امریکہ کے نشریاتی ادارے سی بی ایس نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز میں واقع ایران کے جزیرہ قشم پر حملے کیے ہیں۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق پیر کو جزیرے پر کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
امریکی حکام نے ان حملوں کو محدود نوعیت کی کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کی جانب سے ایک امریکی طیارے پر فائرنگ کے جواب میں کیے گئے۔
تاہم امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) جو عموماً ایران کے خلاف کارروائیوں کے آغاز اور اختتام سے متعلق اعلانات اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری کرتی ہے، نے ان اطلاعات پر تاحال کوئی ردِعمل نہیں دیا ہے۔
بی بی سی نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی کارروائیوں کی ذمہ دار امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) سے مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کیا ہے۔
یہ پیش رفت امریکہ کے وسط مدتی انتخابات سے قبل سامنے آئی ہے، جن کے نتیجے میں یہ طے ہو گا کہ کانگریس پر ریپبلکن پارٹی کا کنٹرول برقرار رہے گا یا ڈیموکریٹک پارٹی اکثریت حاصل کرے گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو حالیہ دنوں میں گرتی ہوئی مقبولیت اور اپنی جماعت کے اندر سے جنگ ختم کرنے کے مطالبات کا سامنا ہے۔ یہ جنگ فروری میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہوئی تھی۔
پیر کے روز ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ انھیں ایران کے خلاف حملوں میں اضافے کی ’کوئی جلدی نہیں۔‘
خبر رساں ادارے ایکسیوس سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ’کسی نہ کسی طریقے سے ہم کچھ کریں گے، لیکن اس میں کوئی جلدی نہیں۔ ہم نے انھیں مالی طور پر مفلوج کر دیا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا: ’ان کے پاس نہ پیسہ ہے، نہ ایندھن، اور ان کے لوگ بھی اب اس صورت حال سے تنگ آ چکے ہیں۔‘
حالیہ دنوں میں یہ قیاس آرائیاں بڑھتی رہی ہیں کہ امریکہ وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر حملے دوبارہ شروع کر سکتا ہے، تاہم پیر کو ایک صحافی کے سوال پر ٹرمپ نے اس امکان کو مسترد کرتے ہوئے صرف ’نہیں‘ میں جواب دیا۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس سے قبل ارنا کو بتایا تھا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی حکام کے ساتھ ثالثوں کے ذریعے ’انتہائی اہم‘ مذاکرات جاری ہیں۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ تہران سفارتی اور فوجی، دونوں طرح کے امکانات کے لیے ’پہلے سے زیادہ تیار‘ ہے اور اب یہ فیصلہ امریکہ کو کرنا ہے کہ وہ مذاکرات کے ’دانشمندانہ راستے‘ کا انتخاب کرتا ہے یا ’فوجی جارحیت کی غلطی‘ دہراتا ہے۔