پہلی محبت کو بھلانا اتنا مشکل کیوں ہوتا ہے؟

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 7 منٹ

بہت سے لوگوں کے لیے پہلی بار محبت میں مبتلا ہونا زندگی کے سب سے یادگار تجربات میں سے ایک ہوتا ہے۔

لیکن آخر ایسا کیوں ہے کہ پہلی محبت اور پہلا تعلق کئی دہائیوں بعد بھی ذہن میں ہمیشہ تازہ رہتا ہے؟

اس دور کی یادیں اتنی واضح، گہری اور ناقابلِ فراموش کیوں ہوتی ہیں؟

نوعمری میں دماغ دیرپا یادیں تخلیق کرتا ہے

بہت سے لوگوں کو کم عمری میں پہلی محبت کا تجربہ ہوتا ہے، یہ دماغ کی نشوونما کا ایک ایسا مرحلہ ہے جب یادوں کو محفوظ کرنے اور انھیں طویل عرصے تک برقرار رکھنے کی صلاحیت اپنے عروج پر ہوتی ہے۔

ویسٹ منسٹر یونیورسٹی میں نیورو سائیکالوجی کی پروفیسر کیتھرین لووی کہتی ہیں کہ ’اس عمر میں ہمارے اندر یادوں کو درست انداز میں محفوظ کرنے اور انھیں دیر تک برقرار رکھنے کی غیر معمولی صلاحیت ہوتی ہے۔‘

وہ مزید وضاحت کرتی ہیں کہ دماغ اُس معلومات کو زیادہ بہتر اور دیرپا انداز میں محفوظ رکھتا ہے جو جذبات اور احساسات سے وابستہ ہوں۔

ان کے مطابق جب کوئی واقعہ پہلی بار پیش آتا ہے، زندگی پر گہرا اثر ڈالتا ہے یا شدید دکھ، تکلیف یا بے چینی کا باعث بنتا ہے، تو اس کے یادداشت میں محفوظ ہونے اور طویل عرصے تک برقرار رہنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

مزید یہ کہ کسی یاد کو جتنا زیادہ بار دہرایا اور یاد کیا جائے، اتنا ہی اس کے ذہن میں برقرار رہنے کا امکان اتنا ہی بڑھ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جذباتی تجربات اکثر انسانی ذہن کی سب سے دیرپا یادوں میں شمار ہوتے ہیں۔

پروفیسر لووی کہتی ہیں کہ ’ہر بار جب ہم ان تجربات اور یادوں کو دوبارہ یاد کرتے ہیں، تو ہم اپنے دماغ میں ان سے وابستہ نیورل کنیکشنز کو مزید مضبوط بناتے ہیں۔‘

نوعمری میں ہارمونز پہلی محبت پر اتنا گہرا اثر کیوں ڈالتے ہیں؟

چاہے وہ خوشی، مسرت اور سرشاری کے جذبات ہوں یا دل ٹوٹنے کا شدید صدمہ، پہلی محبت سے وابستہ احساسات غیر معمولی حد تک گہرے اور طاقتور ہوتے ہیں۔

کیتھرین لووی کے مطابق خصوصاً بلوغت کے دوران جسم اور دماغ میں مختلف ہارمونز اور کیمیائی مادے متحرک ہو جاتے ہیں، جو شدید جذبات اور احساسات کو جنم دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس عمر میں محبت اور تعلقات کے تجربات انسان پر غیر معمولی نفسیاتی اور جذباتی اثرات مرتب کرتے ہیں۔

سب سے پہلے ایسٹروجن اور ٹیسٹوسٹیرون جیسے جنسی ہارمونز میں اضافہ جذباتی کشش پیدا کرتا ہے۔

اس کے بعد جب ایک رشتہ قائم ہونا شروع ہوتا ہے تو دماغ میں دیگر ہارمونز اور اعصابی کیمیائی مادے (نیورو ٹرانسمیٹرز) خارج ہوتے ہیں، جن میں سیروٹونن، ڈوپامین اور آکسیٹوسن شامل ہیں۔

یہ وہ مادے ہیں جو انعام کے احساس، قربت، خوشی اور جذباتی وابستگی جیسے احساسات سے منسلک ہوتے ہیں۔

پہلی محبت جذباتی تعلقات کی تشکیل کے سفر کا اہم مرحلہ

بنیادی ترین سطح پر انسانی تعلقات ہماری بقا اور زندگی کے تسلسل سے جڑے ہوتے ہیں۔ ایک نوجوان کے لیے اس کا پہلا رومانوی تعلق ایک اہم سنگِ میل ہوتا ہے، کیونکہ وہ اپنے قریبی خاندان اور محدود سماجی دائرے سے باہر کسی شخص کے ساتھ ایک نئی نوعیت کے جذباتی تعلق کا تجربہ کر رہا ہوتا ہے۔

کیتھرین لووی پہلی محبت کو ’انسانی تعلقات کے حوالے سے شاید کسی بھی شخص کی زندگی کے سب سے اہم تجربات میں سے ایک‘ قرار دیتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں ’ہمیں اپنے فوری اور مانوس دائرے سے باہر کسی شخص پر اعتماد کرنا سیکھنا پڑتا ہے۔ ہمیں ایک نئی سمت میں قدم رکھنا ہوتا ہے۔‘

ان کے مطابق پہلی محبت محض ایک جذباتی تجربہ نہیں بلکہ تعلقات قائم کرنا سیکھنے کے عمل کا حصہ ہے، ایسا تجربہ جو انسان کو کسی دوسرے پر اعتماد کرنا، قربت محسوس کرنا اور ایک نئی نوعیت کا انسانی رشتہ قائم کرنا سکھاتا ہے۔

سنہ 1993 میں امریکی ماہرِ نفسیات ڈاکٹر نینسی کیلیش نے دنیا بھر کے سینکڑوں ایسے افراد پر ایک تحقیق کی جو کئی برس بعد اپنی پرانی محبتوں سے دوبارہ رابطے میں آئے تھے۔

اہم بات یہ ہے کہ ان افراد کی زندگی کے حالات نے ان تعلقات کے نتائج کے تعین میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ اپنی سابق محبتوں سے دوبارہ رابطہ کرنے والوں میں سے زیادہ تر اس وقت غیر شادی شدہ تھے یا اپنے شریکِ حیات کو کھو چکے تھے۔

ان افراد میں بہت سے جوڑوں نے صرف چند ہفتوں کے اندر اپنا تعلق دوبارہ شروع کر دیا اور اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ تھی کہ ان میں سے 72 فیصد نے بالآخر ایک دوسرے سے شادی کر لی۔

انٹرنیٹ کے فروغ نے پرانی محبتوں کو تلاش کرنا اور ان سے دوبارہ رابطہ قائم کرنا کہیں زیادہ آسان اور کم تکلیف دہ بنا دیا ہے۔ ابتدا میں ایسے روابط میں وابستگی نسبتاً کم ہوتی تھی، لیکن ان کے نتائج بھی مختلف نکلے۔

جب ڈاکٹر نینسی کیلیش نے 2004 میں ایک نئی تحقیق کی، اس دوران اپنی پرانی محبتوں سے دوبارہ رابطہ کرنے والے 62 فیصد افراد نے انھیں بتایا کہ وہ ان کے ساتھ رومانوی تعلق میں داخل ہو گئے تھے۔ تاہم ان تعلقات میں سے صرف پانچ فیصد ہی بالآخر شادی پر منتج ہوئے۔

پہلی محبت برسوں تک ہمارے ذہن میں کیوں رہتی ہے؟

کیتھرین لووی کی تحقیق صرف پہلی محبت تک محدود نہیں ہے۔ وہ لوگوں کی پوری زندگی کے دوران یادداشتوں کا مطالعہ کرتی ہیں، لیکن ان کا کہنا ہے کہ پہلی رومانوی محبت کی یادیں اکثر ایک خاص مقام رکھتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں: ’میں نے 70 اور 80 برس کی عمر کے لوگوں سے بھی بات کی ہے، جو اب بھی اپنی پہلی محبت سے متعلق کچھ یادوں کو اپنی زندگی کی سب سے اہم اور واضح یادوں میں شمار کرتے ہیں۔‘

لووی کے مطابق بہت سے لوگوں کے لیے پہلی محبت محض ماضی کی ایک یاد نہیں ہوتی بلکہ ایک ایسا تجربہ ہوتا ہے جو آنے والے کئی برسوں، بلکہ بعض اوقات کئی دہائیوں تک، ان کے ذہن اور جذبات میں برقرار رہتا ہے۔

ماضی کی محبتوں کی یادیں آج ہمارے تعلقات میں کس طرح مددگار ثابت ہو سکتی ہیں؟

ماضی کی محبتوں کو یاد کرنا لازماً کھوئے ہوئے تعلقات کی خواہش کا اظہار نہیں ہوتا، یہ موجودہ تعلقات کو مضبوط بنانے میں بھی مدد دے سکتا ہے۔

ٹیکساس کی یونیورسٹی آف ہیوسٹن کے پروفیسر ایڈم فیٹرمین ایک رجحان کا مطالعہ کرتے ہیں جسے وہ ’رومانوی نوستالجیا‘ کہتے ہیں، اس کی تعریف وہ یوں کرتے ہیں: ’ماضی کے لیے چاہت اور محبت کا ایسا احساس جو موجودہ رومانوی شریکِ حیات یا ساتھی کے تناظر میں پیدا ہو۔‘

فیٹرمین کے مطابق کسی تعلق میں گزرے ہوئے اہم اور مشترکہ لمحات کو شعوری طور پر یاد کرنا، مثلاً وہ فلم دوبارہ دیکھنا جو آپ نے اپنی پہلی ملاقات پر ایک ساتھ دیکھی تھی، لوگوں کو ان خاص اور خوشگوار احساسات کو دوبارہ محسوس کرنے میں مدد دے سکتا ہے جو انھوں نے اس تعلق کے دوران تجربہ کیے تھے، چاہے وہ ان احساسات کو الفاظ میں واضح طور پر بیان نہ کر سکیں۔

ان کے مطابق رومانوی نوستالجیا نہ صرف خوشگوار احساسات پیدا کرتا ہے بلکہ جو لوگ ان مشترکہ یادوں کا زیادہ حوالہ دیتے ہیں، وہ اپنے شریکِ حیات یا ساتھی کے ساتھ زیادہ جذباتی وابستگی محسوس کرتے ہیں اور ان کے محبت اور چاہت کے احساسات میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

کچھ محبتیں فراموش کرنا اتنا مشکل کیوں ہوتا ہے؟

کیٹ اور گنتھر کی ملاقات 1989 میں ہوئی تھی جب دونوں ڈیون میں چھٹیاں گزار رہے تھے۔ انھیں پہلی نظر میں ایک دوسرے سے محبت ہو گئی۔ گنتھر کو جرمنی واپس جانا پڑا، لیکن وہ ایک دوسرے سے ملتے رہے اور خطوط کے ذریعے رابطے میں رہے، تاہم وہ اکٹھے زندگی گزارنے کا کوئی راستہ نہ نکال سکے۔

کیٹ کہتی ہیں کہ گنتھر کو یہ بتانا کہ وہ ان کے ساتھ رہنے نہیں جا سکتیں ’میری زندگی کا سب سے مشکل فیصلہ تھا۔‘ چنانچہ دو سال تک تعلق میں رہنے کے بعد دونوں نے دل شکستہ ہو کر اپنا رشتہ ختم کر دیا۔

تین دہائیوں بعد کیٹ کو الماری میں گنتھر کے خطوط دوبارہ ملے اور تمام یادیں ایک بار پھر ان کے ذہن میں تازہ ہو گئیں۔

وہ یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں: ’میں روتی رہی، بس روتی ہی رہی‘ اور ’میں نے اپنے آپ سے کہا: ’میں نے ایک ایسے شاندار انسان کا دل توڑ دیا،اسے یہ بتائے بغیر کہ اس کی وجہ کیا تھی۔‘

انھوں نے گنتھر کے خاندانی کاروبار کا پتہ تلاش کیا اور انھیں ایک خط لکھا، حالانکہ انھیں کسی جواب کی توقع نہیں تھی۔

لیکن گنتھر نے جواب دیا۔

کیٹ یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں: ’22 نومبر کو دوپہر ٹھیک 12 بج کر 36 منٹ پر فون کی گھنٹی بجی‘ اور ’جب میں نے دیکھا کہ کال جرمنی سے ہے تو میرا دل زور سے دھڑکنے لگا۔‘

دونوں نے گھنٹوں بات کی اور چند ہفتوں بعد گنتھر کیٹ سے ملنے کے لیے مانچسٹر آ گئے۔

کیٹ کہتی ہیں ’جب میں نے انھیں دیکھا تو یوں لگا جیسے ہم کبھی ایک دوسرے سے جدا ہی نہیں ہوئے تھے۔‘

گنتھر نے انھیں اس پہاڑ پر شادی کی پیشکش کی جہاں وہ 30 سال پہلے ایک ساتھ چڑھے تھے اور اس کے بعد دونوں نے شادی کر لی۔

کیٹ کہتی ہیں: ’انسان کو عموماً دوسرا موقع نہیں ملتا، لیکن اب جب بھی میں انھیں دیکھتی ہوں تو مجھے کسی بات پر افسوس نہیں ہوتا۔‘

گنتھر اس سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’میں انھیں دوبارہ نہیں کھوؤں گا۔‘