کے ٹو ایئرویز طیارہ حادثے سے جنم لینے والے سوال اور بلیک باکس کی تلاش

،تصویر کا ذریعہk2airways/website
- مصنف, روحان احمد
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
شارجہ سے کراچی کے سفر کے دوران پاکستانی ساحلی حدود میں گر کر تباہ ہونے والے کے ٹو ایئرویز کے کارگو طیارے کا ملبہ ملنے کے بعد اس جہاز کے عملے اور بلیک باکس کی تلاش اب بھی جاری ہے۔
پاکستانی بحریہ کے ایک ترجمان نے بی بی سی اردو کو تصدیق کی ہے کہ سمندر میں سرچ آپریشن اب بھی جاری ہے۔
بحیرہ عرب میں گذشتہ روز لاپتہ ہونے والے نجی کمپنی کے کارگو طیارے کا ملبہ گذشتہ روز اورماڑہ کے ساحل سے 53 نوٹیکل میل جنوب سے ملا تھا۔
تباہ ہونے والا طیارہ بوئنگ 737 ہے اور پاکستان کے شہر کراچی میں قائم ایک نجی فضائی کمپنی کے ٹو ایئرویز کی ملکیت ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ طیارے میں عملے کے پانچ ارکان سوار تھے، جن میں محمد رضوان ادریس (پائلٹ اِن کمانڈ)، فیصل محمود (فرسٹ آفیسر)، محمد توفیق خان (لوڈ ماسٹر)، عارف صدیقی (انجینیئر) اور محمد حامد (انجینیئر) شامل ہیں۔
پاکستانی حکام کے مطابق منگل کی شب نو بجکر 18 منٹ پر جہاز نے ’نیویگیشنل سسٹم میں مسئلے‘ کی اطلاع دی تھی اور کراچی میں ایئر کنٹرول سینٹر نے اس کی رہنمائی بھی کی تھی۔
ایئرپورٹ اتھارٹی کا مزید کہنا ہے کہ منگل کی شب نو بج کر 21 منٹ پر ریڈار پر طیارہ تیزی سے نیچے آتا ہوا نظر آیا تھا اور اس کا رُخ اچانک تبدیل ہوتا دیکھا گیا، جس کے بعد کراچی سے تقریباً 155 ناٹیکل میل مغرب میں طیارے سے ریڈار اور مواصلاتی رابطہ منقطع ہو گیا۔
کے ٹو ایئرویز کا کہنا ہے کہ وہ اس حادثے کی تحقیقات میں پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی اور دیگر متعلقہ ایجنسیوں سے تعاون کر رہی ہے۔
دوسری جانب بی بی سی اردو کو پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی کے ایک عہدیدار نے بتایا ہے کہ بیورو آف ایئر سیفٹی انویسٹگیشن کی ایک 11 رکنی ٹیم نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور کے ٹو ایئرویز کے کچھ دفاتر کو سیل کر کے وہاں سے ضروری ریکارڈ بھی حاصل کر لیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہk2airways/website
بی بی سی نیوز اردو نے طیارے میں سوار عملے کے اراکین کے اہلخانہ اور ماہرین سے بات کر کے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ شارجہ سے اڑان بھرنے سے پہلے اور بعد میں اس کے ساتھ کیا ہوا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جہاز کا بلیک باکس مل جائے تو اس کے ذریعے اس حادثے کی وجہ جاننے میں آسانی ہوگی۔ ان کا مزید کیا کہنا ہے یہ جاننے سے قبل یہ بتانا ضروری ہے کہ اڑان بھرنے سے قبل اس جہاز کے ساتھ شارجہ میں کیا ہوا تھا۔
’والد نے کہا 9:30 تک کراچی پہنچ جائیں گے‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
بی بی سی کو جہاز میں سوار انجینیئر محمد عارف کے خاندان کے دو افراد نے تصدیق کی ہے کہ وہ پیر کو جہاز کے کسی مرمتی کام کے لیے شارجہ روانہ ہوئے تھے۔
عارف صدیقی کے صاحبزادے رافع صدیقی نے بی بی سی نیوز اردو کو بتایا کہ ’والد صاحب پیر کی رات کو دبئی کے لیے روانہ ہوئے تھے، جہاں سے ان کو بذریعہ سڑک شارجہ جانا تھا۔‘
انھوں نے تصدیق کی کہ ’جہاز میں کوئی مسئلہ ہوا تھا جسے حل کر کے واپس لانا تھا۔‘
عارف صدیقی کے داماد اسامہ افتخار کے مطابق جہاز ایک ہفتے سے زیادہ وقت سے شارجہ میں کھڑا تھا اور اس کا کوئی پرزہ خراب ہو گیا تھا، جو باہر سے آنا تھا۔
دوسری جانب طیارے میں سوار فرسٹ آفیسر فیصل محمود کے سسر غلام نبی بھرانی نے بھی بی بی سی اردو کو تصدیق کی ہے کہ شارجہ میں کے ٹو ایئرویز کے طیارے میں کوئی خرابی پیدا ہو گئی تھی۔
انھوں نے بتایا کہ فیصل محمود تقریباً 10 روز قبل شارجہ گئے تھے۔ ’یہ دورہ ایک دن کا تھا لیکن وہاں طیارے میں خرابی پیدا ہو گئی۔‘
غلام نبی بھرانی کے مطابق ان کے داماد نے ’گھر پر بتایا تھا کہ خرابی دور کرنے کے لیے امریکہ سے ایک پرزہ منگوایا گیا، جو تبدیل کیے جانے کے بعد وہ واپس روانہ ہوں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ پرزہ آنے کے بعد اسے طیارے میں نصب کیا گیا، پھر طیارے کا معائنہ کیا گیا اور اس کے بعد واپسی کی پرواز روانہ ہوئی۔
غلام نبی بھرانی نے بتایا کہ شارجہ سے طیارے نے پاکستانی وقت کے مطابق تقریباً شام سات بج کر 10 منٹ پر اڑان بھری تھی۔
انجینیئر عارف صدیقی کے بیٹے رافع بھی کہتے ہیں کہ حادثے کے روز ان کے والد نے اپنی اہلیہ کو ایک وائس نوٹ بھیجا تھا کہ ’ہم شارجہ کے رن وے پر ہیں اور ساڑھے نو بجے تک کراچی پہنچ جائیں گے۔‘
جہاز کا پرزہ شارجہ میں تبدیل کیا گیا؟
اسامہ افتخار کے مطابق ان کے سسر پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز میں تین دہائیوں سے زیادہ بطور انجینیئر خدمات سر انجام دیتے رہے ہیں اور ریٹائرمنٹ کے بعد وہ متعدد نجی ایئرلائنز کے ساتھ بھی منسلک رہے۔
اسامہ کے مطابق عارف صدیقی کےٹو ایئرویز کے ملازم نہیں بلکہ نورٹیک نامی کمپنی میں بطور انجینیئر خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ یہ کمپنی ایئرلائنز کو مینٹیننس سروس فراہم کرتی ہے۔
نورٹیک نے بی بی سی کو تصدیق کی ہے کہ عارف صدیقی اسی کے ملازم تھے۔ تاہم جب کمپنی سے پوچھا گیا کہ وہ طیارے میں کسی قسم کی خرابی دور کرنے گئے تھے تو اس نے کہا کہ: ’ہمارے پاس فی الحال کوئی معلومات موجود نہیں ہے۔‘
بی بی سی نے کے ٹو ایئرویز کے ایک ایئرکرافٹ سیفٹی مینیجر سے بھی اس حوالے سے بات کرنے کی کوشش کی، تاہم ان کی جانب سے کوئی واضح جواب موصول نہیں ہوا۔
تاہم نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر کے ٹو ایئرویز کے ایک عہدیدار نے بی بی سی نیوز اردو کو تصدیق کی کہ جہاز شارجہ میں کسی پرزے کی خرابی کے سبب کئی دنوں سے کھڑا ہوا تھا۔ تاہم عہدیدار کے مطابق جہاز کا وہ پرزہ تبدیل کر دیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہ@Pk_PAA_Official
’جہاز میں کوئی خرابی نہیں تھی، اگر ایسا ہوتا تو شارجہ ایوی ایشن کبھی بھی جہاز کو اڑان بھرنے کی کلیئرنس نہیں دیتی۔‘
عہدیدار کے مطابق ’شارجہ میں یہ اتنے دن اسی لیے کھڑا رہا کیونکہ ہم اس میں مرمتی کام کروا رہے تھے۔ جہاز کا جو پرزہ خراب تھا وہ امریکہ سے آیا تھا، لگا گیا تھا، اس کو چیک کیا گیا تھا۔‘
’یہاں سے انجییئر گئے تھے، جنھوں نے اسے چیک کیا، وییریفائی کیا، اسے چیک کرنے کے بعد ہی اڑان بھرنے کی اجازت دی گئی تھی۔‘
حکام کی جانب سے اس حادثے کی تحقیقات جاری ہیں، تاہم ماہرین کہتے ہیں کہ اگر تلاش کے دوران طیارے کا بلیک باکس مل جاتا ہے، تو حادثے کی وجہ جاننا آسان ہو جائے گی۔
’اگر کریش کی جگہ کا تعین ہو جائے تو بلیک باکس ڈھونڈنا آسان ہوگا‘
ماضی میں ہوابازی کے شعبے میں برسوں تک خدمات سرانجام دینے والے ایوی ایشن ایکسپرٹ افر ملک کا کہنا ہے کہ طیارے گرنے کے مقام کی درست شناخت ہو جائے تو جہاز کا بلیک باکس مل سکتا ہے، جس سے ’بہت سی چیزیں واضح ہو جائیں گی۔‘
’طیارے کے جو حصے ملے ہیں وہ پانی کے اوپر ہی تیر رہے تھے، لیکن بلیک باکس سمندر میں ہزار ڈیڑھ ہزار فُٹ نیچے ہو سکتا ہے کیونکہ وہ بھاری بھرکم ہوتا ہے۔‘
افسر ملک کے مطابق طیارہ حادثے کے بعد ریسکیو اہلکاریوں کو بھی ملبے تک پہنچنے میں کم از کم 12 گھنٹے لگے ہوں گے۔
’اگر جگہ کا درست تعین ہو جاتا ہے تو پھر پاکستانی بحریہ کے غوطہ خور یا جو آبدوزیں ہوتی ہیں وہ اسے تلاش کر سکتی ہیں۔‘
پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی کے مطابق کےٹو ایئرویز کے جہاز نے نیویگیشن سسٹم میں مسئلے کی اطلاع دی تھی۔ تاہم افسر ملک سمجھتے ہیں کہ ’نیویگیشن کا مسئلہ کریش کی وجہ نہیں ہو سکتا۔‘
’نیویگیشن مسئلے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو جانا کہیں اور ہو اور آپ پہنچ کہیں اور گئے ہوں اور آپ کا فیول ختم ہو جائے اور آپ کریش کر جائیں۔‘
’ایئر ٹریفک کنٹرولر نے نیویگیشن کا معاملہ دیکھ لیا ہوگا۔ وہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔‘
پروازوں کی نگرانی کرنے والی سروس فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق اس طیارے کے آخری لمحات غیر معمولی تھے۔ یہ ایک منٹ سے بھی کم وقت میں تقریباً 5,000 فٹ نیچے آیا، پھر صرف 30 سیکنڈ میں تقریباً 6,000 فٹ اوپر گیا، جس کے بعد 36,550 فٹ کی بلندی سےغیر معمولی انداز میں نیچے آیا۔
فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق موصول ہونے والے آخری اعداد و شمار کے مطابق طیارہ سطحِ سمندر سے 1,100 فٹ کی بلندی پر تھا اور یہ ایک منٹ میں 22,400 فٹ کی رفتار سے نیچے آ رہا تھا، جو تقریباً 400 کلومیٹر فی گھنٹہ بنتی ہے۔ یہ نیچے آنے کی انتہائی غیر معمولی اور بہت تیز رفتار تھی۔
پاکستان میں ماہرین بھی اسے انتہائی غیرمعمولی قرار دے رہے ہیں۔
ایئر کموڈور (ریٹائرڈ) خالد چشتی پاکستانی فضائیہ میں بطور فائٹر پائلٹ خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں اور ماضی میں فضائیہ کے جہازوں کو پیش آنے والے ہوائی حادثوں کی تحقیقات میں بھی شامل رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہ@Pk_PAA_Official
انھوں نے بی بی سی نیوز اردو کو بتایا کہ اس جہاز کے پائلٹ محمد رضوان ادریس ماضی میں پاکستانی فضائیہ میں بھی بطور پائلٹ کام کرتے رہے ہیں۔
خالد چشتی کے مطابق انھیں معلوم ہوا ہے کہ شارجہ میں جہاز کے ’اینرشل ریفرنس یونٹ‘ (آئی آر یو) میں خرابی پیدا ہوئی تھی۔
انھوں نے وضاحت کی کہ آئی آر یو ’اینرشل ریفرنس سسٹم‘ کا حصہ ہوتا ہے اور جب یہ خراب ہوا تو اسے امریکہ سے منگوایا گیا۔
’جہاز کا یہ سسٹم آٹو پائلٹ نظام سمیت سب کچھ کنٹرول کرتا ہے۔ اٹیٹیوڈ انڈیکٹر بھی دیتا ہے، یعنی جہاز نیچے جا رہا ہے، اونچائی پر ہے، موڑ کاٹ رہا ہے، جہاز آسمان کی طرف جا رہا ہے یا زمین کی طرف آ رہا ہے، یہ یہی سسٹم بتاتا ہے۔‘
’اگر آپ کو یہ سب چیزیں معلوم نہ ہوں تو۔ رات کے وقت آپ اگر سمندر کے اوپر ہوں تو آپ کو آسمان اور سمندر دونوں میں اندھیرا نظر آتا ہے۔ آپ کنفیوژن کا شکار ہو جاتے ہیں کہ آسمان کہاں ہے اور زمین کہاں ہے۔‘
ایئرکموڈور ریٹائرڈ خالد چشتی نے مزید کہا کہ وہ بطور پائلٹ سمندر کے اوپر جہاز اڑاتے رہے ہیں اور ان کے مطابق ’پانی رات میں چمکتا ہے اور تقریباً آسمان کی طرح ہی نظر آتا ہے۔ دن میں مسئلہ نہیں ہوتا کیونکہ سب نظر آتا ہے، لیکن رات میں مشکل ہوجاتی ہے وہ بھی اس صورت میں جب آپ کا سپورٹ سسٹم کام کرنا چھوڑ دے۔‘
دوسری جانب ایوی ایشن ماہر افسر ملک سمجھتے ہیں کہ جہاز کا آخری لمحات میں اتنی تیزی سے گرنا ’مشکوک‘ معلوم ہوتا ہے۔
’جہاز بہت مشکوک حالات میں تقریباً 35 ہزار فُٹ کی بلندی سے بہت تیزی سے نیچے آیا، جیسے اس نے کوئی غوطہ لگایا ہو، یہ بہت مشکوک ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ پائلٹس کا کنٹرول جہاز کے اوپر نہیں تھا۔‘
افسر ملک مزید کہتے ہیں کہ حادثے کی وجوہات کا حتمی اندازہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی ہوگا، تاہم ان کے مطابق تحقیقاتی ٹیم ایک مہینے میں اس حادثے کی ابتدائی رپورٹ جاری کرنے کی پابند ہے۔

























