کئی ماہ کے وقفے کے بعد ایرانی پارلیمان کے اجلاس کا انعقاد
ایرانی پارلیمان کی خبر رساں ایجنسی خانہ ملت کے مطابق کئی ماہ کے وقفے کے بعد نائب سپیکر حامد رضا حاجی بابائی کی صدارت میں ایرانی پارلیمان کے ’عوامی اجلاس‘ کا انعقاد کیا گیا۔
بی بی سی فارسی کی خبر کے مطابق 250 سے زائد ارکان نے اجلاس کے دوران اسلامی جمہوریہ ایران کے سابق رہبراعلیٰ علی خامنہ ای، جنگ میں ہلاک ہونے والے فوجی کمانڈروں اور سیاسی شخصیات کے قاتلوں سے انتقام لینے کے حق میں نعرے لگائے۔
پارلیمان نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ ہنگامی یا غیرمعمولی حالات میں پارلیمانی اجلاس بہارستان کے باہر بھی منعقد کیے جا سکیں گے۔
کئی ماہ کے وقفے کے بعد غیر معمولی وقت پر عوامی اجلاس کے انعقاد نے میڈیا اور عوامی حلقوں میں خاصی توجہ حاصل کی۔
بی بی سی فارسی کے مطابق اجلاس میں جو غیر معمولی بات تھی وہ ایران کے نئے رہبر مجتبیٰ خامنہ ای کی تصویر کی تنصیب اور سپیکر محمد باقر قالیباف کی ایوان میں عدم موجودگی تھی۔
اجلاس سے قبل ارکان نے یادگار پر حاضری دے کر سابق رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای اور جنگ میں ہلاک ہونے والی شخصیات کو خراجِ عقیدت پیش کیا جہاں سیاسی اور عسکری شخصیات کی تصاویر کے ساتھ جنگ میں ہلاک ہونے والے بعض بچوں کی تصاویر بھی آویزاں تھیں۔