’روسی اس کو مار گرانے کی کوشش کریں گے‘: جب افغان فوجی پائلٹ اپنے طیارے سمیت فرار ہو کر وزیرستان پہنچ گئے

،تصویر کا ذریعہSECOND TO NONE
- مصنف, وقارمصطفیٰ
- عہدہ, صحافی، محقق
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
22 ستمبر 1984 کو افغانستان سے اڑنے والے ایک فوجی ٹرانسپورٹ طیارے نے اپنی مقررہ منزل کے بجائے پاکستانی سرحد کا رخ کر لیا۔
افغان فضائیہ کے کرنل حاجی فقیر احمد کی قیادت میں سوویت ساختہ اینتونوف اے این-26 نے سرحد عبور کی اور شمالی وزیرستان میں میران شاہ ایئربیس پر اتر گیا۔
لیکن یہ محض ایک فوجی طیارے کا سرحد پار کرکے پاکستان آ جانا نہیں تھا، بلکہ سوویت حمایت یافتہ افغان حکومت اور جنگ سے نکلنے کے لیے پاکستان کا رخ کرنے والے افغان فوجی اہل کاروں کے بڑھتے ہوئے سلسلے کا ایک نمایاں واقعہ تھا۔
امریکی مرکزی خفیہ ایجنسی (سی آئی اے) کی 23 مارچ 1979 کی اِفشا شدہ خصوصی تجزیاتی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغان فوج میں انحراف اور بددلی کا سلسلہ سوویت افواج کی سال کے اواخر میں افغانستان آمد سے پہلے ہی شروع ہوچکا تھا۔
رپورٹ کے مطابق ترکئی حکومت کو مسلح بغاوتوں کے بڑھتے ہوئے خطرے کا سامنا تھا اور ہلاکتوں، قبائلی وفاداریوں اور فتح کے معدوم ہوتے امکانات کے باعث فوج کا حوصلہ پست ہو رہا تھا۔
انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے مطابق افغان فوج شدید دباؤ کا شکار تھی۔
’اس کے حوصلے پست تھے اور بھرتی کیے جانے والے نوجوان موقع ملتے ہی فوج سے فرار ہو جاتے تھے۔ چنانچہ افغان فوج کی نفری، جو 1978 میں 105,000 تھی، 1987 تک گھٹ کر تقریباً 20,000 سے 30,000 رہ گئی۔‘
21 جنوری 1980 کے جریدے ٹائم میں نامہ نگار ڈیوڈ ڈیووس نے لکھا کہ افغانستان میں قابض سوویت فوج کی تعداد خود افغان فوج سے خاصی زیادہ ہو چکی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’کابل کی فوج، جس میں کسی زمانے میں ایک لاکھ سے زیادہ اہل کار تھے، فوجیوں کی بڑے پیمانے پر فرار کے باعث 65,000 سے بھی کم رہ گئی تھی۔‘
اپریل 1985 میں ٹائم کے ولیم ای اسمتھ نے لکھا کہ خیبر پاس پرلڑائی کے دوران میں سوویت حمایت یافتہ افغان فوج کے تین اہل کار فرار ہو کر پاکستان پہنچ گئے مگر ان کی موجودگی کا سوویت فوج کو علم ہوگیا۔
’طورخم کے پاکستانی سرحدی مورچے پر ایک سوویت بکتر بند گاڑی سفید جھنڈا لہراتی ہوئی پہنچی۔ سوویت کپتان نے انگریزی میں تینوں فوجیوں کی واپسی کا مطالبہ کیا، جبکہ افغان افسر نے اردو میں دھمکی دی کہ اگر انھیں واپس نہ کیا گیا تو پاکستان کو ’بہت سے مسائل‘ کا سامنا ہوگا۔ ‘
’گاڑی واپس افغانستان چلی گئی، لیکن اسی رات پاکستانی مورچے پر 80 توپ کے گولے داغے گئے۔ دو روز تک ٹینکوں اور توپوں کی وقفے وقفے سے گولا باری جاری رہی، جس کے بعد تیسرے روز پاکستان نے تینوں فوجیوں کو واپس کر دیا۔‘
افغان فضائیہ کے اندر بڑھتی بے چینی

،تصویر کا ذریعہSECOND TO NONE
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
لیکن افغان فوج کے اہلکاروں اور پائلٹوں کا اپنے طیاروں اور ہیلی کاپٹروں سمیت پاکستان آنا محض انفرادی فرار نہیں بلکہ ان میں بڑھتے ہوئے انتشار اور کمزور ہوتے حوصلے کی علامت تھا۔
امریکہ کے نیشنل ایئر اینڈ سپیس میوزیم کے سابق ڈائریکٹر اور مصنف والٹر جے بوئن کے مطابق افغان فضائیہ کے 10 طیارے منحرف ہو کر پاکستان آئے۔
سی آئی اے کی ایک بعد میں منظر عام پر آنے والی رپورٹ کے مطابق افغان فضائیہ کو اُس زمانے میں مورال کی کمی اور اہل کاروں کے انحراف جیسے مسائل کا سامنا تھا۔
گویا سنہ 1979 میں سوویت یونین کی افغانستان میں فوجی مداخلت کے بعد اے این-26 کا انحراف نہ پہلا موقع تھا کہ کوئی افغان فوجی طیارہ پاکستان پہنچا، نہ آخری۔
مگرسوویت انتونوف ڈیزائن بیورو کے 1960 کی دہائی میں تیار کیے گئے اس مضبوط مال بردار طیارے کی یہ پرواز اپنے اندر ایسا خطرہ لیے ہوئے تھی جس کا اندازہ میران شاہ سے اڑان بھرنے کے بعد ہونا تھا۔
پاکستانی فضائیہ کے لیے ایک نیا مرحلہ اب سامنے تھا۔ طیارہ پاکستان پہنچ چکا تھا، مگر اسے محفوظ مقام تک منتقل کیسے کیا جائے جب کہ پاکستانی پائلٹوں نے اس مخصوص روسی ساختہ طیارے کو پہلے نہیں اڑایا تھا۔
پاکستان ایئر فورس کے رسالے’سیکنڈ ٹو نَن‘ میں شائع ہونے والی ایک تفصیلی یادداشت میں ایئر کموڈور خالد کمال نے اس واقعے کے اگلے دن اس طیارے کی منتقلی کی کارروائی بیان کی ہے۔
’میں کریو روم میں آرام کر رہا تھا کہ کسی نے آ کر بتایا کہ ہمارے آفیسر کمانڈنگ، وِنگ کمانڈر غفور، میران شاہ پہنچنے والے اس دو انجنوں والے ٹربو پروپ، ہلکے اور کثیرالمقاصد ٹرانسپورٹ طیارے کی پرواز کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔‘
’اُس وقت میں نمبر 12 وی آئی پی سکواڈرن کے ایف-27 فوکر فرینڈشپ طیارے پر معاون پائلٹ تھا۔ جوانی تھی اور ہر وقت کسی مہم جوئی کی تلاش میں رہتا تھا، اس لیے مجھے لگا کہ یہ مشن میرے لیے موزوں ہے۔ میں سیدھا او سی کے دفتر پہنچا۔ وہاں دیکھا کہ وہ سینیئر نیوی گیٹر، سکواڈرن لیڈر ذوالفقار، کے ساتھ بیٹھے تھے اور میز پر منصوبہ بندی کے نقشے پھیلے ہوئے تھے۔‘
’میں نے انھیں مشن کے لیے معاون پائلٹ کے طور پر اپنی خدمات پیش کیں۔ دونوں نے میری طرف دیکھا۔ وِنگ کمانڈر غفور نے کہا کہ ’کیا تمھیں معلوم ہے کہ یہ کس نوعیت کا مشن ہے؟ یہ انتہائی خطرناک ہے اور جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ جیسے ہی ہم میران شاہ سے فضا میں بلند ہوں گے، روسی اس طیارے کو مار گرانے کی کوشش کریں گے۔ اس لیے رضاکارانہ طور پر شامل ہونے سے پہلے اچھی طرح سوچ لو۔‘
’میرے اصرار پر انھوں نے مجھے معاون پائلٹ کی حیثیت سے اپنے ساتھ جانے کی اجازت دے دی۔‘
اپنے مضمون 'فائنسٹ آور: دی ٹیل آف اے این- 26 میں خالد کمال نے لکھا ہے کہ اگلی صبح میں اپنا نائٹ کِٹ لے کر پہنچا اور سکواڈرن لیڈر خالد اور فلائٹ لیفٹیننٹ نعیم کے ذریعے بیچ کرافٹ طیارے میں ہمیں میران شاہ پہنچایا گیا۔
’میران شاہ میں پاک فوج کے افسران نے ہمارا استقبال کیا۔ ہم چاہتے تھے کہ طیارے کو دیکھ کر اس سے مانوس ہو جائیں، لیکن ہمیں مشورہ دیا گیا کہ ایسا نہ کریں کیونکہ سرحد پار سے فائرنگ جاری تھی۔ طیارے کو درختوں کی شاخوں سے ڈھانپ کر چھپا دیا گیا تھا۔‘
’ہمیں فوجی یونٹ کے آفیسرز میس لے جایا گیا۔ وہاں ہماری ملاقات منحرف ہو کر آنے والے طیارے کے پائلٹوں سے ہوئی۔ انھیں ایک بند کمرے میں رکھا گیا تھا۔‘
’ہمیں معلوم ہوا کہ طیارے کے افغان کپتان نے پہلے ہی اپنے اہل خانہ کو پاکستان بھیج دیا تھا اور اس کے بعد خود بھی طیارہ لے کر سیاسی پناہ حاصل کرنے کے لیے پاکستان آ گیا تھا۔ اس کا معاون پائلٹ اس فیصلے پر شدید غصے میں تھا اور دونوں کے درمیان مسلسل جھگڑا ہو رہا تھا۔‘
’اس کے غصے کی ایک جائز وجہ تھی۔ اگر کپتان نے اسے پہلے اپنے منصوبے سے آگاہ کر دیا ہوتا تو وہ بھی اپنے خاندان کو پاکستان بھیج سکتا تھا۔‘
خالد کمال نے لکھا ہے کہ تیاری مکمل ہونے کے بعد ہم نے فوجی اہل کاروں سے کہا کہ افغان کپتان کو طیارے تک لے آئیں تاکہ وہ چیک لسٹ کے مراحل میں ہماری مدد کر سکے۔ اسے بتایا گیا کہ وہ ہمارے ساتھ پاکستان کے ایک شہر جا رہا ہے اور پرواز میں ہماری مدد کرے گا۔
’یہ سن کر وہ بہت خوش ہوا اور بڑے جوش سے ہمارے ساتھ طیارے کی طرف چل پڑا۔ دوسری طرف اس کا معاون پائلٹ اس پیش رفت پر مزید مشتعل ہو گیا۔ ہمیں بحفاظت طیارے تک پہنچایا گیا۔ اپنی نشستیں سنبھالنے کے بعد ہم نے افغان کپتان سے کہا کہ وہ انجن اسٹارٹ کرنے میں ہماری مدد کرے۔ اس نے خوشی خوشی ہماری ہدایات پر عمل کیا۔‘
’جب ہم ٹیکسی اور ٹیک آف کے لیے تیار ہو گئے تو اسے بتایا گیا کہ وہ ہمارے ساتھ پرواز نہیں کرے گا۔ یہ سن کر وہ انتہائی برہم اور ناراض ہو گیا اور فوجی اہل کاروں کو اسے زبردستی طیارے سے اتارنا پڑا۔‘
خالد کمال کے مطابق طیارے سے باہر جاتے ہوئے اس نے فلائیٹ انجینئر کے پینل پر ایک سوئچ تبدیل کر دیا، جس پر ہماری نظر نہیں پڑی۔

،تصویر کا ذریعہCombat & Aviation History Of Pakistan
’موسم صاف اور دھوپ نکلی ہوئی تھی اور میران شاہ کی پہاڑیاں بہت دلکش دکھائی دے رہی تھیں۔ ٹیک آف کے بعد ہم نے مشرق کی سمت رخ کیا اور وادی کے اندر بہت کم بلندی پر پرواز کرنے لگے۔ اس کا مقصد روسی لڑاکا طیاروں سے بچنا تھا جو سرحد پر گشت کر رہے تھے اور اس انتظار میں تھے کہ ہم ان کی نظر میں آئیں۔‘
’خطرہ شدید تھا۔ ہمیں اندیشہ تھا کہ روسی میزائل ہمیں نشانہ بنا سکتے ہیں۔ ایسے میں ہمارے اوپر پاکستان ایئر فورس کے میراج لڑاکا طیاروں کا دائیں بائیں زیگ زیگ انداز میں پرواز کرنا، ہماری رفتار کے مطابق ساتھ رہنا اور کسی بھی کارروائی سے ہمیں محفوظ رکھنا انتہائی حوصلہ افزا تھا۔ ان کی موجودگی نے ہمارے حوصلے بلند کر دیے تھے۔‘
'وِنگ کمانڈر غفور عراق میں تعیناتی کے دوران اسی قسم کا طیارہ اڑا چکے تھے۔ وہ پورے اعتماد اور غیر معمولی سکون کے ساتھ اسے سنبھال رہے تھے۔
’سکواڈرن لیڈر ذوالفقار پہاڑی علاقے میں ہمارے مقررہ راستے کی درست رہنمائی کر رہے تھے، جبکہ میں ریڈیو رابطے اور طیارے کے پریشرائزیشن نظام کو سنبھالتے ہوئے اس مہم جوئی سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔
’میانوالی کے تربیتی علاقے میں داخل ہونے کے بعد میں نے میانوالی ٹاور سے رابطہ کیا۔ ہوائی ٹریفک کنٹرولر نے ہماری منزل کے بارے میں پوچھا۔ میں نے جواب دیا کہ آپریشنل وجوہات کی بنا پر منزل بتانے سے قاصر ہوں۔‘
’ہم پی اے ایف بیس مسرور کی طرف بڑھتے گئے اور وِنگ کمانڈر غفور نے نہایت آسانی اور انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں طیارہ اتار لیا۔‘
لیکن اس سے پہلے کی ایک بات رہی جاتی ہے۔
خالد کمال لکھتے ہیں ’جب ہم طیارے کو ٹارمک کی طرف لے جا رہے تھے تو ہمیں محسوس ہوا کہ طیارے کا کوئی حصہ زمین سے ٹکرا رہا ہے۔ معلوم ہوا کہ لینڈنگ کے وقت طیارے کا ریمپ کھل گیا تھا اور زمین پر گھسٹ رہا تھا۔‘
’یہ مسئلہ اس سوئچ کی وجہ سے پیدا ہوا تھا جسے افغان کپتان طیارے سے اترتے ہوئے تبدیل کر گیا تھا۔‘
طیارے کو پاکستانی فضائیہ کے رنگ اور نشان دے کر جے-754 رجسٹریشن دی گئی اور کچھ عرصہ، بشمول نمبر 12 سکواڈرن، میں استعمال کیا گیا۔
21 فروری 1988 کو ہوا بازی کے فوٹوگرافر پیٹر اسٹائن مین نے اسے چکلالہ ایئر بیس، راولپنڈی میں پاکستانی فضائیہ کے نشانات اور جے-754 رجسٹریشن کے ساتھ عکس بند کیا۔ بعد ازاں یہ طیارہ کراچی کے پی اے ایف میوزیم میں محفوظ کر دیا گیا۔



















