پاکستان تحریک انصاف کے 27 ستمبر کے اسلام آباد لانگ مارچ سے قبل جماعت کے رہنماؤں کے مبینہ اغوا اور گرفتاریوں کے واقعات کے بعد خیبر پختونخوا حکومت نے اپنے وزرا، ارکان اسمبلی اور دیگر رہنماؤں کو اپنی سکیورٹی بڑھانے اور غیر ضروری طور پر باہر نہ نکلنے کا مشورہ دیا ہے۔
صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان نے بی بی سی نیوز اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ چارسدہ سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی فضل محمد خان کو منگل کی دوپہر مسلح افراد مبینہ طور پر زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے خوفزدہ ہے اور اسی لیے ’اس طرح کے حربے‘ استعمال کیے جا رہے ہیں۔
شفیع جان سے جب پوچھا گیا کہ خیبر پختونخوا میں حکومت پی ٹی آئی کی ہے اور اس کے وزرا اور ارکان اسمبلی کو مبینہ طور پر اٹھایا جا رہا ہے تو صوبائی حکومت کیا کر رہی ہے؟ تو ان کا کہنا تھا کہ ’یہ سب کچھ پولیس نہیں کر رہی بلکہ سب کو معلوم ہے کہ یہ کون کر رہا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے اب اپنی سکیورٹی بڑھا دی ہے اور تمام ارکان اسمبلی، وزرا اور رہنماؤں سے کہا گیا ہے کہ وہ بھی اپنی سکیورٹی بڑھائیں اور غیر ضروری طور پر باہر نہ نکلیں۔
فضل محمد خان کے مبینہ اغوا کا واقعہ
چارسدہ سے رکن قومی اسمبلی فضل محمد خان کو مبینہ طور پر مردان رنگ روڈ سے نامعلوم افراد اپنے ساتھ لے گئے۔
ان کے پرسنل سیکریٹری وقار خان نے بتایا کہ فضل محمد خان اسلام آباد سے چارسدہ جا رہے تھے اور ان کے ساتھ سرکاری سکیورٹی کا کوئی قافلہ نہیں تھا بلکہ وہ ایک نجی گاڑی میں سفر کر رہے تھے۔
وقار خان کے مطابق جب فضل محمد خان مردان رنگ روڈ پر پہنچے تو وہاں تقریباً 10 سے 12 افراد موجود تھے جنھوں نے ان کی گاڑی روکی اور انھیں اپنے ساتھ لے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد سے فضل محمد خان کے بارے میں کوئی معلومات نہیں مل سکیں۔
فضل محمد خان کے بھتیجے حمزہ نصیر خان نے بی بی سی کو بتایا کہ صوبائی وزیر فضل شکور خان کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے بعد فضل محمد خان کافی احتیاط کر رہے تھے۔
ان کے مطابق وہ اپنی گاڑی میں سفر نہیں کر رہے تھے اور ان کے ساتھ سکیورٹی اہلکار بھی نہیں تھے بلکہ صرف ڈرائیور اور ان کے پرسنل سیکریٹری وقار خان موجود تھے۔
انھوں نے بتایا کہ رشکئی انٹرچینج سے مردان رنگ روڈ کے راستے ان کے علاقے تک پہنچنا نسبتاً مختصر راستہ ہے اور اسی راستے پر وہ جا رہے تھے کہ آگے ’نقاب پوش مسلح افراد‘ موجود تھے۔
حمزہ نصیر خان کے مطابق ان افراد نے گاڑی روکی، فضل محمد خان کو گاڑی سے نکال کر اپنے ساتھ لے گئے جبکہ ڈرائیور اور پرسنل سیکریٹری کو ایک دوسری گاڑی میں بٹھا کر مخالف سمت میں لے جایا گیا اور تقریباً ایک کلومیٹر دور چھوڑ دیا گیا۔
اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ فضل محمد خان کی گاڑی کے ٹائروں پر بھی فائرنگ کی گئی۔
حمزہ نصیر خان نے بتایا کہ واقعے کے حوالے سے مردان کے شیخ ملتون تھانے میں درخواست جمع کرا دی گئی اور ایف آئی آر درج ہونے کے بعد بدھ کو پشاور ہائی کورٹ میں رٹ دائر کی جائے گی۔
اس سے قبل صوبائی وزیر پبلک ہیلتھ انجینیئرنگ فضل شکور خان کو بھی مبینہ طور پر اٹھائے جانے کا واقعہ پیش آیا تھا، جس کے بعد ایف آئی آر درج ہونے پر پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا تھا۔
ابھی تک پولیس یا وفاقی حکومت کی جانب سے ایسا باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا جس میں یہ واضح کیا گیا ہو کہ فضل محمد خان کو کس ادارے یا افراد نے حراست میں لیا یا انھیں کہاں منتقل کیا گیا ہے۔
فضل محمد خان این اے 25 چارسدہ-2 سے رکن قومی اسمبلی ہیں۔ وہ 2024 کے عام انتخابات میں پی ٹی آئی حمایت یافتہ آزاد امیدوار کے طور پر کامیاب ہوئے تھے۔
واقعے کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے بھی ردعمل سامنے آیا ہے۔ رکن قومی اسمبلی جنید اکبر خان نے فضل محمد خان کے مبینہ لاپتا ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات سے صوبے کے عوام اور ریاست کے درمیان بداعتمادی میں اضافہ ہو گا۔
شفیع جان نے بی بی سی کو بتایا کہ 27 ستمبر کا لانگ مارچ جماعت کے بانی عمران خان کے علاج، ان کے مقدمات کی باقاعدہ سماعت اور انھیں ’تمام جائز حقوق‘ دینے کے مطالبات کے لیے کیا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق لانگ مارچ 27 ستمبر کو شروع ہو گا اور اس مرتبہ حکمت عملی پہلے سے مختلف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کارکن اسلام آباد کے لیے آٹھ مختلف مقامات سے روانہ ہوں گے اور تقریباً پانچ سے چھ دن میں اسلام آباد پہنچنے کی منصوبہ بندی ہے۔
شفیع جان کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اس لانگ مارچ کی قیادت کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی ’پرامن طریقے‘ سے اسلام آباد جائے گی اور ضرورت پڑنے پر پیدل، موٹر سائیکلوں یا گاڑیوں سمیت مختلف ذرائع استعمال کیے جائیں گے۔
حالیہ دنوں میں ایسی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ بعض ٹرانسپورٹرز نے لانگ مارچ کے لیے گاڑیاں فراہم کرنے سے انکار کیا ہے۔
اس بارے میں شفیع جان کا کہنا تھا کہ انھیں بھی یہ اطلاع ملی ہے کہ بس اڈوں پر ٹرانسپورٹرز کو گاڑیاں فراہم کرنے سے منع کیا گیا ہے، تاہم ان کے بقول اس طرح کے اقدامات سے لانگ مارچ نہیں رکے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ کو دو صورتوں میں روکا جا سکتا ہے: ’ایک یہ کہ ہمارے مطالبات تسلیم کر لیے جائیں تو اس پر بات چیت ہو سکتی ہے اور دوسرا یہ کہ عمران خان خود لانگ مارچ روکنے یا ختم کرنے کا اعلان کریں۔ اس کے علاوہ کوئی دوسرا چارہ نہیں ہے۔‘
جب شفیع جان سے پوچھا گیا کہ اسلام آباد میں لانگ مارچ روکنے کے لیے انتظامات کیے جا رہے ہیں اور ماضی میں 26 نومبر کے احتجاج کے دوران فائرنگ بھی ہوئی تھی، تو اس مرتبہ طاقت کے استعمال کی صورت میں جانی نقصان کے خدشے کے بارے میں ان کا کیا کہنا ہے، تو انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی پرامن رہے گی۔
انھوں نے کہا کہ 'ایسا نہیں ہوگا کہ وہ گولی چلائیں۔ ہم نے 26 نومبر کو بھی گولی نہیں چلائی تھی۔ ہماری طاقت ہمارے ساتھ ہماری عوام ہو گی۔ اتنی تعداد میں لوگ نکلیں گے کہ سامنے والے کو گولی چلانے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔'