20 بلیوں کو بے رحمی سے ہلاک کرنے والا ملزم پولیس نے کیسے پکڑا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, دیپالی جگتاپ
- عہدہ, بی بی سی مراٹھی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
انڈیا کے شہر ممبئی کی پولیس نے ایک 40 سالہ ایک شخص کو گرفتار کیا ہے جس پر الزام ہے کہ اس نے شہر کے علاقے چیمبور میں آوارہ بلیوں اور ان کے بچوں کو بے رحمی سے ہلاک کیا ہے۔
تاہم ملزم کو بعد ازاں ملزم کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔
چیمبور کے پنجرپول علاقے میں شنی مندر کے قریب 20 آوارہ بلیاں اور ان کے بچے مردہ حالت میں پائے گئے تھے جس کے بعد روبینہ پٹھان نامی ایک خاتون نے پولیس میں شکایت درج کروائی تھی۔
واقعہ کیا ہے؟
اگست کے مہینے میں ممبئی کے چیمبور علاقے سے مسلسل کئی دنوں تک بلیوں اور ان کے بچوں کے مرنے کی اطلاعات سامنے آرہی تھیں جس کے بعد چیمبور کے پنجرپول علاقے کی رہائشی روبینہ پٹھان نے اس متعلق پولیس میں شکایت درج کروائی۔
روبینہ پٹھان کے مطابق ان کے پاس 12 بلیاں ہیں جس کی وہ دیکھ بھال کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ علاقے میں موجود دیگر بلیوں کو بھی کھانا کھلاتی ہیں۔
53 سالہ روبینہ پٹھان نے بی بی سی مراٹھی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’اگست کے پہلے ہفتے میں مجھے چار بلیاں مردہ حالت میں ملیں۔
’اس سے پہلے بھی علاقے سے بلیاں غائب ہو رہی تھیں، لیکن میں نے سوچا کہ شاید کوئی بیمار ہو کر مر گئی ہو یا کوئی اسے اپنے ساتھ لے گیا ہو۔ لیکن پھر مسلسل بلیوں کی ہلاکتیں ہونے لگیں۔ اب تک تقریباً 20 بلیاں مر چکی ہیں۔‘
پولیس کے مطابق سات ستمبر کو روبینہ پٹھان کی درخواست پر انڈین پینل کوڈ کی دفعہ 325 اور جانوروں کے ساتھ ظلم کی روک تھام کے قانون کی دفعہ 11 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈپٹی کمشنر پولیس سمیر شیخ نے بتایا کہ اس سلسلے میں 40 سالہ اسماعیل نامی شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔
روبینہ نے بتایا کہ ملزم علاقے میں ہی ایک پل کے نیچے رہتا ہے۔
ان کے مطابق پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا تھا لیکن اب عدالت نے اسے رہا کر دیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ملزم کیسے پکڑا گیا؟
ممبئی پولیس علاقے میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے ملزم کی شناخت کرنے میں کامیاب رہی اور اسے گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق ملزم کو ضمانت مل چکی ہے اور اب اس مقدمے میں چارج شیٹ پیش کی جائے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ اب تک دو بلیوں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں جنھیں ضروری قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔
پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ تفتیش کے دوران ملزم نے جرم کا اعتراف کیا۔
ڈپٹی کمشنر پولیس سمیر شیخ نے بی بی سی مراٹھی کو بتایا کہ تفتیش کے دوران پولیس نے بلیوں کو ہلاک کرنے کے شبے میں ایک شخص کو گرفتار کیا ہے۔
’اگرچہ ملزم نے جرم کا اعتراف کر لیا ہے، تاہم جرم سے متعلق مزید تفتیش اور تکنیکی شواہد اکٹھے کرنے کے لیے اسے عدالت میں پیش کرنے اور پولیس ریمانڈ حاصل کرنے کا عمل جاری ہے۔‘
جانوروں کے حقوق کی تنظیم کا کیا کہنا ہے؟
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
جنوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم پیٹا نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ملزم کو سزا دلوانے کے لیے مددگار معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے 50 ہزار روپے تک کے انعام کا اعلان کیا ہے۔
پیٹا انڈیا کے قانونی مشیر اور ڈائریکٹر میت آشر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’چیمبور کے پنجرپول علاقے میں آوارہ بلیوں کے ساتھ روا رکھی جانے والی سفاکی کے واقعات پر ہمیں شدید تشویش ہے۔ موصول ہونے والی معلومات کے مطابق تقریباً 20 بلیاں مردہ پائی گئی ہیں۔ ان میں سے کئی کے جسم پر شدید زخم اور جان بوجھ کر تشدد کے نشانات موجود تھے، جبکہ بعض بلیاں اب بھی لاپتہ ہیں۔
میت آشر کے مطابق ’ان واقعات میں جس نوعیت کے تشدد کے آثار سامنے آئے ہیں وہ انتہائی چونکا دینے والے ہیں۔ جانوروں پر ظلم صرف ایک جرم ہی نہیں بلکہ اسے پُرتشدد رویے کی علامت بھی سمجھا جاتا ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ جانوروں کے ساتھ سفاکی کرنے والے افراد میں انسانوں کے خلاف تشدد کا رجحان بھی زیادہ ہوتا ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پیٹا انڈیا نے ان جرائم میں ملوث افراد کے بارے میں ایسی معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے 50 ہزار روپے تک کا انعام رکھا ہے جس سے ملزمان کی گرفتاری اور انھیں سزا دلوانے میں مدد ملے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پیٹا انڈیا کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’انڈین پینل کوڈ 2023 کی دفعہ 325 کے تحت کسی جانور کو ہلاک کرنا ایک قابلِ دست اندازیِ جرم ہے، جس کی سزا پانچ سال تک قید، جرمانہ یا دونوں ہو سکتی ہیں۔‘
تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ ایک قابلِ ضمانت جرم ہے تاہم ضمانت مل جانے کا مطلب یہ نہیں کہ مقدمہ ختم ہو گیا۔ ’مقدمہ درج ہونے، جمع کیے گئے شواہد اور پولیس کی تفتیش کی بنیاد پر جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں مقدمے کی سماعت ہو گی۔ اگر ملزم پر جرم ثابت ہو جاتا ہے تو اسے پانچ سال تک قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔‘



















