آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کھلے زخم اور بند نہ ہونے والی آنکھیں: خوبصورتی کے لیے پلکوں کی سستی سرجری کا رجحان جو خطرناک بھی ثابت ہو سکتا ہے
- مصنف, انا کولنسن اور جو ایڈنٹ
- عہدہ, بی بی سی نیوز انویسٹی گیشنز
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 11 منٹ
انتباہ: اس تحریر میں سرجری کی تصاویر اور تفصیلات شامل ہیں
’ہر کوئی اسے بہت آسان بنا کر پیش کرتا تھا، لیکن مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے میرے چہرے میں آگ لگی ہوئی ہو اور جلتی ہوئی جلد کی ایک ہولناک بو آ رہی ہو۔‘
نکیتا مورگن اپنی پلکوں کی سرجری کا عمل بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر اس بارے میں ویڈیوز دیکھنے کے بعد انھوں نے بلیفاروپلاسٹی، یا بلیف کروانے کا فیصلہ کیا، جس میں آنکھوں کے بالائی حصے سے جلد ہٹا دی جاتی ہے۔
اینستھیزیا دیے جانے کے باوجود نکیتا کو شدید درد محسوس ہوا۔
آکولوپلاسٹک سرجنز، یعنی آنکھوں کے گرد سرجری میں مہارت رکھنے والے ڈاکٹرز، کا کہنا ہے کہ سستی بلیف سرجری، جو عموماً بیرونِ ملک کروائی جاتی ہے، کے بعد مسائل کی شکایت کرنے والے مریضوں کی تعداد تشویش ناک حد تک بڑھ رہی ہے۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اس طریقۂ کار کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے، جو برطانیہ میں عموماً ہزاروں پاؤنڈ لاگت رکھتا ہے، اور یہ چہرے کو ہموار کرنے اور وسیع تر جمالیاتی رجحان کا حصہ ہے۔
سرجنز کا کہنا ہے کہ پیچیدگیوں کا تعلق یورپ، افریقہ اور ایشیا میں موجود کلینکس سے جوڑا گیا ہے، اور جب ایسی پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں تو بعد از علاج نگہداشت کی کمی برطانوی این ایچ ایس پر بوجھ ڈالتی ہے۔
نکیتا کے علاوہ ہم نے درجنوں ایسے افراد سے بات کی ہے جنھیں مسائل کا سامنا کرنا پڑا، جن میں ایک ایسی خاتون بھی شامل ہیں جنھیں سونے کے لیے اپنی آنکھیں ٹیپ سے بند کرنا پڑتی تھیں کیونکہ ان کی پلکوں سے بہت زیادہ جلد ہٹا دی گئی تھی، جبکہ ایک اور خاتون کو خدشہ تھا کہ وہ اپنی بینائی کھو رہی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
برطانیہ کے سرجنز نے ہمیں یہ بھی بتایا کہ انھوں نے ایسے مریض دیکھے ہیں جو بیرونِ ملک علاج کروانے کے بعد اپنی آنکھیں درست طور پر بند نہیں کر پاتے۔
ڈبلن سے تعلق رکھنے والی نکیتا اپنی آنکھوں کو زیادہ نمایاں بنانا چاہتی تھیں، لیکن آئرلینڈ میں سرجری کا خرچ 4,000 یورو (£3,400) سے زیادہ ہوتا جو وہ برداشت نہیں کر سکتی تھیں۔
پھر 31 سالہ نکیتا نے ٹک ٹاک پر دیکھا کہ وہ ڈچ کمپنی فیس لینڈ کے ذریعے 750 یورو (£650) میں بلیف کروا سکتی ہیں۔
اس کمپنی کا کہنا ہے کہ اکتوبر 2024 سے اب تک اس نے نیدرلینڈز، جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کے اپنے کلینکس میں برطانیہ سے تعلق رکھنے والے مریضوں کی 2,950 سے زیادہ بلیف سرجریز کی ہیں۔
اس کا کہنا ہے کہ وہ ’محفوظ اور معیاری‘ علاج فراہم کرتے ہیں اور ’1 فیصد سے کم سرجیز میں شکایات آئیں۔‘
بلیف کے مسائل کے بارے میں بی بی سی سے بات کرنے والے زیادہ تر مریض اس کمپنی کے کلینکس گئے تھے، لیکن ہمیں یہ معلوم نہیں کہ مجموعی طور پر فیس لینڈ میں کتنی پیچیدگیاں پیش آئیں۔
نکیتا، جنھوں نے نومبر 2025 میں بلیف کروایا، کہتی ہیں کہ انھیں اندازہ نہیں تھا کہ یہ طریقۂ کار کیسا ہو گا جس کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ یہ ’ہونٹ بھروانے یا بوٹوکس جیسا ہو گا۔‘
انھیں اینستھیزیا لگانے کے بعد جب ڈاکٹر نے پلکوں کی نازک جلد کو کاٹنا شروع کیا تو انھیں ایسا درد محسوس ہوا جو انھوں نے پہلے کبھی نہیں جھیلا تھا۔
’میں شاک کی کیفیت میں چلی گئی، یہ بہت خوفناک تھا۔‘
فیس لینڈ کا کہنا ہے کہ تمام مریضوں سے پہلے مشاورت کی جاتی ہے اور ان سے رضامندی کے فارم پر دستخط لیے جاتے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ ’مکمل طور پر باخبر اور تیار‘ ہوں۔
کمپنی نے مزید کہا کہ نکیتا کے ڈاکٹر کے مطابق وہ سرجری کے دوران ’بہت پریشان اور غیر یقینی کیفیت‘ میں تھیں، ’جو درد کے احساس کو متاثر کر سکتا ہے۔‘
چند گھنٹوں کے اندر ہی ’صدمے کا شکار‘ نکیتا گھر واپسی کے لیے طیارے میں سوار ہو گئی تھیں۔
طبی ماہرین اور فیس لینڈ دونوں کے مطابق سرجری والے دن ہی پرواز کرنا مناسب نہیں، لیکن نکیتا نے سوشل میڈیا پر بہت سے لوگوں کو ایسا کرتے دیکھا تھا۔
’مجھے دیکھنے میں مشکل ہو رہی تھی، اگر میں اوپر دیکھتی تو میرے ٹانکوں سے خون نکلنے لگتا، یوں لگتا جیسے میں خون کے آنسو رو رہی ہوں۔‘
انھیں اسی دن پرواز کرنے پر شدید افسوس ہے اور وہ دوسروں کو ایسا نہ کرنے کا مشورہ دیتی ہیں۔
بلیف کا بڑھتا ہوا رجحان
بی بی سی کے تجزیے کے مطابق گزشتہ تین برسوں میں برطانیہ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانب سے چار بڑے پلیٹ فارمز پر پوسٹ کی گئی بلیف سے متعلق ویڈیوز تقریباً 150 ملین بار دیکھی گئیں۔
یہ تعداد اس سے پہلے کے تین برسوں کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ ہے۔
بہت سے لوگ اپنی پوسٹس میں مثبت نتائج بیان کرتے ہیں اور ان میں سے کئی کا علاج فیس لینڈ میں ہوا۔
ایک خاتون نے ہمیں بتایا کہ ان کی جھکی ہوئی پلکیں ان کی بینائی محدود کر رہی تھیں اور سر درد کا باعث بن رہی تھیں۔
وہ این ایچ ایس کے علاج کی اہل نہیں تھیں اور برطانیہ میں نجی علاج کا خرچ بھی برداشت نہیں کر سکتی تھیں، لیکن اب ان کا کہنا ہے کہ فیس لینڈ سے علاج کروانے کے بعد ان کے مسائل حل ہو گئے ہیں۔
کمپنی کی ویب سائٹ کا دعویٰ ہے کہ وہ ’کم خرچ، قابلِ رسائی اور اعلیٰ معیار کی نگہداشت‘ پر توجہ دے کر مارکیٹ تبدیل کر رہی ہے۔
اس کے مطابق علاج مستند طبی ڈاکٹروں کے ذریعے کیا جاتا ہے جنھیں سرجری کی تربیت دی جاتی ہے۔
برطانیہ کے سرجنز نے ہمیں بتایا کہ اوپری پلکوں کی سرجری میں تیاری، آپریشن اور بعد از آپریشن نگہداشت سمیت عموماً تقریباً تین گھنٹے لگتے ہیں۔
تاہم جن فیس لینڈ مریضوں سے ہم نے بات کی، ان کا کہنا ہے کہ وہ کلینک میں ایک گھنٹے سے بھی کم وقت رہے۔
فیس لینڈ کا کہنا ہے کہ زیادہ تعداد میں علاج کرنے سے اخراجات نمایاں طور پر کم ہو جاتے ہیں۔
’انھوں نے میری بہت زیادہ جلد کاٹ دی‘
لارا ( جن کا یہ اصل نام نہیں ہے) نے فیش لینڈ میں بلیف سرجری کے آٹھ دن بعد ہسپتال کا رخ کیا کیونکہ ان کی پلکوں کے زخم دوبارہ کھل گئے تھے۔
جون میں ایمسٹرڈیم کلینک میں ہونے والی سرجری بظاہر ٹھیک رہی تھی، لیکن برطانیہ واپس آ کر جب انھوں نے اپنے ٹانکے نکالے، جو بیرونِ ملک علاج کروانے والے بہت سے مریض کرتے ہیں، تو مسائل شروع ہو گئے۔
ان کی آنکھوں کے اوپر ٹانکے نکلنے کے بعد زخم کھل گئے اور سرخ، تازہ زخم نمایاں ہو گئے جن میں انفیکشن ہو گیا۔
برطانیہ کے سرجنز کے مطابق اگر معالج کو مناسب تربیت حاصل ہو تو ایسا شاذ و نادر ہی ہونا چاہیے۔
لارا، جو چالیس کی دہائی میں ہیں، کہتی ہیں کہ پہلی بار ایسا ہونے پر انھوں نے فیش لینڈ کی ایمرجنسی ہیلپ لائن پر کئی مرتبہ رابطہ کرنے کی کوشش کی، لیکن جواب نہ ملا۔ مایوس ہو کر وہ ایمرجنسی میں پہنچ گئیں۔
’جب میں آنکھیں زیادہ دیر بند رکھتی تو کھنچاؤ کی وجہ سے زخم دوبارہ کھل جاتے تھے۔ مجھے سونے سے خوف آتا تھا اور میں مسلسل اذیت میں تھی۔‘
اگلے دنوں میں لارا فیش لینڈ کے ڈاکٹر سے رابطے میں رہیں اور کئی مرتبہ معائنے کے لیے واپس آنے کی پیشکش بھی کی۔
’میں رو رہی تھی، منت کر رہی تھی، آپ مجھے اس حالت میں نہیں چھوڑ سکتے۔‘
لیکن فی لینڈ نے انھیں بتایا کہ ان کے لیے مقامی طور پر علاج کروانا ہی بہتر راستہ ہے۔
بعد ازاں این ایچ ایس کے ایک ماہرِ امراضِ چشم نے بتایا کہ ’ضرورت سے زیادہ جلد‘ ہٹا دی گئی تھی۔
سستی سرجری کے نتائج کا خرچ این ایچ ایس پر ڈالنے کے بارے میں لارا کیسا محسوس کرتی ہیں؟
’مجھے جرم محسوس ہوتا ہے۔۔۔ لوگ کہیں گے یہ تمہاری اپنی غلطی ہے، لیکن اگر مجھے معلوم ہوتا کہ ایسا ہو سکتا ہے تو میں کبھی نہ جاتی۔‘
فیس لینڈ کا کہنا ہے کہ چونکہ لارا کمپنی کے خلاف قانونی کارروائی کر رہی ہیں اس لیے وہ ان کے کیس پر تفصیل سے تبصرہ نہیں کر سکتی۔
خیرسگالی کے طور پر فیس لینڈ کے ساتھ کام کرنے والی ایک کمیٹی نے لارا کو 175 یورو (£150) کی پیشکش کی، جسے انھوں نے مسترد کر دیا۔
مریض اپنی آنکھیں بند نہیں کر سکتے
برطانیہ کے سرجنز کا کہنا ہے کہ گزشتہ 12 ماہ میں بلیفاروپلاسٹی کی پیچیدگیوں کے ساتھ آنے والے زیادہ تر مریضوں کا علاج بیرونِ ملک ہوا تھا۔
بی بی سی کے لیے کیے گئے ایک سروے کے مطابق، جس میں برطانیہ اور آئرلینڈ کی برٹش آکوپلسٹک سجری سوسائٹی (بی او پی ایس ایس) کے 63 ارکان نے جواب دیا، بیرونِ ملک سرجری کے بعد سب سے عام مسئلہ آنکھیں مناسب طریقے سے بند نہ کر پانا تھا۔
بی او پی ایس ایس کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن اور کنسلٹنٹ آکولوپلاسٹک سرجن کولن وائز کہتے ہیں: ’پلک سے بہت زیادہ جلد ہٹانا خطرناک ہے کیونکہ اس سے آنکھ ماحول کے اثرات کے سامنے آ جاتی ہے۔‘
’اس کی درستگی مشکل اور مہنگی ہو سکتی ہے۔‘
وہ پلکوں کو ’پردوں کے ایک جوڑے‘ سے تشبیہ دیتے ہیں۔
ان کے مطابق جب آپ انھیں کھولتے ہیں تو ایک شکن ہونی چاہیے تاکہ بند کرتے وقت آنکھ کا گولا ڈھانپنے کے لیے کافی جلد موجود ہو۔
بی او پی ایس ایس کے ارکان کے مطابق بیرونِ ملک سرجری کے بعد دیگر مسائل میں داغ، غیر متوازن آنکھیں اور زخموں کا کھل جانا شامل ہیں۔
سرجنز کا کہنا ہے کہ انھوں نے برطانیہ میں غیر رجسٹرڈ معالجین سے علاج کروانے والے مریض بھی دیکھے، جن میں رہائشی کمروں میں کی گئی بلیفاروپلاسٹیز بھی شامل تھیں۔
’مجھے خوف تھا کہ میں اپنی بینائی کھو رہی ہوں‘
کرسمس ڈے 2024 کو کیرن ہارٹے کی آنکھ کھلی تو انھیں دیکھنے میں دشواری ہو رہی تھی۔
ایمسٹرڈیم میں فیس لینڈ کلینک میں بلیف سرجری کروانے کے چند دن بعد ان کی بائیں سوجی ہوئی آنکھ سے خون رس رہا تھا اور دونوں آنکھوں کے اوپر موجود زخم کھلنے لگے تھے۔
’مجھے خوف تھا کہ تھوڑی سی اضافی جلد کی وجہ سے میری بینائی چلی جائے گی۔‘
کیرن سیدھا ایمرجنسی میں گئیں کیونکہ ان کے خیال میں فیس لینڈ کو فون کرنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا، وہ بہت دور تھا۔
بعد میں ڈاکٹروں نے انھیں یقین دلایا کہ ان کی بینائی برقرار رہے گی، لیکن ان کے چہرے میں شدید انفیکشن ہو چکا تھا۔
انھیں اینٹی بایوٹکس دی گئیں اور ہسپتال میں فالو اپ معائنوں کی ضرورت پڑی۔
بی بی سی نے وہ ای میلز دیکھی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ کیرن نے دو مرتبہ فیس لینڈ سے رابطہ کر کے صورتحال سے آگاہ کیا اور 12 دن بعد ایک مختصر جواب موصول ہوا۔
اس کے بعد چند مزید ای میلز ہوئیں، لیکن کیرن کا کہنا ہے کہ اس کے بعد کمپنی نے ان سے رابطہ نہیں کیا۔
فیس لینڈ کا مؤقف ہے کہ اس نے ’بعد از علاج مرحلے میں انھیں مدد یا فالو اپ کے بغیر نہیں چھوڑا۔‘
کمپنی کا کہنا ہے کہ اگر مریضوں کو لگا کہ انھیں مناسب معاونت نہیں ملی یا انھیں پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑا تو اسے اس پر افسوس ہے۔
کیرن، لارا اور نکیتا کی طرح، بیرونِ ملک سستی پلکوں کی سرجری کروانے والے جن مریضوں سے ہم نے بات کی، ان کا سب سے بڑا شکوہ محدود بعد از علاج نگہداشت ہے۔
وائز کہتے ہیں: ’عام بلیف کے بعد مریض کے لیے 24 گھنٹے، ہفتے کے ساتوں دن بعد از علاج سہولت دستیاب ہونی چاہیے۔‘
’اگر آپ کا سرجن سینکڑوں میل دور ہو تو فوری نگہداشت فراہم کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔‘
وہ یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بعض اوقات کم لاگت کا مطلب کم معیار بھی ہو سکتا ہے۔
’تباہی کا نسخہ‘
سرجری کے ایک ہفتے بعد نکیتا نے اپنے ٹانکے خود نکالے۔ انھوں نے یہ طریقہ ٹک ٹاک ویڈیوز دیکھ کر سیکھا۔
’ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے آپ اپنی جلد سے کچھ کھینچ رہے ہوں، آپ کمزور محسوس کرتے ہیں۔‘
فیس لینڈ کا کہنا ہے کہ مریضوں کو ٹانکے نکالنے کے وقت کے بارے میں اس کے ڈاکٹروں سے مشورہ کرنے کا کہا جاتا ہے اور طریقہ کار کی معلومات بھی دی جاتی ہیں۔ نکیتا کا کہنا ہے کہ انھیں بعد از علاج کٹ یا ہدایات نہیں دی گئیں۔
کمپنی کا یہ بھی کہنا ہے کہ مریض ٹانکے نکلوانے کے لیے دوبارہ فیس لینڈ کلینک آ سکتے ہیں، لیکن جن افراد سے ہم نے بات کی ان میں سے کسی نے ایسا نہیں کیا تھا۔
وائز کے مطابق مریضوں کا اپنے ٹانکے خود نکالنا ’تباہی کا نسخہ‘ ہے کیونکہ انفیکشن اور زخموں کے دوبارہ کھلنے کے خطرے کو کم کرنے کے لیے ٹانکے کسی سرجن یا نرس کو نکالنے چاہییں۔
نکیتا اپنے نتائج سے زیادہ تر خوش ہیں، اگرچہ ایک چھوٹا سا داغ موجود ہے، لیکن وہ چاہتی ہیں کہ دوسرے لوگ ان کے تجربات سے سیکھیں اور خطرات کو پوری طرح سمجھیں۔
’اگر میرے پاس پیسے ہوتے یا میں ٹک ٹاک کی باتوں میں نہ آتی تو شاید میں گھر کے قریب کہیں جاتی اور اتنی جلدی فیصلہ نہ کرتی۔‘
تقریباً دو سال بعد بھی کیرن کو اپنی بائیں آنکھ میں مسائل ہیں، جن میں دھندلی بینائی اور داغ شامل ہیں۔
دوسری جانب لارا کو خدشہ ہے کہ ان دونوں آنکھوں کے اوپر موجود نشانات شاید عمر بھر رہیں گے۔
’میں ایک ایسے مسئلے کو ٹھیک کرنا چاہتی تھی جسے دراصل ٹھیک کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی، اور اب میں ایک بڑے مسئلے کے ساتھ واپس آئی ہوں جس کے لیے مجھے سرجری درکار ہے، اور میں اس کا خرچ برداشت نہیں کر سکتی۔ یہ واقعی بہت تباہ کن ہے۔‘