بابر کی کپتانی اور نصف سنچری بھی ویسٹ انڈیز کے خلاف شکست سے نہ بچا سکی: ’عباس کو سٹرائیک کیوں دی؟‘

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 5 منٹ

ٹرینیڈاڈ کے برائن لارا سٹیڈیم میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ میں ویسٹ انڈیز نے پاکستان کو 90 رنز سے شکست دے دی ہے۔

ویسٹ انڈیز نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے اپنی پہلی اننگز میں 311 رنز بنائے۔ میزبان ٹیم کی جانب سے شائی ہوپ نے 92 اور کیویم ہوج نے 84 رنز کی نمایاں اننگز کھیلیں۔ پاکستان کے لیے محمد علی نے چار جبکہ محمد عباس نے تین وکٹیں حاصل کیں۔

جواب میں پاکستان کی ٹیم اپنی پہلی اننگز میں 282 رنز بنا سکی۔ پاکستانی اننگز کی خاص بات شان مسعود کی 109 رنز کی شاندار سنچری اور امام الحق کے 63 رنز تھے۔ تاہم مڈل آرڈر خاطر خواہ مزاحمت نہ کر سکا۔ ویسٹ انڈیز کے جسٹن گریوز نے پانچ وکٹیں لیں۔

پاکستان ایک موقع پر 244 رنز پر چار وکٹوں کے ساتھ مضبوط پوزیشن میں دکھائی دے رہا تھا اور ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ وہ پہلی اننگز میں برتری حاصل کر لے گا، تاہم ویسٹ انڈیز کے جسٹن گریوز نے میچ کا رخ بدلتے ہوئے پانچ وکٹیں حاصل کیں اور پاکستان کی پوری ٹیم 282 رنز پر آؤٹ ہو گئی۔ اس طرح ویسٹ انڈیز کو پہلی اننگز میں 29 رنز کی اہم برتری حاصل ہوئی۔

دوسری اننگز میں پاکستانی بالرز نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور ویسٹ انڈیز کو 181 رنز پر آؤٹ کر دیا۔ محمد عباس سب سے کامیاب بولر رہے جنھوں نے 22 رنز دے کر پانچ وکٹیں حاصل کیں، جبکہ خرم شہزاد اور محمد علی نے دو، دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

پاکستان کو جیت کے لیے 211 رنز کا ہدف ملا، لیکن دوسری اننگز میں پاکستانی ٹیم کی بیٹنگ لڑکھڑا گئی اور پوری ٹیم 40.2 اوورز میں 120 رنز پر آؤٹ ہو گئی۔ پاکستان کی جانب سے کپتان بابر اعظم نے سب سے زیادہ 58 رنز بنائے اور وہ ناٹ آؤٹ رہے۔ دوسرے سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی 11ویں نمبر پر کھیلنے آنے والے بلے باز محمد عباس تھَ جنھوں نے 23 رنز کی اننگز کھیلی۔

ویسٹ انڈیز کی جانب سے جیڈن سیلز نے بہترین بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 20 رنز کے عوض پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ کیمار روچ اور جسٹن گریوز نے دو، دو جبکہ شمار جوزف نے ایک وکٹ حاصل کی۔

جسٹن گریوز کو میچ میں پانچ وکٹیں لینے اور اہم آل راؤنڈ کارکردگی پر پلیئر آف دی میچ قرار دیا گیا۔

میچ کے بعد بات کرتے ہوئے کپتان بابر اعظم کا کہنا تھا کہ گذشتہ دو روز کے دوران اچھی کرکٹ کھیلی لیکن آخری دن پاکستان کا بیٹنگ یونٹ وہ ناکام رہا اور یکے بعد دیگرے ٹیم وکٹیں کھوتی رہی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک شعبہ ہے جس پر ہم کام کر رہے ہیں۔

بابر اعظم پر ٹیل اینڈرز کو زیادہ بالز کھیلنے دینے پر تنقید

پاکستان کی شکست کے بعد سوشل میڈیا پر جہاں ایک طرف صارفین دوسری اننگز میں پاکستانی کپتان بابر اعظم کی بیٹنگ کی تعریف کرتے نظر آ رہے ہیں وہیں کچھ انھیں آخری نمبروں پر کھیلنے والے بلے بازوں کو سٹرائیک دینے پر تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

پاکستانی کرکٹ تجزیہ کار اور اعداد و شمار کے ماہر مظہر ارشد لکھتے ہیں کہ بابر اعظم نے ایک مشکل پچ پر عمدہ اننگز کھیلی اور اس سے انھیں اعتماد ملنا چاہیے۔

تاہم مظہر ارشد کا کہنا تھا کہ انھیں ٹیل اینڈرز (آخری نمبر کے کھلاڑیوں) کو سامنے کرنے کے بجائے خود زیادہ بالز کا سامنا کرنا چاہیے تھا۔

’آخری تین پارٹنرشپس میں بابر نے 43 بالز کا سامنا کیا جبکہ ٹیل اینڈرز نے 45۔‘

سابق فرسٹ کلاس کرکٹر ماجد مجید بھی مظہر ارشد سے کچھ متفق دکھائی دیتے ہیں۔ وہ ایکس پر لکھتے ہیں کہ ’اگر بابر اعظم پہلی بال پر سنگلز نہ لیتے تو پاکستان آرام سے تین وکٹوں سے میچ جیت سکتا تھا۔‘

دوسری جانب کچھ شائقین صرف بابر اعظم کے بجائے پاکستانی ٹیم کی مجموعی کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بناتے نظر آتے ہیں۔

کرکٹ تجزیہ کار ڈاکٹر نعمان نیاز کہتے ہیں کہ پاکستان آدھا ٹیسٹ تو وہیں ہار گیا تھا جب دوسری اننگز میں ویسٹ انڈیز کے آخری تین بلے بازوں نے 60 رنز بنائے۔

یاد رہے کہ دوسری اننگز میں ویسٹ انڈیز کے سات کھلاڑی 93 کے مجموعی سکور پر آؤٹ ہوئے تھے جس کے بعد شمار جوزف اور کیمار روچ نے آٹھویں وکٹ پر 61 رنز کی پارٹنرشپ کھیلی۔ ٹیل اینڈرز کی مدد سے ویسٹ انڈیز کی ٹیم اپنا مجموعی سکور 181 رنز تک لے جانے میں کامیاب رہی۔

کرکٹ کمنٹیٹر عاطف نواز لکھتے ہیں کہ وہ اس بات کی اہمیت کو سمجھتے ہیں کہ بابر اعظم کو زیادہ بالز کا سامنا کرنا چاہیے تھا تاہم پاکستان کی ہار کی وجہ یہ نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انگلی ٹاپ آرڈر کے بلے بازوں کی کارکردگی پر اُٹھنی چاہیے۔

کرکٹ تجزیہ کار سایج صادق لکھتے ہیں کہ ’آپ کو پتا لگ جانا چاہیے کہ کچھ تو غلط ہے جب محمد عباس آپ کی ٹیم کے دوسرے سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے باز ہوں۔‘