آبنائے ہرمز ایک بار پھر تنازع کا مرکز: امریکہ - ایران کشیدگی میں یہ تنگ سمندری راستہ اتنا اہم کیوں ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں آبنائے ہرمز ایک بار پھر مرکزی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔
حالیہ دنوں میں امریکہ کی فوجی کارروائیوں کا مرکز ایران کے ساحلی علاقے اور اہم بندرگاہی شہر رہے ہیں، جہاں واشنگٹن کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد ایران کی تجارتی جہاز رانی کو متاثر کرنے کی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے۔
اب سے کچھ دیر قبل امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اعلان کیا ہے کہ 13 جولائی کو ایران کے خلاف حملوں کی ایک نئی لہر مکمل کر لی گئی ہے۔ سینٹکام کے مطابق پانچ گھنٹے جاری رہنے والی اس کارروائی میں امریکی افواج نے ایران کے اہم ساحلی اور بحری مراکز کو نشانہ بنایا، جن میں بوشہر، چابہار، جاسک، کنارک، ابو موسیٰ اور بندر عباس شامل ہیں۔
امریکی فوج کے مطابق ان حملوں میں ایرانی ساحلی دفاعی نظام، میزائل اور ڈرون تنصیبات، جبکہ بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا تاکہ ایران کی جانب سے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کو محدود کیا جا سکے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کارگو پر امریکہ کو 20 فیصد ادائیگی بھی کی جائے گی۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ آبنائے ہرمز کھلی رہے گی اور ایران کی موجودگی یا عدم موجودگی میں بھی اس کا راستہ بند نہیں ہونے دیا جائے گا۔
ان کے مطابق نئی پابندیوں اور ناکہ بندی کا مقصد ایران کے جہازوں اور اس کے گاہکوں کی آمد و رفت کو محدود کرنا ہے، جبکہ دیگر ممالک کے لیے راستہ کھلا رہے گا۔
ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکہ کو اب آبنائے ہرمز کے ’محافظ‘ کے طور پر دیکھا جائے گا اور خطے میں سلامتی فراہم کرنے کے اخراجات پورے کرنے کے لیے کارگو پر فیس عائد کی جائے گی۔
ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ٹرمپ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ٹھیک کہہ رہے ہیں کہ جو بھی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرتا ہے اسے معاوضہ ملنا چاہیے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایران ہمیشہ سے اس آبی گزرگاہ کا محافظ رہا ہے اور اگر کوئی فیس عائد کی جاتی ہے تو ایران منصفانہ رویہ اختیار کرے گا، کیونکہ 20 فیصد فیس بہت زیادہ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان 17 جون کو جنگ بندی کے لیے طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے باوجود آبنائے ہرمز کا مستقبل اور اس کے انتظام کا معاملہ بدستور متنازع ہے۔
اس مفاہمتی یادداشت میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے اقدامات شامل تھے۔ واشنگٹن نے اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرنے اور ایرانی تیل کی برآمدات پر عائد پابندیوں میں نرمی کرنے پر بھی اتفاق کیا تھا۔
تاہم مذاکرات کے دوران ایران مسلسل اس مؤقف پر قائم رہا کہ اسے آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری آمد و رفت کو منظم کرنے اور گزرنے والے جہازوں پر فیس عائد کرنے کا حق حاصل ہے۔
امریکہ، اس کے خلیجی اتحادیوں اور یورپی و ایشیائی ممالک نے اس مؤقف کی مخالفت کی اور کہا کہ آبنائے ہرمز کو تنازع سے پہلے کی طرح آزاد اور کھلی بین الاقوامی گزرگاہ رہنا چاہیے۔
ایران 17 جون کی مفاہمتی یادداشت کی شق نمبر پانچ کا حوالہ دیتے ہوئے کہتا ہے کہ آبنائے ہرمز کے انتظام میں اسے مرکزی کردار حاصل ہے۔ اس شق کے مطابق ایران خلیج فارس اور بحیرۂ عمان کے درمیان تجارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کے لیے اپنی بہترین کوششیں کرے گا اور 60 دن تک کسی قسم کا محصول یا فیس وصول نہیں کرے گا۔ اس میں یہ بھی شامل تھا کہ ایران، عمان اور دیگر ساحلی ممالک کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظام اور سمندری خدمات کے حوالے سے بات چیت کرے گا۔
مفاہمتی یادداشت کے بعد ایرانی حکومت نے اعلان کیا کہ تمام بحری آمد و رفت ایرانی ساحل کے قریب مقرر کردہ راستے سے ہو گی۔ ایران کی اعلیٰ فوجی کمان، خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈ کوارٹرز، کے مطابق آبنائے میں تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں کے لیے واحد محفوظ راستہ وہی ہے جس کا تعین ایران نے کیا ہے۔
اس کے بعد 25 اور 27 جون کو عمانی پانیوں میں دو جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ ایران نے تمام بحری جہازوں کو خبردار کیا کہ وہ صرف اس کے منظور شدہ راستوں کا استعمال کریں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان واقعات کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا، جس کے بعد امریکی فوج نے ایرانی اہداف کو نشانہ بنایا۔ ایران نے جواباً امریکہ پر مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا اور کہا کہ اس نے خطے میں امریکی افواج سے منسلک اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
اس کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اور ایک دوسرے کے مفادات پر حملے جاری ہیں۔ تاہم اس بار امریکی کارروائیوں کا مرکز ایران کے بڑے شہری علاقے نہیں بلکہ اس کے ساحلی مقامات، بندرگاہیں اور وہ تنصیبات ہیں جو آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمد و رفت سے جڑی ہوئی ہیں۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شامل ہے۔ دنیا کا تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) عام حالات میں اسی راستے سے گزرتی ہے۔ اپنے سب سے تنگ مقام پر یہ آبنائے صرف تقریباً 40 کلومیٹر چوڑی ہے۔
سوال یہ ہے کہ آخر آبنائے ہرمز اس تنازع میں اتنی اہم کیوں ہے، اور امریکہ و ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں یہ سمندری راستہ فیصلہ کن کردار کیوں ادا کر رہا ہے؟

،تصویر کا ذریعہReuters
آبنائے ہرمز کہاں واقع ہے؟
آبنائے ہرمز خلیج فارس اور بحیرۂ عمان کے درمیان واقع ایک تنگ مگر انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے، جس کے شمال میں ایران جبکہ جنوب میں عمان اور متحدہ عرب امارات واقع ہیں۔ یہی راستہ خلیج فارس کے تیل اور گیس پیدا کرنے والے ممالک کو عالمی منڈیوں سے جوڑتا ہے۔
آبنائے ہرمز میں داخلے اور اخراج کے مقامات تو تقریباً 50 کلومیٹر چوڑے ہیں لیکن درمیان میں سب سے تنگ مقام پر اس کی وسعت تقریباً 33 کلومیٹر رہ جاتی ہے۔
یہ سمندری راستہ اتنا ہی گہرا ہے کہ بڑے تجارتی جہاز اس کے وسط میں ہی سفر کر سکتے ہیں یعنی بڑے آئل ٹینکر تقریبا 10 کلومیٹر چوڑے چینل میں ہی سفر کر سکتے ہیں۔
1980 سے 1988 تک جاری رہنے والی ایران اور عراق کی جنگ کے دوران دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی تیل کی رسد اور برآمدات کو متاثر کرنے کی کوشش کی تھی اور اس تنازع کو اسی وجہ سے تاریخ میں ’ٹینکر جنگ‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
اور اسی لیے بحرین میں تعینات امریکی بحریہ کے فلیٹ کو یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی کہ وہ تجارتی بحری جہازوں کی حفاظت کرے۔
آبنائے ہرمز سے کتنا ایندھن گزرتا ہے؟
اس آبی راستے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا میں تیل کی مجموعی تیل کی رسد کا پانچواں حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔
یو ایس انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے اندازوں کے مطابق، 2025 میں، تقریباً دو کروڑ بیرل تیل اور تیل کی مصنوعات روزانہ آبنائے ہرمز سے گزریں جس کا تجارتی حجم تقریباً سالانہ چھ سو ارب ڈالر بنتا ہے۔
اس راستے کو صرف ایران ہی تیل کی تجارت کے لیے استعمال نہیں کرتا بلکہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، عراق اور کویت جیسے ممالک بھی اپنے گاہکوں خصوصاً ایشیائی ممالک کو تیل اسی راستے سے پہنچاتے ہیں۔
یو ایس انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کا اندازہ ہے کہ 2024 میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والی خام تیل اور کنڈینسیٹ کا 84 فیصد اور مائع قدرتی گیس کا 83 فیصد ایشیائی بازاروں میں گیا تھا۔
اینالیٹکس فرم ورٹیکسا کی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ سعودی عرب روزانہ تقریبا 60 لاکھ بیرل خام تیل آبنائے ہرمز کے ذریعے برآمد کرتا ہے، جو کسی بھی پڑوسی ملک سے زیادہ ہے۔
اس کے علاوہ دنیا میں سب سے زیادہ ایل این جی برآمد کرنے والا ملک قطر بھی اپنی برآمدات کے لیے اسی گزر گاہ پر انحصار کرتا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق قطر نے 2024 میں نو ارب 30 کروڑ مکعب فٹ گیس روزانہ کی بنیاد پر برآمد کی۔
ہرمز مشرق وسطیٰ سے کھاد کی برآمدات کے لیے بھی ایک اہم راستہ ہے جہاں قدرتی گیس کو پیداواری عمل میں بہت زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں کھاد کی تجارت کا تقریباً ایک تہائی حصہ عام طور پر آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ آبنائے مشرق وسطیٰ میں خوراک، ادویات اور تکنیکی سامان سمیت دیگر درآمدات کے لیے بھی ایک اہم راستہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہgettyimages
آبنائے ہرمز میں کشیدگی: تجارتی جہازوں، تیل کی ترسیل اور عالمی منڈیوں کے لیے کیا خطرہ ہے؟
اقوام متحدہ کے قوانین ممالک کو اپنی ساحلی پٹی سے 12 ناٹیکل میل (13.8 میل) تک علاقائی سمندر کو کنٹرول کرنے کی اجازت دیتے ہیں اور سب سے تنگ مقام پر، آبنائے ہرمز اور اس کا بحری راستہ مکمل طور پر ایران اور عمان کے علاقائی پانیوں میں واقع ہے۔
ہر ماہ ہزاروں تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرتے ہیں، جن میں تیل بردار ٹینکر، ایل این جی کیریئرز اور دیگر کارگو جہاز شامل ہیں۔
تاہم حالیہ کشیدگی کے دوران بحری آمد و رفت کو شدید خطرات لاحق ہوئے، خاص طور پر اس وقت جب ایران نے جہازوں کو اپنے مقرر کردہ راستوں کے استعمال کی ہدایت کی، جبکہ امریکہ نے ایران کی بندرگاہوں اور بحری صلاحیتوں کو محدود کرنے کے لیے کارروائیاں شروع کیں۔
ایرانی ڈرونز، میزائل، تیزرفتار جنگی کشتیاں اور ممکنہ طور پر آبی بارودی سرنگیں ان بحری جہازوں کے لیے ممکنہ خطرہ ہیں۔
ایرانی کارروائیوں پر نظر رکھنے والی تنظیم یو اے این آئی کے مطابق، کشیدگی کے دوران متعدد تجارتی جہاز حملوں یا حملے کی کوششوں کا نشانہ بنے، جس کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری تجارت کے تحفظ اور انشورنس کے اخراجات پر سوالات اٹھے۔
گلوبل رسک مینیجمنٹ کے مرکزی تجزیہ کار آرن لوہمن راسموسن نے اس تناظر میں بی بی سی کے امریکی شراکت دار چینل سی بی ایس نیوز کو بتایا تھا کہ ’آپ پر حملہ کیا جا سکتا ہے، اور آپ اس حوالے سے یا تو انشورنس حاصل نہیں کر سکتے یا پھر وہ بہت مہنگی ہے۔‘
ایران سمیت خلیجی ممالک اپنی آمدنی کے لیے تیل اور گیس کی برآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔
آبنائے ہرمز کے سفر میں رکاوٹ نے ایشیا کو بھی سخت نقصان پہنچایا ہے کیونکہ ایک تخمینے کے مطابق صرف چین ہی ایرانی تیل کی کل عالمی برآمد کے تقریباً 90 فیصد کا خریدار ہے۔ اس تیل کا ایک بڑا حصہ اسے ایران عالمی مارکیٹ کی قیمتوں سے کم قیمتوں پر فروخت کرتا ہے اور جو تہران کو امریکی پابندیوں سے نمٹنے میں مدد دینے کے لیے ایک اہم معاشی سہارا ہے۔
ایشیا میں، ایندھن کے بحران نے روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ پاکستان اور سری لنکا سمیت متعدد ممالک میں جہاں تیل کی قیمت میں بڑا اضافہ ہوا ہے وہیں حکومتوں نے گھر سے کام، اوقاتِ کار میں کمی اور تعلیمی اداروں کی بندش جیسے اقدامات کیے۔
افریقہ میں بھی جنوبی سوڈان اور ماریشس نے بجلی کے استعمال پر پابندیاں لگائیں جبکہ یورپ میں سلووینیا یورپی یونین کا وہ پہلا رکن ملک بنا جہاں ایندھن کی راشننگ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
کیا کوئی متبادل راستہ یا طریقہ موجود ہے؟
آبنائے ہرمز کی بندش کے مسلسل خطرے نے برسوں سے خلیج کے تیل برآمد کرنے والے ممالک کو متبادل برآمدی راستے تیار کرنے پر مجبور کیا ہے۔
2019 میں، سعودی عرب نے عارضی طور پر ایک قدرتی گیس پائپ لائن کو خام تیل لے جانے کے لیے دوبارہ استعمال کیا۔
متحدہ عرب امارات نے اپنے اندرونی تیل کے ذخائر کو خلیج عمان کے بندرگاہ فجیرہ سے ایک پائپ لائن کے ذریعے جوڑ دیا ہے جس کی یومیہ صلاحیت 15 لاکھ بیرل ہے۔
جولائی 2021 میں، ایران نے گورہ-جسک پائپ لائن کا افتتاح کیا، جس کا مقصد خلیج عمان میں خام تیل منتقل کرنا تھا۔یہ پائپ لائن اس وقت تقریباً ساڑھے تین لاکھ بیرل یومیہ ایندھن لے جا سکتی ہے تاہم اطلاعات کے مطابق ایران نے ابھی تک اسے استعمال نہیں کیا۔
ای آئی اے نے گذشتہ سال جون میں کہا تھا کہ موجودہ متحدہ عرب امارات اور سعودی پائپ لائنز سے تقریبا 26 لاکھ بیرل یومیہ کی غیراستعمال شدہ صلاحیت آبنائے ہرمز کو ’بائی پاس‘ کرنے کے لیے دستیاب ہو سکتی ہے۔

























