ریپبلکنز صدمے میں، ٹرمپ بھی خاموش, برنڈ ڈیبسمان جونیئر (وائٹ ہاؤس رپورٹر، واشنگٹن ڈی سی) کا تجزیہ
انتخابی نتائج کے بعد ریپبلکن پارٹی پریشان ہے۔ جو نتائج سامنے آئے ہیں، انھیں پارٹی کے لیے ایک غیر متوقع اور بڑی شکست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
گذشتہ روز جن ریپبلکن کارکنوں اور عہدے داروں سے میری بات ہوئی، ان میں سے بیشتر کو کچھ نشستوں پر نقصان کا اندازہ تھا، تاہم وہ پُر امید رہتے ہوئے محتاط اندازے لگا رہے تھے کہ شاید پارٹی ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول برقرار رکھنے میں کامیاب ہو جائے گی اور چند سخت مقابلوں میں کامیابی حاصل کر لے گی۔
ریپبلکن عملے کے ایک رکن نے مجھے پیغام بھیجا: ’یہ میری توقع سے کہیں زیادہ برا ثابت ہوا ہے۔ یہ ایک تباہی ہے۔‘
ایک اور ریپبلکن ذریعے کے مطابق آئندہ چند گھنٹوں اور دنوں میں پارٹی کے اندر اس بات پر ’گہری خود احتسابی‘ ہو گی کہ آخر غلطی کہاں ہوئی۔
صدر ٹرمپ، جو اس موقع پر حیران کن طور پر خاموش نظر آئے، نے شکست کی ذمہ داری بڑی حد تک امیدواروں پر ڈالی، اگرچہ انھوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ پٹرول کی بلند قیمتوں نے بھی انتخابی نتائج پر اثر ڈالا۔
تاہم پارٹی کے اندر بعض سینیئر رہنما مبینہ طور پر اس صورتحال کا ذمہ دار اُن عہدے داروں کو قرار دے رہے ہیں جنھوں نے ٹرمپ کو ایران کے خلاف جنگ کا مشورہ دیا تھا۔
دوسری جانب کچھ ریپبلکن شخصیات کا خیال ہے کہ خود ٹرمپ بھی پارٹی کی مشکلات کے ذمہ دار ہیں۔
قدامت پسند مبصر بین شاپیرو نے اپنے پوڈکاسٹ میں کہا: ’صدر ٹرمپ نے انتخابات سے پہلے کہا تھا کہ ووٹرز یہ سمجھیں کہ گویا اُن کا نام بھی بیلٹ پیپر پر موجود ہے۔ میرے خیال میں حقیقت میں ایسا ہی ہوا، یعنی صدر خود بھی اس انتخاب کا حصہ بن گئے تھے۔‘
بدھ کے روز صدر ٹرمپ کی کوئی عوامی تقریب شیڈول پر نہیں ہے، تاہم امکان ہے کہ وہ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل یا مزید میڈیا انٹرویوز کے ذریعے ردِعمل دیتے رہیں گے۔