’میں 62 برس کی ہوں مگر فون سے نجات حاصل نہیں کر پا رہی‘: کیا سوشل میڈیا بچوں سے زیادہ بزرگوں کو متاثر کر رہا ہے؟

    • مصنف, جوشوا اسکیو
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 5 منٹ

’میں اپنے فون پر بہت زیادہ وقت گزارتی ہوں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بے دھیانی میں فون اٹھا لیتی ہوں اور پھر یوں ہی سکرولنگ کرتے کرتے وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں رہتا۔‘

سنہ 2026 میں ’یوگوو‘ کے ایک سروے کے مطابق ٹریسی اُن 55 سال یا اس سے زیادہ عمر کے اُن افراد میں شامل ہیں، جو ہفتے میں کم از کم ایک بار سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے ’یہ ایک طرح کی وبا بن چکی ہے۔ ہم سکرولنگ کے عادی ہو گئے ہیں۔‘

لاک ڈاؤن کے دوران وقت گزارنے کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال شروع کرنے والی ٹریسی کہتی ہیں کہ بعد میں انھوں نے اس کا استعمال محدود کر دیا تھا اور بعض سوشل میڈیا ایپس اپنے فون سے بھی حذف کر دی تھیں۔

وہ کہتی ہیں ’مجھے نہیں لگتا کہ یہ ہمارے لیے اچھا ہے۔ سوشل میڈیا ذہن کو اتنا مصروف رکھتا ہے کہ واقعی اہم اور ضروری چیزوں کے لیے بھی گنجائش کم رہ جاتی ہے۔ جب آپ ہر وقت فون میں گم رہتے ہیں تو والدین، دادا دادی یا نانا نانی کی حیثیت سے زندگی کے بہت سے خوبصورت لمحات کھو دیتے ہیں۔ آپ جسمانی طور پر تو موجود ہوتے ہیں، لیکن حقیقت میں اُس لمحے کا حصہ نہیں ہوتے۔‘

ایسے وقت میں جب حکومت 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کے منصوبوں پر غور کر رہی ہے، بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ٹریسی نے کہا کہ بڑی عمر کے لوگوں کو خود مثال قائم کرنی چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ صرف نوجوانوں کا مسئلہ نہیں، بلکہ ہر عمر کے لوگ اس کی لپیٹ میں آ رہے ہیں۔ بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر توجہ دینا ضروری ہے، لیکن بڑوں کو بھی اپنے رویوں کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ میرے خیال میں ہم اس بات پر کافی غور نہیں کرتے کہ ہم اپنے بچوں اور پوتے پوتیوں کے لیے کیسی مثال قائم کر رہے ہیں۔ بچے وہی سیکھتے ہیں جو وہ اپنے بڑوں کو کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔‘

’توجہ حاصل کرنے والا مواد‘

یونیورسٹی آف برائٹن میں سائبر سائیکالوجی کے لیکچرر اور محقق ڈیوڈ ہارلے نے کہتے ہیں کہ ابتدائی خدشات اس بات پر مرکوز تھے کہ آیا بڑی عمر کے لوگ سوشل میڈیا جیسی ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز استعمال کر سکیں گے یا نہیں۔

انھوں نے کہا کہ اگرچہ یہ اب بھی ایک مسئلہ ہے، لیکن اب توجہ ان کے استعمال سے ہونے والے ممکنہ نقصانات پر ہے۔

ہارلے نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’سوشل میڈیا کے ابتدائی دور میں، مواد تخلیق کرنا اور باہمی شرکت پر مبنی سرگرمیاں کہیں زیادہ نمایاں تھیں۔ وقت کے ساتھ یہ رجحان کم ہوتا گیا۔ اب بہت زیادہ غیرفعال کھپت اور الگورتھم کی بنیاد پر پیش کیا جانے والا مواد موجود ہے۔۔۔ جو توجہ اپنی جانب کھینچتا ہے۔‘

ان کے بقول اس سے لت اور دیگر مسئلہ پیدا کرنے والے رویوں کو فروغ ملا ہے۔ اگرچہ ہارلے کا کہنا تھا کہ تمام عمر کے گروہ اس سے متاثر ہو سکتے ہیں، لیکن انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ بڑی عمر کے لوگوں پر اس کے اثرات کے بارے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

تاہم محققین نے اس عمر کے گروہ کے لیے سوشل میڈیا کے فوائد کی بھی نشاندہی کی ہے۔ یونیورسٹی آف سرے کی ایسوسی ایٹ پروفیسر اور ڈیجیٹل ماہر بریجٹ سٹانگل نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ بڑی عمر کے لوگوں میں تنہائی کم کرنے میں بہت مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔

انھوں نے وضاحت کی کہ ’آن لائن ہونا نقل و حرکت یا ٹرانسپورٹ تک رسائی سے متعلق مسائل کو کم کر سکتا ہے،‘ جو خاص طور پر اس طبقے کو متاثر کرتے ہیں۔ سٹانگل نے کہا کہ سوشل میڈیا بڑی عمر کے لوگوں کو ایسے ’حقیقی روابط‘ فراہم کر سکتا ہے جنھیں وہ انٹرنیٹ سے پہلے برقرار نہیں رکھ سکتے تھے، خاص طور پر اگر ان کے خاندان دنیا بھر میں مختلف جگہوں پر بکھرے ہوئے ہوں۔

انھوں نے یہ بھی تجویز کیا کہ یہ بڑھاپے میں ذہنی صلاحیتوں میں آنے والی کمی کو کم کرنے میں ممکنہ طور پر مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

’مجھے یہ پسند ہے‘

ویسٹ سسیکس کے علاقے ورتھنگ سے تعلق رکھنے والی 61 سالہ کیری ہیڈلی چینی کا کہنا ہے کہ اگر سوشل میڈیا نہ ہوتا تو وہ اپنی زندگی کے بہت سے لوگوں سے رابطہ کھو چکی ہوتیں۔

وہ کہتی ہیں ’یہ واقعی ایک بہت خوبصورت چیز ثابت ہوئی ہے۔‘

اداکارہ کیری ہیڈلی چینی کے مطابق سوشل میڈیا نے انہیں اداکاری سے متعلق مختلف گروپس کا حصہ بننے کا موقع دیا، جہاں لوگ ایک دوسرے سے رابطہ کرتے ہیں، تجربات بانٹتے ہیں اور باہمی تعاون بھی کرتے ہیں۔ تاہم ان کے بقول اس کا ایک منفی پہلو بھی ہے۔

وہ کہتی ہیں ’دوسری طرف آپ اس پر گھنٹوں گزار دیتے ہیں، حالانکہ اس وقت کو ان کاموں پر صرف ہونا چاہیے جو واقعی ضروری ہیں۔ آخر اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کی جینس کیا کر رہی ہے، یہ جاننے سے تو گھر کے کام نہیں ہو جاتے۔‘

انھوں نے کہا کہ سوشل میڈیا نے ان کی توجہ برقرار رکھنے کی صلاحیت کو بھی متاثر کیا ہے، حالانکہ عام طور پر یہ مسئلہ نوجوانوں سے جوڑا جاتا ہے۔

ان کے مطابق ’چند سال پہلے میری توجہ مرکوز رکھنے کی صلاحیت کہیں زیادہ بہتر تھی، لیکن اب لگتا ہے کہ یہ چند سیکنڈ تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ سوشل میڈیا کا استعمال کم کرنا چاہیں گی تو انھوں نے فوراً جواب دیا، نہیں، مجھے یہ پسند ہے۔

وہ کہتی ہیں ’یہ ایک شاندار ذریعہ ہے جو ہماری انگلیوں کی پوروں پر موجود ہے۔ اس کے ذریعے ہم لوگوں سے رابطہ کر سکتے ہیں، مشورے حاصل کر سکتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر مدد بھی مانگ سکتے ہیں۔‘

سٹانگل نے کہا کہ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ سوشل میڈیا کو کس طرح استعمال کیا جاتا ہے۔

’ہمیں مسلسل سکرولنگ کے اس عمل میں فرق کرنا ہوگا، جس کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ یہ ہمارے دماغ پر منفی اثر ڈالتا ہے اور سوشل میڈیا کو بامقصد، مفید اور معنی خیز انداز میں استعمال کرنے کے درمیان فرق سمجھنا ہوگا۔ بڑی عمر کے لوگوں کے کچھ گروہ ایسے ہیں جو آن لائن دنیا اور ٹیکنالوجی کے استعمال میں بہت ماہر ہیں... اور یقیناً کچھ دوسرے ایسے بھی ہیں جو خطرے سے دوچار ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یہ ایک دو دھاری تلوار ہے۔‘