا ہے، اس نے خود کو اس بڑے عالمی تنازع کے حل لیے کیوں پیش کیا ہے۔

پاکستان اس وقت افغانستان پر بمباری کر رہا ہے اور انڈیا کے ساتھ تناؤ کی وجہ سے گذشتہ سال ہی اس خطے میں ایٹمی کشیدگی کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔

پاکستان نے حالیہ ایران تنازع میں اب تک ’ایک تنی ہوئی رسی‘ پر چلتے ہوئے واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیغام رسانی کی ہے۔ پاکستان نے اتوار کو مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کی میزبانی بھی کی ہے اور سفارتی سطح پر بھی یہ اس تنازع کے حل کے لیے ٹیلیفونک رابطے جاری رکھے ہوئے ہے۔

دوسری جانب منگل کی صبح پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ چین کے اہم دورے پر بھی روانہ ہو چکے ہیں۔

کھونے کے لیے بہت کچھ

تصویر

،تصویر کا ذریعہIshaq Dar

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

پاکستان درآمد شدہ تیل پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، جس کا زیادہ تر حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔

اٹلانٹک کونسل میں جنوبی ایشیا کے سینیئر فیلو مائیکل کوگلمین نے بی بی سی کو بتایا کہ مشرقِ وسطیٰ سے باہر اگر کسی ملک پر اس تنازع کا اثر پڑ سکتا ہے تو یہ پاکستان ہے۔ لہذا پاکستان چاہتا ہے کہ یہ تنازع ختم ہو اور وہ کشیدگی ختم کرانے کی پوری کوشش کرنا چاہتا ہے۔

پاکستان کی حکومت نے اس تنازعے کے آغاز کے بعد یعنی مارچ کے آغاز میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تقریباً 20 فیصد اضافہ کیا تھا اور ساتھ ساتھ ایندھن کی بچت کے لیے حکومتی سطح پر دیگر اقدامات بھی متعارف کرائے تھے۔

انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کراچی میں پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر فرحان صدیقی کہتے ہیں کہ اگر جنگ جاری رہتی ہے تو اس سے پاکستان کی معاشی مشکلات بہت بڑھ سکتی ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر جنگ طوالت اختیار کرتی ہے تو اسے گذشتہ برس ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ بھی فعال کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت ’ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دوسرے ملک کے خلاف جارحیت سمجھا جائے گا۔‘

اُن کے بقول اس سے یہ سوالات جنم لیتے ہیں کہ اگر تنازع جاری رہتا ہے اور سعودی عرب بھی باضابطہ طور پر اس جنگ میں شامل ہو جاتا ہے تو پھر پاکستان کیا کرے گا؟

پروفیسر صدیقی کہتے ہیں کہ ’مسئلہ یہ ہے کہ اگر ہمیں سعودی عرب کی جانب سے اس جنگ میں شامل ہونے کا کہا جاتا ہے تو ہماری پوری مغربی سرحد غیر محفوظ ہو جائے گی۔‘

پاکستان پہلے ہی افغانستان کے ساتھ ایک جنگ لڑ رہا ہے۔ اسلام آباد کا الزام ہے کہ افغان طالبان اپنی سرزمین پر دہشت گردوں کو تحفظ دیتے ہیں، تاہم طالبان حکومت ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔

افغانستان کے معاملے پر سفارتکاری نہ کرنے پر پاکستان کا یہ مؤقف رہا ہے کہ وہ کئی برسوں سے سفارتکاری کے ذریعے اس مسئلے کے حل کی کوششوں میں ناکامی کے بعد فوجی کارروائی پر مجبور ہوا ہے۔

لیکن صدیقی کہتے ہیں کہ صرف ایک اور محاذ کھولنا ہی پاکستان کے لیے مسئلہ نہیں ہے بلکہ ملک کے اندر ایرانی قیادت کے حوالے سے پائے جانے والے جذبات بھی پاکستان کے لیے اس تنازع میں شامل نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ ہے۔

واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے پہلے روز سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت پر پاکستان میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا تھا۔

کراچی میں امریکی قونصل خانے پر حملے سمیت ملک بھر میں مشتعل شہری سڑکوں پر نکل آئے تھے اور اس دوران متعدد ہلاکتیں بھی ہوئی تھیں۔

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی سابق سفیر ملیحہ لودھی کہتی ہیں کہ پاکستان میں عوامی رائے عامہ بہت زیادہ ’ایران کے حق‘ میں ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’مجھے یقین ہے کہ پاکستان کے فیصلہ ساز اس کے بارے میں بہت زیادہ حساس ہیں۔‘

بین الاقوامی تشخص بہتر ہونے کا فائدہ

تصویر

،تصویر کا ذریعہTurkish Foreign Ministry / Handout/Anadolu via Getty Images

لیکن اس کے ساتھ ساتھ معاملہ پاکستان کے بین الاقوامی تشخص کا بھی ہے۔

مائیکل کوگلمین کہتے ہیں کہ پاکستان اس تنقید کے بارے میں بہت حساس ہے کہ بین الاقوامی سطح پر اس کا کوئی خاص اثر و نفوذ نہیں ہے۔ اُن کے بقول ’میں نہیں سمجھتا کہ پاکستان صرف اسی وجہ سے اپنے آپ کو ایک ثالث کے طور پر پیش کر رہا ہے، لیکن یہ بات بھی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔‘

ملیحہ لودھی کہتی ہیں کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک ایسی سفارتکاری ہے، جس میں بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔

اُن کے بقول اس میں بہت خطرہ بھی ہے اور اس کا انعام بھی ہو سکتا ہے۔ اگر یہ کوشش کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ پاکستان کو عالمی سفارتکاری کے کھیل میں بہت اُوپر لے جائے گی۔

وہ کہتی ہیں کہ ’پاکستان مخلصانہ کوششیں کر رہا ہے اور اگر یہ کامیاب نہیں ہوتیں تو پھر یہ پاکستان کی صلاحیتوں کی ناکامی نہیں ہو گی، بلکہ آپ اس شخص کو ذمے دار ٹھہرائیں گے جو مکمل طور پر ناقابل اعتبار ہے۔‘

لیکن کوگلمین اس سے مختلف رائے رکھتے ہیں۔ اُن کے بقول اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو پاکستان کو ردِعمل کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔

اُن کے بقول ’اگر مذاکرات ناکام ہوئے اور پھر فریقین نے زیادہ شدت سے لڑائی شروع کر دی تو پھر لوگ یہ سمجھیں گے کہ فریقین نے اس تنازع کو مزید آگے بڑھانے کے لیے کچھ سوچنے کا وقت لیا اور پاکستان ان ارادوں کو بھانپ ہی نہیں سکا۔‘

غیر روایتی سفارتی گیم

یہ ابھی واضح نہیں کہ مذاکرات کا اُونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔ لیکن ایک چیز واضح ہے کہ پاکستان نے اس معاملے کو صدر ٹرمپ سے اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے استعمال کیا ہے۔

ملیحہ لودھی کہتی ہیں کہ صدر ٹرمپ کو امن نوبیل انعام کے لیے نامزد کرنا، انڈیا کے ساتھ جنگ بند کروانے کا کریڈٹ دینا اور کابل ایئر پورٹ دھماکوں کے ماسٹر مائنڈ کی امریکہ حوالگی کے ذریعے پاکستان نے صدر ٹرمپ کے لیے جو کچھ کیا وہ ٹرمپ کے لیے بہت اہم تھا۔

کوگلمین کہتے ہیں کہ پاکستان انڈیا کے برعکس غیر روایتی سفارتی کھیل کھیلنے کے لیے تیار ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ پاکستانی قیادت کی جانب سے صدر ٹرمپ کی خوشامد کا جو طریقہ اپنایا گیا، اس نے اپنا کام دکھایا ہے اور اس سے پاکستان واشنگٹن کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنانے میں کامیاب ہوا ہے۔

اُن کے بقول اب پاکستان ٹرمپ انتظامیہ کی نظر میں ایک پُرکشش سہولت کار اور ثالث کے طور پر اُبھر کر سامنے آیا ہے۔

لیکن امریکہ کے ساتھ تعلقات کا کارڈ ہی پاکستان کے لیے کافی نہیں ہے۔ پروفیسر صدیقی کہتے ہیں کہ پاکستان کو یہ احساس ہوا ہے کہ وقت کے مطابق خود کو ڈھالنا ہی علاقائی سفارتکاری میں آگے بڑھنے کا راستہ ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’ہم آج جس قسم کی دُنیا دیکھ رہے ہیں، اس میں درمیانی قوتیں بڑی طاقتوں کے ساتھ چلنے میں زیادہ بہتر محسوس کرتی ہیں۔‘

اُن کے بقول پاکستان جن وجوہات کی بنا پر اس تنازع کے حل کے لیے موزوں سمجھا جا رہا ہے، وہ یہ ہے کہ یہ اسرائیل اور امریکہ نواز ہونے کی ساکھ نہیں رکھتا۔

لیکن اب بھی پاکستان کو بہت سے سوالات کا سامنا ہے اور اس تنازع کے حل کے لیے کوئی امن معاہدہ بھی دُور کی بات لگتی ہے۔

کوگلمین کہتے ہیں کہ کسی بھی امن معاہدے کے امکانات بہت زیادہ نہیں ہیں، کیونکہ امریکہ اور ایران کے درمیان بداعتمادی کی خلیج بہت وسیع ہو چکی ہے اور دونوں ممالک کے مطالبات بھی ایک دوسرے متصادم ہیں۔

اُن کے بقول پاکستان کے لیے اُس وقت زیادہ مشکل ہو گی جب یہ منصوبہ کامیاب نہ ہوا تو پھر آگے کا راستہ کیا ہو گا۔