لائیو, ایران پر امریکی فضائی حملوں کا نیا سلسلہ جنوبی ساحلی علاقوں میں دھماکے: ہم پر حملہ ہوا تو 20 گنا زیادہ طاقت سے جواب دیں گے: ٹرمپ
بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب امریکہ کی جانب سے ایران پر دوبارہ فضائی حملے کیے گئے ہیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق بوشہر، بندر عباس اور ابو موسیٰ جزیرے سمیت متعدد مقامات حملوں کی زد میں آئے ہیں۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ حملے تجارتی جہازوں پر ایرانی حملوں کا بدلہ ہیں۔
بحرین کی وزارتِ داخلہ نے سوشل میڈیا ویب
سائٹ ایکس پر اعلان
کیا ہے کہ ملک میں خطرے کے سائرن بجا دیے گئے ہیں۔
وزارت داخلہ کے پیغام میں شہریوں سے
اپیل کی گئی ہے کہ وہ پرسکون رہیں اور قریبی محفوظ مقام کی جانب چلے جائیں۔
اس سے قبل امریکہ نے ایران کے مختلف
علاقوں پر حملے کیے تھے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق بوشہر، بندر عباس اور ابو
موسیٰ جزیرے سمیت متعدد مقامات حملوں کی زد میں آئے۔
امریکی
فوج کی مرکزی کمان (سینٹ کام) کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں
جہاز رانی کی آزادی کو خطرے میں ڈالنے کی ایران کی صلاحیت کو کمزور کرنا تھا۔
ایران پر امریکہ کے نئے حملوں کے بارے میں اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟
،تصویر کا ذریعہIRNA
بدھ کی شب دیر گئے، ایرانی میڈیا نے خبر دی کہ
بندرعباس کے اطراف فضائی حدود میں دشمن کے حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے فضائی دفاعی
نظام فعال کر دیا گیا۔
خبر رساں ادارے مہر نے رپورٹ کیا کہ مقامی وقت کے
مطابق رات تقریباً 11 بج کر 15 منٹ پر بندرعباس اور سیریک کے علاقوں میں کئی
دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
خبر رساں ادارے ارنا نے رپورٹ کیا کہ چابہار اور
کنارک میں کم از کم 10 دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ چابہار شہر کے ایک حصے
میں بجلی بھی منقطع ہو گئی۔
خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق امریکی جنگی
طیاروں نے چابہار میں پاسدارانِ انقلابِ کی بحریہ کے اڈے پر بمباری کی۔
خبر رساں ادارے آئی آر آئی بی نے کہا کہ
چابہار بندرگاہ کے بعض علاقوں پر امریکی حملے کے بعد ان میزائلوں کے ٹکڑے شہر کے
امام علی ہسپتال سے جا ٹکرائے۔
خبر رساں ادارے مہر کے مطابق ایران کے ساحلی
علاقوں پر امریکی حملوں میں چابہار بندرگاہ کی شہید بہشتی اور کلانتری گھاٹ کے
علاوہ بحری ٹریفک کنٹرول ٹاور کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی میڈیا نے بوشہر میں پاسداران انقلاب کے
ایک اڈے پر حملے کی اطلاعات دیں اور کہا کہ اس میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے
ہیں۔
خبر رساں ادارے ارنا نے سیستان و بلوچستان کے
نائب گورنر اور ایران شہر کے گورنر کے حوالے سے ہوائی اڈے پر حملے کی تصدیق کی اور
بتایا کہ اس واقعے میں آگ بجھانے والے عملے کا ایک اہلکار ہلاک ہو گیا۔
امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹ کام) نے ایران پر
تازہ حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد ’آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی
آزادی کو خطرے میں ڈالنے کی ایران کی صلاحیت کو کمزور کرنا‘ ہے۔
ایران کے ساتھ تنازع جنگ نہیں ہے: امریکی صدر
صدارتی طیارے ایئرفورس ون پر صحافیوں
سے گفتگو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ تنازع ’جنگ‘ نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’حقیقت میں اسے
مکمل طور پر جنگ نہیں کہا جا سکتا۔ یہ ایران کی جوہری صلاحیت کو ختم کرنے کے لیے
ہے۔ یہ ایران کو جوہری ہتھیاروں سے محروم کرنے کے لیے ہے۔‘
امریکی صدر نے مزید کہا: ’لہٰذا پوری
بات ایران سے جوہری ہتھیار لینے اور اسے اس قسم کے ہتھیار رکھنے کی اجازت نہ دینے
کی ہے۔ اور ہر شخص کو ایسی بات پر خوش ہونا چاہیے۔‘
ڈونلڈ
ٹرمپ نے بعد ازاں یہ دعویٰ بھی دہرایا کہ انھوں نے اپنے دورِ صدارت میں آٹھ جنگوں
کا خاتمہ کیا ہے۔
کچھ دیر پہلے ایران نے رابطہ کیا، وہ معاہدہ کرنے کے ’بہت زیادہ‘ خواہش مند ہیں: ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ
ایران نے ’کچھ دیر پہلے رابطہ کیا تھا۔ وہ معاہدہ کرنے کے بہت زیادہ خواہش مند
ہیں۔‘
صدارتی جہاز ائیرفورس ون پر صحافیوں
سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے مزید کہا: ’میں نہیں جانتا کہ ان کے ساتھ معاہدہ کرنا واقعی
فائدہ مند ہو گا یا نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ میں نہیں جانتا کہ آیا وہ معاہدے کا
احترام کریں گے یا نہیں۔‘
امریکی صدر ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ
کیا امریکہ ایران کے ساتھ ایک مکمل فوجی تنازع کی طرف واپس جا رہا ہے، تو انھوں نے
کہا: ’میں نہیں جانتا۔ لیکن ہم بہت جلد جیت جائیں گے۔‘
امریکی صدر نے یہ دعویٰ دہرایا کہ
امریکہ ایران کے ساتھ جنگ میں ’فوجی اعتبار سے‘ کامیاب ہو چکا ہے، اور مزید کہا کہ
ایران کے پاس ’زیادہ کچھ باقی نہیں رہا‘ اور وہ امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے
’بہت زیادہ‘ خواہش مند ہے۔
جب بھی وہ ہم پر حملہ کریں گے، ہم 20 گنا زیادہ طاقت سے اس کا جواب دیں گے: ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایئر فورس ون پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایران پر ہونے والی تازہ امریکی کارروائیوں کے بارے میں بات کی ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم نے انھیں (ایران کو) بہت شدت سے نشانہ بنایا ہے اور میں یہاں آج یہ بات کہوں گا کہ ہم نے انھیں 20 گنا زیادہ طاقت سے جواب دیا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’جب بھی وہ ہم پر حملہ کریں گے، ہم انھیں 20 گنا زیادہ طاقت اور شدت سے جواب دیں گے۔‘
کچھ دیر قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ترکی میں ہونے والی نیٹو سربراہ کانفرنس سے واپسی کے دوران برطانیہ کے ملڈن ہال ایئر بیس پہنچے۔
ٹرمپ نے ایران میں امریکی فضائی حملوں کے دوبارہ شروع کیے جانے کے حوالے سے کوئی عوامی بیان نہیں دیا۔ انھوں نے وہاں موجود امریکی فوجی اہلکاروں سے ملاقات کی اور بعد ازاں وہ اپنے پرانے صدارتی طیارے ایئر فورس ون سے قطر کی جانب سے گزشتہ سال فراہم کیے گئے نئے طیارے میں منتقل ہو گئے۔
تاہم اب اُن کا یہ بیان امریکہ کی جانب سفر کے دوران جہاز میں موجود صحافیوں سے گفتگو کے دوران سامنے آیا ہے۔
،تصویر کا ذریعہReuters
ایران کے سیستان و بلوچستان میں ائیرپورٹ پر حملہ، ایک شخص ہلاک
،تصویر کا ذریعہIRNA
ایرانی نشریاتی ادارے کے مطابق مقامی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ صوبہ سیستان و بلوچستان کے شہر ایرانشہر کے ہوائی اڈے کی عمارت اور رن وے میں دھماکے کے بعد فضا میں دھوئیں کے بادل دیکھے گئے۔
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا نے بھی سیستان و بلوچستان کے نائب گورنر اور ایرانشہر کے گورنر کے حوالے سے شہر کے ہوائی اڈے پر حملے کی تصدیق کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق واقعے کے دوران ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔
اس سے قبل زاہدان پر حملے سے متعلق غیر سرکاری اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں، تاہم فوجی حکام نے ان خبروں کو مسترد کرتے ہوئے زاہدان کے فوجی مراکز پر کسی بھی حملے یا دھماکے کی تردید کی تھی۔
ٹرمپ کی دھمکی کے بعد ایران پر امریکی حملے جاری، مذاکرات کا عمل مزید کمزور, امریکہ سے بی بی سی نیوز کے نامہ نگار پیٹر بوز کا تجزیہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس ہفتے دوسری رات ایران کو سخت نشانہ بنانے کی دھمکی کے چند گھنٹوں بعد امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی کہ ایران کے خلاف مزید حملے جاری ہیں۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق ملک کے جنوبی ساحلی علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ تاہم امریکی حکام کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ان کارروائیوں کا مقصد تہران کی آبنائے ہرمز میں ’آزادانہ بحری آمدورفت کو خطرے میں ڈالنے کی صلاحیت کو مزید کمزور کرنا‘ ہے۔
امریکی حکام کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’امریکہ تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حالیہ ’بلا جواز جارحیت‘ پر ایران کو جوابدہ ٹھہرا رہا ہے، جو ایک اہم بین الاقوامی آبی گزرگاہ سے گزر رہے تھے۔
ایران کے خلاف منگل کی رات ہونے والی فوجی کارروائیوں کے لیے بھی یہی مؤقف اختیار کیا گیا تھا۔ یہ جھڑپیں جون میں ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے عبوری معاہدے کے بعد جنگ بندی کی سب سے بڑی خلاف ورزی قرار دی جا رہی ہیں۔
اگرچہ صدر ٹرمپ نے باضابطہ طور پر مذاکراتی عمل سے امریکہ کے الگ ہونے کا اعلان نہیں کیا، تاہم طویل المدتی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ محدود دکھائی دے رہے ہیں۔
امریکی حملے کے ردعمل میں ایرانی رہنما کی خلیج فارس میں تیل اور گیس تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی
ایران پر حالیہ امریکی حملوں کے
ردعمل میں ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے ترجمان ابراہیم
رضائی نے خلیج فارس کے ممالک میں تیل اور گیس کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی
ہے۔
ابراہیم رضائی نے سوشل میڈیا پلیٹ
فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’خلیج فارس کے وہ ممالک جو ایران اور امریکی حکومت
کے درمیان تنازع میں ٹرمپ کا ساتھ دے رہے ہیں، انھیں اپنے تیل اور گیس کے کنوؤں کے
بارے میں محتاط رہنا چاہیے۔‘
انھوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے جزیرہ
خارگ پر قبضے کے امکان سے متعلق بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے مزید لکھا ’ہم تمہارا انتظار
کر رہے ہیں اور ہم وعدہ کرتے ہیں کہ ایک بھی امریکی فوجی زندہ واپس نہیں جائے گا۔‘
ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی
کے نئے مرحلے کے آغاز کے ساتھ ہی دونوں ممالک کے عہدیداروں کے درمیان لفظی محاذ آرائی
اور سخت بیانات میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
بریکنگ, تازہ امریکی حملوں کے بعد ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات معطل کر دیے: روسی نیوز ایجنسی طاس کا دعویٰ
روس کی خبر رساں ایجنسی ’طاس‘
نے ایک ایرانی سکیورٹی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ گذشتہ دو روز کے دوران
امریکہ کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کے ردعمل میں تہران نے امریکہ کے ساتھ مزید
مذاکرات معطل کر دیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایران کا مؤقف
ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے آمد و رفت کے لیے ایک نئے راستے کو فعال کرنے کی امریکی کوشش دونوں ممالک
کے درمیان طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے آرٹیکل 5 کی خلاف ورزی ہے۔ ایران نے اس
بات پر بھی زور دیا ہے کہ اسے آبنائے ہرمز سے ہونے والی بحری آمد و رفت کو کنٹرول کرنے
کا حق حاصل ہے۔
ایرانی سکیورٹی عہدیدار کے مطابق
تہران نے واضح کیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے کسی بھی نئی فوجی کارروائی کا جواب ماضی
کے مقابلے میں زیادہ فیصلہ کن، وسیع اور سخت انداز میں دیا جائے گا۔
عہدیدار نے مزید کہا کہ ایران
اپنے قومی مفادات اور علاقائی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھانے کا حق
محفوظ رکھتا ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
یہ کارروائی ایران کی جانب سے گزشتہ روز بحری جہازوں پر حملوں کا جواب ہے: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا ہے کہ ’یہ کارروائی ایران کی جانب سے گزشتہ روز بحری جہازوں پر کیے گئے حملوں کے جواب میں کی گئی ہے۔‘
اُن کا اپنے بیان میں مزید کہنا تھا کہ ’اگر ایسا دوبارہ ہوا تو اس کے نتائج کہیں زیادہ سنگین ہوں گے۔‘
واضح رہے کہ اب سے کُچھ دیر قبل امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ امریکی افواج نے ایران پر نئی کارروائیوں کا آغاز کیا ہے۔
جس کے بعد متعدد ایرانی میڈیا کی جانب سے یہ خبریں سامنے آئی ہیں کہ مُلک کے متعدد ساحلی شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سُنی گئی ہیں۔
ٹرمپ کی اس حالیہ پوسٹ میں سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ایک اور پوسٹ کی تصویر بھی شامل ہے، جس میں جنوبی ایران کے شہر چابہار میں حملوں کی اطلاعات دی گئی ہیں۔ تاہم بی بی سی ان اطلاعات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا ہے۔
،تصویر کا ذریعہTruth Social
بریکنگ, ایران پر موجودہ امریکی حملے منگل کی کارروائی سے زیادہ وسیع ہیں: روئٹرز
خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے خبر دی ہے کہ جنھوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ایران پر جاری حالیہ حملے منگل کو کیے گئے حملوں کے مقابلے میں زیادہ وسیع اور بڑے پیمانے پر ہیں۔
اسی طرح امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے بھی ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا ہے کہ تازہ امریکی کارروائی کا دائرہ کار منگل کے حملوں سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق منگل کو کی گئی کارروائی کے دوران ایران میں 80 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا تھا، جن میں فضائی دفاعی نظام، کمانڈ اینڈ کنٹرول نیٹ ورک، ساحلی ریڈار تنصیبات، بحری جہاز شکن میزائل صلاحیتیں اور پاسدارانِ انقلاب کی 60 سے زائد چھوٹی کشتیاں شامل تھیں۔
بوشہر میں پاسدارانِ انقلاب کے فوجی اڈے پر حملہ، ہلاکتوں اور زخمیوں کی اطلاعات
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنوبی صوبے بوشہر میں پاسدارانِ انقلاب کے ایک اہم فوجی اڈے پر حملہ کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد افراد کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
بی بی سی فارسی نے ایران کے سرکاری ریڈیو اور ٹیلی ویژن ادارے کے حوالے سے بتایا ہے کہ چابہار بندرگاہ کے علاقوں پر امریکی حملوں کے بعد داغے گئے گولوں کے ٹکڑے شہر کے امام علی ہسپتال پر بھی گرے، جس سے ہسپتال کو نقصان پہنچا۔
خلیج میں واقع ابو موسیٰ جزیرہ بھی امریکی حملے کی زد میں آیا ہے: ایرانی سرکاری ٹی وی کا دعویٰ
ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے ایک رپورٹر نے دعویٰ کیا ہے کہ خلیج میں واقع متنازع ابو موسیٰ جزیرے پر دو میزائل یا گولے داغے گئے ہیں۔
نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس نے ٹیلی گرام پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ جنوبی ساحلی شہر بندر عباس کے مشرقی علاقے میں آج رات آٹھ دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق دو گولے ابو موسیٰ جزیرے پر گرے، دو میزائلوں سے جزیرہ سیریک کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ جنوبی ساحلی علاقوں میں مزید دو دھماکوں کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
واضح رہے کہ خلیج میں واقع ابو موسیٰ اُن جزائر میں شامل ہے کہ جو اس وقت ایران کے انتظامی کنٹرول میں ہیں، تاہم متحدہ عرب امارات بھی ان پر اپنا دعویٰ رکھتا ہے۔ ان جزائر کی ملکیت کا تنازع دونوں ممالک کے درمیان کئی دہائیوں سے جاری ہے۔
بریکنگ, امریکی جنگی طیاروں کا چابہار میں فوجی اڈے پر حملہ، متعدد دھماکوں کی اطلاعات
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق امریکی جنگی طیاروں نے چابہار میں واقع امام علی نادسا کے فوجی اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔
تسنیم کی جانب سے امریکہ کے ان حالیہ حملوں کے بعد بتایا جا رہا ہے کہ ’اب تک چابہار اور کونارک میں تقریباً دس دھماکوں کی آوازیں سنی جا چکی ہیں۔‘
رپورٹ کے مطابق چابہار شہر کے بعض علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی معطل ہو گئی ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر کی جانب سے ترکی میں ایران سے متعلق سامنے آنے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ’شاید آج رات دوبارہ بھی سخت حملہ کرے گا‘۔ ٹرمپ کے بقول، ’میں نے انھیں تھوڑی سی پیشگی وارننگ دی تھی، ہم آج رات پھر اُن پر سخت حملہ کرنے جا رہے ہیں۔‘
بریکنگ, ایران کے جنوبی شہروں میں دھماکوں کی اطلاعات
ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ملک کے جنوبی علاقوں کے متعدد شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔
سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ کونارک اور چابہار شہروں میں کئی دھماکے ہوئے ہیں، جبکہ سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق چابہار کے بعض علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی معطل ہو گئی ہے۔
دوسری جانب سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق بندر عباس میں فضائی دفاعی نظام کو فعال کر دیا گیا ہے، جبکہ اس علاقے سے بھی متعدد دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
بریکنگ, امریکی فوج کا ایران پر مزید حملوں کا اعلان
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے کہا ہے کہ امریکی فوج ایران میں مزید حملے کر رہی ہیں۔
سینٹ کام کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’کمانڈر اِن چیف کی ہدایت پر امریکی سینٹرل کمانڈ کی افواج نے ایران کے خلاف مزید کارروائیاں شروع کر دی ہیں تاکہ آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی بحری آمدورفت کو خطرے میں ڈالنے کی ایران کی صلاحیت کو مزید کمزور کیا جا سکے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’امریکہ تجارتی بحری جہازوں اور ایک اہم بین الاقوامی آبی گزرگاہ سے آزادانہ گزرنے والے شہری عملے کے خلاف حالیہ بلاجواز کارروائیوں پر ایران کو جوابدہ ٹھہرا رہا ہے۔‘
مستونگ: کرکٹ گراؤنڈ میں مسلح افراد کی فائرنگ، مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے دو کھلاڑی ہلاک, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ
،تصویر کا ذریعہSami Khan
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع مستونگ میں نامعلوم مسلح
افراد کی فائرنگ سے مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے کرکٹ کے دو کھلاڑی ہلاک ہوگئے۔
بلوچستان کے محکمہ داخلہ و قبائلی امور
کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے متائثرہ خاندانوں
سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔
مستونگ میں انتظامیہ کے ایک اہلکار نے
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ واقعہ مستونگ شہر میں شمس آباد کراس کے علاقے
میں واقع گرائونڈ میں پیش آیا۔
ان کا کہنا تھا کہ نامعلوم موٹر سائیکل
سواروں نے اس علاقے میں فائرنگ کی جس میں مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے دو کھلاڑی
زندگی کی بازی ہار گئے۔
انھوں نے کہا کہ اس گرائونڈ میں کرکٹ کا
میچ جاری تھا جہاں ان کھلاڑیوں پر فائرنگ کی گئی۔
بلوچستان کے محکمہ داخلہ کے معاون برائے
میڈیا بابر یوسفزئی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حملہ آور دو موٹر سائیکلوں
پر سوار تھے جنھوں نے مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے دو کھلاڑیوں پر فائرنگ کی۔
انھوں نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا
کہ حکومت ملزمان کو سخت سے سخت سزا دینے کے لیے تمام وسائل کو بروئے کار لائے گی۔
اس واقعے کی تاحال کسی نے ذمہ داری قبول
نہیں کی ہے۔
مستونگ کہاں
واقع ہے؟
مستونگ شہر بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ
سے جنوب مغرب میں اندازاً 50 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
ماضی میں یہ ضلع انتظامی لحاظ سے قلات ڈویژن کا حصہ تھا لیکن حال ہی میں اس ضلع کو
کوئٹہ ڈویژن میں شامل کیا گیا۔
کوئٹہ کراچی شاہراہ اس شہر کے سامنے گزرتی
ہے جبکہ ایک اور اہم شاہراہ کوئٹہ تفتان شاہراہ بھی اس ضلع سے گزرتی ہے۔
مستونگ کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں
میں ہوتا ہے جہاں طویل عرصے سے سنگین بدامنی کے واقعات پیش آرہے ہیں۔
تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے ضلع میں صورتحال
کی بہتری کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔
ہم بدزبانی کا جواب بدزبانی سے نہیں بلکہ عمل سے دیتے ہیں: عباس عراقچی
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایرانی قوم کو توہین آمیز الفاظ سے مخاطب کرنے سے اس کی عظمت کم نہیں ہوتی۔
عباس عراقچی نے ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ ’مہذب اور بہادر ایرانی قوم کو تحقیر آمیز زبان میں مخاطب کرنا اس کی عظمت کو متاثر نہیں کر سکتا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ایرانی عوام اپنی شائستگی، ثقافت اور مضبوط اخلاقی اقدار کے لیے جانے جاتے ہیں۔‘
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ’ہم بدزبانی کا جواب بدزبانی سے نہیں دیتے بلکہ عمل کے ذریعے دیتے ہیں، وہ بھی بے خوف ہو کر اور بھرپور حوصلے کے ساتھ۔‘
امریکہ اور ایران کے تازہ حملے: تنازعے کا دوبارہ آغاز کسی کے مفاد میں نہیں، وزارت خارجہ پاکستان
پاکستان نے امریکہ اور ایران کے ایک دوسرے پر تازہ حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تنازعے کا دوبارہ آغاز کسی کے مفاد میں نہیں۔
پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ’پاکستان تمام فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ اور ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کی اپیل کرتا ہے جو علاقائی امن اور استحکام کو مزید نقصان پہنچائے۔‘
بیان کے مطابق خطے میں امن کے مشترکہ ہدف کے حصول کے لیے مسلسل رابطے، مذاکرات اور سفارت کاری کا کوئی متبادل نہیں۔
’پاکستان تمام فریقوں پر زور دیتا ہے کہ وہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (MoU) کے تحت اپنی ذمہ داریوں کا احترام کریں، جو خطے اور اس سے باہر باہمی مفاہمت و احترام اور مشترکہ خوشحالی کی پائیدار بنیاد ہے۔
پاکستان اس سلسلے میں اپنا کردار جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔‘
ایران کا جوہری مواد اتنی گہرائی میں ہے کہ اس تک پہنچنا ممکن نہیں: ٹرمپ
اب سے کچھ دیر قبل نیٹو سربراہی اجلاس میں امریکی صدر ٹرمپ نے شام کے صدر احمد الشرع سے ملاقات کے دوران صحافیوں سے گفتگو کی۔
اس دوران ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ امریکہ ایران کے اندر موجود جوہری مواد کو کس طرح حاصل کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے اور یہ کہ وہ ایرانی قیادت سے کون سی یقین دہانیاں چاہتے ہیں؟
اس کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ پہلے ہی اس جوہری مواد کو محفوظ بنا چکا ہے ’کیونکہ یہ زمین کے اندر اتنی گہرائی میں ہے کہ ہمارے سوا کوئی بھی اسے حاصل نہیں کر سکے گا۔‘
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’یہ (جوہری مواد) ایک پہاڑ کے نیچے اتنی گہرائی میں موجود ہے کہ اسے نکالنے کے لیے بھاری مشینری درکار ہو گی، جو کسی اور ملک کے پاس نہیں بلکہ صرف ہمارے پاس ہے۔‘
جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا امریکہ ایران میں زمینی فوج تعینات کرنے پر غور کرے گا تو انھوں نے مزید کہ ’میں وہاں کیوں جاؤں گا؟ میں اُس وقت جاؤں گا جب وہ مکمل طور پر یا تو ختم ہو چکے ہوں گے یا پھر کوئی معاہدہ ہو جائے گا۔‘