لائیو , امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس نے ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول حاصل کر لیا: ’اگر میرا نام بیلٹ پیپر پر ہوتا تو ہم بھاری اکثریت سے جیت جاتے‘ ٹرمپ

امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کے لیے یہ رات تاریخی بنتی جا رہی ہے۔ پارٹی نے شمالی کیرولائنا میں سینیٹ کی پہلی نشست ریپبلکنز سے چھیننے کے بعد ایوانِ نمائندگان میں بھی اکثریت حاصل کر لی ہے، جبکہ کئی اہم ریاستوں میں اس کی پوزیشن مضبوط دکھائی دے رہی ہے۔

خلاصہ

  • اپنے موبائل فون یا ٹیبلٹ پر بی بی سی اردو تک براہِ راست رسائی کے لیے BBC WORLD SERVICE ایپ ڈاؤن لوڈ کر کے BBC News اردو ایڈیشن کا انتخاب کریں اور نیوز الرٹس، تحقیقاتی اور تفصیلی رپورٹس، سب کچھ ایک ہی جگہ پر حاصل کریں
  • امریکہ میں وسط مدتی انتخابات: متعدد ریاستوں میں پولنگ ختم، ووٹوں کی گنتی جاری
  • سینیٹ کی 35 جبکہ ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں کے لیے ووٹرز نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا
  • امریکہ کی 36 ریاستوں میں نئے گورنرز کے انتخاب کے لیے بھی ووٹ ڈالے گئے
  • امریکی سینیٹ میں برتری کا فیصلہ کرنے والی اہم ریاستیں کونسی ہیں؟
  • اس وقت امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں پر صدر ٹرمپ کی جماعت ریپبلکن پارٹی کا کنٹرول ہے
  • یہ انتخابات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب صدر ٹرمپ کی عوامی مقبولیت میں کمی ہوئی ہے۔

لائیو کوریج

پیشکش: منزہ انوار

  1. ٹرمپ نے انتخابی ناکامیوں سے خود کو الگ کرنا شروع کر دیا

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا آج رات کا پہلا عوامی بیان ملک بھر کے ریپبلکنز کو شاید پسند نہ آئے۔

    اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ٹرمپ نے کہا کہ ان کا نام آج کے بیلٹ پیپر پر نہیں تھا اور ’اگر ہوتا تو ہم بھاری اکثریت سے جیتتے۔‘

    ان مختصر الفاظ سے ایسا تاثر ملا کہ ٹرمپ نے اپنی ہی جماعت سے فاصلہ اختیار کرتے ہوئے بڑھتی ہوئی انتخابی ناکامیوں کی ذمہ داری ریپبلکن امیدواروں پر ڈال دی ہے۔ متعدد ریپبلکن پہلے ہی وسط مدتی انتخابات کے حوالے سے ٹرمپ کے طرزِ عمل پر ناراضی کا اظہار کر چکے ہیں۔

    ایسا معلوم نہیں ہوتا کہ یہ بیان پارٹی کے اندر موجود اختلافات کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ریپبلکنز ایوانِ نمائندگان سے محرومی اور سینیٹ میں بھی ممکنہ شکست کے سیاسی اثرات کا سامنا کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

  2. وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکنز کی مشکلات پر ٹرمپ کا ردعمل: ’میرا نام بیلٹ پر نہیں تھا‘

    gettyimages

    وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکنز کو درپیش مشکلات کے درمیان صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی بار ردعمل دیتے ہوئے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا ہے:

    ’میرا نام بیلٹ پیپر پر نہیں تھا، اور اگر ہوتا تو ہم بھاری اکثریت سے جیت جاتے۔‘

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ابتدائی نتائج ریپبلکن پارٹی کے لیے توقعات کے مطابق نہیں دکھائی دے رہے۔

  3. بریکنگ, سی بی ایس نے ٹیکساس کی سینیٹ نشست کو ’ممکنہ طور پر ڈیموکریٹس کے حق میں‘ قرار دے دیا

    بی بی سی کے امریکی شراکت دار سی بی ایس نے ٹیکساس کی سینیٹ نشست کے مقابلے کی درجہ بندی مزید تبدیل کرتے ہوئے اسے اب ’ممکنہ طور پر ڈیموکریٹس کے حق میں‘ قرار دے دیا ہے، جہاں جیمز تالاریکو کو برتری حاصل ہے۔

    اس سے قبل اس اہم مقابلے کو ’ڈیموکریٹس کی معمولی برتری‘ کے زمرے میں رکھا گیا تھا، تاہم تازہ اندازے ڈیموکریٹ امیدوار کی پوزیشن مزید مضبوط ہونے کا اشارہ دے رہے ہیں۔

  4. ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس کی ممکنہ اکثریت ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے مشکلات کیسے بڑھا سکتی ہے؟

    donald trump

    ابھی یہ واضح نہیں کہ ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان میں کتنی بڑی اکثریت حاصل کر سکتے ہیں، اور یہی آئندہ صورتحال کا ایک اہم پہلو ہوگا۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا انھیں ریپبلکنز کی گزشتہ دو برس کی طرح معمولی اکثریت ملتی ہے یا وہ واضح برتری حاصل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں۔

    ڈیموکریٹس کے لیے ایوانِ نمائندگان میں کامیابی حاصل کرنا سینیٹ کے مقابلے میں نسبتاً آسان سمجھا جا رہا تھا، اس لیے اس نتیجے سے یہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ سینیٹ میں بھی لازماً اکثریت حاصل کر لیں گے۔

    تاہم یہ نتائج انتخابی رات کے مجموعی رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ملک بھر میں ڈیموکریٹس کی حمایت میں اضافے کے جو اشارے رائے عامہ کے جائزوں میں مل رہے تھے، ابتدائی نتائج ان سے زیادہ مختلف دکھائی نہیں دیتے۔

    اگر ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں تو اس کے ڈونلڈ ٹرمپ پر بھی نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

    ایوانِ نمائندگان میں اکثریت کی صورت میں ڈیموکریٹس ٹرمپ اور ان کے خاندان کی وائٹ ہاؤس میں واپسی کے بعد ہونے والی مالی سرگرمیوں سے متعلق مختلف تحقیقات شروع کر سکتے ہیں۔ وہ ایران کے ساتھ جنگ شروع کرنے جیسے متنازع فیصلوں کا بھی جائزہ لے سکتے ہیں۔

    وہ ٹرمپ کے خلاف تیسری بار مواخذے کی کوشش بھی کر سکتے ہیں، تاہم ممکن ہے کہ ان کی توجہ انتظامیہ کے بعض وزرا کی جانب زیادہ ہو۔

    یہ صورتحال آئندہ دو برس کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کے سیاسی ایجنڈے اور منصوبوں پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔

  5. یہ رات ڈیموکریٹس کے لیے تاریخی ثابت ہوتی دکھائی دے رہی ہے

    ڈیموکریٹس کے لیے یہ رات تاریخی بنتی دکھائی دے رہی ہے۔ پارٹی ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول حاصل کرنے کی جانب بڑھ رہی ہے اور سینیٹ میں بھی اکثریت حاصل کرنے کے امکانات روشن ہوتے جا رہے ہیں۔

    افق پر ڈیموکریٹس کی ایک مضبوط انتخابی لہر ابھرتی نظر آ رہی ہے۔

    اب اصل سوال یہ ہے کہ یہ لہر ریپبلکنز کے سیاسی گڑھوں تک کس حد تک پہنچتی ہے۔

  6. بریکنگ, امریکہ کے وسط مدتی انتخابات: ڈیموکریٹس کا ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کرنے کا امکان

    getty

    سی بی ایس کے مطابق ڈیموکریٹس امریکی ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کرنے کی جانب بڑھ رہے ہیں اور ان کے کم از کم 218 نشستیں جیتنے کا امکان ہے، جس کے ساتھ وہ ریپبلکنز سے ایوان کا کنٹرول واپس لے لیں گے۔

    ریپبلکنز کے کم از کم 160 نشستیں جیتنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جبکہ یہ نتیجہ وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کے لیے ایک بڑی سیاسی کامیابی تصور کیا جا رہا ہے۔

  7. جنوبی کیرولائنا میں ڈیموکریٹس کی غیر متوقع کامیابی، ٹرمپ کو سیاسی دھچکا

    Annie Andrews

    جنوبی کیرولائنا میں ڈیموکریٹ اینی اینڈریوز کی سینیٹ میں کامیابی ڈیموکریٹس کے لیے ایک غیر متوقع فتح ہے، جو اس انتخابی مرحلے میں ریپبلکنز اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ووٹروں کی بڑھتی ہوئی ناراضی کو ظاہر کرتی ہے۔

    چند ہفتے قبل تک جنوبی کیرولائنا جیسی مضبوط ریپبلکن ریاست میں ڈیموکریٹ امیدوار کی سینیٹ میں کامیابی کا تصور بھی نہیں کیا جا رہا تھا۔ اس ریاست سے دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے کوئی ڈیموکریٹ امریکی سینیٹر منتخب نہیں ہوا۔

    یہ کامیابی ٹرمپ کے لیے بھی ایک سیاسی دھچکا سمجھی جا رہی ہے۔ ٹرمپ نے اینی اینڈریوز کی حریف، سینیٹر ڈارلین گراہم کی حمایت کی تھی، جنھیں اپنے بھائی سینیٹر لنڈسی گراہم کی رواں سال وفات کے بعد ان کی جگہ مقرر کیا گیا تھا۔

    جنوبی کیرولائنا میں یہ کامیابی اس بات کا ایک اور اشارہ ہے کہ یہ رات ڈیموکریٹس کے لیے غیر معمولی طور پر کامیاب ثابت ہو سکتی ہے۔

  8. ڈیموکریٹس کی ایوانِ نمائندگان میں مزید پیش رفت، ریپبلکنز سے مزید دو نشستیں چھیننے کا امکان

    ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس اپنی پوزیشن مزید مضبوط کرتے دکھائی دے رہے ہیں، جہاں 435 رکنی ایوان میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے 218 نشستیں درکار ہیں۔

    امریکی کانگریس کے ایوانِ نمائندگان میں ارکان دو سالہ مدت کے لیے منتخب ہوتے ہیں، اور یہی وہ ایوان ہے جہاں بیشتر مجوزہ قوانین پہلے پیش اور زیرِ بحث لائے جاتے ہیں، اس سے قبل کہ انھیں سینیٹ میں بھیجا جائے۔

    ابتدائی نتائج کے مطابق ڈیموکریٹس نے گزشتہ ایک گھنٹے کے دوران ریپبلکنز سے مزید دو نشستیں چھیننے کی جانب اہم پیش رفت کی ہے۔

    زیک ڈیمبو (کینٹکی) اور ربیکا بینیٹ (نیو جرسی) کے بارے میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ وہ ڈیموکریٹس کے لیے نشستیں حاصل کر لیں گے۔

  9. مشی گن میں ڈیموکریٹس پُرامید، عبدالصمد السید کی کامیابی کے امکانات روشن

    Abdul El-Sayed

    ڈیٹرائٹ میں ڈیموکریٹس کے انتخابی مرکز پر سٹیج سج چکا ہے اور ڈی جے موسیقی بجا رہا ہے، جبکہ پارٹی کارکنوں میں جوش و خروش نظر آ رہا ہے۔

    جن ڈیموکریٹس سے بی بی سی کی بات ہوئی ہے، وہ چند روز قبل کے مقابلے میں کہیں زیادہ پُرامید دکھائی دیتے ہیں۔

    سیاسی مشیر ایڈریان ہیمونڈ کا کہنا ہے کہ عبدالصمد السید کے جیتنے کے امکانات زیادہ ہیں اور ان کے خیال میں پارٹی کے لیے یہ رات اچھی ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق یہ اعتماد صرف سرویز ہی نہیں بلکہ آج کے ووٹر ٹرن آؤٹ کے رجحانات پر بھی مبنی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ڈیموکریٹس کے حامی علاقوں میں ووٹ ڈالنے کے لیے طویل قطاریں دیکھی گئی ہیں، جبکہ ابتدائی ووٹنگ کے اعدادوشمار بھی جغرافیائی لحاظ سے ڈیموکریٹس کی برتری ظاہر کرتے ہیں۔

    ان کے بقول ریپبلکنز کے لیے یہ خسارہ پورا کرنا آسان نہیں ہوگا۔

    تاہم یاد رہے کہ بی بی سی کے امریکی شراکت دار ادارے سی بی ایس نے اپنی تازہ ترین درجہ بندی میں مشی گن کے مقابلے کو اب بھی کانٹے کا مقابلہ قرار دیا ہے۔

  10. امریکہ کی مغربی ریاستوں میں ووٹنگ اپنے اختتامی مرحلے میں داخل

    امریکہ کی مغربی ریاستوں میں بھی پولنگ کا عمل اپنے اختتامی مراحل میں داخل ہو گیا ہے اور گذشتہ چند منٹوں کے دوران آئیڈاہو، مونٹانا، یوٹاہ، واشنگٹن اور نیواڈا میں مزید پولنگ سٹیشن بند ہو گئے ہیں۔

  11. ٹیکساس میں ڈیموکریٹس کی ممکنہ فتح امریکی سیاست میں بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے

    gettyimages

    جیسا کہ ہم ابھی رپورٹ کر چکے ہیں، بی بی سی کے امریکی شراکت دار ادارے سی بی ایس نے ٹیکساس کی سینیٹ نشست کے مقابلے کو اب ’ڈیموکریٹس کو معمولی برتری‘ قرار دیا ہے۔

    اگرچہ جیمز تالاریکو کئی ماہ سے اس مقابلے میں معمولی مگر مستحکم برتری برقرار رکھے ہوئے ہیں، تاہم اب ان کی جیت کے امکانات بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔

    اگر ڈیموکریٹس ٹیکساس میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اسے امریکی انتخابی سیاست میں ایک بڑا دھچکا تصور کیا جائے گا، کیونکہ یہ امریکہ کی دوسری سب سے زیادہ آبادی والی ریاست ہے جہاں ایک سے زیادہ نسلوں کے عرصے سے ڈیموکریٹس ریاست گیر سطح کے اقتدار سے باہر رہے ہیں۔

  12. ایوانِ نمائندگان: اب تک کی صورتحال کیا ہے؟

    gettyimages

    سی بی ایس کے مطابق ڈیموکریٹس کم از کم 208 جبکہ ریپبلکنز کم از کم 160 نشستیں جیتنے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

    ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے 218 نشستیں درکار ہیں، جبکہ تمام 435 نشستوں پر ووٹنگ ہو رہی ہے۔

    اس وقت ایوانِ نمائندگان پر ریپبلکنز کا کنٹرول ہے، اور ڈیموکریٹس کو اکثریت حاصل کرنے کے لیے تین اضافی نشستیں درکار ہیں۔

  13. مزید تین سینیٹ نشستوں کے نتائج کے بعد اب تک کی صورتحال کیا ہے؟

    bbc

    سی بی ایس نیوز اور ایسوسی ایٹڈ پریس نے سینیٹ کی مزید تین نشستوں کے نتائج کی پیش گوئی کی ہے:

    • کولوراڈو: ڈیموکریٹ جان ہیکن لوپر دوبارہ منتخب ہو گئے۔
    • نیو میکسیکو: ڈیموکریٹ بین رے لوجان نے دوبارہ کامیابی حاصل کر لی۔
    • وائیومنگ: ریپبلکن ہیریئٹ ہیج مین دوبارہ منتخب ہو گئی ہیں۔

    ان نتائج کے ساتھ دونوں جماعتیں اپنی اپنی موجودہ نشستیں برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہیں، جبکہ توجہ اب بھی ان ریاستوں پر مرکوز ہے جہاں مقابلے تاحال سخت اور غیر یقینی ہیں۔

  14. پانچ اہم ریاستوں میں سینیٹ کے مقابلے تاحال سنسنی خیز مرحلے میں

    بی بی سی کے امریکی شراکت دار ادارے سی بی ایس نے ان ریاستوں میں سینیٹ کے چند اہم مقابلوں کا جائزہ جاری کیا ہے جہاں پولنگ حال ہی میں ختم ہوئی ہے، تاہم نتائج ابھی واضح نہیں ہیں۔

    • جنوبی کیرولائنا: ڈیموکریٹس کو معمولی برتری
    • آئیوا: کانٹے کا مقابلہ جاری
    • کینساس: کانٹے کا مقابلہ جاری
    • مشی گن: کانٹے کا مقابلہ جاری
    • نیبراسکا: کانٹے کا مقابلہ جاری
    • ٹیکساس: کانٹے کا مقابلہ جاری
  15. کرس پاپاس امریکی سینیٹ میں منتخب ہونے والے پہلے ہم جنس پرست مرد رکن بن سکتے ہیں

    CQ-Roll Call, Inc via Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنکرس پاپاس (بائیں) اور ان کے شوہر وین بینٹلی کی اگست میں ایک انتخابی تقریب کے دوران لی گئی تصویر۔

    ڈیموکریٹ کرس پاپاس کے بارے میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ وہ نیو ہیمپشائر سے سینیٹ کی نشست جیت جائیں گے۔

    جنوری میں حلف اٹھانے کے بعد پاپاس امریکی سینیٹ کے لیے منتخب ہونے والے پہلے ایسے مرد بن جائیں گے جنھوں نے کھلے عام خود کو ہم جنس پرست قرار دیا ہے۔

    وسکونسن سے تعلق رکھنے والی سینیٹر ٹیمی بالڈون نے 2013 میں اس ایوان کے لیے منتخب ہونے والی پہلی کھلے عام ہم جنس پرست شخصیت بن کر تاریخ رقم کی تھی۔

    اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے پاپاس نے کہا کہ وہ ریاست کے ووٹروں کے لیے ’لڑنے کے لیے تیار ہیں۔‘

  16. ’خون خرابہ‘: ٹیکساس میں ریپبلکن اپنی انتخابی صورتِ حال پر پریشان, ڈینیئل بش ، واشنگٹن سے نامہ نگار

    امریکہ میں رات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے، لیکن ٹیکساس میں ایک ریپبلکن ذریعے کی جانب سے بھیجا گیا ایک ٹیکسٹ پیغام اس وقت پارٹی کے اندر پائی جانے والی کیفیت کی عکاسی کرتا ہے۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ ریاست میں سینیٹ کے انتخابی مقابلے کے بارے میں ریپبلکنز کیا سوچتے ہیں تو طویل عرصے سے پارٹی سے وابستہ ایک کارکن نے صرف ایک لفظ میں جواب دیا: ’خون خرابہ۔‘

    سینیٹ کے اس مقابلے میں اب تک تقریباً 40 فیصد ووٹوں کی گنتی ہوئی ہے۔ ڈیموکریٹ امیدوار جیمز تالاریکو اپنے ریپبلکن حریف کین پیکسٹن پر تقریباً 20 فیصد پوائنٹس کی برتری رکھتے ہیں۔

    مزید ووٹوں کی گنتی کے ساتھ یہ مقابلہ ممکنہ طور پر زیادہ قریب ہو جائے گا، تاہم ریپبلکنز فی الحال زیادہ پُرامید دکھائی نہیں دیتے۔

  17. ڈیموکریٹس کے لیے پہلی بڑی کامیابی، سینیٹ کا کنٹرول حاصل کرنے کی امیدیں بڑھ گئیں, انتھونی زرچر - واشنگٹن ڈی سی میں شمالی امریکہ کے نامہ نگار

    Reuters

    آج رات سینیٹ کے انتخابی نتائج میں پہلی بڑی پیش رفت ڈیموکریٹس کے حصے میں آئی ہے۔

    کئی ہفتوں سے یہ اندازے لگائے جا رہے تھے کہ سابق گورنر رائے کوپر شمالی کیرولائنا کی سینیٹ نشست جیت جائیں گے، کیونکہ رائے عامہ کے جائزوں میں انھیں واضح برتری حاصل تھی، جبکہ ریپبلکنز اپنی انتخابی مہم کا رخ اس ریاست سے ہٹا کر دیگر اہم ریاستوں کی جانب موڑ چکے تھے۔

    اس کے باوجود یہ ڈیموکریٹس کے لیے ایک اہم کامیابی ہے۔

    ڈیموکریٹس نے اس سے قبل 2008 میں شمالی کیرولائنا میں سینیٹ کا انتخاب جیتا تھا۔ حالیہ برسوں میں پارٹی نے یہاں بڑے پیمانے پر وقت اور وسائل صرف کیے، لیکن کامیابی حاصل نہ کر سکی۔

    جس مقابلے کو سخت اور کانٹے کا تصور کیا جا رہا تھا، اس میں ڈیموکریٹ امیدوار نے نسبتاً آسان فتح حاصل کی۔

    اس کامیابی کے بعد سینیٹ کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ڈیموکریٹس کو ریپبلکنز کی مزید تین نشستیں جیتنا ہوں گی، جبکہ اپنی تمام موجودہ نشستیں بھی برقرار رکھنا ہوں گی۔

  18. امریکہ کی وسط مغربی ریاستوں میں اہم مقابلے جن پر ہماری نظر ہے, سکشی وینکٹ رامن، واشنگٹن ڈی سی سے

    پولنگ سٹیشنوں کے بند ہونے کا عمل عموماً مشرق سے مغرب کی جانب بڑھتا ہے (چند استثناؤں کے ساتھ)، اور اب ہم امریکہ کی وسط مغربی ریاستوں جیسے نیبراسکا، نیو میکسیکو، آئیوا اور منیسوٹا میں آخری ووٹ ڈالے جاتے دیکھنے والے ہیں۔

    خاص طور پر آخری دو ریاستیں توجہ کا مرکز ہیں۔

    آئیوا میں سینیٹ کی نشست کے لیے سخت مقابلہ جاری ہے، جہاں ریپبلکن ایشلے ہنسن اور ڈیموکریٹ جوش ٹوریک ایک ایسی ریاست میں نشست کے لیے مقابلہ کر رہے ہیں جسے ٹرمپ تین بار جیت چکے ہیں۔

    مِنیسوٹا میں ہماری نظر گورنر کے انتخاب پر ہے۔ ڈیموکریٹ سینیٹر ایمی کلوبوچار موجودہ گورنر ٹم والز کے چھوڑے ہوئے عہدے کے لیے انتخاب لڑ رہی ہیں۔ ٹم والز نے سماجی خدمات سے متعلق دھوکہ دہی کے ایک سکینڈل کے باعث اپنی امیدواری واپس لے لی تھی۔

  19. اگر آپ قطار میں کھڑے ہیں تو وہاں ہی رہیں: ٹرمپ کی ووٹروں سے اپیل

    ٹرمپ

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ریپبلکن پارٹی کے اکاؤنٹ سے جاری ایک مختصر ویڈیو میں ڈونلڈ ٹرمپ ان ووٹروں سے مخاطب ہوئے ہیں جو ووٹ ڈالنے کے لیے قطار میں کھڑے ہیں۔

    ٹرمپ نے کہا: ’ریپبلکنز! ہماری صورتِ حال بہت اچھی ہے۔ اگر آپ قطار میں ہیں تو قطار میں رہیں۔‘

    امریکی ریاستوں کے انتخابی قوانین کے مطابق جو ووٹر پولنگ کا وقت ختم ہونے سے پہلے قطار میں موجود ہوں، وہ اپنی باری آنے پر ووٹ ڈال سکتے ہیں، چاہے پولنگ کا مقررہ وقت گزر چکا ہو۔

    ٹرمپ نے مزید کہا: ’ہم بڑی کامیابی حاصل کریں گے۔‘

  20. ووٹنگ ختم ہونے کے بعد ابتدائی نتائج سامنے آنے لگے, فریا اسکاٹ ٹرنر

    امریکہ کی متعدد ریاستوں میں ووٹنگ ختم ہو چکی ہے اور کچھ ابتدائی نتائج بھی سامنے آ گئے ہیں۔ اب تک کی اہم باتیں یہ ہیں:

    • ووٹروں کے اہم مسائل: امریکی ووٹروں کے ایک سروے سے پتا چلا ہے کہ معیشت اور جمہوریت کی صورتحال ان کی سب سے بڑی ترجیحات تھیں۔
    • ڈیموکریٹس کے لیے حوصلہ افزا اشارہ: بی بی سی کے شمالی امریکہ میں نامہ نگار انتھونی زرچر کے مطابق ابتدائی ووٹر سروے کے نتائج فی الحال ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے کسی حد تک اطمینان کا باعث ہو سکتے ہیں۔
    • جہاں ووٹنگ ختم ہو چکی ہے: کینٹکی، انڈیانا، فلوریڈا، جنوبی کیرولائنا، ورمونٹ، ورجینیا، جارجیا، نیو ہیمپشائر، اوہائیو، شمالی کیرولائنا، مغربی ورجینیا، کنیکٹی کٹ، الاباما، ڈیلاویئر، الینوائے، مین، میری لینڈ، میساچوسٹس، مشیگن، میسوری، نیو جرسی، اوکلاہوما، پنسلوینیا، رہوڈ آئی لینڈ، ساؤتھ ڈکوٹا، ٹیکساس، واشنگٹن ڈی سی، مسیسیپی، کنساس اور ٹینیسی میں پولنگ کا وقت ختم ہو چکا ہے۔
    • ابتدائی نتائج: سی بی ایس نیوز کے مطابق ڈیموکریٹک سینیٹر مارک آر وارنر کے اپنی نشست برقرار رکھنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جو ایک متوقع نتیجہ سمجھا جا رہا تھا۔ اسی طرح جارجیا کی سینیٹ نشست کے بارے میں بھی اندازہ ظاہر کیا گیا ہے کہ موجودہ ڈیموکریٹک سینیٹر جان اوسوف کامیاب رہیں گے۔ ڈیلاویئر میں بھی ڈیموکریٹک سینیٹر کرس کونز کے اپنی سینیٹ نشست برقرار رکھنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
    • ابھی فیصلہ کن مقابلے باقی: کانگریس کے کنٹرول کا تعین کرنے والی بعض اہم سینیٹ نشستوں پر مقابلہ اب بھی انتہائی سخت ہے۔ سی بی ایس نیوز نے فلوریڈا اور مین کی سینیٹ نشستوں کو ’ٹاس اپ‘ قرار دیا ہے، یعنی ان ریاستوں میں کسی بھی امیدوار کی جیت کے امکانات قریب قریب برابر سمجھے جا رہے ہیں۔
    • وائٹ ہاؤس کا ردعمل: وائٹ ہاؤس میں ریپبلکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ نتائج دیکھنے کی تقریب جاری ہے۔ وہاں تعینات ایک عہدے دار نے بی بی سی کو بتایا کہ وہاں کا ماحول ’پُر امید بھی ہے اور محتاط بھی۔‘