پاکستان سے ایران کو برآمدات کھولے جانے اور ایرانی حکام کے ’سرحدی تبادلے جاری‘ رہنے کے دعوے: ’ایل پی جی گاڑیاں نہ آنے سے ایل پی جی کا بحران پیدا ہو رہا ہے‘, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے صوبہ بلوچستان سے ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے تاجروں نے دعویٰ کیا ہے ایران سے درآمدات تاحال بند ہیں تاہم برآمدات کے لیے سرحد کو عارضی طور پر کھول دیا گیا ہے۔ بلوچستان کے سرحدی اضلاع کیچ اور چاغی کے دو سینءئر سرکاری اہلکاروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تصدیق کی ہے کہ برآمدات کے لیے بارڈر عارضی طور پر کھول دیا گیا ہے۔
تاہم اس حوالے سے سرکاری سطح پر کوئی نوٹیفکیشن یا اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ساتھ سرحدی تبادلے جاری ہیں اور اس میں کوئی تعطل نہیں۔
سینیچر کے روز پاکستانی حکام نے ایران کے ساتھ سرحد کو تجارت کے لیے بند کردیا تھا جس کے باعث سرحد کی دونوں جانب بڑی تعداد میں مال بردار گاڑیاں پھنس گئی تھیں۔
گوادر کی ضلعی انتظامیہ سے سرحد کی موجودہ صورتحال جاننے کے لیے رابطے کی کوشش کی گئی لیکن انھوں نے کال وصول نہیں کی تاہم کیچ اور چاغی میں دو سینیئر سرکاری اہلکاروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سرحد تاحال ایران سے درآمدات کے لیے بند ہے تاہم اسے برآمدات کے لیے عارضی طور پر کھول دیا گیا ہے۔
ضلع گوادر سے گبد ریمدان بارڈر پر پاکستانی تاجروں کی تنظیم کے چیئرمین عبدالغفور ہوت نے بتایا کہ منگل کو ایک سینیئر فوجی افسر نے گوادر کا دورہ کیا تھا۔
عبدالغفور ہوت کے مطابق تاجروں کی فوجی افسر سے ملاقات ہوئی اور سرحد کی بندش سے پیدا ہونے والی مشکلات سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ منگل کو روز دوپہر کے بعد گبد ریمدان بارڈر کو پاکستانی حکام نے صرف برآمدات کے لیے کھول دیا لیکن ایران سے امپورٹ اب بھی بند ہے۔
عبدالغفور ہوت کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ سرحد کو درآمدات کے لیے بھی کھول دیا جائے۔
انھوں نے توقع ظاہر کی کہ بارڈر کو ایک دو دن میں درآمدات کے لیے بھی کھول دیا جائے گا۔
’پاکستان کے ساتھ سرحدی تبادلے جاری ہیں‘
ایران کی وزارتِ داخلہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ساتھ سرحدی تبادلے جاری ہیں اور اس حوالے سے مکمل تعطل نہیں۔
وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ترجمان علی زینی وند کا کہنا ہے کہ ’ہمیں بعض ہمسایہ ممالک کے ساتھ سرحدی تبادلوں میں کچھ رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ ان میں سے بعض رکاوٹیں فطری نوعیت کی ہیں، جو کسی بھی دور میں پیش آ سکتی ہیں، حتیٰ کہ جنگ یا پابندیوں کی عدم موجودگی میں بھی۔‘
علی زینی وند کا کہنا ہے کہ ’تاہم ان میں سے بعض رکاوٹیں یقیناً امریکہ کی جانب سے ڈالے جانے والے دباؤ کا نتیجہ ہیں، جسے وہ ہمارے ہمسایہ ممالک پر عائد کردہ 'محاصرے' کا حصہ قرار دیتا ہے۔‘
پاکستان کے ساتھ سرحدی تجارت کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ’اس وقت پاکستان کے ساتھ ہمارے سرحدی تبادلے جاری ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی حکومت نے بعض تکنیکی اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق مسائل، خاص طور پر مالیاتی نظام سے جڑے چیلنجز، کی نشاندہی کی ہے جنھیں حل کرنے کی ضرورت ہے۔
’اس لیے فی الحال ہمارے تبادلوں میں کوئی رکاوٹ یا تعطل نہیں ہے۔‘
انھوں نے امید ظاہر کی کہ جلد ان معمولی رکاوٹوں کو دور کر لیا جائے گا، ’جس کے بعد دو طرفہ تبادلے مکمل طور پر بحال ہو جائیں گے۔‘
گذشتہ روز پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورہ تہران کے بعد ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی نے دعویٰ کیا تھا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے ایران اور پاکستان کے درمیان سرحدی گزرگاہیں دوبارہ کھولنے کے اعلان کے باوجود منگل کی رات 9 بجے تک سرحدیں بند رہیں۔
فارس نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ پاکستانی کسٹمز حکام نے دونوں جانب ہونے والے مذاکرات کے باوجود سرحدی گزرگاہوں کو دوبارہ کھولنے سے گریز کیا۔
’ایل پی جی گاڑیاں نہ آنے سے پاکستان میں ایل پی جی کا بحران پیدا ہو رہا ہے‘
گوادر چیمبر آف کامرس کے سابق صدر شمس الحق نے بتایا کہ سرحد کو گذشتہ روز برآمدات کی گاڑیوں کے کھول دیا گیا تھا جس کے بعد وسطی ایشائی ریاستوں کو جانے والی کچھ گاڑیاں نکلی تھیں اور اسی طرح ایران جانے والی گاڑیوں کو بھی اجازت دی گئی تھی۔
شمس الحق نے بتایا کہ ایران سے درآمدات پر پابندی کے باعث ایران کی جانب سینکڑوں ایل پی جی کی باؤزرز کھڑے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سینیچر سے ایل پی جی گاڑیاں نہ آنے سے پاکستان میں ایل پی جی کا بحران پیدا ہو رہا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ اس وقت کراچی اور لاہور سمیت دیگر شہروں میں طلب اور رسد میں فرق ہونے سے ایل پی جی کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔
ضلع چاغی کے سرحدی شہر تفتان سے تعلق رکھنے والے تاجر رہنما حاجی شوکت عیسی زئی نے بتایا سرحد کی بندش کی وجہ سے اس وقت ایران کی جانب پاکستان کے لیے ایل پی جی لانے والی 1500 گاڑیاں کھڑی ہیں۔
انھوں نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ اس وقت پاکستان میں ایل پی جی کی کھپت کا 80 فیصد انحصار ایران پر ہے۔
حاجی شوکت نے خدشے کا اظہار کیا کہ اگر ایران کے ساتھ سرحدی تجارت زیادہ دیر بند رہی تو پاکستان میں ایل پی جی کا بحران پیدا شدید ہو سکتا ہے۔









