امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کے ساتھ مذاکرات کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ، ایران کے ساتھ اپنے تعلقات میں بنیادی تبدیلی کے لیے تیار ہے۔
17 جون کو مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد 21 جون کو سوئٹزرلینڈ میں ایران کے ساتھ مذاکرات کے آغاز کے موقع پر پاکستانی اور قطری وزرائے اعظم کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ یہ ایک تاریخی ملاقات ہے۔
’اسلام آباد اور یہاں کے سوا، یعنی گذشتہ چند مہینوں سے پہلے، اس سطح پر ایرانی اور امریکی قیادت کی کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔ صدر نے ہمیں یہ ذمہ داری دی ہے کہ ہم ایک نیا باب کھولیں اور ایران کے عوام کے ساتھ اپنے تعلقات کو تبدیل کریں، اور ان کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھائیں۔
’پیغام یہ ہے کہ اگر ایران کی قیادت خطے میں عدم استحکام کو ہوا دینا چھوڑ دے، اگر وہ طویل مدت کے لیے جوہری ہتھیاروں کی خواہش ترک کر دے، تو امریکہ اس ملک کے ساتھ اپنے تعلقات کو بنیادی طور پر تبدیل کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہی ہمارا مقصد ہے۔ ہم نے گذشتہ چند گھنٹوں میں ہی خاصی پیش رفت کی ہے اور آنے والے وقت میں مزید پیش رفت کی توقع ہے۔‘
امریکی نائب صدر کا مزید کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ علاقائی سطح پر جنگ بندی کے خواہاں ہیں۔ ’میرے خیال میں امریکہ اور دنیا بھر کے لوگوں کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہمیں اس مقام تک پہنچانے میں صدر ٹرمپ کی قیادت اور ان کا یہ عزم کلیدی حیثیت رکھتا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ کو آئندہ دس برسوں میں اس سے مختلف دیکھنا چاہتے ہیں جیسا کہ یہ گذشتہ دس برسوں میں رہا۔
’ہم یہاں ایک سادہ مقصد کے لیے جمع ہوئے ہیں: سفارت کاری اور باہمی تعاون کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ کو بدلنا، جہاں ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان یا تو جنگی صورتحال رہی ہے یا تعلقات نہایت کشیدہ رہے ہیں، اور جہاں ایران کو علاقائی عدم استحکام کا محرک سمجھا جاتا رہا ہے۔ اب ہم ایک ایسے مستقبل کی تصویر دیکھتے ہیں جہاں سب مل کر امن اور خوشحالی کو فروغ دے سکیں۔‘
جے ڈی وینس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے انھیں اس بات کا اختیار دیا ہے کہ وہ ان متعدد مسائل کا سفارتی حل تلاش کریں جو امریکہ کے عوام اور دنیا بھر کے لوگوں کے لیے اہم ہیں۔
’آبنائے ہرمز کا کھلنا اور ایران کے جوہری پروگرام کا خاتمہ، یہ مقاصد پہلے ہی حاصل کیے جا چکے ہیں۔ اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ہم مل کر مزید کیا حاصل کر سکتے ہیں۔ کیا ہم ایک نیا باب شروع کر سکتے ہیں؟ کیا ہم مشرقِ وسطیٰ میں تعلقات کو مستقل طور پر بدل سکتے ہیں؟ یا پھر ہم پرانے طریقوں پر واپس چلے جائیں گے، جو ہماری ترجیح نہیں، لیکن ایک ایسی صورتحال ہے جو پیش آ سکتی ہے۔‘
اس مذاکراتی عمل کے لیے پاکستان کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان کے وزیرِ اعظم کے شکرگزار ہیں، ’جو صدر کے بھی قریبی دوست ہیں اور میرے بھی۔ ان کی قیادت اور مہارت سے بھرپور مذاکراتی کوششوں نے ہمیں اس مقام تک پہنچایا ہے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جب ان کی میزبانی کی تو اس کے بعد سے وہ اکثر مذاقاً کہتے ہیں کہ ان کی زندگی میں دو انتہائی اہم افراد ہیں۔ ایک انڈین اور ایک پاکستانی۔ انڈین ان کی اہلیہ ہیں اور پاکستانی فیلڈ مارشل منیر ہیں۔
’گذشتہ چند مہینوں میں میری فیلڈ مارشل منیر سے جتنی بات ہوئی اتنی شاید کسی اور نہیں ہوئی۔ ان کے سفارتی کردار کے بغیر ہم یہاں موجود نہ ہوتے۔ وہ یقیناً ایک عظیم فوجی رہنما ہیں، لیکن میرے خیال میں انھوں نے خود کو ایک بہترین سفارتکار کے طور پر بھی منوایا ہے۔‘