لائیو, سعودی فوجی اتحاد کا مدینہ اور ملک کے مشرقی حصوں کی جانب آنے والے پانچ ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ

یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی مدد کے لیے سعودی عرب کی قیادت میں قائم عسکری اتحاد نے مدینہ ریجن اور سعودی عرب کے مشرقی حصوں کی جانب آنے والے پانچ ڈرونز کو مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. یوکرین جنگ کے خاتمے کی کوششیں، ٹرمپ کے ایلچی سٹیو وٹکوف کی روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات طے

    Putin Witkoff
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    امریکی صدر کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف بدھ کے روز سینٹ پیٹرزبرگ میں روس کے صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کریں گے۔ اس ملاقات میں روس اور یوکرین کے درمیان کئی برس سے جاری تنازع کے خاتمے سے متعلق تجاویز پر بات چیت ہو گی۔

    یہ مذاکرات وٹکوف کی ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی سے ہونے والی ملاقات کے ایک دن بعد ہو رہے ہیں، جسے ایک امریکی عہدیدار نے ’مثبت اور تعمیری‘ قرار دیا تھا۔

    یوکرین اس سے قبل امریکہ پر انٹیلی جنس شیئرنگ روکنے کا الزام عائد کر چکا ہے۔ تاہم واشنگٹن نے اس الزام کو ’باعثِ حیرت‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔ منگل کو زیلنسکی نے کہا کہ روسی میزائل حملوں سے متعلق امریکہ کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ ’اب دوبارہ شروع ہو گیا ہے۔‘

    زیلنسکی اور ان کے یورپی اتحادیوں کا کہنا ہے کہ اوسلو میں جن تجاویز پر اتفاق ہوا ہے، اب اس پر روس کی جانب سے جواب کا انتظار ہے۔

    اوسلو میں منگل کے روز ہونے والی بات چیت میں شامل فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر سٹب نے کہا ہے کہ امن کے حصول کے لیے تجاویز پر ’حقیقی پیش رفت‘ ہوئی ہے، تاہم انھوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں اور خبردار کیا کہ اس عمل میں صبر کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

    خیال رہے کہ مذاکرات کے بعد ہونے والی مشترکہ پریس کانفرنس میں وٹکوف نے شرکت نہیں کی تھی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔

    بعد ازاں ایک امریکی عہدیدار نے مذاکرات کو ’انتہائی نتیجہ خیز اور تعمیری‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’اگلے اقدامات‘ کے حوالے سے امریکہ، یوکرین اور یورپی ممالک کے درمیان عملی سطح پر نمایاں ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔

  2. راجن پور میں بس حادثے کے نتیجے میں 10 افراد ہلاک، درجنوں زخمی

    Rajanpur bus

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے علاقے راجن پور میں بس حادثے کے نتیجے میں 10 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔

    ریسکیو حکام کے مطابق حادثہ بدھ کی صبح راجن پور کے تحصیل روجھان میں پیش آیا۔ 23 زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جبکہ ایک درجن سے زائد افراد معمولی اس حادثے میں زخمی ہوئے ہیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ ایک نجی کمپنی کی مسافر بردار بس سڑک کے ساتھ بنی حفاظتی دیوار سے ٹکرا کر الٹ گئی تھی۔ ریسکیو 1122 کے مطابق بظاہر حادثہ تیز رفتاری کے باعث پیش آیا۔

    وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے راجن پور کے قریب بس حادثے کا نوٹس لیتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف فوری کارروائی کی ہدایت کی ہے۔

  3. ایران کو شکست دینے کے لیے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں، صرف اتنا فیصلہ کرنا ہے کہ یہ جنگ کس طرح جیتنی ہے: امریکی صدر ٹرمپ

    Donald Trump

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انھیں ایران کو شکست دینے کے لیے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق منگل کے روز وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ واشنگٹن کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ ایرانی حکومت کو کس طریقے سے شکست دینا چاہتا ہے۔

    ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’جیسا کہ آپ جانتے ہیں ہم ایران کے معاملے میں بہت اچھی پوزیشن میں ہیں۔ ہمیں صرف یہ حتمی فیصلہ کرنا ہے کہ ہم کس طریقے سے جیتنا چاہتے ہیں۔ کیا ہم اچھے طریقے سے جیتنا چاہتے ہیں یا ناخوشگوار طریقے سے؟‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ بہت بہتر پوزیشن میں ہے اور اسے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں۔

    امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ انھوں نے کئی ممالک کے رہنماؤں سے رابطہ کیا تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ کون امریکہ کی مدد کرنے کے تیار ہے۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ انھیں ان ممالک کے رہنماؤں کی جانب سے منفی جواب ملا۔

    ’میں ان کا امتحان لے رہا تھا۔ میں نے مختلف صدور اور وزرائے اعظم کو فون کیا اور پوچھا کہ کیا وہ ہماری مدد کرنا چاہیں گے، لیکن انھوں نے انکار کر دیا۔‘

    صدر ٹرمپ نے یہ نہیں بتایا کہ انھوں نے کن رہنماؤں سے رابطہ کیا تھا یا ان ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ ہونے والی مشاورت کی تفصیلات کیا تھیں۔

    امریکی صدر کا یہ بیان اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو کی جانب سے صدر ٹرمپ کے ساتھ اپنی ٹیلیفونک گفتگو کی ویڈیو جاری کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔

    ویڈیو میں نیتن یاہو کو صدر ٹرمپ سے یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ ’ڈونلڈ، ہمارا کام ابھی ختم نہیں ہوا۔ ہم اسے مل کر مکمل کریں گے، کیونکہ اسے ہمارے علاوہ کوئی اور نہیں کر سکتا۔‘

    آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر عائد پابندیوں کے بعد ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’لوگ پیٹرول کی صورت حال سے ناخوش ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کی قیمت زیادہ ہے۔ میں یہ بات معمولی انداز میں نہیں کہنا چاہتا، لیکن ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کی یہ دراصل بہت چھوٹی قیمت ہے۔‘

  4. سعودی فوجی اتحاد کا مدینہ اور ملک کے مشرقی حصوں کی جانب آنے والے پانچ ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ

    یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی مدد کے لیے سعودی عرب کی قیادت میں قائم عسکری اتحاد نے مدینہ ریجن اور سعودی عرب کے مشرقی حصوں کی جانب آنے والے پانچ ڈرونز کو مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    سعودی فوجی اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری ایک بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی طرف آنے والے چار ڈرونز کو روک کر تباہ کر دیا گیا ہے۔

    بعد ازاں انھوں نے ایکس پر ایک اور پیغام جاری کرتے ہوئے سعودی عرب کے مشرقی حصے کی جانب آنے والا ایک اور ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا۔

    تاہم ترجمان کی جانب سے یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ ڈرونز کہاں سے آئے تھے اور آیا اس واقعے کے نتیجے میں کسی قسم کا نقصان ہوا ہے کہ نہیں۔

    خیال رہے کہ حالیہ دنوں میں سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے بعد سے سعودی عرب حوثیوں پر ڈرون اور بیلسٹک میزائلوں سے حملوں کے الزامات لگاتا آیا ہے۔

    گذشتہ روز برطانوی حکومت نے کہا تھا کہ وہ حوثیوں کے بڑھتے ہوئے میزائل اور ڈرون حملوں کے پیشِ نظر سعودی عرب کے دفاع کے لیے رائل ایئر فورس (آر اے ایف) کے ٹائفون لڑاکا طیارے تعینات کرے گی۔

    دوسری جانب منگل کے روز عراق کے ٹی وی چینل الاخباریہ کی جانب سے نشر کیے گئے ایک انٹرویو میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ سعودی عرب یا یمن کی حوثی تحریک نے اب تک ایران کی دونوں فریقوں کے درمیان لڑائی ختم کرنے کے لیے ثالثی کی پیشکش کا کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

  5. سعودی عرب اور حوثیوں کی جانب سے ثالثی کی پیشکش پر کوئی جواب موصول نہیں ہوا، عباس عراقچی

    MBS Abbas Aragchi
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب یا یمن کی حوثی تحریک نے اب تک ایران کی دونوں فریقوں کے درمیان لڑائی ختم کرنے کے لیے ثالثی کی پیشکش کا جواب نہیں دیا ہے۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق منگل کو نشر ہونے والے ایک ٹی وی انٹرویو میں عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس ماہ کے آغاز میں سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں میں اضافے کے بعد بات چیت کے آغاز میں مدد کی پیشکش کی تھی۔

    مصر کی جانب سے حوثیوں کے خلاف جنگ میں سعودی عرب کا ساتھ دینے کے متعلق بیان پر ان کا کہنا تھا کہ ’کسی بھی بیرونی مداخلت سے صورتِ حال مزید پیچیدہ ہو جائے گی۔‘

    عراق کے ٹی وی چینل الاخباریہ کو دیے گئے انٹرویو میں عراقچی کا کہنا تھا کہ قاہرہ اس سے قبل تہران کو یقین دہانی کروا چکا ہے کہ وہ یمن کے تنازع میں ’براہِ راست‘ مداخلت نہیں کرے گا۔

    دوسری جانب مصر کا کہنا ہے کہ وہ سعودی عرب کی سلامتی کے دفاع کے لیے اسے درکار تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔

    حوثیوں کے خلاف مصری فوج کی ممکنہ کارروائی سے متعلق مصری پارلیمان میں ہونے والی ووٹنگ 26 اکتوبر تک مؤخر کر دی گئی ہے۔ مصر کی فوج عرب دنیا کی بڑی فوجی قوتوں میں شمار ہوتی ہے۔

  6. ترکی کی حکومت نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ منظوری کے لیے پارلیمان میں جمع کروا دیا

    ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان، پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور سعودی عرب کے ولی عہد و وزیرِ اعظم محمد بن سلمان نے سات اگست کو ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ پر دستخط کیے تھے۔
    ،تصویر کا کیپشنپاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف، سعودی عرب کے ولی عہد و وزیرِ اعظم محمد بن سلمان اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے سات اگست کو ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ پر دستخط کیے تھے۔

    ترکی کی حکومت نے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ طے پانے والے ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ سے متعلق بل ترک پارلیمان کے سپیکر کو جمع کروا دیا ہے۔

    یہ بل پہلے ترکی کی گرینڈ نیشنل اسمبلی کی خارجہ امور کمیٹی کو بھیجا جائے گا۔

    ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان، پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور سعودی عرب کے ولی عہد و وزیرِ اعظم محمد بن سلمان نے سات اگست کو ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ پر دستخط کیے تھے۔

    ترکی کے آئین کے مطابق کسی بھی بین الاقوامی معاہدے کے نافذ العمل ہونے کے لیے ترکی کی گرینڈ نیشنل اسمبلی سے اس کی منظوری ضروری ہوتی ہے۔

    ترکی اس وقت مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت ریاض کی حکومت کو فراہم کی جانے والی عسکری معاونت کے دائرۂ کار اور قانونی فریم ورک کا جائزہ لے رہا ہے۔

    معاہدے کے دائرۂ کار سے متعلق بحث کے حوالے سے ترک وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان کا کہنا تھا کہ ’ترکی کسی دوسرے ملک کی سرزمین پر اپنے فوجی دستے نہیں بھیجے گا اور نہ وہاں جا کر کوئی حملہ کرے گا۔‘

    سعودی عرب کو کچھ عرصے سے یمن میں موجود حوثیوں کی جانب سے بڑھتے ہوئے حملوں کا سامنا ہے۔

    ترکی مکہ اتحاد کے فریم ورک کے تحت سعودی عرب کو عسکری معاونت فراہم کرنے کے امکان پر غور کر رہا ہے۔

  7. مسک نے یوکرین کی سپیس ایکس سیٹلائٹ سروس تک رسائی محدود کرنے کا فیصلہ کیا تھا: امریکی نشریاتی ادارہ

    امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایلون مسک کے ایک فیصلے کے نتیجے میں یوکرین کے لیے سپیس ایکس کے سیٹلائٹ مواصلاتی نیٹ ورک کے استعمال پر پابندیاں عائد کی گئیں۔

    اس معاملے سے واقف افراد نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ یوکرین میں ڈرون کارروائیوں، بعض اہداف کو نشانہ بنانے اور مختلف مقامات کے تحفظ کے لیے استعمال ہونے والی اس سیٹلائٹ سروس کی رفتار گذشتہ ہفتے نمایاں طور پر کم کر دی گئی تھی۔

    ذرائع کے مطابق اس حکم سے قبل ایلون مسک نے امریکی انتظامیہ کے حکام کے ساتھ متعدد بات چیت کیں۔ وہ اس معاملے پر صدر کی سوچ اور مؤقف کے بارے میں وضاحت چاہتے تھے۔

    ایلون مسک اس بات پر ناگواری کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ اُن کی کمپنی کو روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ سے مالی فائدہ اٹھانے والی کمپنی کے طور پر دیکھا جائے۔

    تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ سروس محدود کرنے کے لیے ایلون مسک کے حکم پر عمل درآمد کس طرح کیا گیا۔

  8. ایران اب بھی قطر اور پاکستان کے ذریعے امریکہ کے ساتھ رابطے میں ہے، عباس عراقچی

    Abbas Aragchi

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ان کا ملک اب بھی قطر اور پاکستان کے ذریعے امریکہ کے ساتھ رابطے میں ہے۔

    منگل کو عراقی ٹی وی نیٹ ورک الاخباریہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عباس عراقچی نے اس بات پر زور دیا کہ ’آبنائے ہرمز کوئی بین الاقوامی آبی گزرگاہ نہیں بلکہ یہ ایران اور عمان کی علاقائی سمندری حدود میں واقع ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ یہ آبی گزرگاہ بین الاقوامی پانی کا حصہ نہیں۔

    ایرانی وزیرِ خارجہ نے الاخبیاریہ کو بتایا کہ تہران اور مسقط کے درمیان آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کے حوالے سے اتفاق ہو چکا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’ان راستوں کا ایک مخصوص نقشہ تیار کیا جا چکا ہے اور ان کے جغرافیائی نقاط کا تعین کر کے انھیں نقشے میں درج کر لیا گیا ہے۔ لہٰذا اگر کسی دن آبنائے ہرمز کھولی جاتی ہے تو ایران اور عمان کے درمیان طے پانے والا راستہ ہی جہازوں کی آمد و رفت کے لیے حقیقی اور متفقہ راستہ ہو گا، نہ کہ کوئی اور راستہ۔‘

    امریکہ کے ساتھ بات چیت کے حوالے سے عراقچی کا کہنا تھا کہ تہران، فوجی کشیدگی کے خاتمے کے لیے اب بھی قطر اور پاکستان کے ذریعے امریکہ کے ساتھ رابطے میں اور مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے۔

    دوسری جانب منگل کو تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہانِ حکومت کے 25ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ ’پاکستان یہ سمجھتا ہے کہ علاقائی کشیدگی کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری سب سے مؤثر ذرائع ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’مغربی ایشیا اور خلیج فارس میں فریقین کے درمیان رابطوں کو ممکن بنانے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی کوششیں تعمیری سفارت کاری کے عزم کی عکاس ہیں۔‘

    اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ ’پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششیں جاری رکھے گا اور دیرپا امن و استحکام کے لیے مذاکرات اور تنازعات کے پُرامن حل کی تمام کوششوں کی حمایت کرے گا۔‘

  9. امریکی سینٹرل کمانڈ کی آبنائے ہرمز میں دو آئل ٹینکرز بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کی تردید

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس بات کی تردید کی ہے کہ آبنائے ہرمز میں دو آئل ٹینکر ایرانی بحری بارودی سرنگوں سے ٹکرائے ہیں۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے ایک ترجمان نے الجزیرہ کو بتایا کہ ’ایران کا یہ دعویٰ کہ آبنائے ہرمز میں دو آئل ٹینکر بارودی سرنگوں سے ٹکرائے ہیں، درست نہیں ہے۔‘

    الجزیرہ کے مطابق، فوجی عہدیدار نے مزید کہا: ’ہم نے آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی کے راستوں کو بارودی سرنگوں سے پاک کر دیا ہے۔ ایران اپنی جارحانہ کارروائیوں میں میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال کرتا ہے۔‘

    اُنھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کے دعووں کے برعکس، آبنائے ہرمز کھلی ہے اور 95 فیصد بحری جہاز اس آبی گزرگاہ سے ’کامیابی کے ساتھ‘ گزر جاتے ہیں۔

  10. افزودہ یورینیم کا ایک ذرہ بھی ملک سے باہر نہیں جائے گا: محسن رضائی کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کے دوران گفتگو

    Mohsin Razai Asim Munir

    ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا ہے کہ ایران سے افزودہ یورینیم کا ایک ذرہ بھی باہر نہیں جائے گا۔

    ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ’فارس‘ کے مطابق ان خیالات کا اظہار محسن رضائی نے پاکستان فوج کے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے تہران میں ملاقات کے دوران کیا۔

    محسن رضائی نے کہا کہ ’جب تک امریکہ اعتماد سازی نہیں کرتا، اس وقت تک کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔ اُنھوں نے ایران کی شرائط کو پورا کرنے کو ہی اس اعتماد سازی کے عمل کا آغاز قرار دیا۔‘

    محسن رضائی نے کہا کہ ایران اور پاکستان کی سرحدوں کا مسئلہ حل ہو گیا ہے اور آج صبح سے دونوں ممالک کے درمیان تمام سرحدی مقامات دوبارہ کھول دیے گئے ہیں۔

    چند گھنٹے قبل، ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سرحد کی بندش کی وجہ ’تکنیکی مسائل‘ بتائی تھی۔

    اس دورے کے دوران، پاکستانی مسلح افواج کے سربراہ نے صدر مسعود پزشکیان اور ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف سے بھی ملاقات کی۔

  11. فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایرانی صدر اور پارلیمان کے سپیکر سے ملاقاتاتیں

    Asim Munir Masoud Pazeshkian

    ایران کے دورے پر موجود پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان ایرانی پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کی ہیں۔

    عاصم منیر ایران کے اعلیٰ حکام سے بات چیت کے لیے منگل کو تہران پہنچے تھے اور اُن کے ساتھ اس دورے پر پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی بھی ہیں۔

    واضح رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کے ساتھ ساتھ فیلڈ مارشل بھی ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔

    ایرانی خبر رساں ادارے ’ارنا‘ کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات میں باقر قالیباف نے کہا کہ ایران کی جانب سے امریکہ کو پیش کی گئی سات شرائط پورا ہونے تک امریکہ ایران کا اعتماد حاصل نہیں کر سکتا۔

    باقر قالیباف نے کہا کہ ’ایران جنگ پسند نہیں ہے، لیکن وہ اپنے وطن اور قومی وقار کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔‘

    ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر نے کہا کہ دھمکیاں اور فوجی مشقیں ایران کے سٹریٹجک فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہو سکتیں۔

    اُن کا کہنا تھا کہ یہ امریکہ ہی تھا جو غلط اندازوں اور ایران کے خلاف جنگ چھیڑنے کی وجہ سے خود ایک دلدل میں پھنس گیا؛ اب یہ انھی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس صورتحال سے نکلنے کے لیے ضروری اقدامات اٹھائیں۔

    Asim Munir, Baqir Qalibaf
  12. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • بلوچستان حکومت کا کہنا ہے کہ رواں سال اب تک شدت پسندی کے خاتمے کے لیے سکیورٹی فورسز نے 50 ہزار سے زائد انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز اور دیگر کارروائیاں کی ہیں۔ حکام کے مطابق ان کارروائیوں میں 1100 شدت پسند ہلاک ہوئے جبکہ سکیورٹی فورسز کے 315 اہلکار اور 551 عام شہری بھی جان سے گئے۔
    • ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششیں جاری رکھے گا۔
    • اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ یمن میں دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی کے باعث اب تک ڈھائی لاکھ سے زیادہ افراد اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
    • برطانوی حکومت نے کہا ہے کہ وہ حوثیوں کے بڑھتے ہوئے میزائل اور ڈرون حملوں کے پیشِ نظر سعودی عرب کے دفاع کے لیے رائل ایئر فورس (آر اے ایف) کے ٹائفون لڑاکا طیارے تعینات کرے گی۔
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے صدر شی جنپنگ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ سہ فریقی اجلاس پر آمادگی کا اعلان کیا ہے۔
  13. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔