دلہنوں کے میک اپ اور خواتین کے پرفیوم استعمال کرنے کی ممانعت: افغان طالبان کا شادی و منگنی کی تقریبات کے لیے نیا ضابطہ اخلاق

Weddings

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, بی بی سی مانیٹرنگ
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 5 منٹ

افغانستان میں طالبان کے زیرِ انتظام وزارتِ حج و اوقاف نے بعض شادی اور منگنی کی رسومات کی مذمت کرتے ہوئے انہیں ’گناہ‘ اور ’اسلامی قوانین کے منافی‘ قرار دیا ہے۔

وزارتِ حج و اوقاف نے پابندیوں پر مبنی ہدایات ایک دستاویز کی صورت میں جاری کی ہیں، جس میں خطیبوں کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ جمعے کے خطبات میں کن موضوعات پر گفتگو کریں۔

23 جولائی کو طالبان کی وزارت نے ’شادی کی تقریبات اور دیگر جشنوں میں گناہ آمیز اعمال اور اسلامی شریعت کے خلاف رسوم سے اجتناب‘ کے عنوان سے یہ 10 صفحات پر مشتمل دستاویز جاری کی۔

اس میں منگنی کی انگوٹھیوں، آتش بازی، دلہن کے میک اَپ اور عطر کے استعمال، خواتین کے جسم نمایاں کرنے والے اور تنگ لباس پہننے، نیز شادیوں میں موسیقی اور مرد و خواتین کے مخلوط رقص کی مذمت کی گئی ہے۔

ان ہدایات میں افغان شہریوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنی تقریبات ’اسلامی تعلیمات‘ کے مطابق منعقد کریں۔ دستاویز میں کہا گیا ہے: ’آج ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری بہت سی تقریبات، جیسے شادی بیاہ اور حج و عمرہ سے واپسی کے مواقع، ناپسندیدہ رسومات اور برائیوں سے پاک نہیں ہیں۔‘

Afghan women

،تصویر کا ذریعہGetty Images

یہ دستاویز بظاہر افغان طالبان کے رہنما مولوی ہبت اللہ اخوندزادہ کی جانب سے 2025 میں ’ناپسندیدہ رسومات‘ پر عائد کی گئی پابندی سے متاثر معلوم ہوتی ہے، اگرچہ اس میں ان پابندیوں کا دائرہ نمایاں طور پر وسیع کر دیا گیا ہے۔

یہ ہدایات طالبان کی جانب سے متعارف کروائی گئی سماجی پابندیوں میں مزید اضافے کی طرف اشارہ کرتی ہیں، جیسا کہ 2024 کے اخلاقی قانون کے ذریعے نافذ کی گئی پابندیاں اور ان کے اثرات خاص طور پر خواتین پر مرتب ہوئے ہیں۔

سنہ 2021 میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد طالبان خواتین اور لڑکیوں کو ہدف بنانے والے بتدریج زیادہ سخت احکامات کا ایک سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ان اقدامات کے تحت انہیں ثانوی سکولوں، جامعات اور دیگر تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے سے روک دیا گیا ہے، جبکہ عوامی مقامات تک رسائی اور بیشتر پیشوں میں کام کرنے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے، جن میں اقوامِ متحدہ کے ساتھ کام کرنا بھی شامل ہے۔

انگوٹھی پہنانا

ان ہدایات میں منگنی کے دوران انگوٹھیوں کے تبادلے یا مہندی لگانے کو بھی غلط قرار دیا گیا ہے۔

اس دستاویز میں خبردار کیا گیا ہے ’منگنی کی تقریب کے دوران لڑکا (نوجوان مرد) لڑکی (نوجوان خاتون) کی انگلی میں منگنی کی انگوٹھی پہناتا ہے اور اسی طرح لڑکی بھی لڑکے کی انگلی میں انگوٹھی پہناتی ہے۔ یا پھر یہ عمل عوامی طور پر اس طرح انجام دیا جاتا ہے کہ لڑکا لڑکی کی ہتھیلی پر مہندی لگاتا ہے اور لڑکی لڑکے کی ہتھیلی پر مہندی لگاتی ہے۔۔۔ اس عمل میں متعدد ایسے عناصر شامل ہیں جو مذہبی اعتبار سے جائز نہیں ہیں۔‘

دستاویز میں شادی کی انگوٹھیوں کے تبادلے کو بھی مذہبی طور پر ناجائز قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ عمل ’عیسائیوں کی مذہبی رسومات اور روایات سے مشابہت‘ رکھتا ہے۔

آتشبازی

طالبان کی ہدایات کے مطابق تقریبات اور خوشی کے مواقع پر آتش بازی اور پٹاخے چلانا ’خطرناک ترین اعمال میں سے ایک‘ ہے۔

دستاویز میں کہا گیا ہے ’کسی مسلمان کو خوفزدہ کرنا جائز نہیں اور کسی مسلمان یا اپنے پڑوسیوں کو اذیت اور تکلیف پہنچانا ممنوع اور ناپسندیدہ عمل ہے۔‘

خواتین کے میک اپ اور کپڑوں پر قدغن

دستاویز میں دلہن کی جانب سے کاسمیٹکس کے استعمال اور ’انتہائی تنگ اور باریک‘ لباس پہننے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

اس میں کہا گیا ہے ’دلہن کی ظاہری خوبصورتی بڑھانے کی کوشش میں بعض ایسے اقدامات کیے جاتے ہیں جو جائز نہیں، جن میں بھنویں بنانا، چہرے کے بال صاف کرنا، ہونٹوں کو نمایاں بنانا اور کاسمیٹکس کا استعمال شامل ہے۔۔۔ ایسے اعمال دھوکے کی ایک شکل ہیں۔‘

دستاویز میں مزید کہا گیا ہے: ’بعض منگنی اور شادی کی تقریبات میں ایک اور قابلِ اعتراض عمل خواتین کا باریک اور تنگ لباس پہننا ہے، ایسے اعمال ان ناپسندیدہ کاموں میں شمار ہوتے ہیں جو افسوس کے ساتھ آج کل بہت سی شادی کی تقریبات میں دیکھے جاتے ہیں۔‘

Taliban

،تصویر کا ذریعہGetty Images

خوشبو کا استعمال، موسیقی اور رقص

ان ہدایات میں خواتین کے پرفیوم استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ شادیوں میں موسیقی اور رقص کی بھی ممانعت کی گئی ہے۔

دستاویز میں کہا گیا ہے کہ گھر سے باہر نکلتے وقت کسی عورت کا پرفیوم لگانا مذہبی اعتبار سے جائز نہیں۔ تاہم اس میں مردوں کے لیے آفٹرشیو یا سرمہ جیسے کاسمیٹکس کے استعمال پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی۔

دستاویز موسیقی اور مرد و خواتین کے مخلوط رقص کی بھی سخت مذمت کرتی ہے اور اسے ’سنگین ترین بے راہ رویوں میں سے ایک‘ قرار دیتے ہوئے کہتی ہے کہ اس سے ’خواتین کی جسمانی خوبصورتی اور جسمانی خد و خال غیر محرم مردوں کے سامنے نمایاں ہوتے ہیں۔‘

آخر میں دستاویز ’باایمان خواتین‘ سے اپیل کرتی ہے کہ وہ ’مغربی ثقافتوں کے جھوٹے دعوؤں کا شکار نہ ہوں اور غیر ملکی رسوم و روایات اور اقدار کی تقلید سے گریز کریں۔‘