آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو , امریکہ میں وسط مدتی انتخابات: ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو تاریخی شکست کا سامنا، ڈیموکریٹس کانگریس کے دونوں ایوانوں پر کنٹرول کے قریب

امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کے لیے حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں اور پیش گوئی کی جا رہی ہے کہ وہ سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان دونوں میں اکثریت حاصل کر کے کانگریس کا کنٹرول واپس لے سکتے ہیں۔ مشی گن سے ڈیموکریٹ سینیٹ امیدوار عبدل السید نے کامیابی کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ سی بی ایس کے مطابق ان کے سینیٹ نشست جیتنے کی پیش گوئی بھی کی گئی ہے۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. ریپبلکنز صدمے میں، ٹرمپ بھی خاموش, برنڈ ڈیبسمان جونیئر (وائٹ ہاؤس رپورٹر، واشنگٹن ڈی سی) کا تجزیہ

    انتخابی نتائج کے بعد ریپبلکن پارٹی پریشان ہے۔ جو نتائج سامنے آئے ہیں، انھیں پارٹی کے لیے ایک غیر متوقع اور بڑی شکست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    گذشتہ روز جن ریپبلکن کارکنوں اور عہدے داروں سے میری بات ہوئی، ان میں سے بیشتر کو کچھ نشستوں پر نقصان کا اندازہ تھا، تاہم وہ پُر امید رہتے ہوئے محتاط اندازے لگا رہے تھے کہ شاید پارٹی ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول برقرار رکھنے میں کامیاب ہو جائے گی اور چند سخت مقابلوں میں کامیابی حاصل کر لے گی۔

    ریپبلکن عملے کے ایک رکن نے مجھے پیغام بھیجا: ’یہ میری توقع سے کہیں زیادہ برا ثابت ہوا ہے۔ یہ ایک تباہی ہے۔‘

    ایک اور ریپبلکن ذریعے کے مطابق آئندہ چند گھنٹوں اور دنوں میں پارٹی کے اندر اس بات پر ’گہری خود احتسابی‘ ہو گی کہ آخر غلطی کہاں ہوئی۔

    صدر ٹرمپ، جو اس موقع پر حیران کن طور پر خاموش نظر آئے، نے شکست کی ذمہ داری بڑی حد تک امیدواروں پر ڈالی، اگرچہ انھوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ پٹرول کی بلند قیمتوں نے بھی انتخابی نتائج پر اثر ڈالا۔

    تاہم پارٹی کے اندر بعض سینیئر رہنما مبینہ طور پر اس صورتحال کا ذمہ دار اُن عہدے داروں کو قرار دے رہے ہیں جنھوں نے ٹرمپ کو ایران کے خلاف جنگ کا مشورہ دیا تھا۔

    دوسری جانب کچھ ریپبلکن شخصیات کا خیال ہے کہ خود ٹرمپ بھی پارٹی کی مشکلات کے ذمہ دار ہیں۔

    قدامت پسند مبصر بین شاپیرو نے اپنے پوڈکاسٹ میں کہا: ’صدر ٹرمپ نے انتخابات سے پہلے کہا تھا کہ ووٹرز یہ سمجھیں کہ گویا اُن کا نام بھی بیلٹ پیپر پر موجود ہے۔ میرے خیال میں حقیقت میں ایسا ہی ہوا، یعنی صدر خود بھی اس انتخاب کا حصہ بن گئے تھے۔‘

    بدھ کے روز صدر ٹرمپ کی کوئی عوامی تقریب شیڈول پر نہیں ہے، تاہم امکان ہے کہ وہ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل یا مزید میڈیا انٹرویوز کے ذریعے ردِعمل دیتے رہیں گے۔

  2. امریکی انتخابات اور ایلون مسک کی طنزیہ ٹویٹ: ’لگتا ہے میرے خلائی لیزر نے اس بار کام نہیں کیا‘, للی جمالی، بی بی سی نیوز

    امریکی انتخابات کے نتائج میں ارب پتی کاروباری شخصیت ایلون مسک کا کردار نمایاں طور پر زیرِ بحث ہے۔

    اوپن سیکرٹس کے وفاقی انتخابی ریکارڈز کے تجزیے کے مطابق ایلون مسک نے ریپبلکن امیدواروں اور قدامت پسند مقاصد کی حمایت کے لیے کم از کم 455 ملین ڈالر (337.6 ملین پاؤنڈ) خرچ کیے ہیں۔

    ٹیکساس میں سینیٹ کی دوڑ کے دوران مسک نے ریپبلکن امیدوار کین پیکسٹن کی حمایت میں 200 ملین ڈالر (148 ملین پاؤنڈ) سے زیادہ خرچ کیے۔ تاہم پیکسٹن کو ڈیموکریٹک امیدوار جیمز تالاریکو کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

    یاد رہے کہ مسک چند برس قبل اپنی رہائش گاہ اور کاروباری مفادات کا ایک حصہ بھی ٹیکساس منتقل کر چکے ہیں۔

    بدھ کی شام کامیابی کے بعد اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے جیمز تالاریکو نے نام لیے بغیر کہا کہ ’ہم نے ہر ارب پتی بڑے عطیہ دہندہ، ہر کھرب پتی بڑے عطیہ دہندہ، اور اس ریاست و ملک کے ٹوٹے ہوئے سیاسی نظام کے ہر بدعنوان محافظ کو یہ پیغام دے دیا ہے کہ طاقت عوام کی ہے۔‘

    ادھر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر گھنٹوں کی خاموشی کے بعد ایلون مسک نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ ’لگتا ہے میرے انتخابات میں مداخلت کرنے والے خلائی لیزر اس بار کام نہیں آئے۔‘

  3. ’ممکنہ طور پر یہ بات درست ہے‘ کہ ٹرمپ نے ریپبلکن امیدواروں کو نقصان پہنچایا: رون جانسن

    ریاست وسکونسن سے 2011 سے سینیٹر منتخب ہونے والے ریپبلکن رہنما رون جانسن نے کہا ہے کہ ان کی جماعت کے لیے انتخابی رات ’کسی بھی طرح اچھی نہیں رہی۔‘

    بی بی سی ریڈیو فور کے ٹوڈے پروگرام سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ اور خاص طور پر اس کے نتیجے میں ایندھن کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ اب بھی ووٹروں کے ذہنوں پر گہرا اثر ڈالے ہوئے ہے۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ریپبلکن پارٹی کے نقصان کی ذمہ داری ڈونلڈ ٹرمپ پر عائد ہوتی ہے تو جانسن نے کہا کہ وسط مدتی انتخابات عموماً برسر اقتدار انتظامیہ کے بارے میں عوامی رائے کا اظہار ہوتے ہیں۔

    تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ ریپبلکن جماعت کو مرکزی دھارے کے ذرائع ابلاغ کے ’لبرل جھکاؤ‘ کا سامنا ہے۔ ان کے بقول ٹرمپ نے سرحدی کنٹرول اور افراطِ زر جیسے معاملات پر بعض مثبت اقدامات کیے، لیکن ’ممکنہ طور پر یہ بات درست ہے‘ کہ ان انتخابات میں ٹرمپ نے ریپبلکن امیدواروں کی فتح کے امکانات کو نقصان پہنچایا۔

    جانسن نے مزید کہا: ’صدر ٹرمپ نے ووٹروں سے کہا تھا کہ وہ یہ تصور کریں کہ بیلٹ پیپر پر ان کا نام بھی موجود ہے۔ بظاہر ووٹروں نے ان کی بات مان لی، اور نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔‘

  4. امریکہ میں سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی پیش قدمی, سرین ہبیشیان، بی بی سی نیوز

    امریکہ میں وسط مدتی انتحابات میں سینیٹ کی متعدد اہم نشستوں کے نتائج اور ابتدائی اندازوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی نے ریپبلکن جماعت کے مضبوط گڑھ سمجھی جانے والی کئی ریاستوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ان ریاستوں میں ٹیکساس، اوہائیو اور کنساس شامل ہیں۔

    • کنساس میں سینیٹ کی نشسست کے لیے پیش گوئی کی جا رہی ہے کہ ڈیموکریٹک امیدوار ایڈم ہیملٹن سینیٹ کی نشست جیت جائیں گے۔ ایسا ہوا تو یہ ایک قابلِ ذکر پیش رفت کہلائی جائے گی کیونکہ ریاست نے تقریباً 100 برس قبل آخری بار کسی ڈیموکریٹ کو سینیٹ کے لیے منتخب کیا تھا۔
    • آئیوا میں سابق پیرالمپئن اور ڈیموکریٹک امیدوار جاش ٹوریک کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ ریاست کے اگلے امریکی سینیٹر ہوں گے۔ ان کی کامیابی سے ریپبلکن سینیٹر جونی ارنسٹ کی نشست ڈیموکریٹس کے حق میں چلی جائے گی۔
    • مین میں سینیٹ کی نشست ڈیموکریٹ ٹرائے جیکسن کے حصے میں جاتی دکھائی دے رہی ہے۔ اگر یہ نتیجہ برقرار رہتا ہے تو وہ ریپبلکن سینیٹر سوزن کولنز کی جگہ لیں گے، جو تقریباً 30 برس تک اس نشست پر فائز رہی ہیں۔
    • مشی گن میں ڈیموکریٹ عبدل السید کے بارے میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ وہ ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کو شکست دے کر سینیٹ کی نشست حاصل کر لیں گے۔
    • اوہائیو میں سینیٹ کی نشست ڈیموکریٹ شیروڈ براؤن کے حق میں پلٹ گئی ہے۔
    • ٹیکساس میں ڈیموکریٹ جیمز تالاریکو نے سینیٹ کی نشست حاصل کر لی ہے۔
    • جنوبی کیرولائنا میں ڈیموکریٹ اینی اینڈریوز نے ریپبلکن امیدوار ڈارلین گراہم کو شکست دی ہے، جو سینیٹر لنڈزی گراہم کی بہن ہیں۔
    • دوسری جانب الاسکا میں سینیٹ کی دوڑ تاحال غیر یقینی ہے اور وہاں مقابلہ ابھی فیصلہ کن مرحلے میں داخل نہیں ہوا۔ اس نشست کے بارے میں حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔
  5. امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج پر پاکستان سٹاک مارکیٹ میں تیزی، انڈیکس 2600 پوائنٹس سے بڑھ گیا, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں آج بدھ کے روز کاروبار کے دوران نمایاں تیزی دیکھی گئی اور مارکیٹ انڈیکس میں 2643 پوائنٹس سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد کے ایس ای ہنڈرڈ انڈیکس 17 ہزار 695 پوائنٹس کی سطح تک پہنچ گیا۔

    سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز مثبت انداز میں ہوا اور دن بھر انڈیکس میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا۔ مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق جیسے جیسے امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج آتے گئے، مارکیٹ میں بھی تیزی آتی گئی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کو سرمایہ کاروں نے مثبت اشارے کے طور پر لیا، جس نے پاکستانی شیئر مارکیٹ میں خریداری کے رجحان کو تقویت دی۔

    ڈارسن سکیورٹیز کے چیف ایگزیکٹو ملک دل آویز نے بی بی سی اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مارکیٹ میں مثبت رجحان کی ایک اہم وجہ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں کمی بھی ہے۔

    ان کے مطابق امریکی انتخابات کے نتائج کے بعد سرمایہ کاروں میں یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی اور جنگ کے خاتمے کی جانب پیش رفت کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

    ملک دل آویز کا کہنا تھا کہ انتخابات کے نتائج کے ساتھ ساتھ ایرانی قیادت کی جانب سے نسبتاً لچکدار رویے کے مظاہرہ بھی سامنے آیا ہیں، جس سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہوا۔

    ان کے مطابق تیل کی قیمتوں میں کمی اور بین الاقوامی سیاسی صورتحال میں ممکنہ بہتری نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بڑھایا، جس کا مثبت اثر پاکستان سٹاک ایکسچینج پر بھی دیکھنے میں آیا۔

  6. بریکنگ, مشی گن: عبدل السید کی سینیٹ میں کامیابی کی پیش گوئی

    بی بی سی کے امریکی شراکت دار سی بی ایس کے مطابق عبدل السید کے مشی گن سے سینیٹ کی نشست جیتنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

    اس سے قبل عبدل السید نے اپنے حامیوں سے خطاب میں کامیابی کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا تھا: ’آپ نے ایک ایسے امیدوار پر اعتماد کیا جس کی کامیابی کا امکان سب سے کم سمجھا جا رہا تھا۔۔۔ مشی گن، میں آپ کی خدمت کرنے کا منتظر ہوں۔‘

  7. انتخابی نتائج کے امریکہ اور روس تعلقات پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟

    کیا وسط مدتی انتخابات کے نتائج کریملن کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں؟

    روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے پیر کو بی بی سی روسی سروس کے ایڈیٹر سٹیو روزنبرگ سے بات کرتے ہوئے کہا: ’صدر ٹرمپ اپنی مدت کے اختتام تک صدر رہیں گے اور اپنی خارجہ پالیسی پر عمل کرتے رہیں گے۔‘

    اس پیغام کا مفہوم یہ تھا کہ نتائج کچھ بھی ہوں، ماسکو معمول کے مطابق معاملات جاری رہنے کی توقع کر رہا ہے۔

    اگرچہ صدر ٹرمپ روس کی تمام خواہشات پوری نہیں کر سکے، مثلاً یوکرین کے بارے میں روس کی شرائط پر مبنی کسی حتمی امن معاہدے تک پہنچنا، تاہم ان کی خارجہ پالیسی نے کریملن کے لیے کئی مثبت نتائج ضرور پیدا کیے ہیں۔

    حال ہی میں امریکی صدر نے روس مخالف بعض پابندیاں منجمد کیں، روسی ڈیزل خریدنے پر اتفاق کیا، اور یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلینسکی پر تنقید کے معاملے میں وہ ولادیمیر پوتن کے مقابلے میں زیادہ سخت مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں۔

    تاہم اس ہفتے کے آغاز میں روسی اخبار نیزاویسیمایا گزیٹا نے پیش گوئی کی تھی کہ اگر ریپبلکنز کانگریس کا کنٹرول کھو دیتے ہیں تو ڈونلڈ ٹرمپ کو ’ڈیموکریٹس کی جانب سے شروع کی جانے والی متعدد تحقیقات میں الجھنا پڑے گا‘ اور یہ ’غیر ممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوگا کہ وہ ان پالیسیوں پر عمل درآمد کر سکیں جنھیں وہ درست سمجھتے ہیں، خصوصاً روس سے متعلق پالیسیوں پر۔‘

  8. امریکی عوام نے ’واضح پیغام‘ دے دیا ہے: اوباما

    سابق امریکی صدر براک اوباما، جو ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں، نے کہا ہے کہ ان کی جماعت کی بڑی انتخابی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکی عوام تبدیلی چاہتے ہیں۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام میں اوباما نے لکھا: ’آج رات امریکی عوام نے ایک واضح پیغام دیا ہے۔ وہ ایسی سیاست چاہتے ہیں جو لوگوں کو تقسیم کرنے کے بجائے متحد کرے، اور ایسے رہنما چاہتے ہیں جو ان مسائل کے عملی حل پیش کریں جن کا انھیں سامنا ہے۔‘

    اوباما نے انتخابی مہم کے دوران مشی گن اور جارجیا جیسی اہم ریاستوں میں متعدد ڈیموکریٹ امیدواروں کی حمایت میں مہم چلائی تھی۔

    انھوں نے مزید کہا: ’اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم آستینیں چڑھائیں، جہاں ہمارے پاس اختیار ہے وہاں تبدیلیاں لائیں، مزید نقصان کو روکیں اور مستقبل کی بنیاد رکھیں۔‘

  9. آئیڈاہو اور مونٹانا کی سینیٹ نشستیں ریپبلکنز کے پاس برقرار رہنے کی پیش گوئی

    بی بی سی کے امریکی شراکت دار سی بی ایس نیوز کے مطابق آئیڈاہو اور مونٹانا میں سینیٹ کے انتخابات میں ریپبلکن امیدواروں کی کامیابی کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

    مونٹانا میں کرٹ آلما کے ریپبلکنز کے لیے کامیاب ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ آئیڈاہو میں جم رش اپنی سینیٹ نشست برقرار رکھنے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

  10. بریکنگ, عبدل السید نے کامیابی کا دعویٰ کر دیا، مائیک راجرز بھی پُرامید ’رات طویل ہو سکتی ہے‘

    مشی گن میں ڈیموکریٹ سینیٹ امیدوار عبدل السید نے ابھی اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے ایسے مقابلے میں کامیابی کا دعویٰ کر دیا ہے جس کا نتیجہ تاحال باضابطہ طور پر سامنے نہیں آیا۔

    انھوں نے اپنے حامیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: ’مشی گن، میں آپ کی خدمت کرنے کا منتظر ہوں۔‘ عبدل السید نے اپنے حریف کی انتخابی مہم پر بھی تنقید کی اور الزام لگایا کہ ان کی مسلم شناخت اور مذہب کو انتخابی مہم کا مرکزی موضوع بنایا گیا۔

    انھوں نے کہا: ’انھوں نے طویل عرصے میں دیکھی جانے والی بدترین انتخابی مہمات میں سے ایک چلائی۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’مجھ پر میرے نام اور میرے مذہب کی وجہ سے حملے کیے گئے۔‘

    دوسری جانب ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز نے اپنے حامیوں سے کہا کہ وہ گھروں کو چلے جائیں کیونکہ ’یہ ایک طویل رات ہونے والی ہے۔‘ تاہم انھوں نے اصرار کیا کہ کامیابی کا راستہ اب بھی موجود ہے۔

    یاد رہے کہ عبدل السید اور مائیک راجرز کے درمیان مقابلے کے مکمل نتائج ابھی سامنے نہیں آئے اور باضابطہ طور پر کسی امیدوار کی کامیابی کی پیش گوئی نہیں کی گئی۔

  11. مشی گن میں ڈیموکریٹس کو برتری: عبدل السید آگے، جوسلین بینسن کے گورنر منتخب ہونے کی پیش گوئی

    بی بی سی کے امریکی شراکت دار سی بی ایس نیوز کے مطابق ڈیموکریٹ امیدوار جوسلین بینسن کے مشی گن کے گورنر کا انتخاب جیتنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جس کے ساتھ یہ عہدہ ڈیموکریٹک پارٹی کے پاس برقرار رہے گا۔

    تاہم ریاست کی سینیٹ نشست کے لیے مقابلے کا نتیجہ ابھی سامنے نہیں آیا۔ ڈیموکریٹ عبدل السید اپنے ریپبلکن حریف مائیک راجرز سے آگے ہیں، جبکہ اب تک 78 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہو چکی ہے۔

  12. امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے لائیو نتائج

    امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کے لیے حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں اور پیش گوئی کی جا رہی ہے کہ وہ سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان دونوں میں اکثریت حاصل کر کے کانگریس کا کنٹرول واپس لے لیں گے۔

  13. امریکہ میں وسط مدتی انتخابات: ڈیموکریٹس کے لیے تاریخی رات، اب تک کی اہم خبریں

    امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کے نتائج تیزی سے سامنے آ رہے ہیں۔ صدر کی مدتِ صدارت کے وسط میں ہونے والے یہ انتخابات اس بات کا اہم پیمانہ سمجھے جاتے ہیں کہ امریکی عوام ڈونلڈ ٹرمپ کی کارکردگی کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں۔

    اگر آپ ابھی ہمارے ساتھ جڑے ہیں تو اب تک کی اہم خبریں یہ ہیں:

    • کانگریس میں ڈیموکریٹس کی پیش رفت: ڈیموکریٹس نے پہلے ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کی اور پھر مین، آئیوا، اوہائیو، کینساس اور ٹیکساس میں کامیابیوں کے بعد سینیٹ میں بھی اکثریت کی جانب پیش رفت کی۔
    • ریپبلکن گڑھ میں کامیابیاں: ڈیموکریٹس نے جنوبی کیرولائنا، کینساس اور ٹیکساس جیسی ریاستوں میں سینیٹ کی نشستیں حاصل کیں، جو کئی دہائیوں سے ریپبلکنز کے زیرِ اثر تھیں۔ کینساس میں تقریباً ایک صدی سے کوئی ڈیموکریٹ سینیٹر منتخب نہیں ہوا تھا۔
    • ٹیکساس میں بڑی کامیابی: جیمز تالاریکو کی سینیٹ میں کامیابی اور جینا ہینوخوسا کے گورنر منتخب ہونے کے ساتھ ڈیموکریٹس نے ٹیکساس میں ریاست گیر سطح پر دو بڑی فتوحات حاصل کیں۔ یہ ریاست تقریباً دو نسلوں سے مضبوط ریپبلکن گڑھ سمجھی جاتی رہی ہے۔
    • جنوبی کیرولائنا میں حیران کن نتیجہ: ڈیموکریٹ اینی اینڈریوز نے ریپبلکن سینیٹر ڈارلین گراہم کو شکست دی، جو سینیٹر لنڈسی گراہم کی بہن ہیں۔ اس نتیجے کو ریپبلکنز کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
    • ٹرمپ کے لیے واضح پیغام؟ بی بی سی کی شمالی امریکہ کی ایڈیٹر سارہ سمتھ کے مطابق امریکی ووٹروں نے ٹرمپ کی گزشتہ دو برس کی پالیسیوں کے بارے میں اپنا موقف واضح انداز میں ظاہر کیا ہے۔ ان کے بقول یہ صرف ڈیموکریٹس کی لہر نہیں بلکہ ایک ’سیاسی زلزلہ‘ دکھائی دیتا ہے۔
    • ٹرمپ کا ردعمل: فاکس نیوز سے گفتگو میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ نتائج پر ’کچھ حیران‘ ہیں، تاہم انھوں نے ڈیموکریٹس کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’انھوں نے اچھا کام کیا‘ اور دونوں جماعتیں کئی معاملات پر مل کر کام کر سکتی ہیں۔
    • نتائج ابھی مکمل نہیں: مشی گن اور الاسکا سمیت بعض اہم ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی ابھی جاری ہے۔
    • ٹرمپ کے لیے آگے کیا؟ اگر ڈیموکریٹس کانگریس میں اپنا اثر و رسوخ قائم رکھنے میں کامیاب رہتے ہیں تو وہ صدر کے قانون سازی کے ایجنڈے کو چیلنج کر سکتے ہیں، مختلف تحقیقات شروع کر سکتے ہیں اور حتیٰ کہ مواخذے کی نئی کوششیں بھی زیرِ غور لا سکتے ہیں۔
  14. امریکی ووٹر مہنگائی پر ناراض تھے، ڈیموکریٹس کی تاریخی کامیابی کی وجہ کیا بنی؟

    انتہائی پُرامید ڈیموکریٹس نے بھی شاید ایسی ڈرامائی کامیابی کی توقع نہیں کی تھی۔ انھوں نے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت کی جانب پیش رفت ایسے علاقوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر کے کی ہے جنھیں طویل عرصے سے ریپبلکنز کے قابلِ اعتماد سیاسی گڑھ سمجھا جاتا تھا۔

    سینیٹ کا کنٹرول کس کے پاس جائے گا، یہ جاننے میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔ تاہم ڈیموکریٹس کی کامیابی کا حجم اس قدر بڑا رہا کہ امریکہ میں نصف شب سے پہلے ہی ان کی فتح کی پیش گوئی کی جانے لگی۔

    ڈیموکریٹس کے لیے آئیوا یا اوہائیو میں کامیابی ہی غیر معمولی سمجھی جاتی۔ شاید ٹیکساس یا کینساس میں فتح بھی۔ لیکن ان چاروں ریاستوں میں کامیابی حیران کن ہے۔

    یہ سب کیوں ہوا، اس میں کوئی راز نہیں۔ امریکہ بھر کے ووٹر مہنگی زندگی کے اخراجات پر ناراض ہیں اور اس کا ذمہ دار ڈونلڈ ٹرمپ کو ٹھہراتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کا فیصلہ اور تجارتی محصولات کی پالیسیوں نے قیمتوں میں اضافے کو ہوا دی۔

    ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا: ’میرا نام بیلٹ پیپر پر نہیں تھا، اور اگر ہوتا تو ہم بھاری اکثریت سے جیت جاتے۔‘

    انھوں نے کئی ہفتوں تک اپنے حامیوں سے کہا کہ وہ ایسے ووٹ دیں جیسے وہ خود انتخاب لڑ رہے ہوں۔ ایسے وقت میں جب ان کی مقبولیت ریکارڈ کم سطح پر تھی، خود کو ریپبلکن انتخابی مہم کا مرکز بنانا ہمیشہ ایک خطرناک حکمتِ عملی تھی، اور اب ایسا لگتا ہے کہ یہ الٹا اثر دکھا گئی ہے۔

    اب ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ’مسٹر ویٹو‘ بن جائیں گے۔ وہ اپنے صدارتی ویٹو کے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے ڈیموکریٹس کے زیرِ کنٹرول کانگریس سے منظور ہونے والے کسی بھی بل کو قانون بننے سے روک سکتے ہیں۔ تاہم ڈیموکریٹس بھی اب ان کی مطلوبہ قانون سازی کی راہ میں رکاوٹ ڈال سکتے ہیں۔

    اس کے علاوہ وہ کانگریس کے ذریعے ٹرمپ کے بعض متنازع فیصلوں اور ان طریقوں کی تحقیقات بھی شروع کر سکتے ہیں جن کے ذریعے وائٹ ہاؤس میں واپسی کے بعد وہ اور ان کا خاندان مالی فائدہ حاصل کرتے رہے ہیں۔

  15. ووٹنگ کا عمل مکمل، ڈیموکریٹس کی دونوں ایوانوں میں اکثریت کی پیش گوئی

    امریکہ میں 2026 کے وسط مدتی انتخابات کے لیے ووٹنگ کا عمل مکمل ہو گیا ہے۔ چند لمحے قبل ہوائی میں بھی پولنگ ختم ہو گئی، جو ملک بھر میں بند ہونے والا آخری پولنگ مرکز تھا۔

    ابتدائی اندازوں کے مطابق ڈیموکریٹس کے سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان دونوں میں اکثریت حاصل کرنے کی پیش گوئی کی جا رہی ہے، تاہم ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور مزید نتائج کا انتظار ہے۔

  16. ایران کے ساتھ جنگ اور ایندھن کی بڑھتی قیمتوں نے ریپبلکن پارٹی کو نقصان پہنچایا: ٹرمپ کا اعتراف

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز سے گفتگو میں اعتراف کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ اور ایندھن کی بڑھتی قیمتوں نے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو نقصان پہنچایا۔

    ایران پر ممکنہ امریکی حملوں سے متعلق خبروں پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا: ’ہمیں کچھ بڑا کرنا ہو گا‘ اور مزید کہا کہ اس میں ’شدید حملہ‘ بھی شامل ہو سکتا ہے۔ انھوں نے ایک بار پھر کہا کہ ’ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔‘

    ٹرمپ نے یہ بھی تسلیم کیا کہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافے نے ووٹروں کو ناراض کیا اور اس کا اثر ریپبلکن امیدواروں پر پڑا۔

    تاہم انھوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ انتخابی نتائج ان کی صدارت کے خلاف فیصلہ ہیں، حالانکہ پیش گوئی کی جا رہی ہے کہ ان کی جماعت کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت کھو سکتی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ڈیموکریٹس طویل عرصے سے ایسی کامیابی کے منتظر تھے اور بالآخر اسے حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے اور انھوں نے انھیں ’اچھا کام‘ کرنے پر مبارکباد بھی دی۔

  17. بریکنگ, مین کی سینیٹ نشست پر ڈیموکریٹ ٹرائے جیکسن کے جیتنے کا امکان

    بی بی سی کے امریکی شراکت دار سی بی ایس نیوز کے مطابق مین کی سینیٹ نشست ڈیموکریٹ امیدوار ٹرائے جیکسن کے حصے میں جانے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

    یہ نشست ریپبلکن سینیٹر سوزن کولنز کے پاس تھی، جو تقریباً 30 برس سے اس عہدے پر فائز تھیں اور امریکی سینیٹ کی تاریخ میں سب سے طویل عرصہ خدمات انجام دینے والی ریپبلکن خاتون سینیٹر ہیں۔

  18. مختلف ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی کی رفتار مختلف کیوں ہوتی ہے؟

    دنیا کی نظریں اس وقت امریکہ کے وسط مدتی انتخابات پر ہیں جس کے نتائج صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی باقی مدت صدارت کو متاثر کر سکتے ہیں۔ لیکن جہاں کچھ ریاستوں میں انتخابات کے نتائج چند گھنٹوں میں آ جاتے ہیں وہیں کچھ میں بعض اوقات کئی دن بھی لگتے ہیں۔ اس کی وجہ کیا ہے؟

  19. اگر ڈیموکریٹس کانگریس کا کنٹرول سنبھال لیتے ہیں تو ٹرمپ کے لیے اس کے کیا معنی ہوں گے؟

    اب پیش گوئی کی جا رہی ہے کہ ڈیموکریٹس کو سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان دونوں میں اکثریت حاصل ہو سکتی ہے۔

    اس کا مطلب یہ ہے کہ جنوری سے وہ دوبارہ کانگریس کا کنٹرول سنبھال سکتے ہیں، جو ملک میں قوانین بنانے کا ذمہ دار ادارہ ہے۔

    فی الحال کانگریس کے دونوں ایوانوں میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو اکثریت حاصل ہے۔

    تاہم اگر ڈیموکریٹس کانگریس کا کنٹرول واپس لینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ قانون سازی نسبتاً آسانی سے کر سکیں گے، صدر کے سیاسی ایجنڈے کو چیلنج کر سکیں گے اور ان کی انتظامیہ کے ارکان کے خلاف تحقیقات بھی شروع کر سکتے ہیں۔

    یہ امریکی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی ہوگی اور ایسی کامیابی جس کی ڈیموکریٹس کو ٹرمپ کی صدارت کے آخری دو برسوں میں امید تھی۔

  20. ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا: ’انھوں نے اچھا کام کیا‘

    وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکنز کی خراب کارکردگی کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ’انھوں نے اچھا کام کیا۔‘

    فاکس نیوز سے گفتگو میں ٹرمپ نے کہا کہ انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے والا ماحول موجود تھا اور انھیں ان نتائج پر کسی حد تک حیرت ہوئی ہے۔

    انھوں نے کہا: ’ہم نے شاندار جلسے کیے تھے، اس لیے مجھے تھوڑی حیرت ہوئی ہے۔‘

    تاہم نسبتاً مفاہمتی لہجہ اختیار کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ کانگریس میں ڈیموکریٹس کے ساتھ کام کرنے کے لیے ’بہت سے معاملات‘ موجود ہیں۔

    ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ وسط مدتی انتخابات کے نتائج کے بعد اپنی کابینہ میں کسی تبدیلی کا ارادہ نہیں رکھتے۔