آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو , عمان کے ساحل کے قریب تجارتی جہاز پر حملے میں انڈین شہری ہلاک، ’جنگ روکنے کے لیے گیند امریکہ کے کورٹ میں ہے‘: باقر قالیباف

ایران کی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران ’دشمن کی دھمکیوں اور فوجی کارروائیوں کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گا‘ اور ملک اس وقت ’دفاعی تیاری کی اعلیٰ ترین سطح‘ پر ہے۔ ادھر عمان کے ساحل کے قریب تجارتی جہاز پر حملے میں ایک انڈین ملاح ہلاک ہو گیا ہے۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. حوثیوں کے حملوں کے باعث سعودی عرب میں ہونے والا ایشین کپ مؤخر

    ایشیائی فٹ بال کنفیڈریشن (اے ایف سی) نے اعلان کیا ہے کہ 2027 کے آغاز میں سعودی عرب میں ہونے والا ایشین کپ حالیہ حملوں کے باعث ملتوی کر دیا گیا ہے اور اب یہ ٹورنامنٹ اگلے سال دسمبر میں منعقد کیا جائے گا۔

    منتظمین کے مطابق خطے کی موجودہ غیر معمولی صورتحال، لاجسٹک مسائل اور سفری رکاوٹوں کے پیشِ نظر ٹورنامنٹ کے شیڈول میں تبدیلی کا فیصلہ کیا گیا۔

    سعودی دارالحکومت ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حالیہ ہفتوں میں ہونے والے حملے میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور 300 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔

    یمن کے حوثی گروہ نے حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ اس حملے کو ایک دہائی سے زیادہ عرصے میں سعودی عرب پر ہونے والا مہلک ترین حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔

  2. ایران دفاعی تیاری کی اعلیٰ ترین سطح پر، جنگ روکنے کے لیے گیند امریکہ کے کورٹ میں ہے: محمد باقر قالیباف

    ایران کی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران ’دشمن کی دھمکیوں اور فوجی کارروائیوں کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گا‘ اور ملک اس وقت ’دفاعی تیاری کی اعلیٰ ترین سطح‘ پر ہے۔

    پارلیمان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قالیباف نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران جنگ کو روکنے کی ذمہ داری اب واشنگٹن پر عائد ہوتی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’خطے کے ممالک کو معلوم ہونا چاہیے کہ اسلامی جمہوریہ ایران جس طرح انگلی ٹریگر پر رکھ کر لڑنے کے لیے تیار ہے، اسی طرح اس نے امریکی فریق کو ایک فیصلہ کن اور منطقی جواب بھی دیا ہے۔ اب جنگ کو روکنے کے لیے گیند امریکہ کے کورٹ میں ہے۔‘

    ایرانی پارلیمان کے سپیکر نے مزید کہا کہ ایران میدانِ عمل اور عسکری محاذ پر دفاعی تیاری کی بلند ترین سطح پر ہے اور اگر واشنگٹن نے دوبارہ کوئی تزویراتی غلطی کی تو اسے ایک نئے جنگی منظرنامے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    قالیباف کے بقول ’امریکہ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ایسی صورت میں وہ آج کے مقابلے میں کہیں زیادہ بے بسی کے ساتھ اس صورتحال سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہا ہو گا۔‘

  3. عمان کے ساحل کے قریب تجارتی جہاز پر حملہ، 14 انڈین ملاحوں میں سے ایک ہلاک

    عمان کے ساحل کے قریب ایم ایس وی الجسفی (MSV Al Jusufi) نامی تجارتی جہاز پر ہونے والے فضائی حملے میں ایک انڈین ملاح ہلاک ہو گیا جبکہ 13 دیگر کو بچا لیا گیا ہے۔

    انڈیا کے وفاقی وزیر برائے آبی گزرگاہیں سربانند سونووال کے مطابق جہاز پر 14 انڈین ملاح سوار تھے۔ عمانی کوسٹ گارڈ نے 13 ملاحوں کو بحفاظت نکال لیا، تاہم گجرات سے تعلق رکھنے والے ملاح گندھر نہیم عزیز زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔

    سونووال نے کہا کہ عمان میں انڈین سفارت خانہ اور متعلقہ حکام متاثرہ ملاحوں کی مدد اور ہلاک ہونے والے ملاح کی میت وطن واپس لانے کے انتظامات کے لیے عمانی حکام سے رابطے میں ہیں۔

    دوسری جانب انڈیا کی وزارتِ خارجہ نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے تشویش ناک قرار دیا ہے۔

    وزارت کا کہنا ہے کہ خطے میں تجارتی جہازوں پر مسلسل حملے باعثِ تشویش ہیں اور کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی کوششوں اور مذاکرات کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ خطے میں امن و استحکام بحال کیا جا سکے۔

  4. انڈین بحریہ نے ایرانی ماہی گیر کشتی اور عملے کے 20 ارکان کو قزاقوں سے بچا لیا

    انڈین بحریہ نے اعلان کیا ہے کہ اس کے کمانڈوز نے صومالیہ کے ساحل کے قریب مسلح قزاقوں کے ہاتھوں اغوا کی گئی ایک ایرانی ماہی گیر کشتی اور اس کے 20 رکنی عملے کو بچا لیا ہے۔

    بحرِ ہند میں یورپی یونین کے میری ٹائم سکیورٹی سینٹر کے مطابق آزینی نامی کشتی کو گذشتہ ہفتے صومالیہ کے ساحل کے قریب اغوا کر لیا گیا تھا۔

    انڈین بحریہ نے ایک بیان میں کہا کہ خدشہ تھا کہ قزاق اس کشتی کو مزید تجارتی جہازوں پر حملوں کے لیے ’مدر شپ‘ کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔

    بیان کے مطابق ایک جنگی جہاز اور بحری نگرانی کرنے والے طیارے نے کشتی کا تعاقب کیا اور اس پر نظر رکھی، جس کے بعد بحری کمانڈوز نے کشتی پر اتر کر ریسکیو آپریشن کیا۔

    انڈین بحریہ نے کہا کہ ’فورس نے کشتی کا کنٹرول سنبھال لیا، قزاقوں کے خطرے کا خاتمہ کیا اور تمام 20 اہلکاروں کی سلامتی اور صحت کو یقینی بنایا۔‘

    دریں اثنا نئی دہلی میں ایرانی سفارت خانے نے کامیاب ریسکیو آپریشن پر انڈیا کی حکومت، انڈین بحریہ اور انڈین فضائیہ کا شکریہ ادا کیا ہے۔

    سفارت خانے نے ایک بیان میں کہا کہ وہ ایرانی ماہی گیر کشتی آزینی کے 20 ایرانی عملے کو قزاقوں سے بچانے کی کامیاب کارروائی پر انڈین حکام کی کوششوں کو سراہتا ہے۔ بیان میں انڈین مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت، جرات اور مؤثر باہمی رابطے کی تعریف کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ اقدام انسانی امداد اور آفات سے نمٹنے کے حوالے سے انڈیا کے عزم اور سرحدوں سے ماورا انسانی جانیں بچانے میں اس کے کردار کا عکاس ہے۔

    ایرانی سفارت خانے کے مطابق یہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کی گئی کارروائی ایران اور انڈیا کے درمیان دوستی، یکجہتی اور تعاون کی علامت ہے، اور اس نے ایرانی عملے کی محفوظ بازیابی کو یقینی بنانے میں کردار ادا کرنے والے تمام افراد کا شکریہ ادا کیا۔

    انڈیا کے وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے بھی آپریشن پر انڈین بحریہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ بحیرۂ عرب میں ممبئی سے 3000 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر اغوا شدہ ماہی گیر کشتی آزینی کے تمام 20 اہلکاروں کو بچانے کے لیے 48 گھنٹے طویل مربوط آپریشن کامیابی سے مکمل کیا گیا۔

    صومالیہ کے ساحل کے قریب بحری قزاقی کی وارداتوں میں ایک بار پھر اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور گذشتہ موسمِ بہار سے اب تک کم از کم 15 حملے رپورٹ ہو چکے ہیں، جو 2013 کے بعد سب سے زیادہ تعداد ہے۔

  5. عراقچی کی قطر اور عمان کے کردار کی تعریف، ’سعودی عرب سے رابطے جاری ہیں‘

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ’ہم خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے رکن ممالک کے خلاف کسی قسم کی دشمنی نہیں رکھتے۔‘

    انھوں نے کہا ’ہم قطر اور عمان کے مثبت کردار کو سراہتے ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ بھی بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘

    ایران کے وزیرِ خارجہ نے کہا ’ہمارا مقصد ایک ایسے نئے علاقائی سکیورٹی نظام تک پہنچنا ہے جسے خطے کے ممالک خود تشکیل دیں، اور جس میں کسی بھی غیر ملکی فوجی موجودگی کی ضرورت نہ ہو۔‘

  6. نیپال میں دو ہیلی کاپٹر آپس میں ٹکرا گئے، ایک انڈین شہری ہلاک

    نیپال میں ایورسٹ بیس کیمپ کے قریب دو ہیلی کاپٹروں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں ایک انڈین شہری ہلاک جبکہ ایک اور شخص زخمی ہو گیا ہے۔

    نیپال کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے نائب ترجمان گیانیندر بھول نے بی بی سی سے گفتگو میں اس واقعے کی تصدیق کی۔

    سولوکھمبو کے اسسٹنٹ چیف ڈسٹرکٹ آفیسر بھوپیندر تھاپا کے مطابق انڈین ریاست تامل ناڈو سے تعلق رکھنے والا ایک مسافر حادثے میں موقع پر ہی ہلاک ہو گیا، جبکہ ایک زخمی شخص کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے لکلا منتقل کیا گیا ہے۔

    سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق یہ حادثہ صبح تقریباً 8:15 بجے پیش آیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایک ہیلی کاپٹر لکلا سے آ رہا تھا جبکہ دوسرا گورکھپور سے واپسی پر تھا۔ بیس کیمپ کے قریب دونوں ایک ہی مقام پر لینڈ کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ اس دوران ان میں تصادم ہو گیا۔

    گیانیندر بھول کے مطابق حادثے کی اصل وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی۔ ابتدائی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شاید برف سے ڈھکے ہونے کے باعث ہیلی کاپٹروں نے مقررہ ہیلی پیڈ کے بجائے کسی دوسرے ہیلی پیڈ پر لینڈ کرنے کی کوشش کی ہو۔

    حکام کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والے ہیلی کاپٹرز فش ٹیل ایئر اور ایئر ڈائنسٹی کے تھے۔

  7. قشم پر امریکی حملے کی خبروں کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکہ کی جانب سے ایران کے جزیرہ قشم پر حملے کی خبر سامنے آنے کے بعد منگل کو تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ ہوا اور آٹھ ماہ سے جاری تنازع کے مزید شدت اختیار کرنے اور مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی فراہمی میں طویل رکاوٹوں کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

    امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت 20 سینٹ، یا 0.21 فیصد، اضافے کے بعد 96.66 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 3 سینٹ، یا 0.03 فیصد، بڑھ کر 104.80 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

    پیر کو دونوں عالمی معیار کے خام تیل کی قیمتوں میں سات فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی، کیونکہ ایرانی اور قطری حکام کے درمیان ہونے والی بات چیت نے ایران کے ساتھ جاری امریکہ۔اسرائیل جنگ کے خاتمے کی امید پیدا کی تھی۔

  8. ٹرمپ کا ایک بار پھر کوہِ کلنگ پر حملے کے امکان کا اشارہ

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات سے ایک روز قبل فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ایک بار پھر کہا ہے کہ امریکہ کو ایران کے جوہری پروگرام سے منسلک سمجھے جانے والے مقام کوہِ کلنگ کو نشانہ بنانا پڑ سکتا ہے۔

    ٹرمپ نے پیر کو کہا کہ وہ ایسے حملے کو ’کوئی بڑا معاملہ‘ نہیں سمجھتے اور یہ کارروائی ’ایک گھنٹے کے اندر‘ انجام دی جا سکتی ہے۔

  9. بریکنگ, امریکہ کے قشم جزیرے پر محدود حملے، کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں

    امریکہ کے نشریاتی ادارے سی بی ایس نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز میں واقع ایران کے جزیرہ قشم پر حملے کیے ہیں۔

    ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق پیر کو جزیرے پر کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

    امریکی حکام نے ان حملوں کو محدود نوعیت کی کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کی جانب سے ایک امریکی طیارے پر فائرنگ کے جواب میں کیے گئے۔

    تاہم امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) جو عموماً ایران کے خلاف کارروائیوں کے آغاز اور اختتام سے متعلق اعلانات اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری کرتی ہے، نے ان اطلاعات پر تاحال کوئی ردِعمل نہیں دیا ہے۔

    بی بی سی نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی کارروائیوں کی ذمہ دار امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) سے مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کیا ہے۔

    یہ پیش رفت امریکہ کے وسط مدتی انتخابات سے قبل سامنے آئی ہے، جن کے نتیجے میں یہ طے ہو گا کہ کانگریس پر ریپبلکن پارٹی کا کنٹرول برقرار رہے گا یا ڈیموکریٹک پارٹی اکثریت حاصل کرے گی۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو حالیہ دنوں میں گرتی ہوئی مقبولیت اور اپنی جماعت کے اندر سے جنگ ختم کرنے کے مطالبات کا سامنا ہے۔ یہ جنگ فروری میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہوئی تھی۔

    پیر کے روز ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ انھیں ایران کے خلاف حملوں میں اضافے کی ’کوئی جلدی نہیں۔‘

    خبر رساں ادارے ایکسیوس سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ’کسی نہ کسی طریقے سے ہم کچھ کریں گے، لیکن اس میں کوئی جلدی نہیں۔ ہم نے انھیں مالی طور پر مفلوج کر دیا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا: ’ان کے پاس نہ پیسہ ہے، نہ ایندھن، اور ان کے لوگ بھی اب اس صورت حال سے تنگ آ چکے ہیں۔‘

    حالیہ دنوں میں یہ قیاس آرائیاں بڑھتی رہی ہیں کہ امریکہ وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر حملے دوبارہ شروع کر سکتا ہے، تاہم پیر کو ایک صحافی کے سوال پر ٹرمپ نے اس امکان کو مسترد کرتے ہوئے صرف ’نہیں‘ میں جواب دیا۔

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس سے قبل ارنا کو بتایا تھا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی حکام کے ساتھ ثالثوں کے ذریعے ’انتہائی اہم‘ مذاکرات جاری ہیں۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ تہران سفارتی اور فوجی، دونوں طرح کے امکانات کے لیے ’پہلے سے زیادہ تیار‘ ہے اور اب یہ فیصلہ امریکہ کو کرنا ہے کہ وہ مذاکرات کے ’دانشمندانہ راستے‘ کا انتخاب کرتا ہے یا ’فوجی جارحیت کی غلطی‘ دہراتا ہے۔

  10. یوکرین کا روس پر امدادی مرکز پر بمباری کا الزام، 26 افراد ہلاک

    یوکرین کا کہنا ہے کہ روسی بمباری میں ایک امدادی سامان تقسیم کرنے والے مرکز کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں کم از کم 26 افراد ہلاک ہو گئے۔ یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلینسکی نے اس حملے کو ’انتہائی ہولناک‘ قرار دیا ہے۔

    علاقائی سربراہ میخائلو سیمیکن کے مطابق جنوبی زاپوریژژیا کے علاقے کے گاؤں کومیشوواخا میں کم از کم نو عدد 3,000 کلوگرام وزنی فضائی بم گرائے گئے، جس کے نتیجے میں پانچ افراد زخمی جبکہ ابتدائی طور پر 27 افراد لاپتا قرار دیے گئے۔

    صدر ولودیمیر زیلینسکی نے کہا کہ مقامی سکول، جسے ’امدادی مقاصد‘ کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا، پر پہلے حملے کے بعد اس مقام پر دوسرا حملہ بھی کیا گیا جہاں لوگ پناہ لیے ہوئے تھے۔

    زیلینسکی نے پیر کے روز ہونے والے حملے کے بعد بننے والے ایک بڑے گڑھے اور ملبے میں سرچ اینڈ ریسکیو کارروائیاں کرنے والی ٹیموں کی ویڈیو بھی پوسٹ کی۔

    روسی فوج نے تاحال اس واقعے پر عوامی طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

  11. پاسدارانِ انقلاب کا دو مزید امریکی ڈرونز قبضے میں لینے اور ایک ایم کیو-نائن تباہ کرنے کا دعویٰ

    ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے پیر کی شب دعویٰ کیا کہ جزیرہ قشم کے جنوب میں مزید دو امریکی ایم کیو ایم-170 جاسوس ڈرونز کو قبضے میں لے لیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی جانب سے پکڑے گئے اس ماڈل کے امریکی ڈرونز کی مجموعی تعداد چار ہو گئی ہے۔

    آئی آر جی سی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اس کے ایرو سپیس ڈویژن نے جدید الیکٹرانک وارفیئر نظام کی مدد سے ان جاسوس ڈرونز کو ’گراؤنڈ‘ کیا۔

    بیان کے مطابق حالیہ کارروائی کے بعد پاسدارانِ انقلاب کے اہلکاروں کے قبضے میں آنے والے امریکی ایم کیو ایم-170 ڈرونز کی تعداد چار ہو گئی ہے۔

    آئی آر جی سی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس کی افواج نے آبنائے ہرمز کے مشرقی علاقے کی فضائی حدود میں امریکی فوج کے 55ویں جدید MQ-9 ڈرون کا سراغ لگا کر اسے تباہ کر دیا۔

    بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی ملک کے مربوط فضائی دفاعی نظام کے تحت کام کرنے والے ایرو سپیس فورس کے ایک نئے فضائی دفاعی نظام نے انجام دی۔

    ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کی جانب سے جاری کی گئی ایک ویڈیو میں وہ لمحہ دکھایا گیا ہے جب آبنائے ہرمز کے مشرقی علاقے کی فضائی حدود میں امریکی فوج کے 55ویں ایم کیو-9 ڈرون کا سراغ لگا کر اسے تباہ کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا۔

    آئی آر جی سی نے اپنے بیان میں کہا: ’جارح امریکی دشمن ایک بار پھر ایسے ڈرونز کے استعمال کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔‘

  12. بریکنگ, ایران سے معاہدہ ہو سکتا ہے، تیل کی قیمتیں مزید گریں گی: ٹرمپ کا دعویٰ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور ان کے بقول ایسا معاہدہ ’ممکن‘ ہے۔

    ٹرمپ نے اس امکان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران ایک سمجھوتے کا خواہاں ہے، تاہم انھوں نے تہران کے ساتھ جاری بالواسطہ مذاکرات کی موجودہ صورتحال یا پیش رفت کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

    واشنگٹن میں لنکن میموریل ریفلیکٹنگ پول پر خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ’وہ (ایران) معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، اور ایسا ہو سکتا ہے۔‘

    ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ تیل کی قیمتیں ایک ہی دن میں 10 ڈالر کم ہوئی ہیں، جسے انھوں نے تاریخ کی سب سے بڑی یومیہ کمی قرار دیا۔ ان کے مطابق قیمتیں ’مزید بہت نیچے جائیں گی، کیونکہ ہم ایران کے معاملے میں جیت رہے ہیں۔ ہم آسانی سے جیت رہے ہیں۔‘

  13. لحج کے مرکزِ صحت پر حوثیوں کے میزائل حملے میں پانچ افراد ہلاک: یمنی حکومت کا الزام

    یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے حوثیوں پر الزام عائد کیا ہے کہ انھوں نے اپنے زیرِ کنٹرول علاقے سے صوبہ لحج کے السقیہ ہیلتھ سینٹر پر بیلسٹک میزائل داغا، جسے حکومت نے ’جنگی جرم‘ قرار دیا ہے۔

    یمنی حکومتی ترجمان ماجد عبداللہ النزیلی کے مطابق حملے میں کم از کم پانچ افراد ہلاک جبکہ 15 افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں طبی عملے کے ارکان بھی شامل ہیں۔

    انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ طبی مرکز کو نشانہ بنانا حوثیوں کی جانب سے شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی مبینہ پالیسی کا حصہ ہے۔ ان کے بقول، طبی مراکز بین الاقوامی قانون کے تحت محفوظ ہوتے ہیں اور ان پر حملہ جنگی جرم ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ختم نہیں ہوتا۔

  14. یمنی سرکاری فورسز کا دعویٰ: باب المندب کے قریب حوثی ٹھکانوں پر ڈرون حملے

    یمن کی سرکاری حامی فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ نیشنل شیلڈ فورسز کی فرسٹ ڈویژن کے ڈرونز نے باب المندب محاذ پر حوثی جنگجوؤں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔

    فورسز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ڈرون حملوں میں حوثی عناصر کو ہدف بنایا گیا، تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ کتنے جنگجو متاثر ہوئے۔ بیان کے ساتھ ایک ویڈیو بھی شیئر کی گئی ہے جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس میں حملوں کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔

  15. ثالثوں کے ذریعے امریکی پیغامات ایران کی ’فتح‘ کا اعتراف ہیں: ایرانی نائب صدر محمد رضا عارف کا دعویٰ

    ایران کے پہلے نائب صدر محمد رضا عارف نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ثالثوں کے ذریعے ایران کو بھیجے جانے والے پیغامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ واشنگٹن نے مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ جنگ میں ایران کی "فتح" کو تسلیم کر لیا ہے۔

    ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق محمد رضا عارف نے پیر کے روز کہا کہ ایران کے مخالفین گذشتہ دو جنگوں میں اپنے کسی بھی بنیادی ہدف کو حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اب بھی مختلف حربے استعمال کر رہا ہے اور اپنے اہداف کے ساتھ ساتھ ملکی رائے عامہ کے تحفظات کو بھی مدنظر رکھے ہوئے ہے، تاہم ثالثوں کے ذریعے موصول ہونے والے پیغامات ایران کی کامیابی کو قبول کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

    ایرانی نائب صدر نے مزید کہا کہ ایران نے حالیہ بحران میں اپنے مؤقف اور مفادات کا کامیابی سے دفاع کیا، جبکہ مخالف فریق اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔

    دوسری جانب امریکی حکومت نے تاحال ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات یا پیغامات کے تبادلے کو تہران کی فتح کا اعتراف قرار نہیں دیا ہے۔

    ادھر امریکی خبر رساں ادارے ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے مبینہ طور پر محسن رضائی کو ارسال کیے گئے ایک پیغام میں زور دیا ہے کہ مستقبل میں کسی بھی مذاکراتی عمل میں ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ شامل ہونا چاہیے تاکہ نئے امریکی حملوں سے بچا جا سکے۔

    اس کے ساتھ ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کی اہمیت پر زور دینے کے باوجود ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف فوجی کارروائی دوبارہ شروع کی جا سکتی ہے۔

  16. سعودی اتحاد کا ریاض میں دو حوثی ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ

    سعودی قیادت والے اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے دارالحکومت ریاض کی جانب آنے والے دو حوثی ڈرونز کو روک کر تباہ کر دیا ہے۔

    اتحاد کے مطابق یہ کارروائی ایسے وقت میں کی گئی جب یمن کے حوثی باغیوں نے چند منٹ قبل اعلان کیا تھا کہ انھوں نے سعودی عرب کے دمام ہوائی اڈے کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔

    حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ جیزان میں ایک پیشگی وارننگ ریڈار پر ڈرون حملہ کیا گیا، جبکہ شہر کے ہوائی اڈے پر موجود ایک فوجی ٹرانسپورٹ طیارے کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

    تاہم حوثیوں کے ان دعوؤں کی سعودی حکام کی جانب سے تاحال باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔

    یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایک روز قبل سعودی قیادت والے اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے اعلان کیا تھا کہ جنوبی سعودی عرب کے صوبے عسیر میں ایک بیلسٹک میزائل اور دو حوثی ڈرونز کو تباہ کر دیا گیا تھا۔

  17. امریکہ جنگ کے ذریعے عالمی معیشت کو متاثر کرنا چاہتا ہے: ایران کا الزام

    ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹریٹ میں بین الاقوامی امور کے نائب سربراہ علی باقری کنی نے امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف جنگ کے ذریعے عالمی معیشت میں خلل ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق بیجنگ میں چینی وزیر خارجہ وانگ یی سے ملاقات کے دوران علی باقری کنی نے کہا کہ امریکہ کے اقدامات اس کی ’جارحانہ اور بالادستی پسند فطرت‘ کی عکاسی کرتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکی پالیسی نہ صرف خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے بلکہ اس کے اثرات عالمی معیشت اور بین الاقوامی تجارتی نظام پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

    ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے کی صورتحال، ایران کے خلاف جاری جنگ اور باہمی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

  18. عالمی ایئرلائنز کی بحالی کے ماہر ایڈرین ہیملٹن مانز پی آئی اے کے نئے سربراہ بن گئے, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے ایڈرین ہیملٹن مانز کو قومی ایئرلائن کا نیا چیف ایگزیکٹو آفیسر مقرر کر دیا ہے۔ نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے ایڈرین ہیملٹن مانز نے پیر کو اپنے عہدے کا باقاعدہ چارج سنبھال لیا۔

    پی آئی اے کے اعلامیے کے مطابق ایڈرین ہیملٹن مانز کو عالمی ہوا بازی کی صنعت میں اعلیٰ انتظامی قیادت اور سٹریٹجک منصوبہ بندی کا تین دہائیوں سے زائد کا تجربہ حاصل ہے۔ وہ ماضی میں تین مختلف ایئرلائنز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر رہ چکے ہیں اور ایئرلائنز کی تنظیمِ نو، بحالی اور انہیں منافع بخش اداروں میں تبدیل کرنے کے شعبوں میں مہارت رکھتے ہیں۔

    قومی ایئرلائن کا کہنا ہے کہ ان کی تقرری پی آئی اے میں جاری اصلاحات اور بحالی کے عمل کا ایک اہم مرحلہ ہے، جس سے ادارے کی کارکردگی، آپریشنز اور بین الاقوامی مسابقت میں بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔

    واضح رہے کہ پی آئی اے کی نجکاری دسمبر 2025 میں مکمل ہوئی تھی، جب عارف حبیب کارپوریشن کی قیادت میں قائم ایک کنسورشیم نے 135 ارب روپے (48 کروڑ 20 لاکھ ڈالر) کے عوض ایئرلائن کے 75 فیصد حصص خرید لیے تھے۔

    دوسری جانب نجکاری کے بعد پی آئی اے اپنے فضائی بیڑے کی جدید کاری بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ گذشتہ روز لیز پر حاصل کیا گیا جدید بوئنگ 787-9 ڈریم لائنر لندن سے پرواز پی کے 786 کے ذریعے اسلام آباد پہنچا۔ یہ پاکستان کی کسی بھی ایئرلائن کے بیڑے میں شامل ہونے والا اپنی نوعیت کا پہلا بوئنگ 787-9 طیارہ ہے۔

    جدید ٹیکنالوجی سے لیس اس طیارے میں ان فلائٹ انٹرٹینمنٹ سسٹم، بہتر ایندھن بچت، کشادہ کیبن اور مسافروں کے لیے جدید سفری سہولیات فراہم کی گئی ہیں، جو پی آئی اے کے بیڑے کی جدید کاری کے منصوبے کا اہم حصہ تصور کی جا رہی ہیں۔

  19. پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان

    حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 3 نومبر 2026 سے ہوگا۔

    اوگرا کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق پیٹرول (موٹر سپرٹ) کی قیمت میں 3 روپے 40 پیسے فی لٹر کمی کی گئی ہے، جس کے بعد نئی قیمت 374 روپے 51 پیسے فی لٹر مقرر کی گئی ہے۔

    اسی طرح ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 76 پیسے فی لٹر کمی کی گئی ہے، جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 395 روپے 20 پیسے فی لٹر ہو گئی ہے۔

    اس سے قبل پیٹرول کی قیمت 377 روپے 91 پیسے فی لٹر جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 402 روپے 96 پیسے فی لٹر تھی۔

  20. بعض حلقوں کی زبان پر مولانا فضل الرحمٰن کا اعتراض، ’موقع ملا تو آرمی چیف کے سامنے بھی یہ شکایت رکھوں گا‘

    جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے پیر کو فاٹا کے زیر اہتمام ڈیجیٹل میڈیا ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے قبائلی علاقوں کی صورتحال، معدنی وسائل، گورنر راج، ایمرجنسی اور سرمایہ کاری سے متعلق حکومتی پالیسیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ بعض حلقوں کی جانب سے استعمال کی جانے والی زبان قابلِ تشویش ہے اور یہ سب کچھ ان کے بقول آرمی چیف کی موجودگی میں ہو رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ اس معاملے پر کھل کر آرمی چیف سے شکایت کرتے ہیں اور اگر دوبارہ ملاقات کا موقع ملا تو یہ معاملہ ان کے سامنے بھی اٹھائیں گے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ جو ان کے ترجمان ایسی زبان بولتے ہیں، یہ ان کی اپنی زبان نہیں بلکہ انھیں کہیں اور سے سکھائی اور دلوائی جاتی ہے۔‘ واضح رہے کہ مولانا فضل الرحمان کے ان الزامات پر ابھی تک حکومت کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

    مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ قبائلی علاقوں کو ایک بار پھر ’تجربہ گاہ‘ بنایا جا رہا ہے اور انھیں اعلیٰ حکومتی شخصیات نے یہ بتایا ہے کہ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کو غلط فیصلہ سمجھا جاتا ہے اور اسے ختم کرکے سابقہ حیثیت بحال کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ انضمام کے تقریباً ایک دہائی بعد بھی فاٹا میں مؤثر انتظامی و قانونی نظام قائم نہیں ہو سکا۔

    انھوں نے کہا کہ آج فاٹا کا اصل مسئلہ سیاسی یا آئینی نہیں بلکہ معدنی وسائل اور معاشی مفادات کا ہے۔ ان کے مطابق قبائلی علاقوں میں موجود معدنی ذخائر پر قبضے اور ان کے استعمال کے حوالے سے عوام کو اعتماد میں نہیں لیا جا رہا۔

    جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ سی پیک اور چینی سرمایہ کاری کو نظرانداز کرکے امریکہ کو معدنی شعبے میں زیادہ مواقع دیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چین کی سرمایہ کاری میں رکاوٹیں پیدا ہونے سے دوسرے غیر ملکی سرمایہ کار بھی پاکستان سے بدظن ہو سکتے ہیں۔

    مولانا فضل الرحمٰن نے گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ دہشت گردی کو بنیاد بنا کر یہ اقدامات کیے گئے، تاہم بعد میں تمام توجہ معدنی ذخائر کے معاملات پر مرکوز ہو گئی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ بعض اضلاع کو سکیورٹی نہیں بلکہ وسائل اور تجارتی راستوں کی وجہ سے خصوصی انتظامی اقدامات کے دائرے میں لایا گیا۔

    انھوں نے مطالبہ کیا کہ معدنی وسائل سے متعلق تمام معاہدے عوام کے سامنے لائے جائیں اور واضح کیا جائے کہ وفاق، غیر ملکی کمپنیوں اور مقامی آبادی کا حصہ کیا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ قبائلی عوام کو پہلے سیاسی حقوق اور اب معاشی حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے۔

    مولانا فضل الرحمٰن نے حکومت پر سیاسی مخالفین کے خلاف پروپیگنڈا، کردار کشی اور دباؤ ڈالنے کا الزام بھی لگایا۔ انھوں نے کہا کہ اختلافی آرا کا جواب دلائل سے دیا جانا چاہیے، نہ کہ الزامات اور مہمات کے ذریعے۔

    اپنے خطاب کے اختتام پر انھوں نے زور دیا کہ جے یو آئی آئینی، جمہوری اور پرامن سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے اور قومی وسائل، آئین اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے آواز اٹھاتی رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے وسائل سے متعلق معاہدوں میں شفافیت اور مقامی آبادی کے حقوق کا تحفظ ناگزیر ہے۔