آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
50 ہزار کلومیٹر پیدل سفر، چار براعظم اور ایک ٹرالی: کارل بشبی کی 28 برس بعد گھر واپسی
جب 28 برس گھر سے دور رہنے اور 31 ہزار میل (50 ہزار کلومیٹر) پیدل سفر کرنے کے بعد کارل بشبی اپنی والدہ کے گھر پہنچے تو یہ ایک جذباتی لمحہ تھا۔ ان کی والدہ آبدیدہ ہو گئیں اور انھوں نے طنزیہ انداز میں پوچھا ’آپ کہاں تھے؟‘
سنہ 1998 میں سابق پیرا ٹروپر کارل بشبی نے محض 29 برس کی عمر میں اپنا یہ سفر شروع کیا تھا۔ اس دوران انھوں نے روس اور امریکہ کے درمیان آبنائے بیرنگ عبور کی جبکہ انگلش چینل کو تیر کر بھی پار کیا۔
56 سالہ کارل بشبی کا استقبال پُرجوش ہجوم نے کیا جب وہ ہمبر برج سے ہل شہر کے مرکز کی جانب روانہ ہوئے۔ وہاں ان کے استقبال کے لیے شہر کے لارڈ میئر نے ان کا خیرمقدم کیا۔
ہل سٹی ہال سے دوبارہ روانہ ہونے کے بعد انھوں نے آخری چند میل کا فاصلہ طے کیا جس کے بعد وہ پیدل اپنے گھر پہنچے اور اپنی والدہ سے ملاقات کی۔
مہم جو کا کہنا تھا کہ پل کے اطراف جمع ہونے والے لوگوں کی بڑی تعداد نے انھیں ’بے حد جذباتی‘ کر دیا۔
جب وہ ہل میں اپنے گھر پہنچے تو سابق پیرا ٹروپر بشبی کا استقبال ان کی والدہ نے کیا۔ وہاں لوگوں کا ایک ہجوم بھی موجود تھا، جس میں جرمن فلم ساز ورنر ہرزوگ بھی شامل تھے، جو ان کی مہم پر ایک دستاویزی فلم بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
بشبی نے گھر کے دروازے پر پہنچنے کے بعد کہا ’گھر واپس آنا اچھا لگ رہا ہے۔ یہ سب کچھ غیر حقیقی سا محسوس ہوتا ہے۔‘
اس سے کچھ دیر قبل انھوں نے شہر کے مرکز میں جمع ہجوم سے خطاب کیا، جہاں میئر ماریا کاورڈ نے ان کا استقبال کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ ’مجھے یقین ہے کہ اس طرح کی گھر واپسی پہلے کبھی نہیں ہوئی۔ یہ دیوانگی ہے! آپ سب کا بہت بہت شکریہ۔‘
مہم جو نے بتایا کہ یہ پیدل سفر شروع کرنے کا خیال ان کی شادی ختم ہونے کے بعد پیدا ہوا، جب ان کی اہلیہ ان کے بیٹے کے ساتھ شمالی آئرلینڈ واپس چلی گئی تھیں۔
بشبی، جن کی عمر اس وقت 29 برس تھی، نے بتایا کہ وہ چلی کے شہر پنٹا آریناس سے جیب میں چند سو ڈالر لے کر روانہ ہوئے اور شمال کی جانب اپنے گھر کی طرف چل پڑے۔
پانچ اکتوبر کو انگلش چینل تیر کر عبور کرنے تک 57 سالہ بشبی چار براعظموں، ایک منجمد سمندر، صحراؤں، پہاڑوں اور جنگلات سے گزر چکے تھے۔
انھوں نے اتوار کو بی بی سی ریڈیو ہمبرسائڈ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’میں مکمل طور پر مغلوب ہو چکا ہوں۔‘
’اور ہم ابھی تک گھر بھی نہیں پہنچے۔‘
’ہم‘ سے بشبی کی مراد یا تو شاہانہ مجمع ہو سکتی تھی یا پھر ’دی بیسٹ‘، یعنی وہ ٹرالی جسے وہ 28 برس سے دھکیلتے آ رہے ہیں۔
انھوں نے کہا ’یہ میرا ولسن ہے‘ اور اس والی بال کا حوالہ دیا جس سے ٹام ہینکس کا کردار فلم ’کاسٹ اوے‘ میں باتیں کرتا تھا۔
انھوں نے پل پر موجود ہجوم کی طرف سر ہلا کر اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’میں تو صرف ایک بے گھر شخص ہوں جو خریداری کی ٹرالی دھکیل رہا ہے اور اچانک خود کو اس سب کے درمیان پاتا ہے۔‘
’اور مجھے واقعی رک کر سوچنا پڑتا ہے کہ اس سب کا دوسروں کے لیے کیا مطلب ہے۔‘
12 سال جو 28 برس بن گئے
نومبر 1998 میں جب انھوں نے یہ سفر شروع کیا تو سابق پیرا ٹروپر کا اندازہ تھا کہ اسے مکمل کرنے میں تقریباً 12 سال لگیں گے۔
تاہم ویزا پابندیوں، 2008 کے مالیاتی بحران، جس کے باعث انھوں نے اپنے سپانسرز کھو دیے، کووڈ 19 اور جغرافیائی سیاسی مسائل کے باعث ان کی پیش رفت سست ہو گئی۔
اپنے سفر کے دوران وہ ارجنٹینا، پیرو، ایکواڈور، کولمبیا اور پاناما جانے کے لیے دارین گیپ سے گزرے۔
اس کے بعد وہ کوسٹا ریکا، نکاراگوا، ہنڈوراس، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا اور میکسیکو سے ہوتے ہوئے امریکہ اور کینیڈا پہنچے۔
انھوں نے الاسکا اور روس کے درمیان واقع آبنائے بیرنگ عبور کی اور پھر سائبیریا، منگولیا، چین، ترکمانستان اور قازقستان سے گزرے۔
اس کے بعد وہ بحیرہ کیسپین کو تیر کر عبور کرتے ہوئے آذربائیجان پہنچے۔
پھر وہ ترکی کی جانب روانہ ہوئے اور وہاں سے یورپ میں داخل ہوئے۔
اس سال ستمبر میں بیلجیئم میں بی بی سی کے صحافی کیون شوزمتھ سے گفتگو کرتے ہوئے بشبی نے بتایا کہ انھوں نے 2006 میں فرانسیسی مہم جو دیمتری کیفر کے ساتھ منجمد آبنائے بیرنگ کیسے عبور کی، اور بحیرہ کیسپین میں مختلف مراحل پر مشتمل 300 کلومیٹر تیرنے کا تجربہ کیسا رہا۔
کولمبیا اور پاناما کو ملانے والے دارین گیپ سے گزرنے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کارل نے کہا ’آپ کو ایک گھنے جنگل میں راستہ بنانا پڑتا ہے۔‘
’آپ کو دریا ملتے ہیں اور بے شمار دلدلی علاقے۔ اور اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی ہے کہ یہ ایک جنگی علاقہ ہے۔‘
اغوا کے خطرے کے پیش نظر کارل نے ایک بے گھر شخص کی طرح دکھائی دینے کی کوشش کی۔
وہ کہتے ہیں کہ ’بے گھر لوگ تقریباً نظر ہی نہیں آتے۔ کوئی ان پر توجہ نہیں دیتا۔ یہی ہماری حکمت عملی تھی۔ میں سنہرے بالوں، نیلی آنکھوں والے ایسے غیر ملکی کی طرح نہیں دکھائی دینا چاہتا تھا جس کے پاس دی نارتھ فیس کا جدید سامان ہو۔‘
’میں نے اپنے بالوں اور جلد کا رنگ بدل لیا اور اپنے کپڑوں کو پھٹا ہوا رکھا۔ میں اپنا سامان بوریوں میں اٹھاتا تھا۔‘
کئی برس تک کارل نے اپنی مہم کے اختتامی وقت کے بارے میں زیادہ فکر نہیں کی۔
اب ایسا نہیں ہے۔
اب اس معاملے میں حقیقی عجلت موجود ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’یقینی طور پر اب اس کا اختتام کرنے کا وقت آ گیا ہے۔‘
’میں یہ سب مزید زیادہ عرصے تک جاری نہیں رکھنا چاہتا۔‘
اور یہ اختتام پیر 2 نومبر کو آ گیا، جب بشبی نے اپنی والدہ کے گھر واپس پہنچنے کے لیے آخری چند کلومیٹر طے کیے اور بالآخر انھیں گلے لگا لیا۔