جب لاہور میں ایک پاکستانی نے اپنے انڈین دوست کی یاد میں کلاس روم کا نام بدل دیا

،تصویر کا ذریعہSyed Babar Ali
- مصنف, شمائلہ خان
- عہدہ, بی بی سی نامہ نگار
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
’مجبوری ہے کہ ہمارا آنا جانا بند ہو گیا ہے۔ زبان ایک ہے، کھانا مشترک ہے، اتنی ساری چیزیں مشترک ہیں لیکن آپس میں میل جول پر پابندی ہونے کی وجہ سے ہم ایک دوسرے سے دور ہو رہے ہیں۔
’آپ دروازے کھولیں، اگلے ہی دن سب ایک دوسرے سے مل جائیں گے۔‘
یہ کہنا ہے پاکستان کی معروف کاروباری شخصیت سید بابر علی کا، جنھوں نے اپنے دوست اور انڈین پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ ہرچرن سنگھ برار کے نام لاہور کے ایچی سن کالج میں ایک کمرہ منسوب کیا ہے۔
ہرچرن سنگھ برار اگست 1995 سے نومبر 1996 تک انڈین پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہے۔ اس کے علاوہ وہ ہریانہ اور اڑیسہ کے گورنر بھی رہے۔
تقسیم ہند سے پہلے، ہرچرن سنگھ برار نے پاکستان کے شہر لاہور میں واقع ایچی سن کالج سے تعلیم حاصل کی تھی، اور یہیں ہرچرن اور بابر کی ملاقات ہوئی تھی۔
ہرچرن اور بابر کا ملک تقسیم ہوا لیکن دل پھر بھی جڑے رہے، دونوں ایک دوسرے کے پکے دوست رہے، ’بالکل بھائیوں کی طرح‘۔
بی بی سی کی صحافی شمائلہ خان نے اس حوالے سے سید بابر علی سے خصوصی گفتگو کی۔ اس دوران ہرچرن سنگھ برار کی بیٹی ببلی برار بھی موجود تھیں۔
کالج کی دوستی بھائیوں جیسے رشتے میں کیسے بدلی

،تصویر کا ذریعہAitchison College
ہرچرن سنگھ برار سے پہلی ملاقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے بابر علی نے بتایا کہ ’ہرچرن سنگھ عمر میں مجھ سے بڑے تھے اور گاؤں سے آئے تھے۔ وہ تیسری جماعت کے امتحان میں فیل ہو گئے اور جب میں تیسری جماعت میں گیا تو وہ میرے ہم جماعت بن گئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’چند ہی دنوں کی رفاقت سے مجھے معلوم ہو گیا کہ یہ شخص بہت نیک، صاف اور کھلے دل کا ہے۔ ان سے دوستی ہو گئی اور یہ دوستی 1938 سے 1944 تک رہی۔ یہاں تک کہ ہم ایچی سن کالج سے پڑھ کر نکلے اور پھر گورنمنٹ کالج داخل ہو گئے۔
’ہم بالکل بھائیوں کی طرح تھے۔ اگرچہ میری والدہ پردہ کرتی تھیں، لیکن ہرچرن کے سامنے کوئی پردہ نہیں تھا۔ وہ ہمارے گھر آتے تھے، میری بہنوں سے ملتے تھے، میرے بھائیوں سے ملتے تھے، میرے والد سے ملتے تھے۔ وہ ہمارے خاندان کا فرد بن گئے تھے۔
’مجھے یاد ہے کہ ہرچرن سنگھ کی والدہ یہاں علاج کے لیے آئی تھیں۔ میں ان سے ملنے گیا، سلام کیا، تو انھوں نے مجھے 100 روپے دیے۔
’اس کے بعد میں امریکہ چلا گیا، تقسیم ہو گئی۔۔۔ وہ انڈیا چلے گئے۔‘
سیاسی خیالات مختلف لیکن اختلاف کوئی نہیں

،تصویر کا ذریعہAitchison College
اپنے دوست ہرچرن سنگھ کو یاد کرتے ہوئے بابر علی نے کہا کہ ’اُنھیں سیاست کا بہت شوق تھا۔ ایچی سن کالج میں ہمارے پاس دو اخبارات آیا کرتے تھے، ایک سول اینڈ ملٹری گزٹ اور دوسرا ٹریبیون۔ یہ قومی اخبار ہرچرن سنگھ منگوایا کرتے تھے۔
’ان کا جھکاؤ کانگریس کی طرف تھا جبکہ میں مسلم لیگ کا حامی تھا۔ ہماری سیاست پر بحث ہوتی تھی لیکن اس میں کبھی کوئی تلخی نہیں ہوتی تھی۔‘
جوانی کے دنوں کے قصے

،تصویر کا ذریعہAitchison College
اپنی جوانی کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے سید بابر علی نے بتایا: ’جب ہم گورنمنٹ کالج میں تھے، ایک دن ہرچرن میرے پاس اخبار لے کر آئے اور کہنے لگے کہ یہ ایک لڑکی ہیں جو بہت اچھی ایتھلیٹ ہیں اور میں ان سے ملنا چاہتا ہوں۔
’ہم نے معلوم کیا کہ وہ لڑکی جٹ برادری کی تھیں، سردار پرتاپ سنگھ کیرون کی بھتیجی تھیں۔ بعد میں پتا چلا کہ ان کے چچا اور والد دونوں ہی جیل میں تھے کیونکہ وہ کانگریس کے حامی تھے۔
’پھر ہم نے ایک شخص کو تلاش کیا جنھوں نے جیل جا کر لڑکی کے والد اور چچا سے ملاقات کی اور ہماری طرف سے رشتہ مانگا۔ انھوں نے کہا کہ ابھی ہم جیل میں ہیں، جب باہر آئیں گے تو فیصلہ کریں گے۔‘
سید بابر علی بتاتے ہیں کہ جب لڑکی کے والد اور چچا جیل سے باہر آئے تو ہرچرن سنگھ کی اس لڑکی سے شادی ہو گئی۔
جب دونوں دوست سرحد پر ملے

،تصویر کا ذریعہAitchison College
امریکہ سے واپسی کے بعد کا ایک واقعہ سناتے ہوئے سید بابر علی نے کہا: ’میں واپس آیا تو یہاں پولیس کے انسپکٹر جنرل قربانی خان مجھ پر بہت مہربان تھے۔ میں ان کے پاس گیا اور کہا کہ میں اپنے دوست سے ایک سال سے نہیں ملا۔ انھوں نے کہا کہ اگر تم ملنا چاہتے ہو تو میری جیپ لے کر سرحد پر چلے جاؤ اور وہاں جا کر ملاقات کر لو۔
’میں (سرحد پر واقع) گنڈا سنگھ والا گیا، ادھر سے ہرچرن آئے تھے۔ وہ میرے لیے کیلے لائے تھے۔ اس زمانے میں پاکستان میں کیلے نہیں ہوتے تھے۔ میں ان کے لیے ٹائی لے کر گیا تھا۔ میں نے انھیں ٹائی دے دی اور جب انھوں نے مجھے کیلے دینے کی کوشش کی تو پولیس والوں نے کہا کہ اس کی اجازت نہیں ہے۔‘
نایاب دوستی

،تصویر کا ذریعہAitchison College
اس دن کو یاد کرتے ہوئے بابر علی کہتے ہیں: ’مجھے ببلی کا فون آیا کہ والد فوت ہو گئے ہیں۔ پھر انھوں نے مجھے تعزیتی تقریب میں بلایا۔ جب میں گیا تو وہاں 18 ہزار افراد موجود تھے۔ مرکزی حکومت کے نمائندے، پنجاب کے وزیر اعلیٰ اور مہاراجہ پٹیالہ بھی موجود تھے۔
’جب تقریر کرنے کا وقت آیا تو مجھ سے کہا گیا کہ آپ سب سے پہلے تقریر کریں، آپ ان کے سب سے قریبی دوست تھے۔ ایسی دوستی تھی۔ آج کل یہ چیز نایاب ہے۔‘
’ہمارے لیے اگر وہ ماں باپ تھے تو یہ بھی ماں باپ ہیں‘

،تصویر کا ذریعہAitchison College
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ہرچرن سنگھ برار کی بیٹی ببلی برار نے کہا کہ ’جب انھوں (بابر علی) نے لائبریری بنائی، اس وقت سردار صاحب (ہرچرن سنگھ) پنجاب کے وزیر اعلیٰ تھے۔ بابر علی نے انھیں فون کر کے کہا کہ افتتاح آپ کریں گے۔
’وہ خصوصی طور پر گئے اور دونوں کی ایک ساتھ تصویر بھی موجود ہے۔ دونوں بالکل بھائیوں کی طرح تھے۔ ہمارے لیے اگر وہ ماں باپ تھے تو یہ بھی ماں باپ ہیں۔
’جب سردار صاحب کی وفات ہوئی تو بابر علی کا ہاتھ ہمارے سروں پر تھا۔ اسی لیے ہم اس صدمے کو برداشت کر سکے۔‘
اپنے والد کے نام منسوب کلاس روم کے بارے میں بات کرتے ہوئے ببلی برار نے جذباتی انداز میں کہا: ’جب افتتاح ہوا تو میرے دل میں آیا کہ وہ جہاں بھی ہیں، یہ دیکھ کر خوش ہو رہے ہوں گے۔‘
تقسیم کا دکھ

سید بابر علی کہتے ہیں کہ دونوں ممالک کے لوگوں کی ثقافت ایک جیسی ہے لیکن پابندیوں کی وجہ سے میل جول کم ہو گیا ہے۔
انھوں نے کہا: ’1986 میں ایچی سن کالج کی 100 ویں سالگرہ منائی گئی۔ اس میں انڈیا سے وہ طلبہ آئے جو یہاں پڑھتے تھے، سردار ہرچرن سنگھ بھی آئے۔ ان سب کو جنرل ضیا الحق نے اسلام آباد بلایا۔
’جنرل صاحب نے سردار صاحب سے پوچھا کہ آپ کا کیا خیال ہے؟ تو انھوں نے کہا کہ اگر مجھے یقین ہو جائے کہ مرنے کے بعد میں دوبارہ لاہور میں پیدا ہوں گا تو میں آج مرنے کو تیار ہوں۔‘
دونوں ممالک کے درمیان فاصلوں پر انھوں نے کہا: ’ہمارے آنے جانے پر پابندی لگا دی گئی ہے (حالانکہ دونوں ممالک کی) زبان ایک ہے، کھانا مشترک ہے، اتنی ساری چیزیں مشترک ہیں مگر آپس میں میل جول پر پابندی کے باعث ہم ایک دوسرے سے دور ہو رہے ہیں۔
’آپ دروازے کھولیں، اگلے ہی دن سب اکٹھے ہو جائیں گے۔‘

























