’ایک ہی بار ٹریگر دبانے پر پورا میگزین خالی‘: کلاشنکوف سکیورٹی فورسز سے لے کر انتہا پسندوں تک میں کیوں مقبول ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, چندن کمار
- عہدہ, بی بی سی ہندی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 11 منٹ
’اے کے 47 سے فائرنگ کے دو طریقے ہیں۔ اگر اسے ایس (سنگل) پر سیٹ کیا جائے تو یہ کنٹرولڈ فائر کرتی ہے، یعنی ایک بار ٹریگر دبانے پر صرف ایک گولی چلتی ہے۔ اگر اسے آر یعنی ریپیٹ موڈ میں چلایا جائے تو ایک ہی فائر میں اس کا پورا میگزین خالی ہو جاتا ہے۔‘
جی ہاں اس مضمون میں بات کی جا رہی ہے کلاشنکوف اسالٹ رائفل، اے کے 47 کی جو دنیا کے مقبول ترین ہتھیاروں میں سے ایک ہے۔
انڈیا میں بہار کے ضلع سیوان میں 25 جولائی کو مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کرنے والے طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کے ایک کانسٹیبل کی جانب سے طلبہ کے ایک گروہ پر اے کے-47 رائفل تانے جانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس کے بعد سے یہ رائفل ان دنوں میڈیا اور سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے۔
اے کے 47 سے فائرنگ کے اس واقعے نے میڈیا پر اس قدر زور پکڑا کہ بہار پولیس کی ایس آئی ٹی کے کانسٹیبل ابھیشیک پٹیل کو معطل کر دیا گیا۔
بہار کے سابق نائب وزیرِ اعلیٰ تیجسوی یادیوکے مطابق ملک میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے جس میں پولیس نے طلبہ کی طرف اے کے-47 رائفل (کلاشنکوف) تانی۔
یاد رہے کہ اے کے 47 کو ہتھیاروں کی دنیا میں بہت خاص سمجھا جاتا ہے اور اسے عام ہتھیاروں کی طرح استعمال نہیں کیا جاتا۔
اسی لیے سول پولیس کی جانب سے اے کے 47 سے فائرنگ ایک بڑے تنازع کا موضوع بن گئی ہے۔
اس مضمون میں ہم کچھ ایسے افسران سے بات چیت شامل کر رہے ہیں، جنھوں نے مختلف کارروائیوں میں اے کے 47 رائفل استعمال کی اور یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ یہ بندوق اتنی مقبول کیوں ہے اور کیا سول پولیس کی جانب سے اس بندوق کے استعمال کے لیے کوئی رہنما اصول موجود ہیں؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’آتشیں اسلحے کا استعمال آخری آپشن‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ارون کمار ایک سابق آئی پی ایس افسر ہیں۔ انھوں نے اتر پردیش پولیس میں کئی اہم عہدوں پر خدمات انجام دی ہیں۔
وہ بدنام مجرم شری پرکاش شکلا کو گرفتار کرنے کے لیے تشکیل دی گئی سپیشل ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف) ٹیم کی قیادت بھی کر چکے ہیں۔
ارون کمار نے بی بی سی سے بات چیت کے دوران بتایا کہ ’کسی بھی ہجوم یا مظاہرے کو قابو میں کرنے کے لیے پولیس یا سکیورٹی فورسز کو طاقت کا کم سے کم استعمال کرنے کی تربیت دی جاتی ہے اور ان کے لیے پہلے انتباہ (وارننگ) دینے کی گنجائش موجود ہوتی ہے۔ ایسے معاملات میں آتشیں اسلحے کا استعمال آخری آپشن ہوتا ہے۔‘
وہ وضاحت کرتے ہیں کہ ’سب سے پہلے لوگوں کو وہاں سے ہٹ جانے کے لیے خبردار کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد واٹر کینن استعمال کی جاتی ہیں۔ اگر اس سے بھی ہجوم قابو میں نہ آئے تو آنسو گیس کےشیل داغے جاتے ہیں۔ پھر لاٹھی چارج کیا جاتا ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’اگر کوئی ہجوم پرتشدد ہو جائے یا حملہ آور ہو اور یہ محسوس ہو کہ وہ جان لینے کی صلاحیت رکھتا ہے، تو اپنی جانوں کے تحفظ کے لیے ہجوم کو منتشر کرنے کی غرض سے فضائی فائرنگ کی جا سکتی ہے۔ یہ آخری چارہ ہوتا ہے۔‘
سابق آئی پی ایس افسر راجیش پانڈے کہتے ہیں کہ ’سیوان میں جو کچھ ہوا وہ درست نہیں تھا۔ اخلاقی طور پر بھی ایسا کرنا درست نہیں ہے۔ وہ ہجوم مسلح نہیں تھا، اس لیے کسی بھی پولیس اہلکار کی جانب سے فائرنگ کرنا مناسب نہیں تھا۔‘
یاد رہے کہ اس کی قیمت نسبتاً کم ہونے اور اس کی دیکھ بھال میں آسانی کے باعث ایشیا اور افریقہ میں گوریلا تنظیموں کے ساتھ ساتھ بہت سے ممالک کی افواج میں بھی اس کو بڑے پیمانے پر استعمال کرتی ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں 10 کروڑ سے زیادہ کلاشنکوف رائفلیں فروخت ہو چکی ہیں۔
اے کے 47 سے فائرنگ کے دو طریقے
ایوٹومیٹ کلاشنکوف رائفل 1947 میں روس کے میخائل کلاشنکوف نے ایجاد کی تھی۔
یہ رائفل دنیا بھر میں سکیورٹی فورسز، مسلح گروہوں اور بدنام جرائم پیشہ گینگز کے درمیان بہت مقبول ہے۔
راجیش پانڈے کہتے ہیں کہ ’میں 2008-2009 میں اقوامِ متحدہ کے امن مشن کے لیے کوسووو گیا تھا۔ ہمیں کئی جدید ہتھیار استعمال کرنے کی تربیت دی گئی تھی، لیکن اے کے 47 کا ان سے کوئی مقابلہ نہیں۔ اس کا حملہ انتہائی مہلک ہے اور اسے چلانا بھی بہت آسان ہے۔ اس کا نشانہ بھی درست ہوتا ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’اگر یہ 200 یا 300 میٹر کے فاصلے سے بھی درست جگہ پر لگ جائے تو کسی شخص کو ہلاک کر سکتی ہے، جبکہ پرانے چھوٹے ہتھیاروں کی حدِ اثر صرف 30 سے 40 میٹر ہوتی ہے۔‘
ارون کمار کہتے ہیں کہ ’اے کے 47 سے فائرنگ کے دو طریقے ہیں۔ اگر اسے ایس (سنگل) پر سیٹ کیا جائے تو یہ کنٹرولڈ فائر کرتی ہے، یعنی ایک بار ٹریگر دبانے پر صرف ایک گولی چلتی ہے۔ اگر اسے آر یعنی ریپیٹ موڈ میں چلایا جائے تو ایک ہی بار ٹریگر دبانے پر اس کا پورا میگزین خالی ہو جاتا ہے۔‘
ان کے مطابق یہ آٹومیٹک موڈ میں ایک وقت میں 30 راؤنڈ فائر کر سکتی ہے۔ تاہم بعض صورتوں میں اب ایک ساتھ دو میگزین بھی استعمال کیے جاتے ہیں، یعنی ایک مرتبہ فائر کرنے پر 60 راؤنڈ نکلتے ہیں۔
راجیش پانڈے نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ’اے کے 47 کی آواز بہت منفرد ہوتی ہے۔ جو کوئی بھی اس رائفل سے واقف ہو، وہ صرف آواز سن کر بتا سکتا ہے کہ فائرنگ اے کے 47 سے کی گئی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہ@yadavtejashwi
ارون کمار کہتے ہیں کہ ’ایسا خصوصی کارروائیوں کے دوران ہوتا ہے جب آپ کو ایک ہی وقت میں زیادہ گولیاں چلانی پڑتی ہیں۔ مثال کے طور پر جنگ، دہشت گرد حملے یا اغوا کے کسی کیس میں، جب انتہائی خطرناک مجرموں کے پاس بھی مہلک ہتھیار موجود ہوں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’اس کا آر موڈ کبھی بھی قانون و نظم برقرار رکھنے کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا۔ ہمیں اس طرح تربیت دی جاتی ہے کہ ایک گولی، ایک دشمن کو ہلاک کرے۔ ہم گولیاں ضائع نہیں کرتے۔ شہری دشمن نہیں ہوتے، اس لیے ان کے خلاف اس کا استعمال نہیں کیا جاتا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’سوویت روسی افواج اے کے 47 رائفلوں سے مسلح ہو کر افغانستان پہنچیں‘
راجیش پانڈے نے بتایا کہ ’انڈیا میں اے کے 47 کی مقبولیت کی تاریخ افغانستان میں سوویت یونین کی فوجی مداخلت سے جڑی ہوئی ہے۔ 1970 کی دہائی کے اواخر میں سوویت روسی افواج اے کے 47 رائفلوں سے مسلح ہو کر افغانستان پہنچیں۔
یہ ہتھیار انڈیا کے پڑوس میں پہنچنے کے بعد لوگوں نے اس کے اثرات دیکھے اور یہ انڈیا میں بھی مقبول ہونے لگا۔
انڈیا میں یہ ہتھیار سب سے پہلے فوج، نیم فوجی دستوں اور سرحدی ریاستوں اور شمال مشرق کے شورش زدہ علاقوں میں تعینات پولیس کو فراہم کیا گیا۔
نکسل متاثرہ علاقوں میں پولیس کو بھی مسلح گروہوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اے کے 47 دی گئی۔
راجیش پانڈے کے مطابق ’1980 کی دہائی کے اواخر میں یہ ہتھیار پنجاب پولیس اور شمال مشرقی ریاستوں کی پولیس کو دیا گیا۔ اس کے علاوہ نکسل متاثرہ علاقوں میں پولیس کو بھی اے کے 47 فراہم کی گئیں، اور پھر (انڈیا کے زیر انتظام) جموں و کشمیر پولیس کو بھی یہ ہتھیار ملا۔‘
پنجاب اور جموں و کشمیر کی سرحدی صورتحال منفرد ہے۔ 1980 کی دہائی میں پنجاب خاص طور پر حساس تھا اور بعد میں کشمیر میں مسلح علیحدگی پسند گروہ سرگرم رہے۔
راجیش پانڈے کہتے ہیں کہ ’جنوبی انڈیا میں صندل کی لکڑی کے سمگلر ویرپن کو گرفتار کرنے کے لیے ایس ٹی ایف (سپیشل ٹاسک فورس) تشکیل دی گئی تھی اور انھیں اے کے 47 دی گئی تھیں۔‘
’اتر پردیش میں بھی ریاستی پولیس کو ترائی کے علاقے میں سکھ شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے اے کے 47 فراہم کی گئی تھیں۔ اس وقت پرکاش سنگھ ہمارے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس تھے۔‘
انڈیا میں اے کے 47 سے جڑا سب سے زیادہ زیرِ بحث آنے والا واقعہ

،تصویر کا ذریعہSABY DSOUZA/AFP via Getty Images
انڈیا میں کلاشنکوف رائفل کو ذاتی ملکیت میں رکھنے کا سب سے مشہور معاملہ شاید فلمی اداکار سنجے دت کا ہے۔
12 مارچ 1993 کو ممبئی میں یکے بعد دیگرے بم دھماکے ہوئے تھے جن میں متعدد افراد ہلاک ہوئے۔ تحقیقات کے دوران گرفتار ملزمان سے تفتیش کی بنیاد پر 19 اپریل 1993 کو ممبئی پولیس نے سنجے دت کو غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا۔
پولیس نے ان کے گھر کی تلاشی کے دوران ایک اے کے 56 رائفل برآمد کی تھی۔ 28 نومبر 2006 کو سنجے دت کو آرمز ایکٹ کے تحت قصوروار قرار دیا گیا، تاہم ٹاڈا کے تمام الزامات سے بری کر دیا گیا۔
راجیش پانڈے کے مطابق ’اے کے 56، اے کے 47 سے مشابہ ہے۔ یہ بھی ایک کلاشنکوف اسالٹ رائفل ہے اور نسبتاً زیادہ جدید ہے۔ اس کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آج بھی جب آپ افغانستان یا کسی اور ملک میں مسلح گروہوں کی تصاویر یا ویڈیوز دیکھتے ہیں تو لوگوں کے ہاتھوں میں اے کے 47 نظر آتی ہے۔‘
’اس کا استعمال صرف حملے کے لیے نہیں ہوتا بلکہ طاقت کے مظاہرے اور جشن منانے کے لیے بھی کیا جاتا ہے۔ جب ہم کوسووو میں تھے تو کوسووو نے اپنی آزادی کا اعلان کیا تھا اور بڑی تعداد میں لوگ گھروں کی چھتوں پر چڑھ گئے تھے اور کلاشنکوف سے فائرنگ کر کے جشن منایا تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا میں اے کے 47 سے جڑا ایک مشہور واقعہ 17 دسمبر 1995 کی رات پیش آیا تھا۔ ایک روسی اینٹونوف اے این 26( دو انجنوں والا) طیارہ کراچی سے ڈھاکہ کے لیے روانہ ہوا۔
آٹھ مسافروں کو لے جانے والے اس طیارے نے وارانسی(اتر پردیش) کے بابت پور ہوائی اڈے پر ایندھن بھروایا۔
دوبارہ پرواز بھرنے کے بعد طیارے نے مغربی بنگال کے ضلع پورولیا کے اوپر فضا سے پیراشوٹوں کے ساتھ بندھی لکڑی کی تین بڑی پیٹیاں گرائیں، جن میں سینکڑوں اے کے 47 رائفلیں موجود تھیں۔ یہ واقعہ پورے ملک میں شہہ سرخیوں کی زینت بنا رہا۔
بعد کی تحقیقات میں معلوم ہوا کہ ان میں سے کچھ اے کے 47 رائفلیں بہار اور اتر پردیش سے وابستہ جرائم پیشہ افراد تک بھی پہنچ گئی تھیں۔
ان میں اتر پردیش کے خوفناک مجرم شری پرکاش شکلا کا نام بھی اہم ہے، جسے گرفتار کرنے کے لیے 1998 میں ایس ٹی ایف تشکیل دی گئی تھی اور اس ایس ٹی ایف کو بھی اے کے 47 رائفلیں فراہم کی گئی تھیں۔
ارون کمار کہتے ہیں کہ ’پہلے پولیس کے پاس 303 رائفلیں ہوا کرتی تھیں۔ یہ دوسری عالمی جنگ کے دور کا ایک ہتھیار تھا۔ اس زمانے میں عام لوگوں یا معمول کے جرائم پیشہ افراد کے پاس عموماً آتشیں اسلحہ نہیں ہوتا تھا۔ اس وقت 'دہشت گردی' بھی کوئی مسئلہ نہیں تھی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ وقت کے ساتھ ساتھ سکیورٹی فورسز کو ایس ایل آر اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس دیگر ہتھیار دیے جانے لگے۔
اے کے 47 سب سے پہلے خصوصی کارروائیوں میں مصروف مسلح افواج اور نیم فوجی دستوں کو فراہم کی گئی، جس کے بعد مخصوص مقاصد کے لیے سول پولیس کو بھی ایسے ہتھیار ملنے لگے۔
بہار میں ہوا کیا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی نیوز ہندی کے نامہ نگار سیتو تیواری کے مطابق 25 جولائی کو ہونے والے مظاہرے کے دوران 25 مظاہرین کو گرفتار کیا گیا تھا، جبکہ زخمی ہونے والے تینوں مظاہرین کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
دریں اثنا بہار پولیس نے ایک پریس ریلیز میں کہا ہے کہ زخمی ہونے والے تین افراد میں سے ایک کم عمر ہے۔
نیٹ امتحان کے پرچے کے لیک ہونے کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی جانب سے جاری ایک ماہ طویل احتجاجی مہم ہفتے کے روز وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد ختم ہو گئی ہے۔
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گردش کر رہی ہے جس میں بہار پولیس کا ایک اہلکار مظاہرین کے ایک ہجوم کی جانب اے کے-47 رائفل تانے ہوئے دکھائی دیتا ہے۔ ویڈیو میں گولی چلنے کی آواز بھی سنی جا سکتی ہے۔
بہار پولیس نے بھی اس ویڈیو کی تصدیق خبر رساں ادارے روئٹرز کو کی ہے۔ روئٹرز کے مطابق ویڈیو میں بلٹ پروف جیکٹ اور ہیلمٹ پہنے ایک پولیس اہلکار کو اے کے-47 رائفل کے ساتھ مظاہرین کی طرف دوڑتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ وہ کم از کم تین فائر فضا میں کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
بہار پولیس کے ڈپٹی انسپیکٹر جنرل (ڈی آئی جی) نیلیش کمار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ اس واقعے میں کوئی شخص زخمی نہیں ہوا۔
ان کے مطابق ویڈیو میں نظر آنے والے اہلکار انٹیلیجنس یونٹ سے تعلق رکھتے تھے، جو ’سنگین جرائم میں ملوث عناصر سے نمٹنے‘ کے لیے تعینات کیے جاتے ہیں اور جنھیں اے کے-47 جیسی رائفلیں فراہم کی جاتی ہیں۔
ڈی آئی جی نیلیش کمار نے کہا کہ ’کانسٹیبل نے اے کے-47 کا غلط استعمال کیا۔ اس اقدام کو کسی بھی صورت درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔‘
’اس نے اسلحے کا غلط استعمال کیا کیونکہ سامنے طلبہ تھے۔ ایسا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی، اسی لیے اسے معطل کر دیا گیا ہے۔ اس کے خلاف ہر ممکن کارروائی کی جائے گی۔‘



















