آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو , امریکہ میں وسط مدتی انتخابات: ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو تاریخی شکست کا سامنا، ڈیموکریٹس کانگریس کے دونوں ایوانوں پر کنٹرول کے قریب

امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کے لیے حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں، اور پیش گوئی کی جا رہی ہے کہ وہ سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان دونوں میں اکثریت حاصل کر کے کانگریس کا کنٹرول واپس لے سکتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ان نتائج کو ’مکمل طور پر قبول کرنے کے لیے تیار ہیں‘ اور مخالف جماعت کے ساتھ کام کرنے پر آمادہ ہیں۔

خلاصہ

  • اپنے موبائل فون یا ٹیبلٹ پر بی بی سی اردو تک براہِ راست رسائی کے لیے BBC WORLD SERVICE ایپ ڈاؤن لوڈ کر کے BBC News اردو ایڈیشن کا انتخاب کریں اور نیوز الرٹس، تحقیقاتی اور تفصیلی رپورٹس، سب کچھ ایک ہی جگہ پر حاصل کریں
  • امریکہ میں وسط مدتی انتخابات: متعدد ریاستوں میں پولنگ ختم، ووٹوں کی گنتی جاری
  • سینیٹ کی 35 جبکہ ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں کے لیے ووٹرز نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا
  • امریکہ کی 36 ریاستوں میں نئے گورنرز کے انتخاب کے لیے بھی ووٹ ڈالے گئے
  • امریکی سینیٹ میں برتری کا فیصلہ کرنے والی اہم ریاستیں کونسی ہیں؟
  • اس وقت امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں پر صدر ٹرمپ کی جماعت ریپبلکن پارٹی کا کنٹرول ہے
  • یہ انتخابات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب صدر ٹرمپ کی عوامی مقبولیت میں کمی ہوئی ہے۔

لائیو کوریج

پیشکش: منزہ انوار

  1. ایران کے ساتھ جنگ اور ایندھن کی بڑھتی قیمتوں نے ریپبلکن پارٹی کو نقصان پہنچایا: ٹرمپ کا اعتراف

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز سے گفتگو میں اعتراف کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ اور ایندھن کی بڑھتی قیمتوں نے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو نقصان پہنچایا۔

    ایران پر ممکنہ امریکی حملوں سے متعلق خبروں پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا: ’ہمیں کچھ بڑا کرنا ہو گا‘ اور مزید کہا کہ اس میں ’شدید حملہ‘ بھی شامل ہو سکتا ہے۔ انھوں نے ایک بار پھر کہا کہ ’ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔‘

    ٹرمپ نے یہ بھی تسلیم کیا کہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافے نے ووٹروں کو ناراض کیا اور اس کا اثر ریپبلکن امیدواروں پر پڑا۔

    تاہم انھوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ انتخابی نتائج ان کی صدارت کے خلاف فیصلہ ہیں، حالانکہ پیش گوئی کی جا رہی ہے کہ ان کی جماعت کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت کھو سکتی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ڈیموکریٹس طویل عرصے سے ایسی کامیابی کے منتظر تھے اور بالآخر اسے حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے اور انھوں نے انھیں ’اچھا کام‘ کرنے پر مبارکباد بھی دی۔

  2. بریکنگ, مین کی سینیٹ نشست پر ڈیموکریٹ ٹرائے جیکسن کے جیتنے کا امکان

    بی بی سی کے امریکی شراکت دار سی بی ایس نیوز کے مطابق مین کی سینیٹ نشست ڈیموکریٹ امیدوار ٹرائے جیکسن کے حصے میں جانے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

    یہ نشست ریپبلکن سینیٹر سوزن کولنز کے پاس تھی، جو تقریباً 30 برس سے اس عہدے پر فائز تھیں اور امریکی سینیٹ کی تاریخ میں سب سے طویل عرصہ خدمات انجام دینے والی ریپبلکن خاتون سینیٹر ہیں۔

  3. مختلف ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی کی رفتار مختلف کیوں ہوتی ہے؟

    دنیا کی نظریں اس وقت امریکہ کے وسط مدتی انتخابات پر ہیں جس کے نتائج صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی باقی مدت صدارت کو متاثر کر سکتے ہیں۔ لیکن جہاں کچھ ریاستوں میں انتخابات کے نتائج چند گھنٹوں میں آ جاتے ہیں وہیں کچھ میں بعض اوقات کئی دن بھی لگتے ہیں۔ اس کی وجہ کیا ہے؟

  4. اگر ڈیموکریٹس کانگریس کا کنٹرول سنبھال لیتے ہیں تو ٹرمپ کے لیے اس کے کیا معنی ہوں گے؟

    اب پیش گوئی کی جا رہی ہے کہ ڈیموکریٹس کو سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان دونوں میں اکثریت حاصل ہو سکتی ہے۔

    اس کا مطلب یہ ہے کہ جنوری سے وہ دوبارہ کانگریس کا کنٹرول سنبھال سکتے ہیں، جو ملک میں قوانین بنانے کا ذمہ دار ادارہ ہے۔

    فی الحال کانگریس کے دونوں ایوانوں میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو اکثریت حاصل ہے۔

    تاہم اگر ڈیموکریٹس کانگریس کا کنٹرول واپس لینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ قانون سازی نسبتاً آسانی سے کر سکیں گے، صدر کے سیاسی ایجنڈے کو چیلنج کر سکیں گے اور ان کی انتظامیہ کے ارکان کے خلاف تحقیقات بھی شروع کر سکتے ہیں۔

    یہ امریکی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی ہوگی اور ایسی کامیابی جس کی ڈیموکریٹس کو ٹرمپ کی صدارت کے آخری دو برسوں میں امید تھی۔

  5. ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا: ’انھوں نے اچھا کام کیا‘

    وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکنز کی خراب کارکردگی کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ’انھوں نے اچھا کام کیا۔‘

    فاکس نیوز سے گفتگو میں ٹرمپ نے کہا کہ انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے والا ماحول موجود تھا اور انھیں ان نتائج پر کسی حد تک حیرت ہوئی ہے۔

    انھوں نے کہا: ’ہم نے شاندار جلسے کیے تھے، اس لیے مجھے تھوڑی حیرت ہوئی ہے۔‘

    تاہم نسبتاً مفاہمتی لہجہ اختیار کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ کانگریس میں ڈیموکریٹس کے ساتھ کام کرنے کے لیے ’بہت سے معاملات‘ موجود ہیں۔

    ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ وسط مدتی انتخابات کے نتائج کے بعد اپنی کابینہ میں کسی تبدیلی کا ارادہ نہیں رکھتے۔

  6. ایوانِ نمائندگان میں اس وقت کیا صورتحال ہے؟

    سی بی ایس کے اندازوں کے مطابق امریکی ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس کم از کم 239 جبکہ ریپبلکنز کم از کم 161 نشستیں حاصل کرنے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

    435 رکنی ایوانِ نمائندگان کی تمام نشستوں کے نتائج ابھی سامنے نہیں آئے، اور متعدد حلقوں میں ووٹوں کی گنتی جاری ہے، خاص طور پر کیلیفورنیا اور ٹیکساس میں جہاں نشستوں کی تعداد زیادہ ہے۔

    اس کے علاوہ مین اور الاسکا جیسی ریاستوں میں بھی ووٹوں کی گنتی نسبتاً سست رفتار سے ہوتی ہے، جس کے باعث حتمی تصویر سامنے آنے میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔

  7. ٹرمپ نے انتخابی ناکامیوں کا ملبہ ’نام نہاد ریپبلکنز‘ اور فاکس نیوز پر ڈال دیا

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات کے نتائج پر ایک بار پھر اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ردعمل دیتے ہوئے بعض ریپبلکن رہنماؤں اور فاکس نیوز کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

    ٹرمپ نے لکھا: ’میں اب ایک سیاسی مبصر بننے جا رہا ہوں اور امیدواروں کی جیت اور شکست کی وجوہات پر رائے دوں گا۔‘

    انھوں نے ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر وہ گزشتہ چھ ماہ میں ’رائنو‘ (صرف نام کے ریپبلکن) نہ بنے ہوتے تو انتخابات نہ ہارتے۔

    ٹرمپ نے ایک سرخ ٹوپی کی تصویر بھی شیئر کی جس پر ’ویٹو` لکھا تھا، جو بظاہر اس اختیار کی جانب اشارہ تھا جس کے تحت وہ ڈیموکریٹس کے زیرِ کنٹرول ہونے والی آئندہ کانگریس کی منظور کردہ قانون سازی کو روک سکتے ہیں۔

    انھوں نے فاکس نیوز پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چینل کو اپنی سیاسی نشریات میں ڈیموکریٹ شخصیات کو مسلسل جگہ دینے کی وجہ سے انتخابی نتائج کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔

    اس سے قبل ٹرمپ نے کہا تھا: ’میرا نام بیلٹ پیپر پر نہیں تھا، اور اگر ہوتا تو ہم بھاری اکثریت سے جیت جاتے۔‘

  8. ریپبلکنز کو تاریخی شکست کا سامنا، ڈیموکریٹس دونوں ایوانوں پر کنٹرول کے قریب

    ڈیموکریٹس کے لیے جشن کی رات ریپبلکن پارٹی کی ایک تاریخی انتخابی شکست میں بدلتی دکھائی دے رہی ہے، ایسی کامیابی جس کا تصور چند ماہ قبل خود ڈیموکریٹک پارٹی کے بہت سے رہنما بھی نہیں کر رہے تھے۔

    اب پیش گوئی کی جا رہی ہے کہ ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں کا کنٹرول حاصل کر لیں گے۔

    یہ پیش رفت ٹیکساس، کینساس، اوہائیو اور جنوبی کیرولائنا میں کامیابیوں کے بعد سامنے آئی ہے، جو صرف دو سال قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نسبتاً آسانی سے جیتی تھیں۔

  9. ’ایک کے بعد ایک غلطی‘: ریپبلکنز نے انتخابی شکست کی ذمہ داری ٹرمپ پر ڈال دی

    انتخابی نتائج واضح ہونے کے ساتھ ریپبلکنز کو اپنی شکست کی سنگینی کا زیادہ شدت سے احساس ہونے لگا ہے۔ پارٹی رہنماؤں کو ابتدا ہی سے ایوانِ نمائندگان میں اکثریت کھونے کا خدشہ تھا، تاہم بہت سے افراد کو اب بھی امید تھی کہ سینیٹ میں مقابلہ ان کے حق میں جا سکتا ہے۔

    لیکن اب جب انتخابی شکست کا حجم واضح ہو رہا ہے تو متعدد ریپبلکنز کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول کھونے کی ذمہ داری صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ڈال رہے ہیں۔

    ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے طویل عرصے سے ریپبلکن لابیسٹ بل ملر نے کہا: ’اس کی ذمہ داری انھی پر عائد ہوتی ہے۔ کسی اور پر نہیں۔ یہ صدر ٹرمپ کو مکمل طور پر مسترد کیے جانے کا نتیجہ ہے۔‘

    ڈیموکریٹس نے کئی ایسی ریاستوں میں سینیٹ کی نشستیں جیتی ہیں جہاں وہ برسوں، اور بعض جگہوں پر دہائیوں سے کامیاب نہیں ہوئے تھے۔ ٹیکساس اور جنوبی کیرولائنا اس فہرست میں سرفہرست ہیں۔ اس کے علاوہ آئیوا اور اوہائیو جیسی ریاستوں میں بھی ڈیموکریٹس نے نمایاں پیش رفت کی ہے، جو ٹرمپ کے دور میں ریپبلکنز کی جانب جھک گئی تھیں۔

    ریپبلکنز کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی کم مقبولیت، غیر مقبول پالیسیوں اور مہنگائی کے بارے میں ووٹروں کی تشویش کو بار بار کم اہمیت دینے کے رویے نے پارٹی کو نقصان پہنچایا۔

    مِنیسوٹا سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن حکمتِ عملی کے ماہر گریگ پیپن نے کہا: ’یہ ایک کے بعد ایک غلطی تھی۔ واضح طور پر مختلف ریاستوں میں لوگوں نے صدر کی پالیسیوں کو پسند نہیں کیا۔‘

  10. بریکنگ, لوزیانا کی سینیٹ نشست پر کانٹے کا مقابلہ جاری

    سی بی ایس نیوز نے لوزیانا کی سینیٹ نشست کے بارے میں اپنی تازہ درجہ بندی تبدیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہاں اب کانٹے کا مقابلہ جاری ہے۔

    لوزیانا ماضی میں مسلسل ریپبلکنز کے حق میں ووٹ دیتی رہی ہے، اس لیے اس ریاست میں مقابلے کا غیر یقینی صورت اختیار کرنا ڈیموکریٹس کے لیے ایک اور حوصلہ افزا اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔

  11. ڈیموکریٹس سینیٹ کا کنٹرول بھی حاصل کرنے جا رہے ہیں

    بی بی سی کے امریکی شراکت دار سی بی ایس کے مطابق ڈیموکریٹس امریکی سینیٹ میں بھی اکثریت حاصل کرنے کی جانب بڑھ رہے ہیں اور یوں ریپبلکنز سے اس کا کنٹرول واپس لینے کے قریب ہیں۔

    اس پیش گوئی کے مطابق ڈیموکریٹس اب کانگریس کے دونوں ایوانوں پر کنٹرول حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہیں، کیونکہ اس سے قبل سی بی ایس ایوانِ نمائندگان میں بھی ڈیموکریٹس کی اکثریت کی پیش گوئی کر چکا ہے۔

  12. بریکنگ, کینساس کی سینیٹ نشست اب ڈیموکریٹس کے حق میں جاتی دکھائی دے رہی ہے

    بی بی سی کے امریکی شراکت دار سی بی ایس نیوز نے کینساس کی سینیٹ نشست کی درجہ بندی تبدیل کرتے ہوئے اسے اب ’ڈیموکریٹس کے حق میں جاتی ہوئی‘ قرار دیا ہے۔

  13. ٹرمپ کا انتخابی نتائج قبول کرنے کا اعلان، مخالف جماعت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار

    ریپبلکنز کے مضبوط گڑھ سمجھے جانے والے بعض حلقوں میں ڈیموکریٹ امیدواروں کی کامیابی کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی نتائج پر تازہ ردعمل دیا ہے۔

    نیویارک ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ ان نتائج کو ’مکمل طور پر قبول کرنے کے لیے تیار ہیں‘ اور مخالف جماعت کے ساتھ کام کرنے پر آمادہ ہیں۔

    انھوں نے کہا: ’ہم ان کے ساتھ کام کرنے کے منتظر ہوں گے۔‘

    ٹرمپ نے مزید کہا: ’ممکنہ طور پر ہم کسی نہ کسی اتفاقِ رائے تک پہنچ جائیں گے۔‘

  14. بریکنگ, سی بی ایس کے مطابق اوہائیو کی سینیٹ نشست ڈیموکریٹ شیرروڈ براؤن کے نام ہونے کا امکان

    بی بی سی کے امریکی شراکت دار سی بی ایس نیوز کے مطابق اوہائیو کی سینیٹ نشست ڈیموکریٹ امیدوار شیرروڈ براؤن کے حصے میں جانے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

  15. ٹیکساس میں ڈیموکریٹس دہائیوں سے ریاست کا سیاسی رخ بدلنے کے خواہش مند تھے

    ٹیکساس کے ڈیموکریٹس کئی دہائیوں سے اس ریاست کو اپنے حق میں کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

    ہر بار وہ کامیابی کے قریب پہنچتے، لیکن آخری مرحلہ عبور نہ کر پاتے۔

    مسلسل ناکامیوں کے باعث ڈیموکریٹک پارٹی کس حد تک کمزور ہو گئی تھی، اس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔ کئی برس تک پارٹی کے کارکنوں اور حامیوں میں کامیابی کی امید تقریباً ختم ہو چکی تھی۔

    تاہم گذشتہ ہفتے جب میں ٹیکساس میں ڈیموکریٹس سے ملا تو انھیں محسوس ہو رہا تھا کہ اس بار صورتحال مختلف ہے اور جیمز تالاریکو کے پاس کامیابی کا حقیقی موقع موجود ہے۔

    ان کا خیال تھا کہ تالاریکو کی سیاسی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ ریپبلکن امیدوار کین پیکسٹن ان کی نظر میں تنازعات میں گھرا اور کمزور امیدوار تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ ٹیکساس کے ووٹروں کے رویوں میں بنیادی تبدیلی آ چکی ہے اور یہی وہ انتخاب ہوگا جس میں وہ آگے بڑھنے میں کامیاب ہوں گے۔

    اور بالآخر ایسا ہی ہوا۔

    مٹیکساس کے بہت سے ڈیموکریٹس چند گھنٹے پہلے تک بھی کھل کر اس امکان کا اعتراف کرنے کو تیار تھے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ تبدیلی کافی عرصے سے شکل اختیار کر رہی تھی۔

  16. ٹرمپ نے انتخابی ناکامیوں سے خود کو الگ کرنا شروع کر دیا

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا آج رات کا پہلا عوامی بیان ملک بھر کے ریپبلکنز کو شاید پسند نہ آئے۔

    اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ٹرمپ نے کہا کہ ان کا نام آج کے بیلٹ پیپر پر نہیں تھا اور ’اگر ہوتا تو ہم بھاری اکثریت سے جیتتے۔‘

    ان مختصر الفاظ سے ایسا تاثر ملا کہ ٹرمپ نے اپنی ہی جماعت سے فاصلہ اختیار کرتے ہوئے بڑھتی ہوئی انتخابی ناکامیوں کی ذمہ داری ریپبلکن امیدواروں پر ڈال دی ہے۔ متعدد ریپبلکن پہلے ہی وسط مدتی انتخابات کے حوالے سے ٹرمپ کے طرزِ عمل پر ناراضی کا اظہار کر چکے ہیں۔

    ایسا معلوم نہیں ہوتا کہ یہ بیان پارٹی کے اندر موجود اختلافات کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ریپبلکنز ایوانِ نمائندگان سے محرومی اور سینیٹ میں بھی ممکنہ شکست کے سیاسی اثرات کا سامنا کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

  17. وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکنز کی مشکلات پر ٹرمپ کا ردعمل: ’میرا نام بیلٹ پر نہیں تھا‘

    وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکنز کو درپیش مشکلات کے درمیان صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی بار ردعمل دیتے ہوئے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا ہے:

    ’میرا نام بیلٹ پیپر پر نہیں تھا، اور اگر ہوتا تو ہم بھاری اکثریت سے جیت جاتے۔‘

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ابتدائی نتائج ریپبلکن پارٹی کے لیے توقعات کے مطابق نہیں دکھائی دے رہے۔

  18. بریکنگ, سی بی ایس نے ٹیکساس کی سینیٹ نشست کو ’ممکنہ طور پر ڈیموکریٹس کے حق میں‘ قرار دے دیا

    بی بی سی کے امریکی شراکت دار سی بی ایس نے ٹیکساس کی سینیٹ نشست کے مقابلے کی درجہ بندی مزید تبدیل کرتے ہوئے اسے اب ’ممکنہ طور پر ڈیموکریٹس کے حق میں‘ قرار دے دیا ہے، جہاں جیمز تالاریکو کو برتری حاصل ہے۔

    اس سے قبل اس اہم مقابلے کو ’ڈیموکریٹس کی معمولی برتری‘ کے زمرے میں رکھا گیا تھا، تاہم تازہ اندازے ڈیموکریٹ امیدوار کی پوزیشن مزید مضبوط ہونے کا اشارہ دے رہے ہیں۔

  19. ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس کی ممکنہ اکثریت ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے مشکلات کیسے بڑھا سکتی ہے؟

    ابھی یہ واضح نہیں کہ ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان میں کتنی بڑی اکثریت حاصل کر سکتے ہیں، اور یہی آئندہ صورتحال کا ایک اہم پہلو ہوگا۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا انھیں ریپبلکنز کی گزشتہ دو برس کی طرح معمولی اکثریت ملتی ہے یا وہ واضح برتری حاصل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں۔

    ڈیموکریٹس کے لیے ایوانِ نمائندگان میں کامیابی حاصل کرنا سینیٹ کے مقابلے میں نسبتاً آسان سمجھا جا رہا تھا، اس لیے اس نتیجے سے یہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ سینیٹ میں بھی لازماً اکثریت حاصل کر لیں گے۔

    تاہم یہ نتائج انتخابی رات کے مجموعی رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ملک بھر میں ڈیموکریٹس کی حمایت میں اضافے کے جو اشارے رائے عامہ کے جائزوں میں مل رہے تھے، ابتدائی نتائج ان سے زیادہ مختلف دکھائی نہیں دیتے۔

    اگر ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں تو اس کے ڈونلڈ ٹرمپ پر بھی نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

    ایوانِ نمائندگان میں اکثریت کی صورت میں ڈیموکریٹس ٹرمپ اور ان کے خاندان کی وائٹ ہاؤس میں واپسی کے بعد ہونے والی مالی سرگرمیوں سے متعلق مختلف تحقیقات شروع کر سکتے ہیں۔ وہ ایران کے ساتھ جنگ شروع کرنے جیسے متنازع فیصلوں کا بھی جائزہ لے سکتے ہیں۔

    وہ ٹرمپ کے خلاف تیسری بار مواخذے کی کوشش بھی کر سکتے ہیں، تاہم ممکن ہے کہ ان کی توجہ انتظامیہ کے بعض وزرا کی جانب زیادہ ہو۔

    یہ صورتحال آئندہ دو برس کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کے سیاسی ایجنڈے اور منصوبوں پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔

  20. یہ رات ڈیموکریٹس کے لیے تاریخی ثابت ہوتی دکھائی دے رہی ہے

    ڈیموکریٹس کے لیے یہ رات تاریخی بنتی دکھائی دے رہی ہے۔ پارٹی ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول حاصل کرنے کی جانب بڑھ رہی ہے اور سینیٹ میں بھی اکثریت حاصل کرنے کے امکانات روشن ہوتے جا رہے ہیں۔

    افق پر ڈیموکریٹس کی ایک مضبوط انتخابی لہر ابھرتی نظر آ رہی ہے۔

    اب اصل سوال یہ ہے کہ یہ لہر ریپبلکنز کے سیاسی گڑھوں تک کس حد تک پہنچتی ہے۔