عمان: امریکی حملے میں تین انڈین ملاحوں کی ہلاکت کے بعد مودی حکومت پر تنقید، ’انڈیا کو ایک مضبوط وزیراعظم کی ضرورت ہے‘

،تصویر کا ذریعہCENTCOM
- مصنف, مہتاب عالم
- عہدہ, بی بی سی اردو، دہلی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
عمان کے ساحل کے قریب ایک آئل ٹینکر پر امریکی حملے میں تین انڈین ملاحوں کی ہلاکت کے بعد اس معاملے میں مودی حکومت کے ردعمل کو اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔
کانگریس پارٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’وزیراعظم، جنھوں نے بار بار صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنے ذاتی تعلقات کو سفارتی کامیابی کے طورپر پیش کیا، وہ اس وقت اپنی ذمہ داری سے بچ نہیں سکتے۔‘
بیان میں کہا گیا کہ ’حکومت اس سانحے کے لیے ذمہ داری طے کرنے اور آبنائے ہرمز اور خلیجِ عمان میں اسی طرح خطرناک حالات میں پھنسے دیگر انڈین شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری سفارتی اقدامات کرے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ حکومت متاثرہ خاندانوں کو فوری امداد اور مناسب معاوضہ فراہم کرے اور ہلاک ہونے والے ملاحوں کی لاشوں کی جلد واپسی کو یقینی بنائے۔
عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروِند کیجریوال نے کہا کہ انڈیا کو ایک مضبوط وزیر اعظم کی ضرورت ہے۔
اس کے علاوہ معروف تجزیہ کار برہما چیلانی نے بھی سوال اٹھایا کہ اگر تین امریکی شہری ہلاک ہو جاتے تو کیا (ایسا ہی ردعمل) ہوتا؟
چیلانی کا کہنا ہے کہ ’اگر کسی حملے میں تین امریکی ملاح مارے جاتے تو امریکہ میں سیاسی بحران پیدا ہو جاتا لیکن تین انڈین شہریوں کی ہلاکت پر بین الاقوامی سطح پر بہت کم توجہ دی گئی۔‘
’وزیراعظم مودی نے اس حملے پر عوامی طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا اور معاملہ صرف وزارت خارجہ کی طرف سے درج کیے گئے ایک روایتی سفارتی احتجاج تک محدود رہا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انڈین ملاحوں کی ہلاکت پر امریکی سفارت کار کی طلبی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
انڈیا نے عمان کے ساحل کے قریب ایک آئل ٹینکر پر امریکی حملے میں تین انڈین ملاحوں کی ہلاکت کے معاملے پر سینیئر امریکی سفارت کار کو طلب کیا تھا۔
جمعرات کے روز انڈیا کی وزارتِ خارجہ نے نئی دہلی میں امریکی سفارت خانے کے قائم مقام نائب سربراہ جیسن میکس کو طلب کیا تاکہ ’شدید احتجاج‘ ریکارڈ کرایا جائے۔
بعد ازاں جمعہ کے روز وزارت خارجہ نے عمان میں بحری جہازوں پر حملوں کے خلاف احتجاج کے لیے امریکی سفارتکار جیسن میکس کو ایک بار پھر طلب کیا۔ انھیں انڈین وزارت خارجہ کے ایڈیشنل سیکریٹری (امریکی امور) نے طلب کیا تھا۔
بدھ کے روز پالاؤ پرچم بردار جہاز سیٹبیلو پر حملے میں ہلاکت انڈین ملاحوں کی شناخت ڈیک کیڈٹ، آدتیہ شرما اور انجن فِٹر شیوانند چورسیا کے ناموں سے ہوئی۔
انڈیا کے وزیرِ جہاز رانی نے ان ہلاکتوں کو ’ناقابلِ تلافی نقصان‘ قرار دیا اور کہا کہ وہ اس ’افسوسناک واقعے‘ کی خبر سن کر ’گہرے صدمے‘ میں ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ان کی لاشیں جلد از جلد انڈیا واپس لائی جائیں گی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا تھا کہ اس نے خلیجِ عمان سے گزرنے والے ایک آئل ٹینکر کو غیر فعال بنا دیا اور اس پر الزام عائد کیا کہ وہ آبنائے ہرمز میں ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کی خلاف ورزی کر رہا تھا۔
’تین جہازوں پر حملے کیے گئے جن پر انڈین ملاح سوار تھے‘
انڈیا کی وزارتِ خارجہ نے امریکہ پر الزام لگایا کہ اس نےعمان کے شِناس بندرگاہ کے قریب انڈین ملاحوں کو لے جانے والے ایک تیسرے جہاز کو نشانہ بنایا۔
گنی بِساؤ کے پرچم بردار جہاز ایم ٹی جَلویئر پر 20 انڈین ملاح سوار تھے جن کے بارے میں انڈیا کی وزارتِ جہاز رانی کے مطابق اطلاع ہے کہ وہ محفوظ ہیں تاہم ان کے انخلا کا عمل جاری ہے۔
نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران وزارتِ خارجہ نے کہا کہ سیٹبیلو، میریویکس اور جَلویئر پر ہونے والے تینوں حملے ’امریکی بحریہ‘ کی جانب سے کیے گئے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سیٹبیلو اور میریویکس پر حملوں کی تصدیق کی تاہم جَلویئر پر مبینہ حملے کے بارے میں اب تک کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
وزرا نے مزید کہا کہ خلیجی خطے میں 13 انڈین پرچم بردار جہاز اور 18 ہزار سے زائد انڈین ملاح اب بھی پھنسے ہوئے ہیں جن میں 562 ملاح انڈین پرچم بردار جہازوں پر موجود ہیں۔

،تصویر کا ذریعہ@FSUIINDIA
امریکہ نے عمان کے قریب آئل ٹینکر کو نشانہ کیوں بنایا؟
’سیٹبیلو‘ نامی آئل ٹینکر پر موجود 21 ملاحوں کو بچا لیا گیا، یہ جہاز امریکی فوج کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کی زد میں آیا تھا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا کہ آئل ٹینکر سیٹبیلو نے ایران سے تیل لے جاتے ہوئے جاری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی تھی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ’امریکی افواج کی جانب سے بار بار وارننگ دینے کے باوجود جہاز کے عملے نے اسے نظرانداز کیا۔ اس کے بعد ایک امریکی طیارے نے جہاز کے انجن کو نشانہ بناتے ہوئے درست ہتھیاروں سے حملہ کیا۔‘
امریکی فوج نے اس کارروائی کی ایک ویڈیو بھی جاری کی۔
یہ واقعہ ایک بار پھر خلیجی خطے میں جاری کشیدگی اور سمندری تجارتی راستوں کی سلامتی پر سنگین سوالات اٹھا رہا ہے، خاص طور پر جب اس حملے میں انڈین ملاحوں کی جانیں گئیں۔
آئل ٹینکر سیٹبیلو پر حملے کے بعد انڈیا نے امریکہ کے ساتھ سخت احتجاج کیا۔
انڈین حکومت نے نئی دہلی میں امریکی سفارت خانے کے نائب سربراہ جیسن میکس کو طلب کیا اور اس واقعے پر اعتراض کیا۔
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب صرف دو دن قبل ہی عمان کے ساحل کے قریب امریکی افواج نے ایک اور آئل ٹینکر میریویکس کو نشانہ بنایا تھا۔ اس میں سے 24 انڈین ملاحوں کو نکال لیا گیا تھا۔
انڈین وزارت خارجہ نے بدھ کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’عمان میں انڈین سفارت خانہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ تلاش اور بچاؤ کی کارروائی کے لیے عمانی حکام کے ساتھ فعال رابطہ برقرار ہے۔‘
سمندری انٹیلیجنس ویب سائٹ لائیڈز لسٹ کے مطابق، سیٹبیلو ان کئی جہازوں میں شامل تھا جو حالیہ دنوں میں عمان کے دُقْم بندرگاہ کے قریب رکے ہوئے تھے اور بظاہر امریکی بحریہ کی نگرانی میں تھے۔
اس سے قبل یونائیٹڈ کنگڈم میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے ایک الرٹ جاری کرتے ہوئے بتایا تھا کہ عمان کے سوحر سے تقریباً 20 سمندری میل شمال مشرق میں ایک ٹینکر کے انجن روم میں آگ لگ گئی ہے اور مقامی حکام عملے کو نکالنے میں مدد کر رہے ہیں۔
انڈین وزارتِ خارجہ نے کہا کہ خطے میں تجارتی جہازوں پر مسلسل حملے شدید تشویش کا باعث ہیں۔ انڈیا نے زور دیا کہ خطے میں تجارتی جہازوں اور سول انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کا سلسلہ رُکنا چاہیے۔

،تصویر کا ذریعہ@CENTCOM
’ہم نان کمپلائنس جیسے الفاظ استعمال کر کے امریکی کارروائی کو بلاواسطہ درست کیوں قرار دے رہے ہیں؟‘
انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعرات کے روز ایک بیان میں کہا کہ جہازوں پر حملہ امریکہ نے کیا لیکن نشانہ بنائے گئے تین جہازوں میں سے دو پر امریکہ نے پابندی لگائی ہوئی تھی۔
جیسوال کا مزید کہنا تھا کہ ان میں سے ایک جہاز 'ہدایت ناموں پر عمل نہ کرنے والا جہاز' یا نان کمپلائنس جہاز تھا۔
انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے اس تبصرے کی تنقید ہو رہی ہے۔
انڈیا کے سابق سیکرٹری خارجہ اور روس میں انڈیا کے سابق سفیر کنول سببل کا کہنا ہے کہ 'ہم پابندی یا نان کمپلائنس جیسے الفاظ استعمال کر کے امریکی کارروائی کو بلاواسطہ درست کیوں قرار دے رہے ہیں؟'
ان کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں غیر قانونی ہیں، چاہے جہاز انڈین پرچم والے نہ ہوں۔
'ہماری تشویش یہ ہے کہ انڈین ملاح مارے گئے ہیں اور سینٹ کام نے اب تک افسوس کا اظہار بھی نہیں کیا ہے۔'
فوجی تصادم کا خدشہ
جہازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹس کے مطابق، سیٹبیلو اس سے قبل چین جا چکا تھا۔ اس نے مارچ اور اپریل میں دو بار چین کا سفر کیا تھا۔ اپریل کے آخر سے مئی کے آغاز تک اس نے لیانیونگانگ بندرگاہ پر سامان اتارا تھا اور 12 مئی کو سنگاپور سے روانہ ہوا تھا۔
13 اپریل سے امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی شروع کی تھی، جب تہران نے آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت پر پابندیاں اور کنٹرول سخت کر دیا تھا۔
اس واقعے نے خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی، سمندری تجارت کے تحفظ اور بیرونی تنازعات میں پھنسے انڈین ملاحوں کی سلامتی کے حوالے سے نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔
اس دوران ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم ہونے کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ امریکہ نے ایران پر دوبارہ حملے شروع کر دیے ہیں۔
ٹرمپ نے الزام لگایا کہ ایران امن معاہدے پر دستخط کرنے میں ’بہت زیادہ وقت‘ لے رہا ہے اور ’امریکہ کو بیوقوف بنا رہا ہے۔‘
یہ جنگ 28 فروری کو شروع ہوئی تھی جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر فوجی حملے کیے تھے۔ ان حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت ہوئی تھی۔
اس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور امریکہ کے اتحادی خلیجی ممالک پر میزائل اور ڈرون حملے شروع کر دیے۔
جلد ہی یہ تنازع تیزی سے پورے خطے میں پھیل گیا اور مارچ میں لبنان بھی اس کی زد میں آ گیا۔
اپریل میں امریکہ اور ایران جنگ بندی پر متفق ہوئے تھے، جسے ابتدائی طور پر دو ہفتوں کے لیے نافذ کیا گیا تھا۔
تاہم مسلسل الزامات، نئے حملوں اور بڑھتے عدم اعتماد نے اس جنگ بندی کو انتہائی نازک بنا دیا جس کے باعث خطے میں دوبارہ بڑے فوجی تصادم کا خدشہ برقرار ہے۔

،تصویر کا ذریعہ@FSUIINDIA
امریکہ کا نشانہ بننے والا آٹھواں جہاز
سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایرانی ساحلوں کی امریکی ناکہ بندی کے آغاز سے اب تک ایم ٹی سیٹّبیلو امریکی افواج کی جانب سے ناکارہ بنایا جانے والا آٹھواں جہاز ہے۔
امریکہ نے 13 اپریل کو آبنائے ہرمز میں ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی شروع کی تھی اور اس کے بعد سے ایران کے ساحل کی طرف یا وہاں سے آنے جانے والے جہازوں کو روکنے یا واپس بھیجنے کا عمل جاری ہے۔
سینٹ کام کا کہنا ہے کہ 134 جہاز امریکی افواج کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے اپنا رخ تبدیل کر چکے ہیں جبکہ آٹھ ایسے جہاز جو ہدایات پر عمل نہیں کر رہے تھے جن میں پالاؤ کے پرچم بردار سیٹّبیلو بھی شامل ہے اور انھیں ’ناکاره‘ بنا دیا گیا۔ اس آئل ٹینکر کو بدھ کے روز امریکی افواج نے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں تین انڈین ملاح ہلاک ہو گئے۔
اس میں مزید کہا گیا کہ ناکہ بندی کے آغاز کے بعد سے امریکی افواج نے 42 انسانی امداد کے جہازوں کو اس آبی گزرگاہ سے گزرنے کی اجازت د۔
ادھر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی بدھ کے روز دعویٰ کیا کہ امریکی فوج نے ایک ’خفیہ مشن‘ کے تحت 200 تجارتی جہازوں کو آبنائے سے گزرنے میں مدد فراہم کی تاہم ایران کا اصرار ہے کہ یہ بحری گزرگاہ ’مکمل طور پر بند‘ ہے۔


























